موجودہ عالمی حالات اور اسلام کا مستقبل

یہ تو ماضی اور مستقبل کی بات ہوئی، اب کچھ زمانۂ حال کی بات بھی ہو جائے. زمانۂ حال کا معاملہ بہت مایوس کن ہے. اس وقت دنیا کی کل آبادی 6 ارب کے قریب ہے جس میں سوا ارب کے قریب مسلمان ہیں. ا ٹھارہ کروڑ مسلمان صرف بھارت میں ہیں. تیل کی دولت بھی مسلمانوں کے پاس ہے، افرادی قوت بھی وافر مقدار میں مہیا ہے، زرعی رقبہ بھی ہے، لیکن اس سب کے باوجود عزت نام کی کوئی شے مسلمانوں کو حاصل نہیں ہے. دنیا میں مسلمانوں کی کوئی حیثیت نہیں، ہماری قسمت کے فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں، ہماری منصوبہ بندی کسی اور جگہ تشکیل پاتی ہے، ہمارا بجٹ کوئی اور طاقت منظور کرتی ہے، اشیائِ صرف کے نرخوں کا تعین بھی باہر ہی سے ہوتا ہے. غرضیکہ نہایت ہی تشویش ناک اور مایوس کن صورتِ حال کا سامنا ہے. ان حالات میں میں کون ہوتا ہوں آپ حضرات کو خوشخبری سنانے والا؟ لیکن میں تو نقل کرنے والا ہوں، میں تو حضور کی بات آپ کو سنا رہا ہوں، جو میرے لیے بھی قطعی الثبوت ہے اور آپ کے لیے بھی قابل یقین ہی نہیں واجب الیقین ہے. تو اگرچہ اس وقت کے حالات کے اعتبار سے تو معاملہ بہت مختلف ہے. نہ تو ہماری کہیں عزت ہے اور نہ ہی ہمیں حقیقی آزادی حاصل ہے.

لیکن ایسے میں میں آپ کو عالمی سطح پر نظام خلافت کے قیام کی خبر دے رہا ہوں اور اس وقت دے رہا ہوں جب ’’نیو ورلڈ آرڈر کا دور آ چکا ہے. ظلم کی آندھی اٹھ رہی ہے. یہ ’’نیو ورلڈ آرڈر‘‘ درحقیقت ’’جیوورلڈ آرڈر‘‘ ہے. امریکی شہر نیویارک کو خود وہاں کے لوگ بھی ’’جیویارک‘‘ کہتے ہیں اور علامہ اقبال مرحوم نے اس صدی کے آغاز میں انگلستان اور جرمنی کے مشاہدے کے بعد فرمایا تھا کہ ’’فرنگ کی رگِ جاں پنجہ یہود میں ہے.‘‘ یہ ایک صدی قبل کی بات ہے لیکن آج پوری دنیا جانتی ہے کہ دنیا میں ایک ہی سپریم طاقت باقی رہ گئی ہے جسے امریکہ کہا جاتا ہے. سوویت یونین کا وجود تک ختم ہو چکا ہے، اس کے ٹکڑے ہو چکے ہیں. اس سے پہلے روس اور امریکہ دونوں کے مابین محاذ آرائی کا معاملہ چل رہا تھا، مگر اب تو میدان میں صرف ایک ہی طاقت ہے جس پر یہود کا شکنجہ کسا ہوا ہے.

