مشاہدات و تأثرات

مشاہدات اور تاثرات کے حوالے سے مجھے جو نکات بیان کرنے ہیں‘ان میں سے اکثر مثبت ہیں‘البتہ کچھ منفی بھی ہیں. 

مثبت تاثرات

٭ علماء کا وقار: مثبت تاثرات میں پہلی قابل ذکر بات یہ ہے کہ ایران میں جا کر واضح طور پر محسوس ہوتا ہے کہ وہاں علماء کا ایک وقار اور عزت ہے‘جبکہ ہمارے ہاں صورتحال اس کے برعکس ہے. شہروں میں یقینا ہمارے ہاں بھی کچھ دبنگ قسم کے علماء ایسے ضرور موجود ہیں جو اپنی حیثیت بنا لیتے ہیں اور اسے منوا لیتے ہیں‘ان کی عزت بھی ہوتی ہے اور مساجد پر بھی وہ اپنا ’’اقتدار‘‘ قائم کر لیتے ہیں‘لیکن دیہات میں‘سب جانتے ہیں کہ علماء کو ’’کمی کاری‘‘ سے زیادہ کی حیثیت نہیں دی جاتی. اقبال نے بھی کہا تھا ؎

قوم کیا چیز ہے‘قوموں کی امامت کیا ہے؟ 
اس کو کیا سمجھیں یہ بیچارے دو رکعت کے امام!

٭ نماز جمعہ کا روح پرور منظر

دوسرا تاثر بھی اقبال کے شعر کے حوالے سے ملاحظہ کیجیے ؎

عیدِ آزاداں شکوہِ ملک و دس
عیدِ محکوماں ہجومِ مومنین

جمعہ بھی مسلمانوں کے لیے عید کا دن ہے‘جیسا کہ حضور نے فرمایا 
’’الجمعۃ عیدُ المسلمین‘‘ اس حوالے سے نماز جمعہ کا جو منظر ہم نے وہاں دیکھا ہے وہ پوری دنیا میں شاید کہیں اور نظر نہ آئے. صرف تہران میں ان کے کہنے کے مطابق دس لاکھ افراد جمعہ ادا کرتے ہیں. ہم نے جہاں نماز جمعہ ادا کی وہ یونیورسٹی کا ایک بہت بڑا جمنیزیم ہے‘جس کی زید توسیع کی گئی ہے. اس کے اردگرد باہر سٹرکوں اور گلیوں میں بقول ان کے دس لاکھ افراد ہوتے ہیں. جہاں تک ہماری نگاہ جا رہی تھی وہ بھی ایک لاکھ سے کسی درجہ کم نہیں تھے. ان کی فقہ میں شاید ایک فرسنگ سے کم فاصلہ پر جمعہ ہو ہی نہیں سکتا. فرسنگ غالباً ساڑھے تین میل کا ہوتا ہے. گویا ساڑھے تین میل کا دائرہ کھینچتا جائے گا تو سات میل کے حلقے کے اندر ایک ہی جمعہ ہو سکتا ہے‘دوسرا نہیں. اس کے مقابلے میں ہمارا حال یہ ہے کہ اگر ایک گلی میں تین مساجد ہیں تو ہر مسجد میں چند آدمی بیٹھے ہوتے ہیں اور جمعہ ہو رہا ہوتا ہے. 

٭ اعلیٰ تعلیم کے معیاری یونیورسٹیاں

میں نے ایران میں دو یورنیورسٹیوں کا مشاہدہ کیا ہے. ان میں سے ایک ’’تہران یونیورسٹی‘‘ ہے اور دوسری ’’دانش گاہ امام جعفر صادقؒ ‘‘. جہاں تک تہران یونیورسٹی کا تعلق ہے وہ تو پہلے سے چل رہی ہے. البتہ دانش گاہ امام جعفر صادقؒ ایک نئی یونیورسٹی ہے جو کچھ عرصہ قبل قائم ہوئی ہے. ان یونیورسٹیوں سے مجھے اتنی دلچسپی اس لیے ہے کہ میں نے ۱۹۶۸ء میں ایک خواب دیکھا تھا کہ عالم اسلام میں جا بجا ایسی یونیورسٹیاں قائم ہونی چاہئیں جن کا مرکزی شعبہ تو قرآن حکیم اور عربی زبان ہو لیکن اس کے ساتھ ساتھ سائنس‘مینجمنٹ‘معاشیات‘اقتصادیات اور تاریخ وغیرہ کے دوسرے شعبے بھی ہوں.

