اسلام کی تاریخ میں ’عقل اور نقل‘ کی کشمکش

اسلام کی تاریخ میں ’عقل اور نقل‘ کی کشمکش کے دو اہم دَور اور برصغیر میں علی گڑھ اور دیوبند کے دو متضاد مکاتب فکر کا قیام (تذکرہ وتبصرہ ’میثاق‘ لاہور. اکتوبر ۱۹۶۸؁)

اسلام کی تاریخ میں عقل اور نقل کا نزاع تقریباً ابتدا ہی سے چلا آ رہا ہے.

واقعہ یہ ہے کہ ’مذہب‘ اپنی اصل کے اعتبار سے ’نقل‘ ہے جو اولاً فرشتے کی وساطت سے خدا سے پیغمبر کو منتقل ہوا اور پھر ان کی ذات گرامی سے نسلاً بعد نسل منتقل ہوتا چلا آ رہا ہے‘ لہٰذا اس کی اساس ’نقل‘ پر ہے نہ کہ ’عقل‘ پر… لیکن ظاہر ہے کہ اس کے مخاطب انسان ہیں جو چاہے تمام کے تمام ’ذوی العقول‘ نہ ہوں‘ لیکن پیروی چونکہ وہ اپنی اسی اقلیت 
(۱کی کرتے ہیں جو ’ذی العقل‘ ہوتی ہے‘ لہٰذا انسان پر بحیثیت مجموعی ’حیوانِ عاقل ‘کا اطلاق غلط نہیں ہے. بنابریں یہ ایک بالکل فطری بات ہے کہ بالکل ابتدا ہی سے مذہب کے ’نقل‘ کو ’عقل‘ پر پرکھنے اور اس کی عقلی توجیہہ کرنے کی کوششیں ہوتی چلی آئی ہیں‘ اور اس کے نتیجے میں ہر دور کی عقلی وفکری سطح کے مطابق علم کلام کا ذخیرہ تیار ہوتا رہا ہے.

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا معاملہ دوسرا تھا. انہیں نبی اکرم  کی براہِ راست صحبت کی 
(۱) Intellectual Minority بدولت جو ایمان حاصل ہوا تھا وہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے بالکل منفرد ہے اور کسی غیر صحابی کے ایمان کو اس پر قیاس کرنا قیاس مع الفارق ہے. انہیں علم الیقین ہی نہیں حق الیقین کی جو کیفیت حاصل تھی اس میں استدلال کاعنصر اوّل تو تھا ہی بہت کم‘ اور جتنا تھا اس کی اساس بھی فطرت کے نہایت محکم لیکن سادہ دلائل پر تھی نہ کہ کسی پیچ در پیچ منطقیانہ قیل وقال پر. یہی وجہ ہے کہ یہ بات بالکل غیر مبہم طریق پر واضح کر دی گئی ہے کہ امت کے کسی بڑے سے بڑے ولی کا ایمان بھی کسی ادنیٰ سے ادنیٰ صحابی ؓ کے ایمان کو نہیں پہنچ سکتا. اُن کے قلوب جس نورِ ایمان سے منور تھے اور ان کے سینے جس حرارتِ ایمانی سے معمور تھے ان کا مقابلہ کسی دوسرے شخص کا ’’دلِ روشن‘‘ اور ’’نفس گرم‘‘ نہیں کر سکتا. یہی وجہ ہے کہ ان کے ایمان نے ایک ایسے بے تابانہ جذبے اور والہانہ عشق کی صورت اختیار کر لی تھی جو ہر دم عمل کی بھٹیوں اور آزمائشوں اور ابتلائوں کے الائوں میں کودنے کو اس طرح آمادہ و تیار رہتا ہے کہ عقل بے چاری کے لیے ’’محو تماشائے لب ِبام‘‘ رہنے کے سوا اور کوئی چارئہ کار ہی نہیں رہتا. (۱

