انسان ایک مرکب وجود ہے

اس کے برعکس اصل حقیقت یہ ہے کہ انسان کا وجود ایک مرکب وجود ہے. اس کا ایک وجود‘ جسد خاکی‘مٹی سے بنا ہے. اس کی تخلیق کا طریق کار کچھ بھی ہویہ ایک الگ بحث ہے. اور اس کے اندر ایک روح ہے‘ جس کا تعلق اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات سے قرار دیا ہے. فرمایا: وَ نَفَخۡتُ فِیۡہِ مِنۡ رُّوۡحِیۡ(الحجر:۲۹’’اور جب میں پھونک دوں اس میں اپنی روح میں سے‘‘. یہی مضمون انہی الفاظ کے ساتھ سورۂ ص(آیت ۷۲) میں بھی آیا ہے. اس کی ہم تفصیلی توجیہ نہیں کرسکتے کہ اس کا مفہوم کیا ہے‘ لیکن بہر حال اس کا possesive mode ہے. انسان اور اس کے خالق کے مابین جو محبت ہے اُس کا ایک رخ ہے اللہ کا محبت کرنا بندوں کے ساتھ‘ اور دوسرا رُخ ہے انسان کا محبت کرنا اللہ کے ساتھ. یہ دوسرا رخ اس روحانی نظام کا اصل موضوع ہے. ہمارے وجود کے چوںکہ دوپہلو ہیں‘ لہٰذا ہمارے اندر محبتیں بھی دو ہیں. ایک محبت ہے ’’حب الشہوات‘‘ جیسا کہ سورۂ آل عمران میں فرمادیا گیا: 

زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّہَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَ الۡبَنِیۡنَ وَ الۡقَنَاطِیۡرِ الۡمُقَنۡطَرَۃِ مِنَ الذَّہَبِ وَ الۡفِضَّۃِ وَ الۡخَیۡلِ الۡمُسَوَّمَۃِ وَ الۡاَنۡعَامِ وَ الۡحَرۡثِ ؕ ذٰلِکَ مَتَاعُ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۚ وَ اللّٰہُ عِنۡدَہٗ حُسۡنُ الۡمَاٰبِ ﴿۱۴﴾ 

’’لوگوں کے لیے شہوانی خواہشات‘ عورتیں‘ بیٹے‘ سونے چاندی کے ڈھیر‘ نشان زدہ گھوڑے ‘ مویشی اور کھیتی مزّین کردیے گئے ہیں. یہ سب کچھ دنیا کی زندگی کا سامان ہے‘جبکہ حقیقت میں جوٹھکانا بہتر ہے وہ اللہ کے پاس ہے.‘‘ 

ان تمام چیزوں کی محبت انسان کے اندر موجود ہے اور یہ اس کے لیے مزین کردی گئی ہیں. لیکن یہ ہمارے کون سے جزو کا حصہ ہیں؟ یہ ہمارے اس حیوانی وجود کی محبت ہے. یہ اس وجود کے تقاضے اور اس کے تسلسل کے ذرائع ہیں. اگر یہ محبت نہ ہو تو یہ دنیا کا ہنگامہ ‘یہاں کی رونقیں ختم ہوکر رہ جائیں. یہ محبتیں بڑی قوی ہیں‘ بڑی شدید ہیں‘ ازروئے الفاظِ قرآنی: 
وَ اِنَّہٗ لِحُبِّ الۡخَیۡرِ لَشَدِیۡدٌ ؕ﴿۸﴾ (العادیات) اس کی وجہ سے ساری تمدن کی رونق ہے‘ گہماگہی ہے‘ بھاگ دوڑ ہے. یہ سارا معاملہ ان محبتوں پر قائم ہے. جہاں تک ہماری روح اور ہمارے روحانی وجود کا تعلق ہے اس کے اندر بھی ایک محبت ہے‘ لیکن وہ محبت دبی ہوئی ہے‘ اس کا ہمیں شعور نہیں ہے‘ اسے ہم بھلائے بیٹھے ہیں. آیت مبارکہ ہے: 