۱۹۴۸ء میں اسرائیل کا قیام عمل میں آیا تھا. یہود کا یہ پختہ اور اٹل منصوبہ ہے کہ ۱۹۹۸ء تک عظیم تر اسرائیل وجود میں آ جائے گا. یہودی اکابرین کے منشور میں یہ سب نقشے، یہ سب تفصیلات درج ہیں. ان کی منصوبہ بندی کے پورے پچاس برس کے بعد اسرائیل قائم ہو گیا تھا اور مزید پچاس برس بعد عظیم تر اسرائیل کا قیام ان کے منصوبے کا حصہ ہے. میڈرڈ امن کانفرنس سے واپس آ کر اسرائیل وزیراعظم شمیر نے کہا کہ ۱۹۶۷ء کی جنگ میں عربوں کے جو علاقے اسرائیلی قبضے میں آئے تھے کیا وہ ہم خالی کر دیں؟ نہیں، ہمیں تو اپنی سرحدیں مزید بڑھانا ہیں، اس لیے کہ پورا شام ہمارا ہے، پورا عراق ہمارا ہے، پورا لبنان ہمارا ہے، پور امصر ہمارا ہے ترکی کا مشرقی علاقہ ہمارا ہے، شمالی حجا زکا علاقہ بھی ہمارا ہے اور اِن علاقوں میں مدینہ منورہ بھی شامل ہے. ان علاقوں پر مشتمل عظیم تر اسرائیل کا نقشہ اسرائیل پارلیمنٹ کے باہر آویزاں ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ آج دنیا کی کوئی طاقت اسرائیل کے راستے کا روڑا بنتی انہیں آتی.

اس صورتحال کی خبر بھی حضور نے امت کو دے رکھی ہے کہ یہود کی باسی کڑھی میں ایک دَور میں پھر اُبال آئے گا جب دجالِ اکبر کی صورت میں یہود کے لیڈر کا ظہور ہو گا. یہی ’’المسیح الدجال‘‘ ہو گا جس کی حضور نے خبر دی ہے اور اس سے حضور نے خود پناہ مانگی. ’’اَعُوْذُ بِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ‘‘ یعنی اے اللہ! میں مسیح دجال کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں. حضور نے فرمایا: ’’مسیح دجال کے فتنے سے تمام انبیاء ؑ نے بھی پناہ مانگی اور اپنی اپنی امتوں کو بھی اس فتنے سے پناہ مانگتے رہنے کی تلقین فرمائی. ‘‘ خلیج کی جنگ کو صدام حسین نے ’‘ام المحارب‘‘ کہا تھا اور صحیح کہا تھا. اس جنگ میں ایک عارضی سا تعطل پڑ گیا ہے. دجالِ اکبر کے ظہور کا زمانہ آنے والا ہے. جو امت مسلمہ کے لیے سب سے بڑی آزمائش ہو گا. بہرحال جو ذلت و مسکنت یہود کا مقدر تھی وہ آج امت مسلمہ پر مسلط ہے. اس لیے کہ ہم نے خود بھی وہی کچھ کیا ہے جو یہود کا چلن تھا. ہم نے دین سے غداری کی، بے وفائی کی جبکہ فتح و نصرت کا وعدہ تو وفا سے مشروط ہے ؎

کی محمدؐ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں

امت مسلمہ میں سب سے بڑے مجرم خود اہل عرب ہیں، اس لیے کہ انہی مین سے محمد رسول اللہ تھے اور انہی کی زبان میں اللہ تعالیٰ نے اپنی آخری کتاب نازل فرمائی، لیکن پھر بھی ان لوگوں نے اللہ کے دین سے روگردانی اختیار کر لی اور یوں اللہ کی سنت ثابتہ ان پر صادق آ چکی کہ 
وَاِنْ تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَکُمْ یعنی اگر تم روگردانی اختیار کر لو گے تو ہم تمہیں ہٹا کر کسی اور قوم کو لے آئیں گے. اللہ تعالیٰ کے اس فرمان پر سات سو برس پہلے اس وقت عمل ہو چکا ہے جب امت مسلمہ کی قیادت عربوں سے سلب کر لی گئی اور وحشی تاتاری ہر طرف مسلمانوں کا خون بہانے لگے. اس صورتِ حال پر شیخ سعدیؒ نے کہا تھا ؎

آسماں را حق بود گر خوں ببارد بر زمیں
برزوالِ ملک مستعصم امیر المؤمنین

لیکن عربوں کے زوال کے بعد اللہ تعالیٰ نے خود تاتاریوں کو اسلام کی دولت سے فیض یاب کر دیا اور وہ حلقہ بگوش اسلام ہو گئے ؎

