حرفِ آخر

اب میں اپنے شیعہ بھائیوں سے آخری بات دست بستہ عرض کر رہا ہوں اور مجھے توقع ہے کہ یہ بات صدابصحرا ثابت ہو گی‘مجھے امید کی کرن نظر آ رہی ہے. خدا کے لیے اس معاملے پر اس پہلو سے سوچیں کہ اگر ہم اسے تسلیم کرتے ہیں تو کیا کچھ حاصل ہو سکتا ہے اور اگر اسے رد کرتے ہیں تو کیا کچھ ہاتھ سے جاتا ہے‘اس کا موازنہ کریں. اس ضمن میں ایک اچھی بات یہ بھی سامنے آئی ہے کہ ایک زمانے میں اہل تشیع نے اپنی ایک جماعت کا نام ’’تحریکِ نفاذِ فقہ جعفریہ‘‘ رکھا ہوا تھا‘جسے الحمدللہ اب انہوں نے تحریکِ جعفریہ‘‘ کر دیا ہے. یعنی انہیں اس حقیقت کا ادراک ہو گیا ہے کہ یہاں پر فقہ جعفریہ کا نفاذ نہیں ہوسکتا. اب میری ان سے گزارش یہ ہے کہ ایک قدم اور آگے بڑھائیں اور کھلے دل کے ساتھ پاکستان میں وہی حیثیت قبول کر لیں جو ایران میں سنیوں کو دی گئی ہے. اس طرح یہاں پر وہ اتحاد قائم ہو جائے گا جس سے خیر کے سارے راستے کھلتے چلے جائیں گے. 

اَقول قَولی ھٰذا وَاسْتغفراللّٰہَ لی وَلکم ولسائر المسلمین والمسلمات