وَ لَا تَکُوۡنُوۡا کَالَّذِیۡنَ نَسُوا اللّٰہَ فَاَنۡسٰہُمۡ اَنۡفُسَہُمۡ ؕ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ ﴿۱۹﴾ 
(الحشر) 
’’ان لوگوں کی مانند نہ ہوجانا جنہوں نے اللہ کو بھلادیا تو اللہ نے ان کو اپنے آپ سے غافل کردیا .یہی لوگ ہیں جو نافرمان ہیں.‘‘

اپنے آپ سے غافل ہونااپنے اس روحانی وجود سے غافل ہونا ہے جو اصل انسان ہے‘ جس کی بنا پر یہ شرف حاصل ہوا کہ انسان مسجودِ ملائک بنا‘ اسے خلافت میسر آئی‘ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: 

وَ لَقَدۡ کَرَّمۡنَا بَنِیۡۤ اٰدَمَ وَ حَمَلۡنٰہُمۡ فِی الۡبَرِّ وَ الۡبَحۡرِ وَ رَزَقۡنٰہُمۡ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلۡنٰہُمۡ عَلٰی کَثِیۡرٍ مِّمَّنۡ خَلَقۡنَا تَفۡضِیۡلًا ﴿٪۷۰﴾ 
(بنی اسراء یل) 
’’ اور ہم نے عزت دی آدم کی اولاد کو اور سواری دی ان کو جنگل اور دریا میں اور روزی 
دی ہم نے ان کو ستھری چیزوں سے اور بڑھادیا ان کو بہتوں سے جن کو پیدا کیا ہم نے بڑائی دے کر.‘‘

اس اصل وجود کی جانب سے ذہول ہے اور آج کا جدید فکر اس وجود کا انکار کررہا ہے. ہمارے روحانی وجود کی بھی ایک محبت ہے ‘لیکن یہ محبت اللہ کی محبت سے عبارت ہے. اس کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک خاص تعلق وربط ہے جسے ہم سمجھ نہیں سکتے. مولانا رومیؒ نے بڑے پیارے انداز میں ایک شعر میں کہا ہے ؎

اتصالے بے تکیف بے قیاس
ہست رب النّاس را باجانِ ناس
(۱
یہ ایک ایسا اتصال اور ایسا قرب ہے جسے ہم کسی شے پر قیاس نہیں کرسکتے‘ اسے ہم کسی مثال سے سمجھ بھی نہیں سکتے. اتصال ہے ‘ قرب ہے‘ انتہائی قرب ہے کہ اس سے زیادہ قرب کا تصور ممکن نہیں. اس روحانی وجود کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا گہرا تعلق اور بڑا گہرا رشتہ ہے . ہر انسان خود اپنے اندر محسوس کرتا ہے کہ اندر ایک خیر وشر کی کشمکش برپا ہے. کوئی شے اندر سے کھینچتی ہے برائی کی طرف اور کوئی شے اندر ہے جو مجھے برائی پر ملامت کرتی ہے اور مجھے خیر کی طرف کھینچتی ہے. اگرآپ کے پاس ایک ہی روٹی ہے ‘کچھ اور نہیں ہے اور کوئی سائل آگیا تو آپ کے اندر ایک کشمکش ہوگی. کوئی قوت کہے گی کہ یہ روٹی اپنے پاس رکھو‘یہ تو تمہاری ضرورت کو بھی کفایت نہیں کررہی‘ دوسرے کو حصہ دار بنانے کا کوئی سوال نہیں. لیکن کوئی شے اندر ہی اندر آپ کو راغب کرے گی کہ نہیں اس کے پاس ایک بھی روٹی نہیں ہے‘ اس کو بالکل فاقہ ہوجائے گا‘ مجھے چاہیے کہ میں اپنی روٹی میںاس کو شریک کروں. یہ ایک کشمکش ہے جو ہر انسان کا ہر وقت کا تجربہ ہے‘ ہر ایک کا ذاتی احساس ہے‘ جسے ہر شخص اپنے اندر محسوس کرتا ہے. یہ دو قوتیں ہیں جو اندر سے کھینچ رہی ہیں. یہ بات اچھی طرح جان لینا چاہیے ‘جیسا کہ اقبال نے کہا ہے ؎

ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغِ مصطفوی سے شرارِ بولہبی

تاریخ میں جو خیر وشر نظر آرہا ہے انسان کے باطنی خیر وشر کا مظہر ہے. اس حوالے سے جدید ماہرین نفسیات کے کام کا مطالعہ بھی مفید ہے. فرائڈ کے بعد نفسیاتِ جدیدہ کے میدان 
(۱) یہ ایسا اتصال ہے کہ اس کی کیفیت نامعلوم ہے اور اسے کسی پر قیاس بھی نہیں کیا جا سکتا … ہاں مگر باری تعالیٰ انسانوں کی ارواح کے ساتھ ہے. میں کئی نظریات آئے مگرآج بھی اس کے نظریات کو مانا جاتا ہے. گویا وہ نفسیاتِ جدیدہ کا باوا آدم ہے. فرائڈ نے بڑی وضاحت کے ساتھ انسانی شخصیت کے تین levels متعین کیے ہیں. اس کے نزدیک ایک id اور libido ہے‘ جسے ہم حیوانی داعیات (animal instincts) سے تعبیر کر سکتے ہیں‘ جو انسان کے اندر سفلی پہلو کا تقاضا بن کر ابھرتے ہیں. صحت ِمشاہدہ سے فرائڈ یہاں تک پہنچ گیا جس کا تذکرہ قرآن میں بایں الفاظ آتا ہے: اِنَّ النَّفۡسَ لَاَمَّارَۃٌۢ بِالسُّوۡٓءِ (یوسف:۵۳’’یقینا نفس (انسان کا حیوانی وجود) برائی کا حکم دیتا ہے‘‘. اسے تو اپنی غرض ہے‘ اپنا پیٹ بھرنے سے دل چسپی ہے‘ اسے کوئی غرض نہیں کہ حلال ہے یا حرام ہے. اسے اس سے کوئی بحث نہیں کہ دوسرے کا پیٹ خالی ہے یا بھرا ہوا ہے. اس کے اندر جنسی جذبہ رکھا گیا ہے جو بڑا منہ زور ہے. یہ اپنی تسکین چاہتا ہے‘ اسے اس سے بحث نہیں ہے کہ حلال راستہ کون سا ہے اور حرام کون سا ہے. اس کے اندر ’’حب ِتفوق‘‘ (urge to dominate) بھی پائی جاتی ہے‘ جس کے لیے یہ حلال اور حرام ‘ صحیح اور غلط (fair and foul) کی تمیز بھلا بیٹھتا ہے. اسی وجہ سے فرائڈ نفس امارہ کے لیے id and libido کی اصطلاح استعمال کرتا ہے. اس کے اوپر ایک انسانی شخصیت ہے‘ حقیقت باطنی ہے‘ اس کی انا یا خودی (ego) ہے. پھر بلند ترین درجے میں اس کی فوق انا یا ماورا خودی (super ego) ہے. چناںچہ خیر وشر کی کشمکش انسان کے دونوں وجودوں کے مابین جاری ہے. ایک اس کا روحانی وجود ہے اور ایک حیوانی وجود ہے. حیوانی وجود خاکی الاصل ہے‘ جب کہ روحانی وجود کا مبدأ وہ ہے جو ملائکہ کے ہم پلہ ہے‘بلکہ ملائکہ سے بھی افضل ہے. اس لیے کہ ملائکہ کو تو انسان کے سامنے سجدہ ریز کردیا گیا. 