قرآن اور عربی زبان کی تحصیل لازمی ہو اور باقی مضامین میں سے جسے طالب علم پسند کرے اس میں تخصص (specilization) کر لے. یہ خواب پاکستان میں تو ہنوز تشنۂ تعبیر ہے. اگرچہ میں نے قرآن کالج اسی قرآن یونیورسٹی کی طرز پر شروع کیا ہے‘جیسے کبھی سر سید احمد خان نے علی گڑھ کالج کی بنیاد رکھی تھی اور بعد میں اسے یونیورسٹی کا درجہ دے دیا گیا تھا. لیکن ہم نے کالج میں فزیکل سائنسز نہیں رکھیں. ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں ایسی یونیورسٹی کے قیام کی توفیق مرحمت فرما دے جس کا مرکز و محور قرآن اور عربی زبان ہو. بہرحال میں نے ایران میں اپنے خواب کی کسی درجے میں تعبیر دیکھی ہے. گویا بقول اقبال ؎

یارانِ تیز گام نے محمل کو جا لیا
ہم محوِ نالۂ جرسِ کارواں رہے!

٭ خواتین یونیورسٹی کا قیام

حکومت ایران نے خواتین کے لیے علیحدہ یونیورسٹی بنائی ہے. یہ بہت بڑی یونیورسٹی ہے‘جس میں پانچ ہزار طالبات اس وقت زیر تعلیم ہیں. اڑھائی سو اساتذہ ہیں‘جن میں سے ڈیڑھ سو خواتین اساتذہ اور ایک سو مرد ہیں. مرد اساتذہ کی تعیناتی بقول ان کے وقتی مجبوری ہے. تمام طالبات اور خواتین اساتذہ با پردہ نظر آتی ہیں. البتہ ان کے ہاں حجاب میں چہرہ شامل نہیں ہے. لہٰذا خواتین کا پورا جسم اور سر اچھی طرح ڈھکا ہوتا ہے لیکن چہرہ کھلا رہتا ہے. اس کے مقابلے میں ہمارے ہاں خواتین یونیورسٹی کا پر زور مطالبہ کیا جاتا رہا ہے. جنرل ضیاء الھق صاحب کے گیارہ سالہ دورِ اقتدار میں اسلامی جمعیت طلبہ اور جماعت اسلامی نے ویمن یونیورسٹی کی سرتوڑ کوششیں کیں لیکن حکومت کی طرف سے سوائے سبز باغ دکھانے کے اس جانب عملاً کوئی پیش رفت نہ ہو سکی اور ہنوز یہ معاملہ کھٹائی میں پڑا ہوا ہے. لیکن ایران میں خواتین یورنیورسٹی بالفعل قائم ہے.

مجھے خواتین یونیورسٹی جانے کا بھی موقع ملا. وہاں پر وائس چانسلر اور اہم سینئر اساتذہ سے میری گفتگو بھی ہوئی. میں نے ان سے کہا شیعہ سُنّی مسئلہ میں ایک وجہ اختلاف یہ بھی کہ آپ (شیعہ) حضرات خواتین میں سے سید فاطمہ الزہراء ؓ کی شخصیت پر بہت زور دیتے ہیں‘جبکہ سنی حضرات بالخصوص غالی اور متشدد سنی سیدہ عائشہ 
صدیقہ ؓ کی شخصیت پر زیادہ زور دیتے ہیںَ اس طرح دونوں گروہوں نے ایک ایک شخصیت کو اپنے لیے الاٹ کر لیا ہے اور ان دونوں کو ایک دوسرے کے مقابل لے آئے ہیں‘حالانکہ ہمارے نزدیک سیدہ فاطمہ زہرائؓ اور سیدہ عائشہ صدیقہؒ دونوں محترم ہیں. میں نے ان سے کہا کہ اگر آپ حضرت فاطمہؓ کے بجائے ان کی والدہ حضرت خدیجہ الکبریٰ ؓ کو مرکزی شخصیت کا درجہ دیں‘جو حضور کی بیوی ہونے کے ساتھ ساتھ آپؐ کی محسنہ بھی ہیں تو ان کی شخصیت دونوں گروہوں کے لیے یکساں طور پر قابل قبول ہو سکتی ہے. ہمارے نزدیک مَردوں میں ’’الصدیق الاکبر‘‘ کا حضرت ابوبکر صدیقؓ کو حاصل ہے جبکہ خواتین میں ’’الصدیقہ الکبریٰ‘‘ کا مقام یقینی طور پر سیدہ خدیجۃ الکبریٰ کا ہے. ان حضرات نے میری بات کے وزن کو محسوس کیا اور اس سے اتفاق کیا.

