تفرقہ کا اصل سبب اور اس کا نتیجہ

اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ تفرقہ و افتراق کا اصل سبب کیا ہے؟ یہاں یہ بات پیش نظر رہے کہ اختلاف اور تفرقہ دو مختلف چیزیں ہیں. اختلاف اپنی جگہ ہے‘جس کے بارے میں قرآن حکیم میں کہا گیا ہے: 

’’وَّ لَا یَزَالُوۡنَ مُخۡتَلِفِیۡنَ ﴿۱۱۸﴾ۙ … وَ لِذٰلِکَ خَلَقَہُمۡ ؕ ‘‘ 
(ہود: ۱۱۸.۱۱۹یعنی ’’ یہ اختلاف تو کرتے ہی رہیں گے… اور اسی طرح اُس نے انہیں پیدا کیا ہے‘‘. یعنی اختلاف تو اللہ تعالیٰ کی تخلیق کا ایک اصول ہے‘جس پر اس نے انسانوں کو بنایا ہے. کائنات میں یکسانیت (monotony) کہیں ہے ہی نہیں. دو انسانوں کی شکلیں آپس میں نہیں ملتیں‘اور تو اور ان کے ہاتھوں کے انگوٹھوں کے نشانات تک آپس میں نہیں ملتے. اللہ کی تخلیق میں ایک بو قلمونی اور رنگارنگی ہے. سورۃ الروم میں فرمایا کہ تمہاری زبانوں اور رنگوں کا اختلاف اللہ کی عظیم آیات میں سے ہے. گویا اختلاف اس کائنات کے لیے ایک اصولِ موضوعہ اور تخلیق کی ایک بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے. انسانوں کی زبانوں میں فرق ہے‘ان کی صورتوں اور رنگوں میں فرق ہے. آپ دیکھتے ہیں کہ دو آدمیوں کے مزاج ایک نہیں‘ان کی ترجیحات ایک نہیں‘ان کے ذوق ایک نہیں‘ان کے فہم کا معیار ایک نہیں‘ان کی ذہانت ایک سی نہیں. چنانچہ اختلاف تو ہر جگہ موجود ہے اور یہ کوئی ایسی بری اور انہونی شے بھی نہیں‘جبکہ تفرقہ ایک الگ شے ہے. اختلاف کو گوارا کرنے کی بجائے اگر ’’من دیگرم تو دیگری‘‘ کی نوبت آ جائے اورایک دوسرے پر کفر کے فتوے لگانے شروع کر دیے جائیں تو یہی تفرقہ ہے جو کفر اور شرک سے کم نہیں. تفرقہ کا سبب قرآن حکیم میں کم از کم ۵ مقامات پر ایک جیسے الفاظ میں ذکر ہوا ہے. یہاں سورۃ الشوریٰ کی آیت ۱۴میں بھی یہی فرمایا گیا: 

وَ مَا تَفَرَّقُوۡۤا اِلَّا مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَہُمُ الۡعِلۡمُ بَغۡیًۢا بَیۡنَہُمۡ ؕ 
’’اور انہوں نے تفرقہ نہیں کیا مگر اس کے بعد کہ ان کے پاس علم آ چکا تھا‘آپس کی ضد کی وجہ سے!‘‘
تفرقہ جب بھی ہوتا ہے وہ 
’’بَغْیًا بَیْنَھُمْ‘‘ کی بنیاد پر ہوتا ہے. یعنی ضِدم ضدا‘ایک دوسرے پر بالادستی حاصل کرنے کی کوشش. تفرقہ کبھی نیک نیتی سے نہیں ہوتا. نیک نیتی سے اختلاف ہو سکتا ہے لیکن تفرقہ نہیں. تفرقے کا سبب ہمیشہ یہی ہوتا ہے جو قرآن نے ’’بَغْیًا بَیْنَھُمْ‘‘ کے الفاظ میں بیان فرمایا ہے. یعنی ایک دوسرے پر تعدّی اور بالادستی. جدید ماہرینِ نفسیات میں سے ایڈلر نے اسے ’’حبِّ تفّوق‘‘ (Urge to dominate) سے تعبیر کیا ہے.

اس آیت کے آخری حصے میں ایک بڑی عظیم اور تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ اس تفرقے کا نتیجہ کیا نکلتا ہے. فرمایا: 

وَ اِنَّ الَّذِیۡنَ اُوۡرِثُوا الۡکِتٰبَ مِنۡۢ بَعۡدِہِمۡ لَفِیۡ شَکٍّ مِّنۡہُ مُرِیۡبٍ ﴿۱۴﴾ 

’’اور ان کے بعد جو لوگ کتاب کے وارث بنائے گئے‘وہ اس کے بارے میں شکوک و شبہات میں مبتلا ہیں.‘‘

یعنی جب دینی راہنماؤں کے مابین تفرقہ پیدا ہو جاتا ہے تو اگلی نسلوں میں خود کتاب اللہ کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا ہو جاتے ہیں. اور یہی حال آج ہماری نئی نسل کا ہے جو کہتی ہے کہ یہ مولوی توآپس میں لڑتے رہتے ہیں‘ہم کس کی سنیں؟ خواہ یہ بدنیتی سے کہا ہوا جُملہ ہی کیوں نہ ہو‘لیکن بہرحال جملہ تو ایسا ہے کہ جس پر خاموش رہنے اور گردن جھکانے کے سوا اور کیا کیا جا سکتا ہے! یہ سب دراصل تفرقے کا ہی نتیجہ ہے. ایک نسل کو اللہ کے نبی سے کتاب منتقل ہوئی جو الگی نسل کو منتقل ہو رہی ہے. لیکن اب جو اس کے وارث بنے ہیں وہ اس تفرقے کی وجہ سے اس کتاب ہی کے بارے میں شکوک و شبہات میں مبتلا ہو جاتے ہیں.