انسان کے اندر جودو وجود ہیں ‘ دونوں کے تقاضے مختلف ہیں.آج شاید اس بات کا مذاق اڑایا جا رہا ہے‘ لیکن اچھی طرح سمجھ لیجیے کہ اس روح کے لیے جسد حیوانی درحقیقت قید خانہ ہے.جسد پر روح کا غلبہ ہوجائے تو پھر پوری دنیا بندۂ مومن کے لیے قید خانہ کی حیثیت رکھتی ہے. یہی وہ بات ہے جو نبی مکرم ؐ نے صراحتا ًفرمائی ہے: 
اَلدُّنْیَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّۃُ الْکَافِرِ (۱’’ دنیا مؤمن کے لیے قید خانہ ہے اور کافر کے لیے جنت کی مانند ہے‘‘. (۱) شعب الایمان للبیھقی‘ التاسع والثلاثون من شعب الایمان وھو باب فی المطاعم … الفصل الثانی فی ذم کثرۃ الاکل. روح ہمارے حیوانی وجود کے پنجرے میں قید ہے اور اپنے ربّ کی طرف رجوع کرنا چاہتی ہے. اس کا میلان ربّ کی طرف ہے‘ اسے اگر تسکین حاصل ہوتی ہے تو ذکر ِربّ سے ہوتی ہے‘ اسے اگر انشراح ہوتا ہے تو معرفت ِربّ سے ہوتا ہے. وہ ایک دہکتی ہوئی بھٹی ہے جس کے اندر محبت ِخداوندی جوش ماررہی ہے. میں جان بوجھ کر لفظ عشق استعمال نہیں کررہا‘ اس لیے کہ یہ لفظ قرآن و سنت میں استعمال نہیں ہوا‘ فارسی شاعری میں آیا ہے. اس کا مفہوم درست ہے ‘ لیکن ہمیں چاہیے کہ ہم ان اصطلاحات کی طرف رجوع کریں جو کتاب و سنت میں آئی ہیں. نئے الفاظ جب بھی آئیں گے اضافی مفہوم لے کر آئیں گے‘ تاہم عارضی طور پر نئی اصطلاحات کا استعمال ناگزیر ہے. ہر دور میں جو ذہنی صغریٰ کبریٰ بنتا ہے وہ اس بات پر مجبور کرتا ہے کہ ذہنی رابطے اور ابلاغ (communication) کے لیے جدید اصطلاحات کا استعمال کیا جائے. لیکن ان کو مستقلاً اختیار نہیں کرنا چاہیے.

لفظ عشق مولانا رومؒ نے استعمال کیا ہے. اسی طرح دورِحاضرمیں رومی ٔثانی علامہ اقبال نے بھی یہ لفظ استعمال کیاہے. جب کہ قرآن وسنت لفظ محبت استعمال کرتے ہیں. بہرکیف محبت ِخداوندی کی ایک آگ روح کے اندر ہے. اکثر وبیشتر انسانوں کاحیوانی وجود اس روح کو دبائے ہوئے ہوتا ہے‘ چناںچہ اس کے بھاری بوجھ تلے یہ روح سسکتی رہتی ہے‘ تڑپتی ہے‘ بے چینی محسوس کرتی ہے‘ لیکن ہمارے جسم کے تقاضے‘ بطن وفرج کے تقاضے‘ ہماری شہوات‘ ہمارے اوپر اس طرح مسلط ہیں اور ان ہی پر ہماری توجہ اتنی مرکوز ہے‘ ان کے لیے ہماری بھاگ دوڑ اس شدت کے ساتھ ہورہی ہے کہ اپنے دوسرے وجود کی طرف توجہ ہی نہیں ہوتی . وہ ایک طرح سے بالکل نظر انداز 
(ignore) ہو کر ایک طرف تڑپتی رہتی ہے‘ ایک عرصہ تک بے چین رہتی ہے ‘مگر بالآخر ہوتا یہ ہے کہ روح گویا اس مادی وجود کے اندر دفن ہوکر رہ جاتی ہے اور یہ چلتا پھرتا انسان اس روح کے لیے مقبرہ بن جاتا ہے.بلکہ اس کے لیے لفظ ’’تعزیہ‘‘ استعمال کر لیجیے. اس لیے کہ تعزیہ چلتا ہے‘ مقبرہ کسی ایک جگہ پر کھڑا رہتا ہے. یہ انسان روحانی طور پر مر چکا ہے‘ اس کی روح دفن ہو چکی ہے. اب جن آیات کا میں َنے شروع میں حوالہ دیا تھا‘ان پر غور کر لیجیے: 

وَ نَفۡسٍ وَّ مَا سَوّٰىہَا ۪ۙ﴿۷﴾فَاَلۡہَمَہَا فُجُوۡرَہَا وَ تَقۡوٰىہَا ۪ۙ﴿۸﴾قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ زَکّٰىہَا ۪ۙ﴿۹﴾وَ قَدۡ خَابَ مَنۡ دَسّٰىہَا ﴿ؕ۱۰﴾ 
(الشّمس) 
’’اور قسم ہے نفس کی اورجیسا کہ اُسے اُس نے ٹھیک بنادیا .پھر سمجھ دی اُس کو نافرمانی ک 
ی اور تقویٰ کی. تحقیق مراد کو پہنچا جس نے اس کو سنوارا. اور نامراد ہوا وہ جس نے اسے خاک میں ملا چھوڑا.‘‘