دورِ صحابہ ؓ کے اختتام کے ساتھ ہی فطری طور پر ایمان کی ان کیفیات میں انحطاط و اضمحلال پیدا ہونا شروع ہو گیا اور ’’عشق کی آگ‘‘ 
(۲ٹھنڈی پڑنی شروع ہو گئی. نتیجتاً فوراً عقل کے قیل وقال کا سلسلہ شروع ہو گیا اور وہ آج تک جاری ہے. اس عرصے میں ’عقل‘ پر کئی دور آئے اور ہر دور میں اس کے صغریٰ وکبریٰ بدلتے رہے‘ لیکن مذہب کے (۱) بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق عقل ہے محو ِتماشائے لب بام ابھی (اقبال)

اسی کی ایک ادنیٰ مثال ہے حضرت خالد رضی اللہ عنہ کا وہ قول جو انہوں نے غیر مسلم افواج سے مخاطب ہو کر فرمایا تھا کہ ’’لوگو! تمہارا سابقہ اس قوم سے ہے جو موت کو اسی قدر عزیز جانتی ہے جس قدر تم زندگی کو!‘‘

(۲) بجھی عشق کی آگ اندھیر ہے! مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے! (ایضاً) 
’نقل‘ کے ساتھ اس کا تصادم مسلسل جاری رہا‘ اور یہ پینترے بدل بدل کر اس پر حملہ آورہوتی رہی. دوسری طرف سے حامیان و حاملانِ نقل اس کی جانب سے مدافعت کرتے رہے اور اس طرح اسلام کی پوری تاریخ میں عقل اور نقل کے باہمی نزاع کا سلسلہ چلتا رہا.

یہ بات اپنی جگہ بالکل واضح ہے کہ مذہب کے نقل کی کامل عقلی توجیہہ نہ کبھی ہوئی ہے نہ ہو سکے گی. 
(۱اس کی وجہ بھی بالکل ظاہر ہے کہ عقل انسانی نہایت محدود ہے اور زمان و مکان اور ظروف و احوال کے بہت سے بندھنوں میں بندھی ہوئی ہے‘ جبکہ دین و مذہب کی اساس جن وراء الوراء حقائق پر ہے وہ غیر محدود بھی ہیں اورنہایت لطیف بھی شریعت کے اوامرونواہی کے اَسرارو حکم کا معاملہ دوسرا ہے. اس میدان میں عقل اپنی جولانیاں جتنی چاہے دکھا لے‘ ایمانیات و اعتقادات کی سرحد شروع ہوتے ہی معاملے کی نوعیت بدل جاتی ہے.

واقعہ یہ ہے کہ ایمان جن غیر محدود‘ لطیف اور وراء الوراء حقائق کے مجموعے کا نام ہے اُن کا مجردنطق انسانی کی گرفت میں آنا بھی نہایت مشکل بلکہ تقریباً ناممکن ہے‘ (تبھی تو اس مقام پر خود آسمانی کتابوں کو بھی اشاروں‘ کنایوں‘ استعاروں اور تمثیلوں پر اکتفا کرنی پڑتی ہے) کجا یہ کہ انہیں ہر دور کی عقلی سطح پر وقت کے فلسفہ و منطق کے غایت درجہ محدود سانچوں میں ڈھالنے کی کوشش کی جائے!!