ہے عیاں فتنۂ تاتار کے افسانے سے
پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے

عربوں کی پیٹھ پر عذابِ خداوندی کا پہلا کوڑا تو کب کا برس چکا، اب اُن پر عذاب کی آخری قسط بھی آ چکی ہے اور تمام عرب ممالک پوری طرح عذاب خداوندی کی لپیٹ میں آچکے ہیں. البتہ غیر عرب اقوام میں سب سے بڑے مجرم ہم پاکستانی ہیں کہ ہم نے اسلام کے نام پر ملک حاصل کیا تھا. ہم نے ’’پاکستان کا مطلب کیا ؟ 
لا الہ الا اللہ!‘‘ کے نعرے لگائے تھے، لیکن ۵۳ برس کا عرصہ گزرنے کے باوجود اسلام کہیں نظر نہیں آتا. جو اسلام پہلے موجود تھا اب تو ہم اس سے بھی بڑے دُور جا چکے ہیں. انگریزی تہذیب و تمدن جس قدر آج ہمارے ہاں رواج پا چکے ہیں، ۱۹۴۷ء سے پہلے تو یہ حال نہ تھا. اس وقت چند اونچے گھرانوں کا یہ چلن تھا مگر آج پوری قوم اس تہذیب میں رنگی جا چکی ہے. اس اعتبار سے ہمارا حال بہت دگر گوں ہے، مگر مستقبل کے حوالے سے حضور کی یہ پیشین گوئیاں موجود ہیں، جن کے مطابق ایک بہت بڑے قائد کی حیثیت سے حضرت مہدی ؑ آئیں گے. حضور نے فرمایا کہ ان کا نام میرے نام پر ہو گا اور ان کی والدہ کا نام میری والدہ کے نام پر ہو گا.

پھر حضرت عیسیٰ ؑکا نزوال ہو گا اور حضرت مسیحؑ ہی مقام ’’لد‘‘ پر دجال کو قتل کر دیں گے. آج یہی ’’لد‘‘ لڈاکے نام سے اسرائیل کا ایک بڑا فوجی اڈہ ہے. اسی جگہ سے دجال اکبر بھاگنے کی کوشش میں ہو گا جب حضرت مسیحؑ اسے پکڑ کر قتل کر دیں گے. یہی وہ وقت ہو گا جب یہود کا قلع قمع ہو گا، ان کا ایک ایک بچہ قتل ہو گا. یہ وہ وقت ہو گا جب ایک طرف حضرت مسیحؑ کی شکل میں آسمان سے نصرت آئے گی اور وہ دوسری جانب مشرق کی طرف سے مدد آئے گی. مشرق وہی علاقہ ہے جس میں ہم آباد ہیں. حدیث میں اسی علاقے کو خراسان سے بھی تعبیر کیا گیا ہے. خراسان میں آج کا پورا افغانستان شامل ہے اور قدیم زمانے کے خراسان میں پشاور تک کا علاقہ بھی شامل ہے. اسی علاقے سے افواج کی صورت میں علم بردار گروہ یروشلم پہنچیں گے اور یہود کا مقابلہ کریں گے.

اس وقت دنیا میں یہود کا جو اثر و رسوخ اور غلبہ نظر آ رہا ہے اس کی حیثیت عارضی ہے. جس طرح بجھنے سے پہلے چراغ آخری دفعہ بھڑکتا ہے، یہود کا یہ اقتدار، ان کا یہ عروج بجھتی ہوئی شمع کی آخری بھڑک کی مانند ہو گا. اس کے سوا اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے. لیکن یہود کی بجھتی ہوئی شمع کی آخری بھڑک سے جس طرح مسلمانوں کو مصائب و آلام کا سامنا ہو گا اور جو سزا ملے گی اس کے تصور ہی سے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں. آپ دیکھ رہے ہیں کہ آج دنیا کے حالات بہت ہی تیز رفتاری سے بدل رہے ہیں. خلیج کی جنگ اِن تمام و واقعات کا سلسلۂ آغاز ہے.