ایک تو اس کا ظاہری مفہوم ہے جو ہر ایک کے سامنے ہے. کامیاب ہوگیاوہ جس نے اپنے نفس کوپاک کرلیا‘ اس کو سنوار لیا‘ اس کو رزائل سے پاک کرلیا. اور ناکام ہوا جس نے اس کو مٹی میں دبادیا. دَسَّ ‘ یَدُسُّ کے معنی ہوتے ہیں گاڑ دینے اور دبا دینے کے. قرآن مجید میں کفارِ مکہ کے بارے میں آیا ہے کہ ان کا حال یہ ہے کہ کسی کے گھر بیٹی پیدا ہوجاتی ہے تو اس فکر میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ اس کو ذلت برداشت کرتے ہوئے زندہ رکھوں یا مٹی میں دبا دوں؟ 
اَیُمۡسِکُہٗ عَلٰی ہُوۡنٍ اَمۡ یَدُسُّہٗ فِی التُّرَابِ (النحل:۵۹اسی طرح آپ غور کریں کہ فلاح کامیابی کو کہتے ہیں‘ لیکن یہ لفظ بنا ہے فَلَحَ یَفلَحُ سے‘جس کے معنی ہوتے ہیں کسی چیز کو پھاڑنا‘ توڑنا . عربی محاورہ ہے : اِنَّ الحَدِیْدَ بالحَدِیْدِ یُفلَحُ ’’لوہا لوہے سے کاٹا جاتا ہے‘‘. ’’فلاّح‘‘ جدید عربی میں کسان کو کہتے ہیں کہ وہ اپنے ہل کی نوک سے دھرتی کے سینے کو چیرتا ہے. اسی طرح انسان کے مادی وجود کے اندر اس کی اصل حقیقت مضمر ہے. لہٰذا اس مادی وجود کو کچھ توڑنا پھوڑنا ہوگا اور اس میں سے اصل حقیقت کو برآمد کرنا ہوگا. دراصل لفظ فلاح کے اندر وہ حقیقت مضمر ہے کہ کوئی شے سینے میں کہیں دبی ہوئی ہے. سورۃ المؤمنون کی پہلی آیت قَدۡ اَفۡلَحَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ۙ﴿۱﴾ کاشاہ ولی اللہ دہلویؒ کے فرزند ِارجمند شاہ عبد القادر دہلویؒ نے ’’ موضح القرآن ‘‘میں بہترین ترجمہ کیا ہے: ’’کام نکال لے گئے وہ اہل ایمان‘‘ …جیسے کوئی شے دفن تھی ‘ بند تھی‘ اس پر غلاف آچکا تھا‘ اس پر پردے آگئے تھے‘ اسے پھاڑا ہے‘ توڑا ہے اور اس میں سے اس حقیقت کو برآمد کیا ہے . یہ ہے فلاح کی اصل حقیقت . اسی طرح ایک جملہ اپنشدمیں ہے‘ جسے میں اکثر quote کیا کرتا ہوں. کیوںکہ حکمت کے بارے میں ہمارا تصوریہ ہے کہ یہ نوع انسانی کی مشترک متاع ہے. حدیث میں آتا ہے: الْکَلِمَۃُ الْحِکْمَۃُ ضَالَّۃُ الْمُؤْمِنِ فَحَیْثُ وَجَدَہَا فَہُوَ أَحَقُّ بِہَا (۱’’حکمت کی بات تو مومن کی گمشدہ متاع کی مانند ہے. وہ اس کا زیادہ حقدار ہے جہاں بھی اسے پائے ‘‘.چنانچہ اپنشد کا جملہ ہے: 

ـMan in his ignorance identifies himself with the material sheets which encompass his real self 

’’انسان اپنی نادانی اور جہالت میں اپنے آپ کو اُن مادی غلافوں سے تعبیر کربیٹھتا ہے 
(۱) جامع الترمذی، کتاب العلم، باب ماجاء فی فضل الفقہ علی العبادۃ…
جن کے اندر اس کی اصل حقیقت مضمر اور پنہاں ہے.‘‘ 