٭تعلیم و تعلم سے دلچسپی

ایران میں واضح طور پر محسوس ہوتا ہے کہ ایرانیوں کی ترجیحات میں علم و تعلیم کو اساسی اہمیت دی گئی ہے. یونیورسٹیوں اور لائبرریوں پر زرکثیر خرچ کیا جا رہا ہے. نئے تعلیمی ادارے اور تحقیقی و تفتیشی مراکز کھل رہے ہیں. فارسی زبان میں ایک بہت بڑا انسائیکلوپیڈیا ’’دائرہ المعارف الاسلامیہ الکبریٰ‘‘ کے نام سے تیار ہو رہا ہے. اس کی اب تک تیس جلدیں چھپ چکی ہیں. ساتھ ساتھ اس کا عربی ترجمہ بھی کیا جا رہا ہے‘جس کی چھ جلدیں مکمل ہو چکی ہیں. انہوں نے ہمیں اس کی پہلی دو جلدیں ہدیہ کی ہیں. اہل ایران کی علم دوستی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ وہاں اعلیٰ ترین عمارتیں یونیورسٹیوں‘لائبریریوں‘کتب خانوں اور دیگر تعلیمی اداروں کی ہیں. اس کے برعکس دوسرے شعبوں میں اتنی دلچسپی نہیں ہے. چنانچہ اگرچہ تہران کراچی سے زیادہ جدید شہر ہے لیکن اس کے باوجود اس کا ایئرپورٹ کراچی ایئر پورٹ سے اچھا نہیں ہے‘بلکہ لاہور کے ایئرپورٹ کی طرح ہے. کسی بھی قوم کی زندگی میں ترجیحات کا تعین بہت اہم ہوتا ہے کہ اس کے نزدیک ترجیح اول کسے حاصل ہے اور ترجیح ثانوی کس شے کو حاصل ہے.

٭ قرآن حکیم کی عمدہ طباعت

قرآن مجید کی محفوظیت اور اس کے صحیح ہونے پر مجھے اپنے اس پورے سفر میں کہیں بھی کسی شک و شبہ کے آثار نظر نہیں آئے. اس کے علاوہ قرآن حکیم پر بہت کام ہو رہا ہے. اس کی نہایت عمدہ طباعت ہو رہی ہے. انہوں نے کچھ عرصہ قبل علامہ طباطبائی کی ۲۰ جلدوں پر مشتمل تفسیر شائع کی ہے. یہ تفسیر مجھے بھی ہدیہ کی گئی ہے. اس میں شک نہیں کہ وہ مقدار (quantity) کے معاملے میں سعودی عرب سے آگے نہیں جا سکتے‘اس لیے کہ سعودی عرب معاشی اعتبار سے ایک مضبوط اور مستحکم ملک ہے. سعودی حکومت نے قرآن حکیم کی نہایت عمدہ طباعت کر کے وسیع پیمانے پر پوری دنیا میں مفت تقسیم کیا ہے. بہرحال پھر بھی سعودی عرب کے بعد اپنے وسائل کے اعتبار سے قرآن حکیم کی جس قدر عمدہ طباعت ایران نے کی ہے‘اس کی نظیر کوئی دوسرا مسلمان ملک پیش نہیں کر سکتا. 

٭ مزاروں میں خرافات نہیں

ہمیں اندیشہ تھا کہ آیت اللہ خمینی کے مزار پر ہمارے ہاں کے مزارات سے بھی زیادہ خرافات اور بدعات ہوں گی‘لیکن ہم وہاں گئے تو اس قسم کی کوئی چیز وہاں ہمیں دیکھنے کو نہیں ملی. میں نے وہاں جا کر مسنون طریقہ سے سلام کیا: ’’السلام علیکم یا اھلَ القبور من المؤمنین والمسلمین‘یغفراللہ لنا و لکم‘انتم سلفنا و نحن بالاثر‘‘ پھر مزار کی طرف پیٹھ کر کے قبلہ رو ہو کر دعا کی. اس پر کسی نے کوئی اعتراض نہیں کیا.

میں قُم بھی گیا‘اس لیے کہ وہ ایران کا بہت بڑا علمی مرکز ہے. وہاں حوضۂ علمیہ اور فیضیہ دو بہت بڑے علمی مراکز ہیں. میں مشہد بھی گیا کیونکہ وہ خراسان کا دارالخلافہ ہے. خراسان سے جو مجھے دلچسپی ہے وہ آپ حضرات کو معلوم ہے. ان دونوں مقامات پر دو مزارات ہیں جو ان کے نزدیک مقدس ترین مقامات ہیں اور انہیں وہاں ’’حرم‘‘ کہا جاتا ہے. مشہد میں ان کے نزدیک آٹھویں امام معصوم امام رضاؒ اور قم میں ان کی ہمشیرہ حضرت معصومہؒ کے مزارات ہیں. ہمیں ان دونوں مزارات پر لے جایا گیا‘لیکن ہم مزاروں کے اندر نہیں گئے بلکہ باہر ہی سے مسنون دعا کی‘لیکن مجھے خوشگوار حیرت ہوئی 
کہ ہمارے اس عمل سے کسی کے چہرے پر ناراضی کے آثار نہیں آئے اور کسی نے ہمیں یہ نہیں کہا کہ اندر جا کر مزار پر حاضری دے آئیں.

