نیوورلڈ آرڈر کی یلغار

اب میں اس مسئلہ کے تیسرے پہلو (3rd dimension) کی طرف آتا ہوں. اس کو بھی میں بڑی تفصیل سے تحریر و تقریر میں بیان کر چکا ہوں اور اس موضوع پر میری کتاب بھی ’’سابقہ اور موجودہ مسلمان امتوں کا ماضی‘حال اور مستقبل‘‘ کے نام سے منصۂ شہود پر آ چکی ہے. یہ تیسرا پہلو نیو ورلڈ آرڈر کی یلغار سے متعلق ہے. اس یلغار کا انداز بھی ہمارے سامنے آ چکا ہے کہ یہ نیو ورلڈ آرڈر حقیقت میں جیو ورلڈ آرڈر ہے.

چنانچہ حال ہی میں کراچی کی ایک اہم سیاسی شخصیت نے یہاں آکر جو باتیں کہیں وہ میرے علم میں کل کے روزنامہ پاکستان سے آئی ہیں. میں تو یہاں تھا نہیں‘انہوں نے یہاں ایک تقریب میں آکر یہ باتیں کی ہیں. انہوں نے کہا ہے کہ یہودی سازش میں یہ چیز طے پا چکی ہے کہ ہندوستان اور پاکستان دونوں کے ٹکڑے کر دیے جائیں اور ظاہر ہے کہ ’’نزدلہ برعضوِ ضعیف‘‘ کے مصداق پہلے پاکستان کی باری ہے. ہم نے خود اس کے لیے میدان تیار کر رکھے ہیں کہ آؤ کھیلو اور کودو! میرے علم میں یہ بات پہلے سے ہے اور بہت سے لوگوں کے ذریعے یہ بات سامنے آ چکی ہے‘لیکن میں یہ باتیں اس لیے بیان نہیں کرتا کہ میرے نزدیک ان کی حیثیت غیر مصدقہ اور سنی سنائی باتوں کی تھی. اب ایک اہم سیاست دان نے یہ بات کہی ہے تو میں اس کے حوالے سے اسے بیان کر رہا ہوں‘بلکہ میں تو اس سے بھی آگے غرض کرتا ہوں کہ یہودیوں کے سامنے امریکہ کے بھی حصے بخرے کرنے کا پروگرام ہے اور وہ اس کے ٹکڑے کر کے رہیں گے. وہ اس کو اُس وقت تک استعمال کرتے رہیں گے جب تک وہ استعمال ہوتا رہا‘اور کسی وقت بھی اگر امریکہ نے ان کی سکیم کے آگے بند باندھنے کی کوشش کی تو جس طرح انہوں چشمِ زون میں 
USSR کو دنیا میں نسیاً منسیا کر دیا‘اسی طرح وہ USA کے بھی ٹکڑے کر دیں گے‘اس لیے کہ پوری معیشت کے لیور پر ان کا ہاتھ ہے. لہٰذا ان کی طرف سے ایک حرکت ہو گی‘شیئر مارکیٹ کے اندر ایک زلزلہ آئے گا اور امریکہ کی دھجیاں بکھر جائیں گی. امریکہ سے زیادہ کمزور (Fragile) معیشت تو دنیا کے کسی دوسرے ملک کی نہیں ہے. دنیا میں سب سے زیادہ مقروض حکومت امریکہ کی ہے اور اس کے قرض خواہ یہودی بینکار ہیں. اور وہاں کے بینک حکومت کی تحویل میں یا حکومت کے زیر اثر نہیں ہیں بلکہ آزاد اور حکومت سے بالاتر ہیں‘لہٰذا یہودی جب چاہیں امریکہ کو توڑ سکتے ہیں. تو اس ’’جیو ورلڈ آرڈر‘‘ کے بارے میں تفصیل سے لکھ چکا ہوں.