اصل حقیقت اس کی رُوح ہے جو اس کے جسدخاکی میں پھونکی گئی تھی. ذہن میں رکھیے ہمارے اکثر متکلمین کے نزدیک روح ایک ’’جسم ِلطیف‘‘ ہے اور جسد’’ جسم ِکثیف‘‘ ہے. ایسا نہیں ہے کہ یہ صرف ایک معنوی حقیقت ہو جس کا کوئی وجود نہ ہو.اور یہ معاملہ ہمارے جسم سے ماورا ہے‘ اس کو ہم نہیں جان سکتے. میں ایک سادہ سی بات عرض کیا کرتا ہوں کہ ہمیں تو آج تک یہ بھی معلوم نہیں کہ ہماری جان کا ہمارے جسم سے کیا تعلق ہے؟ آپ فزیالوجی کی ضخیم سے ضخیم کتابیں پڑھ جایئے‘ کہیں پتا نہیں چلے گا کہ جان کا تعلق جسم سے کس طور سے ہے‘ کس عضو سے ہے. نیند کا ہمیں آج تک پتا نہیں کہ دماغ کے کس گوشے میں ہے کہ 
switch on کریں تو آدمی جاگ جائے‘ off کریں تو آدمی سوجائے. یہ سب ہماری پہنچ اور دسترس سے بہت بعیدہے. اگر جان کے بارے میں ہمیں معلوم نہیں تو روح اس سے کہیں لطیف تر حقیقت ہے. اس تعلق پر مولانا شبیر احمد عثمانی ؒ نے اپنے حواشی میں بہت خوب صورت انداز میںیہ فارسی شعر نقل کیاہے ؎

جاں نہاں درجسم‘ اُو در جاں نہاں
اے نہاں اندر نہاں اے جانِ جاں
(۱
یہ ہے ہمارا روحانی وجود. ہوتا یہ ہے کہ جب ہمارا مادی وجود‘ اس کے تقاضے اور ہمارے سفلی میلانات روح پر چھاجاتے ہیں تو مادی وجود کے اندر روح دفن ہوکر رہ جاتی ہے. آگے الفاظ ہیں : 
وَ قَدۡ خَابَ مَنۡ دَسّٰىہَا ﴿ؕ۱۰﴾ (الشمس) یعنی نامراد ہوا وہ جس نے اپنی روح کو دفن کر دیا. ایک اور مقام پر غور کیجیے: 

وَ لَقَدۡ ذَرَاۡنَا لِجَہَنَّمَ کَثِیۡرًا مِّنَ الۡجِنِّ وَ الۡاِنۡسِ ۫ۖ لَہُمۡ قُلُوۡبٌ لَّا یَفۡقَہُوۡنَ بِہَا ۫ وَ لَہُمۡ اَعۡیُنٌ لَّا یُبۡصِرُوۡنَ بِہَا ۫ وَ لَہُمۡ اٰذَانٌ لَّا یَسۡمَعُوۡنَ بِہَا ؕ اُولٰٓئِکَ کَالۡاَنۡعَامِ بَلۡ ہُمۡ اَضَلُّ ؕ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡغٰفِلُوۡنَ ﴿۱۷۹﴾ 
(الاعراف) 
’’ہم نے انسانوں اور جنوں میں سے بہت سوں کو پیدا کیا ہے جہنم کا ایندھن بننے کے لیے. ان کے دل ہیں مگر وہ ان سے غور وفکر نہیں کرتے‘ ان کی آنکھیں ہیں مگر وہ اُن 
(۱) ’’روح ہمارے جسم کے اندر پوشیدہ ہے اور وہ (ذاتِ باری تعالیٰ) ہماری روح کے اندر پوشیدہ ہے… اے وہ جو دو پردوں میں پوشیدہ ہے اے جانِ جاں!‘‘ سے دیکھتے نہیں‘ اُن کے کان ہیں مگر وہ اُن سے سنتے نہیں. یہ جانوروں کی مانند ہیں بلکہ اُن سے بھی گئے گزرے‘ یہی لوگ غافل ہیں.‘‘

