فلسفۂ اقبال اور ملتِ اسلامیہ کے نام اقبال کا پیغام

از
پروفیسر یوسف سلیم چشتی

تعارف

از قلم: ڈاکٹر اسرار احمد
پروفیسر یوسف سلیم چشتی ان خوش نصیب لوگوں میں سے ہیں جنہیں ایک طویل عرصے تک علامہ اقبال مرحوم کی خدمت میں حاضری کا موقع مسلسل ملتا رہا. ۱۹۳۳ء میں جبکہ علامہ اقبال مرحوم بقیدِ حیات ہی تھے پروفیسر صاحب نے “اقبال کا پیغام” کے عنوان سے ایک مضمون لکھا تھا جس میں ابتداءً علامہ کے سوانح حیات اور ان کی سیرت کا ایک اجمالی خاکہ دیا گیا تھا اور پھر علامہ کے فلسفے کے اجمالی تعارف کے لیے اوّلاً ان کی اس تحریر کا ترجمہ کیا گیا تھا جو انہوں نے پروفیسر نکلسن کی فرمائش پر اپنے فلسفیانہ افکار کی وضاحت کے لیے خود لکھی تھی اور ثانیاً ’پیغام اقبال‘ کے مختصر لیکن جامع تعارف کے طور پر ’مثنوی اسرار و رموز‘ کے مباحث کا خلاصہ مرتب کیا گیا تھا.‘ پروفیسر صاحب کی ان گنت تحریروں کی طرح یہ تحریر بھی مسودات کے انبار میں دبی ہوئی تھی. پروفیسر صاحب اپنے کسی اور مضمون کی تلاش میں مسودات کی ورق گردانی کر رہے تھے کہ اتفاقاً یہ سامنے آگئی جو انہوں نے راقم کو مرحمت فرما دی. 

اس تحریر کا اصل حصہ علامہ مرحوم کے فلسفیانہ افکار اور ان کے اس پیغام پر مشتمل ہے جو انہوں نے ملت اسلامی کو دیا ہے. تاہم حیات و سیرتِ اقبال کا اجمالی خاکہ بھی کچھ کم اہم نہیں ہے. علامہ مرحوم کی زندگی پر بہت مفصل کتابیں بھی لکھی جا چکی ہیں اور ان کی زندگی کے اہم واقعات تو اکثر لوگوں کے ذہن میں ویسے بھی محفوظ ہیں، تاہم اس اعتبار سے یہ تحریر بہت دلچسپ اور قدرے منفرد حیثیت کی حامل ہے کہ یہ علامہ کی زندگی ہی میں ان کے ایک حلقہ بگوش اور عقیدت مند کے قلم سے نکلی تھی. خود علامہ مرحوم کے علاوہ ان کے والد ماجد، اساتذہ کرام اور ہم عصر مفکرین پر جو نوٹ ضمناً اس مضمون میں آ گئے ہیں ان کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے اور ان سے اس مضمون کی افادیت بہت بڑھ گئی ہے. اس مضمون کو پڑھتے ہوئے یہ امر ذہن میں مستحضر رکھا جائے کہ یہ ۱۹۳۳ء میں لکھا گیا تھا. چنانچہ بہت سی باتیں جو اس مضمون میں بصیغۂ حال بیان ہوئی ہیں کب کی قصۂ ماضی بن چکیں. چنانچہ کہیں کہیں انسان ایک دم چونک سا جاتا ہے. اس میں ایک خزانہ عبرت پنہاں ہے ؏ “جو تھا نہیں، جو ہے نہ ہوگا، یہی ہے اک حرف محرمانہ”

(ماخوذ از میثاق بابت مئی ۱۹۶۹ء)