کبھی مغرب سے ایک سیلاب نو آبادیاتی نظام کا آیاتھا‘لیکن اس کا آغاز مشرق بعید سے ہوا تھا. چنانچہ یہ سیلاب پہلے جاوا‘سماٹرا‘انڈونیشیا‘ملائیشیا اور ہندوستان کو اپنی ذد میں لے کر پھر شرقِ اوسط کی طرف گیا تھا. لیکن اِس وقت نیو ورلڈ آرڈر کا جو سیلاب آیا ہے اس نے 
سب سے پہلے عالمِ عرب کو اپنے شکنجے میں کس لیا ہے‘چنانچہ اب عالم عرب تو یہودیوں کی مٹھی میں ہے. اب تو وہاں پر ایک اکنامک بلاک بنے گا اور یورپ کی طرح کی ایک مشترکہ مارکیٹ وجود میں آئے گی‘جس میں سرمایہ اور محنت عربوں کی جانب سے ہو گی اور تکنیکی مہارت (Know How) ‘انتظام و انصرام اور ٹیکنالوجی یہودیوں کی ہو گی. اس طرح ملائی یہودی کھائے گا اور تلچھٹ عربوں کے حصے میں آئے گی. یہودیوں کے پیش نظر یہی ہے کہ وہ صرف عالمی مالیاتی نظام قائم کر کے اپنی عالمی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں. ان کے نزدیک ان کے علاوہ دنیا کے تمام انسانوں کی حیثیت ڈھورڈنگروں کی ہے‘گھوڑوں اور گدھوں کی ہے‘جن کا کام ان کی خاطر محنت اور کوشش کرنا ہے تاکہ ان کی کمائی کا بہترین حصہ انہیں حاصل ہوتا رہے. باقی جس طرح گھوڑے کو کام کے قابل رکھنے کے لیے دانہ ڈالنا ضروری ہوتا ہے‘اسی درجے میں ان لوگوں کو بھی کھانا تو فراہم کیا جائے‘البتہ آئی ایم ایف اور ورلڈبینک کے ذریعے سے اس عالمی مالیاتی نظام کی ساری ملائی ان کے پاس پہنچتی رہے. اللہ اللہ‘خیر سلا. براہ راست اپنی اپنی حکومت قائم کر کے انہیں کیا لینا ہے؟

اس ضمن میں مذہبی یہودیوں اور سیکولر یہودیوں کے درمیان اب صرف ایک اختلاف باقی رہ گیا ہے اور وہ یہ کہ مذہبی 
(Practicing) یہودی دریائے نیل سے دریائے فرات تک عظیم تر اسرائیل قائم کرنے پر مصر ہیں اور باقی پوری دنیا پر صرف معاشی اور مالیاتی تسلط قائم کرنا چاہتے ہیں‘جبکہ سیکولر یہودی(Zionists) انہیں کسی طریقے سے یہ بات سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اس کی کیا ضرورت! اپنی حکومت قائم کر کے یہی کچھ کروگے ناکہ لگان لو گے‘ٹیکس وصول کرو گے. اور اگر اس کے بغیر ہی تمہیں سب کچھ ملتا چلا جائے تو حکومت بنانے کی کیا ضرورت ہے؟ یہ اجڈ‘جاہل‘گنوار جن کے پاس تیل اور سرمایہ موجود ہے‘ذہنی و فکری صلاحیتوں سے عاری ہیں‘ان کے پاس علم ہے نہ ٹیکنالوجی‘نہ انہیں تنظیمی و انتظامی امور کا کچھ سلیقہ حاصل ہے‘جبکہ ہمارے پاس یہ سب کچھ ہے‘چنانچہ محنت یہ لوگ کریں گے اور کھائیں گے ہم. تو یہ اختلاف ہے جو اِس وقت یہودیوں کے مابین پایاجاتا ہے. اسرائیل میں یہودیوں کا جو طبقہ اقتدار پر قابض ہے وہ یہی چاہتا ہے کہ دنیا پر ہمارا معاشی تلسط مضبوط تر ہو جائے اور ہم یہاں بیٹھے دنیا بھر کی معیشت کی ملائی کھاتے رہیں.
اس نیوورلڈ آرڈر یا جیو ورلڈ آرڈر کے آگے اب جو ’’آخری چٹان‘‘ باقی رہ گئی ہے وہ پاکستان‘ایران‘افغانستان اور دینی و روسی ترکستان پر مشتمل مسلمان ممالک کا یہ بلاک ہے. اگر نقشے پر دیکھیں تو ان ممالک کے عین قلب میں افغانستان واقع ہے‘جس کے جنوب میں بلوچستان‘مشرق میں پاکستان کا بقیہ حصہ‘مغرب میں ایران اور شمال میں ترکستان کے مختلف ممالک دستار کے طرے کی مانند نظر آتے ہیں. یہ وہ ’’آخری چٹان‘‘ ہے جو یہودکے اس نیوورلڈ آرڈر کی راہ میں رکاوٹ ثابت ہو سکتی ہے. اس کے بعد تو مسلمان ممالک میں سے بنگلہ دیش اور انڈونیشیا وغیرہ باقی رہ جاتے ہیں جو مشرقِ بعید سے مترلق ہیں‘درمیان میں بھارت کا بہت بڑا رقبہ آ جاتا ہے جہاں اگرچہ مسلمان بہت بڑی تعدادمیں موجود ہیں لیکن وہ وہاں پر مقہور اور مجبور ہیں اور ان کی وہاں پر سیاسی سطح پر کوئی حیثیت نہیں ہے. لہٰذا اس اعتبار سے اہم ترین حیثیت اسی بلاک کی ہے اور آپ کو معلوم ہے کہ اس بلاک میں شیعہ سنی تنازعہ سب مسائل سے زیادہ سخت اور گھمبیر ہے.