یہ تعبیر کا ایک انداز ہے.یہاں جبروقدر کی بحث کو ذہن سے ذرا دور رکھیے! اب اس کی تعبیر کیا ہے؟ یہ جہنم کا ایندھن بننے والے انسان کون ہیں؟ ان کی حقیقت کیا ہے؟ یہ کون سا سننا ہے جس کی نفی ہورہی ہے؟ کون سا دیکھنا ہے جس کی نفی ہورہی ہے؟ کیا ابوجہل اندھا اور بہرا تھا؟ کیا ابولہب اندھا اور بہرا تھا؟ یہ تو بظاہر بڑے سوجھ بوجھ والے اور بھلے چنگے لوگ تھے. ابولہب کی تو بڑی بڑی موٹی آنکھیں تھی‘ بہت سرخ وسفید رنگت تھی‘ ہر اعتبار سے ایک خوب رو اور خوب صورت انسان لیکن قرآن کیوں کہہ رہا ہے کہ یہ اندھے ہیں؟ کون سی ان کی بینائی ہے‘ کون سی سماعت ہے جو معطل ہوچکی ہے؟ وہ کون سا دل ہے جس پر مہر لگ چکی ہے؟ یہ روح کی حقیقتیں ہیں جن کو بیان کیا جارہا ہے کہ وہ مرچکی ہیں. وہ اب 
اَمۡوَاتٌ غَیۡرُ اَحۡیَآءٍ ۚ (النحل:۲۱ہیں. یہ ُمردہ ہیں‘ زندہ نہیں ہیں. ان کے بارے میں فرمایا گیا : اِنَّکَ لَا تُسۡمِعُ الۡمَوۡتٰی (النمل:۸۰’’اے نبی  آپ مُردوں کو نہیں سنا سکتے!‘‘ اس آیت کا تعلق خواہ مخواہ سماعِ موتی ٰ سے جوڑ دیا گیا ہے. یہ ان مُردوں کے بارے میں نہیں کہا جارہاجو قبروںمیں دفن ہوچکے ہیں. یہ تووہ ہیں جو زندہ چلتے پھرتے نظرآرہے ہیں. اس کے بارے میں بڑی پیاری تعبیر اقبال کے مصرعے میں ہے کہ ؏ ’’روح سے تھا زندگی میں بھی تہی جن کا جسد‘‘. ایکBiological Life تو تھی‘ ایک حیاتِ حیوانی اندر موجود تھی‘ لیکن وہ رُوحِ ربانی ختم ہوچکی تھی‘ سلب ہوچکی تھی‘ یا وہ مقبرے یا تعزیے کے اندر مدفون تھی. ان کے بارے میں فرمایا : اُولٰٓئِکَ کَالۡاَنۡعَامِ ’’یہ لوگ چوپایوں کی مانند ہیں‘‘ . یہ انسان نظر آتے ہیں ‘ حقیقت‘میں چوپائے ہیں. یہ دوٹانگوں پر چلنے والے ‘انسان کی شکل میں حیوان ہیں. اور حیوان بھی کیسے کیسے؟؟

