نظام خلافت کے خدوخال

۱. اللہ تعالیٰ کی حاکمیت مطلقہ کا جو اقرار ’’قراردادِ مقاصد‘‘ میں موجود ہے اس کے عملی نفاذ کے لیے قرآن اور سنت رسول کی غیر مشروط اور بلااستثناء بالادستی جو نظام اور قانون دونوں پر حاوی ہو. اور اس کے ضمن میں یہ غیر مشروط اور غیر مبہم صراحت کہ جہاں قانونِ اسلامی کی تدوین نو اور اجتہاد کا عمل پارلیمنٹ یا مجلس ملی کے ذریعے ہو گا وہاں ملک کی اعلیٰ عدالتوں کو اختیار ہو گا کہ جس قانون کو کلی یا جزوی طور پر قرآن اور سنت کی حدود سے متجاوز سمجھیں اسے کالعدم قرار دے سکیں.

۲. مخلوط قومیت کی نفی… جس کے نتیجے میں خلیفہ کے انتخاب اور قانون سازی کے عمل میں صرف مسلمان شریک ہوں گے اور اس کے لیے ووٹ کا حق تو اگرچہ ہر بالغ مسلمان مرد اور عورت کو حاصل ہو گا لیکن انتخاب میں حصہ صرف ایسے مسلمان مرد لے سکیں گے جن کا کردارمشتبہ نہ ہو… جبکہ غیر مسلموں کی جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کی پوری ذمہ داری قبول کی جائے گی اور انہیں عقیدہ عبادت کے ساتھ ساتھ پرسنل لاء میں مکمل آزادی کی ضمانت دی جائے گی.

۳. خلیفہ کا انتخاب بلاواسطہ پورے ملک کے مسلمان کریں گے اور اسے پارلیمنٹ یا مجلس ملی یا مجلس شوریٰ کی اکثریت کا محتاج نہیں بنایا جائے گا بلکہ موجودہ دنیا کے معروف صدارتی نظام کے مانند ایک متعین مدت کے لیے وسیع انتظامی اختیارت دیئے جائیں گے.

۴. صوبائی عصبیت کی لعنت کے خاتمے اور عوام کی انتظامی سہولت کے لیے صوبے چھوٹے چھوٹے بنائے جائیں گے اور انہیں زیادہ سے زیادہ حقوق و اختیارت دیئے جائیں گے. اس مقصد کے لیے موجودہ کمشنریوں کو بھی صوبوں کا درجہ دیا جاسکتا ہے اوریہ بھی طے کیا جا سکتا ہے کہ دوسرے جغرافیائی، لسانی اور ثقافتی عوامل کو پیش نظر رکھتے ہوئے صوبے اس طرح تشکیل دیئے جائیں گے کہ کسی بھی صوبے کی آبادی ایک کروڑ سے زائد نہ ہو.

۵. سود اور جوئے کے کامل انسداد کے ذریعے معیشت کی تطہیر… اور اس کی بجائے شراکت اور مضاربت کے اصولوں پر نئے تجارتی اور صنعتی ڈھانچے کی تشکیل.

۶. حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس اجتہاد کی بنیاد پر ایک بالکل نیا بندوبست اراضی کہ جو علاقے مسلمانوں نے کسی بھی وقت بزور شمشیر فتح کئے ان کی اراضی ’’عشری‘‘ یعنی انفرادی ملکیت نہیں، بلکہ ’’خراجی‘‘ یعنی اجتماعی ملکیت ہیں جن کے کاشتکار خواہ مسلمان ہوں خواہ غیر مسلم اسلامی حکومت کو براہِ راست اخراج ادا کریں گے جس سے جاگیرداری اور غیر حاضر زمینداری کا بھی مکمل خاتمہ ہو جائے گا اور اتنا ریونیو حاصل ہو گا کہ بہت سے ٹیکسوں سے نجات حاصل ہو جائے گی.

۷. نظامِ زکوٰۃ کی کامل تنفیذ… یعنی کل اموالِ تجارت کی مجموعی مالیت کے اڑھائی فیصد کی وصولی جس سے کفالت عامہ (Social Security) کا پورا نظام… اور ہر شہری کے لیے روٹی، کپڑا اور مکان جیسی بنیادی ضروریات اور تعلیم اور علاج یکساں سہولتوں کی فراہمی کی ضمانت دی جاسکے گی.

۸. مکمل قانونی مساوات… جس میں خلیفۃ المسلمین اور مجلس ملی یا مجلس شوریٰ کے ارکان سمیت کسی کو بھی قانونی تحفظات حاصل ہوں گے نہ ترجیحی حقوق (Priviliges) ، اگرچہ مفاسد کے سدباب کے لیے غلط اور جھوٹے الزامات لگانے والوں کے لیے حد قذف پر قیاس کرتے ہوئے سخت تعزیری قوانین بنائے جا سکیں گے.

۹. شراب اور دوسری نشہ آور چیزوں کے مکمل استیصال کے لیے سخت تعزیراتی قوانین کا نفاذ!

۱۰. مخلوط معاشرت کا سدباب… چنانچہ اصولی طور پر مردوں اور عورتوں کے جداگانہ دائرہ ہائے کار کا تعیین… اور عملی اعتبار سے تعلیم و تربیت اور علاج معالجے کے لیے کلیتاً جداگانہ ادارے، اورضرورت پڑنے پر گھریلو صنعتوں کی ترویج حتیٰ کہ ایسے صنعتی اداروں کا قیام جس میں خواتین ہی کام کریں اور خواتین ہی نگرانی کریں اور ان کے اوقات کار بھی مردوں کے مقابلے میں کم ہوں… مزید برآں عفت و عصمت کی حفاظت اور قلب و نظرکی پاکیزگی کے لیے ستر اور حجاب کے شرعی احکام کی سختی سے تنفیذ.