ان تمام مالک میں صرف ایک ملک ایران ایسا ہے جس نے اس سلسلہ میں کوئی پیش رفت کی ہے اور اس مسلئلے کا کوئی حل نکالا ہے. چنانچہ اس نے اپنے مذہبی تصورات و عقائد اور اپنی فقہ کے مطابق ایک مذہبی نظام قائم کیا ہے اور اس حوالے سے میں نے بارہا کہا ہے کہ ایران نے ہمیں روشنی دکھائی ہے‘راہنمائی فراہم کی ہے‘جبکہ پوری سُنّی دنیا ’’سُن‘‘ پڑی ہوئی ہے اور ہمیں کہیں بھی اپنا نظام قائم کرنے کی توفیق نہیں ہوئی. ایرانیوں نے انقلاب برپا کیا اور اپنی سرزمین سے امریکی استبداد کا سب سے مضبوط کھونٹا ایسے اکھاڑ پھینکا کہ شہنشاہ آریا مہر کو وہاں سے بھاگتے بنی اور یہ سب کچھ ایسے ہی نہیں ہو گیا بلکہ اس کے لیے خون دیا گیا‘ہزاروں کی تعداد میں جانیں دی گئیں. اور ماننا پڑے گا کہ یہ ان کی بہت بڑی کامیابی ہے. اس کے علاوہ انہوں نے ہمیں ایک اور بہت بڑی روشنی دکھائی ہے اور وہ یہ کہ آج مسلح بغاوت نہیں بلکہ غیر مسلح بغاوت سے کام چلے گا اور انہوں نے اس کی مثال قائم کر کے دکھائی ہے. میں نے ’’منہج انقلاب نبوی ‘‘ میں اس کو ہمیشہ پیش کیا ہے کہ آج 
انقلاب کا معاملہ مسلح بغاوت سے نہیں ہو گا‘آج عوام نہتے ہیں جبکہ حومتیں اپنے اپنے ہاں کے نظام کے بل بوتے پر قائم ہیں. کہیں جاگیرداری نظام کی حکومت ہے تو کہیں سرمایہ دارانہ نظام کی. اگر کہیں بادشاہت ہے تو بادشاہ کے پاس پوری طاقت اور اقتدار ہے. حکومتوں کے پاس فوجیں ہیں‘ایئر فورس ہے‘ٹینک اور ہوائی جہاز ہیں. ان کے مقابلے میں نہتے عوام بغاوت کر کے کیسے کامیاب ہو سکتے ہیں؟ لہٰذا آج مسلح بغاوت نہیں غیر مسلح بغاوت کی ضرورت ہے‘جو ایرانیوں نے کر دکھائی ہے.