ویسے اپنے بارے میں یہ وضاحت بھی کر دوں کہ میں مزارات کے اندر نہیں گیا تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ میں اسے کفر یا شرک سمجھتا ہوں. میں تو یہاں بھی شیخ علی ہجویریؒ کی قبر پر جانا چاہتا ہوں لیکن صرف اس لیے نہیں جا رہا کہ اس سے عوام میں پائے جانے والے قبر پرستی کے مروجہ خیالات اور مشرکانہ تصورات کو تقویت ملے گی. ماضی میں اس طرح کی ایک غلطی مجھ سے ہوئی ہے. وہ یہ کہ ایک مرتبہ میں کھاریاں میں پیر صاحب موہری شریف کی دعوت پر ان کی خانقاہ میں گیا. وہ مجھے اپنے پیر صاحب کی قبر پر لے گئے. پھر اس بات کا بتنگڑ اس طرح بنایا گیا کہ انہوں نے وہاں پر فوٹو کھینچ کر اخبارات میں شائع کروا دیا اور یہ تاثر دیا گیا کہ ڈاکٹر اسرار احمد بریلوی اور پیر پرست بن گئے ہیں اور یہ بھی کہا گیا کہ انہوں نے پیر صاحب کی بیعت کر لی ہے وغیرہ وغیرہ. تو اس طرح کے فتنوں کے سدباب کی وجہ سے میں نے مزارات پر نہ جانے کا فیصلہ کیا ہے. 

٭ سرکاری سطح پر سادگی

ایک مثبت تبدیلی یہ ہے کہ اگرچہ آیت اللہ خامنہ ای کو ایران میں بے تاج بادشاہ کی حیثیت حاصل ہے لیکن ان میں ہمیں کوئی بات ’’شاہانہ‘‘ نظر نہیں آئی. ہماری بھی ان سے ملاقات ہوئی. وہ ہمیں سادگی‘شرافت‘متانت‘تحمل و بردباری اور وجاہت کا عظیم مرقع اور مجسمہ نظر آئے. واقعہ یہ ہے کہ میں نے آج تک ایسی شخصیت نہیں دیکھی. اتنا بلند مرتبہ حاصل ہو جانے کے باوجود ابھی تک وہ فرشی نشست پر دوزانوں ہو کر بیٹھتے ہیں اور عوام اور دیگر ملاقاتی بھی دوزانو ہو کر ان کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں. اسی طرح محکمہ ’’سازمان ثقافت و علاقات خارجی‘‘ کے انچارج آیت اللہ تسخیری بھی حلم و تواضع میں اپنی مثال آپ ہیں. کچھ ایسا ہی معاملہ ’’مرکز دائرہ المعارف بزرگ اسلامی‘‘ کے سربراہ ڈاکٹر بجنوردی کا ہے. وہ علماء میں سے نہیں. انہوں نے شاہ کے دور میں چودہ سال جیل کاٹی ہے.

ان کو وزارت عظمیٰ کی پیشکش بھی کی جاتی رہی ہے لیکن انہوں نے اپنے آپ کو علمی کام کے لیے وقف کیا ہے. وہ بہت ہی شریف انسان ہیں. ہمیں قم پبلک لائبریری دیکھنے کا موقع بھی ملا. یہ لائبریری تنہا ایک شخص آیت اللہ ا لمرشی نے نجف میں بیٹھ کر بنائی ہے. اس لائبریری میں پچیس ہزار سے زائد تو مخطوطات جمع کیے گئے ہیں. ان کے بیٹے سید محمود المرعشی سے مل کر بھی طبیعت بہت خوش ہوئی. ایسی لائبریری میرے علم کی حد تک پورے پاکستان میں موجود نہیں ہے. اس کے علاوہ آیت اللہ واعظ زادہ خراسانی کی شرافت‘متانت اور وجاہت کا تو میں پہلے سے ہی قائل تھا. 

٭مضبوط معیشت کے لیے کوششیں

ایران میں امعیشت کو مضبوط بنیادوں پر تعمیر کرنے کی سرتوڑ کوشش کر رہا ہے. صنعتوں کو فروغ دینے کی کوششیں کی جا رہی ہیں. مغربی طاقتوں کی جانب سے ایران کے بائیکاٹ اور مخالفت نے مزید تحریک پیدا کر دی ہے. ایسے حالات میں ایران کی کوشش ہے کہ انڈسٹری کے میدان میں مغرب کا مقابلہ کرے. گویا بقول اقبال ؏ 
مسلماں کو مسلماں کر دیا طوفان مغرب نے! 