مولانا احمد علی لاہوریؒ اپنا ایک مکاشفہ بیان فرمایا کرتے تھے جسے متعدد حضرات نے ان سے براہِ راست سنا ہے. انہوں نے مجھے بتایا کہ مولانا کہتے تھے کہ میں نوجوانی کے دورمیں لاہور کے کشمیری بازار‘جو اُس وقت بڑا گنجان آباد علاقہ تھا‘ چلا گیا. اچانک ایک بزرگ درویش مجھے ملے اور انہوں نے کہا میں کسی انسان سے ملنا چاہتا ہوں‘تم مجھے کسی انسان کی خبر دے سکتے ہو؟ (انسانم آرزو ست!)اس پر مولانا نے کہا کہ آپ کو انسان نظر نہیں آرہے؟ بھرا بازار ہے‘ گاہک ہیں‘ دکاندار ہیں. ان بزرگ نے جذب کی کیفیت میں کہا‘ میاں! مجھے تو 
یہاں کوئی انسان نظر نہیں آرہا. ان کا یہ فرمانا تھا کہ بس اچانک مجھے بھی ایسا محسوس ہوا کہ کسی دکان پر کوئی بندر ‘کسی پر کوئی بھیڑیا بیٹھا ہے اور کہیں کوئی سور چل رہا ہے. اصل میںان کی شخصیتوں کی جو معنوی حقیقت تھی گویا وہ منکشف ہو کر سامنے آگئی. لباس پہنے ہوئے سفید پوش انسان کی حقیقت ِمعنوی چھپی ہوئی ہے. اصل شخصیت جو مضمر ہے وہ ایک سور کی شخصیت ہے‘ جس کے اوپر شہوت بری طرح چھائی ہوئی ہے. کوئی حریص بندر کی صورت میں ظاہر ہوا‘ کوئی بھیڑیا ہے جو کاٹنے اور چیرنے کے لیے بے تاب ہے. یہ انسان کا معاملہ ہے. قرآن مجید نے تو پھر بھی نرم الفاظ استعمال کیے ہیں: اُولٰٓئِکَ کَالۡاَنۡعَامِ بَلۡ ہُمۡ اَضَلُّ ’’یہ لوگ چوپایوں کی مانند ہیں بلکہ ان سے بھی گئے گزرے ہیں‘‘. اس لیے گئے گزرے ہیں کہ حیوانوں کو تو پیدا ہی اس سطح پر کیا گیاتھا ‘لہٰذا وہ اس سطح پر ہیں تو ان کے لیے کوئی عار اور شرم کی بات نہیں ہے‘ مگر انسان کا تو معاملہ یہ ہے: لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِیۡۤ اَحۡسَنِ تَقۡوِیۡمٍ ۫﴿۴﴾ (التین) ’’تحقیق ہم نے انسان کو بہترین انداز پر تخلیق کیا‘‘.وہ احسن ِتقویم پر پیدا ہونے والا انسان اس پستی میں مبتلا ہے. یہ مضمون قرآن مجید میں بارہا آیا ہے. اہم مضامین قرآنِ مجید میں کم از کم دو جگہ ضرور ملیں گے. چنانچہ نوٹ کریں کہ یہی مضمون سورۃ الحج میں بایں الفاظ آیا ہے: 

اَفَلَمۡ یَسِیۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ فَتَکُوۡنَ لَہُمۡ قُلُوۡبٌ یَّعۡقِلُوۡنَ بِہَاۤ اَوۡ اٰذَانٌ یَّسۡمَعُوۡنَ بِہَا ۚ فَاِنَّہَا لَا تَعۡمَی الۡاَبۡصَارُ وَ لٰکِنۡ تَعۡمَی الۡقُلُوۡبُ الَّتِیۡ فِی الصُّدُوۡرِ ﴿۴۶﴾ 
(الحج) 
’’ کیا وہ لوگ زمین میں گھومے پھرے نہیں کہ ہوتے اُن کے دل کہ وہ ان سے سوچتے‘ یا ہوتے ان کے کان کہ وہ ان سے سنتے؟پس آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ دل اندھے ہوجاتے ہیں جو سینوں میں ہیں.‘‘

آنکھیں اندھی نہیں ہوا کرتیں‘ دل اندھے ہوجاتے ہیں. ابوجہل کی آنکھ اندھی نہیں تھی‘ دل اندھا تھا. یہ ہے روحانی وجود کی حقیقت جس کے لیے امام الہند شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’ملکیت‘‘ اور ’’بہیمیت‘‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں. شیخ سعدیؒ کا شعر ہے ؎

آدمی زادہ طرفہ معجون است
از فرشتہ سرشتہ وز حیواں

(۱(۱) اولاد آدم عجب معجون مرکب ہے … اس میں فرشتوں والی صفات بھی ہیں اور حیوانوں والی بھی! انسان کی شخصیت کے دو رُخ ہیں ‘اس میں ملکیت بھی ہے اور بہیمیت بھی ہے. اس میں حیوان بھی ہے‘ فرشتہ بھی. لیکن جب وہ حیوان غالب آجاتا ہے اس طور سے کہ فرشتے والی صفت دفن ہوجاتی ہے تو پھر وہ انسان وجود میں آتے ہیں جو غالب اکثریت میں نظر آرہے ہیں. دوسری جانب اس دلدل سے نکلنے کے لیے سورۃ التین میں فرمایا: اِلَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَہُمۡ اَجۡرٌ غَیۡرُ مَمۡنُوۡنٍ ؕ﴿۶﴾ ’’ سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور عمل صالح کیے‘ پس اُن کے لیے اجر ہے بے حساب. ‘‘