واقعہ یہ ہے کہ ایران نے شیعہ سنی مسئلے کا بھی حل کر کے دکھایا ہے‘جو میں بعد میں عرض کروں گا. اس وقت آپ کے سامنے یہ بات رکھ رہا ہوں کہ یہ مسئلہ ہمارے ہاں پورے خطے میں پیوست ہے. آپ کو معلوم ہے کہ افغانستان میں مجاہدین کے آٹھ گروپ پاکستان نواز تھے اور وہ سنی تھے‘جبکہ سات گروپ ایران نواز تھے اور وہ شیعہ تھے. اور آج بھی وہاں یہ شیعہ سنی مسئلہ چل رہا ہے. پاکستان میں تو شیعہ سنی آبادی اس طرح گھلی ملی ہوئی ہے کہ ایک ہی مکان میں نیچے شیعہ رہتا ہے تو اوپر سنی‘اور دائیں سنی ہے توبائیں شیعہ ہے. اس حوالے سے‘واقعہ یہ کہ پاکستان میں اسلام کے نفاذ کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ یہی ہے اور اگر اس مسئلہ کا کوئی حال نکل آتا ہے تو اس راستے کی ہماری یہ رکاوٹ دور ہو جاتی ہے. اس طرح نفاذ اسلام کے بعد یہاں اتحاد کی فضا قائم ہو گی اور اگر یہ اتحاد اور مفاہمت ہو جائے تو یہی خطہ وہ چٹان ہے جس سے ٹکرا کر نیوورلڈ آرڈر پسپا ہو سکتا ہے. 
اور ابھی تو یہ غنیمت جاننے کہ چین بھی ایک طاقت کی حیثیت سے موجود ہے‘اگرچہ بدقمتی سے ہم امریکہ کے گھڑے کی مچھلی بننے کی وجہ سے جدھر جا رہے ہیں‘اس کے نتیجے میں چین کو دن بدن اپنے سے دور کرتے چلے جا رہے ہیں. آخری کوئی وجہ تو ہے کہ چین اب پاکستان کی نسبت بھارت سے قریب تر ہو رہا ہے. اگر کہیں کشمیر اور شمالی علاقہ جات پر امریکہ یایو. این. او کا عمل دخل قائم ہو جاتا ہے تو یوں سمجھئے کہ چین کے ساتھ تو آپ کا تعلق منقطع ہو گیا‘بلکہ پھر چین کے ساتھ آپ کی دشمنی ہو گی‘کیونکہ پھر امریکہ یہاں سے پورے علاقے کو مانیٹر کرے گا اور چین پر بھی نگاہ رکھے گا. تو اس تیسری
dimension کو اس حوالے سے بھی سمجھ لیجیے. بہرحال اگر شیعہ سُنّی مفاہمت ہو جائے تو:

i) ہم یہاں پر دہشت گردی کا ایک بازو توڑ سکتے ہیں.
ii) پاکستان میں اسلام کے نفاذ کا راستہ ہموار ہوتا ہے اور اس کے لیے جدوجہد آسان ہوتی ہے.
iii) اس خطے کے مسلم بلاک کے اندر اتحاد اور یگانگت عمل میں آ سکتی ہے.

پاکستان‘افغانستان‘ایران اور ترکستان پر مشتمل یہ بلاک بڑا سالڈ 
(Solid) بلاک ہے. (میں ترکی کو اس میں شامل نہیں کر رہا کیونکہ وہ تو تقریباً امریکہ کی جھولی ہی میں ہے اور اس کے امریکہ کا حلیف ہونے میں کوئی شک نہیں.) اس خطے میں چینی ترکستان ابھی آزاد نہیں ہے‘لیکن روسی ترکستان آزاد ہو چکا ہے جو ایک بہت بڑا علاقہ ہے اور اس کے پاس بڑے وسائل و ذرائع ہیں. اس پورے مسلم بلاک کے اندر اتحاد کی کوئی بنیاد ہونی چاہیے‘اور ہمارے مابین اسلام کے سوا کوئی اور قدر مشترک ہے ہی نہیں‘لیکن اس قدر مشترک میں بھی شیعہ سنی تنازعہ آڑے آ جاتا ہے. یہ مسئلہ افغانستان میں بھی گڈمڈ ہے اور پاکستان میں بھی. اس پورے علاقے میں شیعہ سنی مسئلہ ایک نہایت اہم اور بنیادی مسئلے کی حیثیت سے موجود ہے. چنانچہ اگر اس مسئلے کو حل کر لیا جائے تو یہ مذکورہ بالا تین پہلوؤں پر مثبت انداز میں اثرانداز ہو سکتا ہے.