٭عربی زبان سے گہرا شغف

عربی زبان سے جو شغف مجھے ایران میں نظر آیا کسی اور عجمی ملک کے بارے میں اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا‘اور پاکستان میں تو اس کا دسواں حصہ بھی موجود نہیں ہے. یہاں تو علماء بھی عربی سے گفتگو کرنے پر قادر نہیں ہیں. اس معاملے میں افغان ہم سے بہت بہتر ہیں. بہرحال عربی زبان اہل ایران کی دلچسپی خوشگوار حیرت کا باعث بنی کہ شاہ ایران کے دور میں عربی کے خلاف مہم چل رہی تھی اور فارسی میں سے عربی الفاظ نکال کر ان کے مترادف جدید فارسی الفاظ شامل کیے جا رہے تھے. لیکن اب دوبارہ عربی کی طرف مراجعت وہاں نمایاں طور پر نظر آ رہی ہے. 

٭اقبال سے محبت

ایران میں علامہ اقبال سے گہری محبت اور عقیدت پائی جاتی ہے. پورے ایران میں دانشور اور علماء ان کے فکر سے متفق اور متاثر دکھائی دیتے ہیں. اقبال کو وہاں اقبال ’’لاہوری‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے. جس طرح ہمارے دلوں میں سعدیؒ کا مقام ہے اور ہم انہیں سعدی ’’شیرازی‘‘ کہتے ہیں اسی طرح اقبال کو وہ اقبال ’’لاہور‘‘ کہتے ہیں اور ان کے انقلابی پیغام سے گہرا شغف اور لگاؤ رکھتے ہیں.

منفی تاثرات

میں چاہتا ہوں کہ مثبت تاثرات کے ساتھ منفی نکات بھی بیان کر دیے جائیں تاکہ بات یک رخی نہ رہ جائے. میرے تاثرات میں منفی نکات درج ذیل ہیں: 

٭عمومی افسردگی کی فضا

ایرانی عوام میں بشاشت ‘امنگ اور ولولہ نظر نہیں آتا اور عام طور پر پورے ماحول پر افسردگی اور کچھ خوف زدگی کی سی کیفیت طاری ہے. اس کا سبب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اہل تشیع کے نزدیک حضرت فاطمہؓ کو جن مصائب و مشکلات کا سامنا کرنا پڑا‘حضرت علیؓ پر ان کے مطابق جو زیادتیاں ہوئیں اور مقام کر بلا میں حضرت حسینؓ اور ان کے ساتھیوں کی شہادت کا جو واقعہ ہوا‘ان واقعات کے زیر اثر اہل تشیع کا یہ ایک عمومی مزاج بن چکا ہے. ہو سکتا ہے کہ یہ افسردہ مزاجی اسی کا عمومی اثر ہوا.

دوسری اور اہم وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ چونکہ وہاں علماء کی حکومت ہے اور پاسداران انقلاب کا وہاں دبدبہ اور غلغلہ ہے جبکہ عوام کے احساسات کے اندر بنیادی طور پر اتنی گہری تبدیلی تاحال نہیں آ سکی کہ وہ مثبت طور پر اس سے ہم آہنگ ہو سکیں‘اس بنا پر ایک جبر کی سی فضا طاری نظر آتی ہے.

تیسرے یہ کہ جہاں تک ہم نے معلوم کیا ہے تو ہمیں اندازہ ہوا ہے کہ انقلاب ایران کی حمایت یا اس کے حق میں جذبات عام ایرانیوں میں نفوذ نہیں کر رہے‘بڑھ نہیں رہے بلکہ یہ جذبات گھٹ رہے ہیں. ہماری وہاں پر بعض عہدیداروں سے بات چیت ہوئی تو میں نے براہ راست ان سے یہ سوال کیا کہ انقلاب ایران کی حمایت بڑھ رہی ہے یا گھٹ رہی ہے؟ تو پہلے تو وہ بھونچکے سے رہ گئے کہ یہ کیسا سوال کر دیا. کہ اس کا جواب بڑا مشکل ہے‘لیکن پھر کچھ گول مول جواب یہ دیا کہ ہم ترقیاتی کاموں میں بہت زیادہ خرچ کر رہے ہیں‘اس لیے مہنگائی بڑھ گئی ہے‘جبکہ انقلاب سے پہلے شاہ ایران عوام کی بہبود پر ہی خرچ کرتا تھا‘تو کچھ اس کے اثرات ہیں‘تاہم عوامی سطح پر ہمارے خیال میں انقلاب کی تائید بڑھ رہی ہے. یعنی وہ ساری باتیں کہنے کے بعد آخری بات یہ کہتے تھے کہ ’’تائید بڑھ رہی ہے‘‘ جبکہ میرا ذاتی خیال ہے کہ گھٹ رہی ہے.

