نفاذِ اسلام کی راہ کی ایک اہم رکاوٹ

دوسرا پہلو (2nd Dimension) یہ کہ جو کچھ آج پاکستان کے اندر ہو رہا ہے اس کا فائنل تجزیہ جو میں بار ہا آپ کے سامنے پیش کر چکا ہوں‘اسے اختصار کے ساتھ پھر بیان کر رہا ہوں. پاکستان کے لیے صرف استحکام کی واحد بنیاد ہی نہیں بلکہ اس کی بقا کی وجہِ جواز بھی اسلام ہے. اگر یہاں اسلام نہیں آتا تو اس کے باقی رہنے کا کوئی جواز ہی نہیں. اور یہاں یہ سب کچھ افراتفری‘لوٹ کھسوٹ‘بدامنی اور عدم استحکام اسی لیے ہے کہ ہم نے اس کی اس واحد وجہ جواز ہی کو مشکوک بنا دیا ہے. نتیجتاً یہ عذاب الٰہی کے کوڑے میں جو ہماری پیٹھ پر پڑتے ہیں. قمری حساب سے قیام پاکستان کو ۲۵ برس پورے ہونے پر ۱۹۷۱ء میں ہم پر پہلا کوڑا برسا جب ملک دو لخت ہوا. اور اب دوسرے ۲۵ برس ہونے میں صرف ایک برس باقی رہ گیا ہے اور کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لینے سے بلی تو غائب نہیں ہو جائے گی… اور اس ساری پیچیدگی کا واحد حل یہی ہے کہ یہاں اسلام آئے.

یہاں اسلام اب تک کیوں نہیں آیا‘اس کے دو بڑے بڑے سبب ہیں. ان میں سے ایک سبب جو میں بارہا بھی کر چکا ہوں وہ دینی جماعتوں کی یہ بہت بڑی غلطی ہے کہ وہ انتخابی سیاست کے اکھاڑنے میں اتر کر پاور پالیٹکس کے کھیل میںشریک ہو گئیں‘انہیں اقتدار کی غلام گردشوں کے اندر چلنے پھرنے اور وی آئی پی ٹریٹمنٹ کے چسکے پڑ گئے اور یہی شے تھی جو بیڑہ غرق کرنے والی تھی. اس وقت میں اس کی مزید کوئی تفصیل بیان نہیں کروں گا‘یہ میرا وہ موقف ہے جو میں بار ہا تفصیل سے بیان کر چکا ہوں. اس کے علاوہ اس کا دوسرا سبب شیعہ سنی اختلاف ہے جو واقعتا بہت بڑا اختلاف ہے. اس اختلاف کی نوعیت حنفی‘مالکی‘شافعی والے اختلاف کی نہیں ہے ‘کیونکہ شیعہ اور سُنّی کے نزدیک سُنّتِ رسول  کے مآخذ جدا جدا ہیں‘جبکہ دین کی عملی شکل تو سُنّت ہی سے سامنے آتی ہے ؏ ’’بمصطفیٰ برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست!‘‘تو یہ اس مسئلہ کی دوسری dimension (جہت) ہے. چنانچہ اگر ہم شیعہ سُنّی مفاہمت کی کوئی راہ تلاش کر لیں تو اس سے ایک تو اس ملک میں دہشت گردی اور تخریب کاری کی ایک اہم کین گاہ ختم ہو سکتی ہے اور پورے ملک کی سطح پر اہم ترین کمین گاہ یہی ہے‘البتہ کراچی میں ایک دوسری کمین گاہ بھی ہے جس کا تذکرہ میں کر چکا ہوں. اللہ کرے کہ ہمارے سیاست دانوں کو عقل آ جائے‘ان لوگوں کو سمجھ آ جائے جن کے ہاتھوں میں ’’تقدیر حنا‘‘ ٹھہری ہے ؎

رنگِ گل کا ہے سلیقہ‘نہ بہاروں کا شعور
ہائے کن ہاتھوں میں تقدیرِ حنا ٹھہری ہے!

اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے دلوں کو صحیح راستے کی طرف پھیر دے اور انہیں اپنی سیاسی مصلحتوں سے بالاتر ہو کر اس ملک کی سالمیت کے تقاضوں کے پورا کرنے کی ہمت عطا کر دے. بہرحال شیعہ سنی مفاہمت کا معاملہ بھی اس سے کم اہم نہیں ہے اور واقعہ یہ ہے کہ اگر یہاں کوئی شیعہ سنی اتحاد ہو جائے‘مفاہمت کی کوئی صورت بن جائے تو اس ملک میں اسلام کے نفاذ کی طرف یہ ایک بہت بڑا 
Break through ہو گا اور اس سے اتنی بڑی پیش رفت ہو گی کہ پھر اس سمت میں آ گے چلنا بہت آسان ہو گا.