چنانچہ یہ ایک ناقابل تردید تاریخی حقیقت ہے کہ عقائد ِاسلامی کی عقلی توجیہہ کی کوششوں سے بعض اوقات شدید نقصان بھی پہنچا. وقت کے فلسفوں کی کسوٹی پر پرکھنے میں کبھی کبھی دین و مذہب کے بعض حقیقی اجزاء کو کھوٹا بھی سمجھ لیا گیا اور وقت کی منطق کے سانچوں میں ڈھالنے کی کوشش میں کبھی کبھی دین و مذہب کے بعض پہلو مجروح بھی ہوئے اس کے مقابلے میں ’’محفوظ‘‘ راستہ ہمیشہ ان ہی کارہا جنہوں نے محض نقل پر اکتفا کی. اسی کو سینے 
(۱) یہ وہ ’محالِ عقلی‘ ہے جس کا منطقی امکان اگر کوئی ہے تو صرف اُس وقت جب علم انسانی ترقی کرتے کرتے اس مقام پر پہنچ جائے جہاں اس کے لیے حقیقت ِ نفس الامری بالکل کھل جائے اور حقائق اشیاء بالکل ’’کَمَاہِیَ‘‘ روشن ہو جائیں اور ظاہر ہے کہ یہ صرف آخرت میں ہو سکے گا!! سے لگائے رکھا‘ اسی کے تحفظ میں زندگیاں کھپا دیں اور اسے جوں کا توں اگلی نسل تک منتقل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہو گئے بایں ہمہ جیساکہ ہم نے عرض کیا ‘چونکہ مذہب کے نقل کی عقلی توجیہہ ایک ناگزیر انسانی ضرورت ہے‘ لہٰذا ہر دور میں دین و مذہب کے مخلصین اس کے لیے کوشاں رہے اور خود اپنے دین و ایمان کے لیے خطرات مول لے کر بھی اس خطرناک مہم کو سر کرنے کی کوشش کرتے رہے. یہ بات بالکل واضح طور پر پیش نظر رہنی چاہیے کہ ایسے لوگوں کی ان تمام کوششوں کا اصل محرک نصح و نصرتِ دین ہی کا جذبہ تھا. ان کے بارے میں یہ گمان کہ وہ دین و مذہب کے دشمن تھے یا ان کا مقصد ہی اسلام کو گزند پہنچانا تھا ایک شدید قسم کی زیادتی اور نا انصافی ہے!

اصحابِ نقل کی جانب سے فطری طور پر ہر دور میں اصحابِ عقل پر نکیر بھی ہوتی رہی. لیکن اس کی بھی ہمیشہ دو سطحیں رہیں: ایک عوامی سطح جس پر مجرد ردّ وانکار اور اصحابِ عقل کی موشگافیوں سے بیزاریٔ محض کا اظہار ہوتا رہا. اور دوسرے علمی سطح پر‘ ایسے لوگوں کے ذریعے جنہوں نے اپنے دور کے فلسفہ و منطق‘ علوم و فنون اور افکار و نظریات کے چشموں سے پوری طرح سیراب ہو کر اور اس طرح وقت کے عقلی معیار پر کاملاً پورے اتر کر اور پھر خود ذہنی و عقلی اور قلبی و روحانی ہر اعتبار سے مذہب کے نقل پر مطمئن ہو کر اصحابِ عقل پر مدلل تنقید کی. درحقیقت دین و مذہب کا اصل دفاع ہر دور میں ایسے ہی لوگوں کے ہاتھوں ہوا. اس لیے کہ لوہا لوہے ہی سے کاٹا جا سکتا ہے اور عقل کا توڑ عقل ہی کے ذریعے ممکن ہے!

دورِ اوّل

اسلام کی تاریخ میں ’عقل‘ اور ’نقل‘ کا پہلا نزاع اُس وقت برپا ہوا جب اسلام کے اصحابِ عقل نے یونان کے فلسفے اور ارسطو کی منطق کے زیر اثر اسلام کی عقلی توجیہہ کی کوششیں شروع کیں اور اس کے نتیجے میں اسلام کے اساسی ایمانیات و اعتقادات کے ضمن میں منطقی موشگافیوں کا سلسلہ شروع ہوا. چنانچہ عقل و نقل کی وہ جنگ شروع ہو گئی جس کا آغاز تو اگرچہ دورِ اُموی کے آخری زمانے میں ہو گیا تھا‘ لیکن جو اپنے پورے شباب کو دورِ عباسی میں پہنچی. اس جنگ میں اوّل اوّل دو بالکل انتہائی نقطہ ہائے نظر پیدا ہوئے جو ایک دوسرے کی کامل ضد تھے.