٭شیعہ سنی مفاہمت

شیعیت اور سنیت کے مابین اعتدال و توازن وہاں بہت کم ہے‘اگرچہ ’’لاشیعیۃ لاسنیہ‘اسلامیہ اسلامیہ‘‘ اور ’’لاشرقیہ لا غریبہ‘ اسلامیہ اسلامیہ‘‘ کے نعرے خوب لگ رہے ہیں. لیکن میرا تجزیہ یہ ہے کہ اگرچہ جدید دانشوروں میں جن سے ہماری ملاقات ہوئی‘کافی حد تک اعتدال موجود ہے‘اس لیے کہ ان کی پرورش کٹڑمولویانہ ماحول میں نہیں ہوئی‘اسی طرح علماء میں سے بھی بعض معتدل مزاج کے حامل ہیں‘لیکن عوام میں کٹر شیعہ عقائد پوری پختگی کے ساتھ موجود ہیں اور ان میں اعتدال کے کوئی آثار نظر نہیں آتے. جیسا کہ میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں کہ عوام کی اکثریت غالی شیعوں پر مشتمل ہے. جن کا موقف یہ ہے کہ حضرت علیؓ امام اول بھی ہیں‘وصی رسول اللہ بھی ہیں اور خلیفہ رسول اللہ بلا فصل بھی ہیں‘جبکہ حضرات ابوبکر صدیق‘عمر فاروق اور عثمان غنی (رضوان اللہ علیہم اجمعین) کی خلافتیں غاصبانہ خلافتیں تھیں (نعوذباللہ من ذلک) اور حضرت علیؓ نے صرف تقیہ کے تحت ان اصحاب کی بیعت کی تھی‘دل سے نہیں کی. آج کل بعض علماء اور جدید شیعہ دانشور اس سطح سے اوپر آ گئے ہیں. ان کا موقف یہ ہے کہ حضرت علیؓ نے ان اصحاب کی بیعت کر لی تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ انہوں خود خلافت حضرت ابوبکر‘عمر‘عثمان رضوان اللہ علیہم کو تفویض کر دی‘لہٰذا ان کی خلافت کو ہم صحیح مانتے ہیں.

یہ ’’زیدیہ‘‘ کا موقف ہے. وہ کہتے ہیںؓ کہ حضرت علیؓ کا موقف تقیہ کے تحت نہیں بلکہ مبنی برحکمت اور اپنی آزادانہ رائے سے تھا. اس ضمن میں ایک خاص واقعہ میرے ساتھ اس دورۂ ایران کے دوران پیش آیا. ایک عالم دین جن کی میرے دل میں بڑی قدر ہے‘ان سے ایک رات میری گفتگو ہو رہی تھی تو میں نے براہ راست ان سے خلافت راشدہ کے متعلق سوال کر دیا. وہ اس کے لیے ذہنا تیار نہیں تھے. انہوں نے فوراً کہا وہ تو غاصب تھے‘خلافت حضرت علیؓ کا حق تھا‘جسے غصب کیا گیا.

اب دوبارہ صبح بھی ان سے میری ملاقات ہونا تھی. وہ رات بھر سوچتے رہے ہوں گے کہ میں نے یہا کیا کہہ دیا‘یہ سنی ہیں اور پاکستان سے آئے ہیں‘یہ کیا تاثر لے کر چنانچہ صبح جب ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے تفصیل کے ساتھ اپنی بات بیان کی جو بڑی ذہانت پر مبنی تھی. کہنے لگے کہ ہم اس بات پر جمع ہو سکتے ہیں کہ امامت اور ولایت تو روز اول سے حضرت علیؒ ہی کی ہے‘لیکن جیسے ہم نے جدید ایران میں کیا ہے کہ ایک طرف حکومت‘پارلیمنٹ ہے‘صدر‘وزراء اور حکومتی مشینری ہے‘جبکہ دوسرے طرف ہمارا والیت فقیہ کا معاملہ ہے کہ علماء کی ایک باڈی ہے جس میں خامنہ ای ہیں جو رہبر ہیں. تو اسی طرح کا معاملہ خلفائے ثلاثہؓ اور حضرت علیؓ کا ہے. گویا (ان کی تعبیر کے مطابق) حضرت علیؓ کو خامنی کی جگہ پر سمجھا جائے گا اور ابوبکرؓ و عمرؓ کو رفنسجانی کی جگہ پر. اب ظاہر ہے کہ ان کے مابین مفاہمت موجود ہے‘تب ہی تو نظام حکومت چل رہا ہے. واضح رہے کہ یہ میں نے ان کی رائے بیان کی ہے‘میری یہ رائے نہیں ہے.

