غیبت کی شناعت

اس آیت میں تیسری اور آخری بات فرمائی : وَ لَا یَغۡتَبۡ بَّعۡضُکُمۡ بَعۡضًا ؕ ’’اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کیا کرو‘‘. کسی کے پیٹھ پیچھے‘ کسی کی عدم موجودگی میں اس کی برائی بیان کرنا غیبت ہے جبکہ نیت اس کی توہین و تذلیل کی ہو. یعنی اس کے بارے میں بری بات کو اس ارادے سے لوگوں تک پہنچانا اور پھیلاناتاکہ لوگوں کی نگاہ میں اس کی وقعت نہ رہے. اسی آیت مبارکہ میں اس غیبت کی مذمت بڑے شدید انداز میں بیان ہوئی. ارشاد ہوا : اَیُحِبُّ اَحَدُکُمۡ اَنۡ یَّاۡکُلَ لَحۡمَ اَخِیۡہِ مَیۡتًا فَکَرِہۡتُمُوۡہُ ؕ ’’کیا تم میں سے کوئی شخص اس کو پسند کرے گا کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے‘ پس اسے تو تم بہت ناگوار سمجھتے ہو!‘‘ اب دیکھئے کہ اس میں مناسبت کیا ہے؟ جو شخص فوت ہوچکا ہے‘ وہ اپنی مدافعت نہیں کرسکتا. آپ جہاں سے چاہیں اس کی بوٹی اڑا لیں. اسی طرح جو شخص موجود نہیں ہے وہ اپنی عزت کی حفاظت نہیں کر سکتا‘ وہ اپنی صفائی اور مدافعت میں کچھ کہہ نہیں سکتا. ہو سکتا ہے کہ آپ کو کوئی مغالطہ ہوا ہو‘ ہو سکتا ہے کہ آپ اس کے بارے میں جو بات کہہ رہے ہیں وہ غلط ہو. اگر وہ موجود ہو گا تو وضاحت کر سکے گا‘ لیکن اگر وہ موجود نہیں ہے تو اپنی عزت کی حفاظت کرنے سے قاصر ہے‘ جیسے ایک مردہ لاش اپنے جسم کی حفاظت نہیں کر سکتی. اگر آپ نے اپنے کسی غیر موجود مسلمان بھائی کی کوئی برائی بیان کی ہے تو یہ غیبت ہے اور درحقیقت یہ اخلاقی سطح پر بالکل ایسے ہی ہے جیسے آپ کسی مردہ بھائی کی لاش سے بوٹیاں نوچ نوچ کر کھارہے ہوں.