چنانچہ ’عقل خالص‘ نے معتزلہ کا روپ دھارا اور ’نقل محض‘ نے اصحابِ ظاہر کی صورت اختیار کی‘ لیکن رفتہ رفتہ اس ’آویزش‘ میں ’آمیزش‘ کا رنگ بھی پیدا ہونا شروع ہوا ‘جس کے نتیجے میں معتدل نظام ہائے اعتقادی وجود میں آئے اور اشعری و ماتریدی عقائد باقاعدہ مرتب و مدوّن ہوئے اور عوام کی ایک بہت بڑی اکثریت نے ان کے گوشۂ عافیت میں پناہ لی. خالص علمی سطح پر یہ نزاع بعد میں بھی جاری رہا اور امام غزالی اور امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہما ایسے اصحابِ فکر و نظر عقلیت پرستی پر شدید ’عقلی‘ ضربیں لگا کر ’نقل‘ کے دفاع کا مؤثر بندوبست کرتے رہے.

اس سلسلے میں دو باتیں خاص طور پر نوٹ کرنے کی ہیں. ایک یہ کہ معتزلہ اور اصحابِ ظاہر کے تصادم کے نتیجے میں جو معتدل ’مسلکِ اہل سنت‘ اشاعرہ اور ماتریدیہ کے نظام ہائے اعتقادی کی صورت میں ظاہر ہوا‘ اس کا اصل تانا بانا بھی وقت کے فلسفہ و منطق ہی سے تیار ہوا ہے جس میں ایمان کے لازوال اور ابدی حقائق خوبصورتی کے ساتھ بُن دیئے گئے ہیں. گویا کہ اسے عقل اور نقل کا ایک حسین امتزاج تو قرار دیا جا سکتا ہے‘ لیکن ان تصریحات کے ساتھ کہ ایک تو اس میں اُس مئے حقیقت کو جو لازوال و لافانی اور ازلی و ابدی ہے‘ عقل و منطق کے ان پیمانوں میں پیش کیا گیا ہے جو بالکل عارضی اور وقتی ہیں‘ دائمی و مستقل نہیں .اور دوسرے یہ کہ یہ کہنا بالکل غلط ہو گا کہ ان عقائد کے منطقی و کلامی طرز بیان میں ’حقیقت ِ ایمان‘ بتمام و کمال سمودی گئی ہے.

ان عقائد کو بھی زیادہ سے زیادہ ایک خاص دور کی عقلی سطح پر اور اس وقت کی متداول منطقی اصطلاحات میں ’حقائق ایمان‘ کی امکانی حد تک ترجمانی قرار دیا جا 
سکتا ہے اور بس!

دوسرے یہ کہ اُس وقت بھی مذہب کا دفاع اور عقل و نقل کا یہ امتزاج صرف ایسے لوگوں کے ذریعے ممکن ہو سکا تھا جو بیک وقت صاحب ِ عقل بھی تھے اور حاملِ نقل بھی. بالکل یک رخے لوگ اس کام کے لیے اس وقت بھی بے کار تھے. چنانچہ ’’تہافت الفلاسفہ‘‘ کے مصنف 
(۱خود ایک بہت بڑے فلسفی تھے‘ اور ’’الردّ علی المنطقیّین‘‘ کے مؤلف (۲خود ایک بہت بڑے منطقی تھے. کسی ایسے شخص کے لیے جو خود وقت کے فلسفہ و منطق کی گہرائیوں میں اترا ہوا نہ ہو یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ ان کی گمراہی و کج فہمی کی جڑوں پر مؤثر تیشہ چلا سکے. 