اس ضمن میں یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ وہاں اذان اور اقامت میں حضرت علیؓ کے لیے اضافی الفاظ آتے ہیں ان میں ’’ولی اللہ‘‘ اور ’’حجۃ اللہ‘‘ کے الفاظ تو ضرور ہیں‘لیکن ’’خلیفہ بلافصل‘‘ کے الفاظ نہیں ہیں. یہ ایک اہم مثبت نکتہ ہے اور اعتدال کی طرف ایک قدم ہو سکتا ہے. اس بات کا امکان بھی ہے کہ یہ ترمیم ابھی کی گئی ہو. اگر ایسا فی الواقع ہے تو بہت مثبت ہے کہ ایرانی اہل تشیع اعتدال کی طرف کچھ نہ کچھ پیش قدمی کر رہے ہیں. لیکن اگر یہ پہلے سے تھی تو بھی یہ ایک مثبت نکتہ 
(positive point) ہے. اس اعتبار سے ہوتا کہ اس سے معلوم ہوا ہے کہ عوامی سطح پر بھی ایرانی شیعیت کچھ اور ہے اور پاکستانی شیعیت کچھ اور. 

٭ فقہ پر زور

تیسرا منفی تأثر فقہ کے معاملے میں ہے. چونکہ یہ حکومت علماء کی ہے اور روایتی علماء کے ہاں فقہ کی بڑی اہمیت ہوتی ہے. اس لیے جیسے ہمارے ہاں فقہ پر بہت زیادہ زور دیا جاتا ہے اس طرح وہاں بھی فقہ کو بڑی اہمیت دی جاتی ہے. حالانکہ فقہ اہل سنت اور فقہ جعفریہ دونوں دور ملوکیت میں مرتب ہوئی ہیں اس لیے ان کے اندر ملوکیت کے اثرات موجود ہیں. مثلاً امامِ اعظم ابوحنیفہؒ ‘امام مالکؒ اور امام شافعیؒ تینوں حضرات نے مزارعت کی حرمت کا فتویٰ دیا تھا‘لیکن بعد میں جب ملوکیت کی چھاپ پڑی تو صاحبین نے مزارعت کے جواز کا فتویٰ دے دیا. اسے آپ چاہے مجبوری کہیں یا کچھ اور کہیں‘بہرحال جب ملوکیت آگئی تو اس کے اثرات تو پڑنے ہی تھے‘جیسے مارشل لاء آجاتا ہے تو پھر سپریم کورٹ کیا کر سکتی ہے. چنانچہ معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے میں بھی مزارعت اور مضاربت جیسے معاملات کو اسی طرح سے ’’اسلامی‘‘ بنایا گیا تھا جس طرح ضیاء الحق صاحب کے زمانے میں ہمارے نظام بینکاری اور معاشی و اقتصادی نظام کو ’’اسلامی‘‘ بنایا گیا‘ورنہ اس میں نظام اسلامی کا اصل حصہ یعنی سیاسی‘سماجی اور معاشی انصاف کا عنصر تو موجود نہیں ہے.

