فلسفۂ اقبال

علامہ اقبال مرحوم بلاشبہ ایک عظیم شاعر ہی نہیں، بہت بڑے فلسفی بھی تھے. ان کے فلسفہ کو عام طور پر “فلسفۂ خودی”کا نام دیا جاتا ہے. لیکن واقعہ یہ ہے کہ بہت ہی کم لوگ اس سے واقف ہیں کہ ان کا اصل فلسفہ ہے کیا:

یہ تو سب ہی کو معلوم ہے کہ علامہ کی معرکۃ الآراء مثنوی “اسرار خودی” کا ترجمہ انگریزی میں پروفیسر نکلسن نے کیا ہے. لیکن یہ بات عام طور پر لوگوں کو معلوم نہیں کہ پروفیسر موصوف نے خود “اسرار خودی” کو سمجھنے کے لیے اوّلاً ڈاکٹر محمد شفیع مرحوم سے مدد لی جو اس وقت کیمبرج میں اپنے تحقیقی کام میں مصروف تھے (یہ ذکر ۱۹۱۸ء کا ہے) اور پھر جب اس ساری تگ و دو کے باوجود وہ علامہ مرحوم کے فلسفہ کو اچھی طرح نہ سمجھ پائے تو انہوں نے خود علامہ سے رجوع کیا اور فرمائش کی کہ وہ اپنے فلسفیانہ خیالات کو ایک مختصر لیکن جامع مضمون کی صورت میں بزبان انگریزی تحریر کردیں. علامہ نے اس فرمائش کی تعمیل میں جو مضمون لکھا اسے پروفیسر نکلسن نے 
“Secrets of the Self” کے شرع میں شامل کردیا جو ۱۹۲۱ء میں شائع ہوئی تھی. 

ذیل میں ایک تو اس تحریر کا وہ ترجمہ درج کیا جا رہا ہے جو پروفیسر چشتی صاحب نے ۱۹۳۲ء میں کیا تھا اور دوسرے مثنوی اسرار خودی کا وہ خلاصہ بھی درج کیا جارہا ہے جو پروفیسر صاحب نے اسی زمانے میں خود مرتب کیا تھا. مزید برآں “رموز بے خودی”کا خلاصہ بھی آئندہ صفحات میں قارئین کی نظر سے گزرے گا، اسے بھی پروفیسر صاحب نے اسی زمانے میں مرتب کیا تھا. 
اس طرح یہ مضمون نہ صرف یہ کہ علامہ اقبال کے فلسفے پر نہایت مختصر لیکن انتہائی جامع اور ساتھ ہی غایت درجہ عام فہم دستاویز کی صورت اختیار کرگیا ہے. بلکہ اس کے ذریعے اس پیغام کا خلاصہ بھی سامنے آجائے گا جو علامہ مرحوم نے امت مسلمہ کو دیا تھا اور یہ تینوں مضمون مل کر ایک مکمل وحدت کی صورت اختیار کرلیں گے. واضح رہے کہ ’رموز بے خودی‘ کا ترجمہ بعد میں پروفیسر آربری نے کیا جو ۱۹۵۴ء میں شائع ہوا. ..... اسرار احمد (میثاق، جون ۱۹۶۹ء)