٭ سُنّی مساجد کی تعمیر پر پابندی

جہاں تک دستور کا معاملہ ہے وہ ایک فقہ‘فقہ جعفریہ پر استوار ہے اور یہی پبلک لاء ہے‘البتہ دستور کے مطابق پرسنل لاء میں تمام لوگوں کو اپنی اپنی فقہ کے مطابق عمل کرنے کی آزادی حاصل ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اس پر تو عمل درآمد بھی ہوتا ہے. ہم نے خود شیعہ حضرات کے ساتھ ہاتھ باندھ کر نماز پڑھی ہے‘اسی طرح نماز سے قبل ہم نے اپنے سامنے رکھی ہوئی خاک کربلا کی ٹکیاں ہٹائی ہیں‘لیکن کسی نے کوئی اعتراض نہیں کیا‘اس لیے کہ مذہبی آزادی ہے. البتہ تعمیر مساجد کے بارے میں گورنمنٹ کا موقف یہ ہے کہ ہم شیعہ اکثریت کے علاقے میں سنی مسجد نہیں بننے دیتے بلکہ سنیوں کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ شیعہ کے ساتھ اپنے طریقے کے مطابق نماز پڑھیں اور سنی اکثریت کے علاقے میں شیعہ مسجد نہیں بننے دیتے بلکہ شیعوں کو مجبور کرتے ہیں کہ سنیوں کے پیچھے اپنے طریقے کے مطابق نماز پڑھیں. یہ تو اللہ کا شکر ہے کہ شیعہ اور سنی نماز میں اتنا فرق نہیں جو اکٹھے نماز پڑھنے میں مانع ہو‘کیونکہ قیام‘رکوع و سجود اور جلسہ وغیرہ کی ترتیب ساری یکساں ہے. لیکن یہ کہ اس ’’اصول‘‘ پر عمل درآمد نہیں ہوتا‘بلکہ دوہرا معیار اپنایا جاتا ہے. چنانچہ ہم نے تحقیق بھی کی اور وہاں کے ایک سنی عالم دین سے اس بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے بھی اس کی تصدیق کی اور کہا کہ ایرانی بلوچستان میں پہلے سے بھی شیعہ مساجد قائم ہیں اور اب نئی بھی بن رہی ہیں‘کیونکہ وہاں کے شیعہ سنیوں کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے‘لیکن تہران میں گورنمنٹ کوئی سنی مسجد بنانے کی اجازت نہیں دیتی. یہی وجہ ہے کہ تیران میں سنی بشمول پاکستانی سفارت خانے کے عملے کے ایک سکول میں نماز جمعہ ادا کرتے ہیں. سکول کی حالت بھی زیادہ اچھی نہیں ہے. اس لیے پاکستان بڑی عمارت خریدنا چاہتا ہے لیکن کسی وجہ سے اجازت نہیں مل رہی ہے. بہرحال مساجد کی تعمیر کے حوالے سے یہ رویہ صحیح نہیں ہے. اس لیے اگر سنیوں کو شیعہ اکثریت کے علاقوں میں مسجد کی تعمیر کرنے کی اجازت نہیں تو پھر شیعوں کو ایرانی بلوچستان میں مساجد تعمیر کرنے کی اجازت کیونکر ہے؟

اس ضمن میں میں حسن ظن سے کام لے رہا ہوں. میرا خیال ہے کہ شاید شیعہ عوام میں ابھی تک اعتدال پیدا نہیں ہو سکا. اس لیے شاید ان کا لحاظ کیا جا رہا ہے‘لیکن بہرحال میرے نزدیک ایران کے دستور میں پرسنل لاء کے معاملے میں جو آزادی دی گئی ہے اس کا تقاضایہ ہے کہ سنی مساجد بنانے کی آزادی بھی لازماً دینی چاہیے.

٭ تھیوکریسی اور وحدانی طرز حکومت

میرے نزدیک جو جدید اسلامی ریاست خلافت علیٰ منہاج النبوۃ کی بنیاد پر قائم ہو گی اس کا تصور (جو میں نے خطبات خلافت میں تفصیل کے ساتھ پیش کیا ہے) یہ ہے کہ ایک تو یہاں تھیا کریسی نہیں ہو گی‘اور دوسرے یہ کہ وہ وحدانی نہیں بلکہ وفاقی طرز کی ہو گی‘لیکن ایران میں یہ دونوں چیزیں اس کے برعکس ہیں. ایک یہ کہ بنیادی طور پر وہاں تھیوکریسی (علماء کی حکومت) ہے‘دوسرے یہ کہ وہاں طرز حکومت وحدانی (unitary) ہے. گویا تمام اختیارات مرکز کو حاصل ہیں‘صوبوں میں صوبائی اسمبلیاں تک نہیں ہیں‘صرف گورنر ہیں‘جو مرکز کی جانب سے نامزد کیے جاتے ہیں.

میں ان دونوں چیزوں کو صحیح نہیں سمجھتا‘اس لیے کہ میرے نزدیک تھیوکریسی بھی روح عصر کے منافی ہے اور وحدانی طرزِ حکومت بھی روح عصر سے مطابقت نہیں رکھتی. روح عصر سے ہم آہنگ ہونے کے لیے وفاقی طرز کی حکومت ہو اور صوبوں کو زییادہ سے زیادہ خود مخاری دی جائے.

اس حوالے سے وہاں بعض علماء سے میری گفتگو ہوئی اور دوران گفتگو مجھے شدید ضرورت محسوس ہوئی کہ ہمیں ’’خطباتِ خلافت‘‘ کا فارسی ترجمہ جلد از جلد شائع کرا دینا چاہیے تا کہ یہ وہاں پہنچ جائے اور وہ ہمارے نظریات سے واقف ہو سکیں کہ ہم مستقبل کی اسلامی ریاست کے بارے میں کیا تصور رکھتے ہیں. یعنی خلافت اسلامی قائم ہوئی تو وہ کس طرز پر ہو گی. 

اَقُوْلُ قَوْلِیْ ھٰذَا وَاسْتَغْفِرُ اللّٰہَ لِیْ وَلَـکُمْ وَلِسَانِرِ الْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمَات 
ِ