دورِ ثانی

اسلام پر عقلیت کا دوسرا بڑا حملہ آج سے تقریباً ڈیڑھ دو سو سال قبل یورپ کے اُس فلسفہ وفکر کے زیر اثر شروع ہوا جس کی تعمیر خالص مادّہ پرستی کی اساس پر ہوئی تھی. برصغیر ہندو پاک میں یہ جدید ’مذہبی عقلیت‘ متعدد اہل فکر و نظر اور صاحبانِ قلم و قرطاس کی صورت میں ظہور پذیر ہوئی‘ جس میں جسٹس امیر علی کا نام بھی اگرچہ بالکل غیر اہم نہیں‘ تاہم ہر اعتبار سے اہم ترین نام سرسید احمد خان مرحوم کا ہے. فکر اسلامی کے اس دور میں ان حضرات کا مقام بالکل وہی ہے جو دورِ قدیم میں اوّلین معتزلہ کا تھا‘ یعنی مذہب کے نقل کے مقابلے میں عقل کی بالکل دوسری انتہا پر!

سرسید مرحوم کا ملت ِ اسلامی کے ساتھ اخلاص تو ہر شک و شبہ سے بالا تر ہے ہی‘ واقعہ یہ ہے کہ ان کے مذہب کے ساتھ مخلصانہ تعلق میں بھی شک کی قطعاً کوئی گنجائش نہیںنماز روزے کے معاملے میں وہ متشدد ’’وہابی‘‘ تھے. نبی اکرم کے ساتھ انہیں ایسا والہانہ تعلق خاطر تھا کہ جب ۶۴۱۸۵۸ء میں سرولیم میور کی کتاب ’’حیاتِ محمدؐ ‘‘ شائع ہوئی‘ جس میں آنحضور کی سیرتِ مبارکہ پر رکیک حملے کیے گئے تھے تو وہ سخت بے چین اور مضطرب ہو گئے اور بقول ان کے ان کا ’’جگر خون ہو گیا‘‘ اور انہوں نے لندن سے 
(۱) امام غزالی رحمہ اللہ علیہ (۲) امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ علیہ اپنے ایک دوست کو لکھا کہ ’’میں اس کا جواب لکھ رہا ہوں‘ اس کی اشاعت کے لیے رقم کی ضرورت ہو گی‘ تم اوّل توراجہ جے کشن داس سے قرض حاصل کرنے کی کوشش کرو. ورنہ میری علی گڑھ والی کوٹھی فروخت کر دو!‘‘بایں ہمہ ان پر مغربی علوم و فنون اور خاص طور پر جدید سائنس کا ایسا رعب تھا اور مادہ پرستانہ نقطہ نظر ان پر اس قدر غالب آ گیا تھا کہ ان کی عینک سے جب انہوں نے دین و مذہب کا مطالعہ کیا تو اس کی بہت سی چیزیں انہیں ایسی نظر آئیں جن کو ’ماننے‘ کے بعد اہل مغرب سے آنکھیں چار کرنا ان کے نزدیک دشوار تھا‘ چنانچہ دین و مذہب کی خیرخواہی انہیں اسی میں نظر آئی کہ ایسی چیزوں کی حتی الامکان تو عقلی و سائنٹیفک توجیہہ کر دی جائے ‘اور جن چیزوں کی توجیہہ کسی طرح ممکن نہ ہو‘ ان کا انکار کر دیا جائے.

چنانچہ ملائکہ محض قوائے طبعیہ 
(Forces of the Nature) قرار پائے جن انسانوں ہی میں سے اجڈ‘ گنوار اور مشتعل مزاج لوگ ٹھہرے‘ معجزات کی خالص طبعی (physical) توجیہہ ہوئی. جنت اور دوزخ کو مقامات (places) نہیں بلکہ صرف کیفیات (states) قرار دیا گیا. مذہبی رواداری کا راگ الاپا گیا اور جہاد کے بارے میں معذرت خواہانہ روش اختیار کی گئی. دُنیوی ترقی و عروج نظریات و افکار کی صحت کے ثبوت گردانے گئے اور مغربی تہذیب و تمدن اور طرزِ بود وباش کو مسلمانوں کے جملہ قومی وملی امراض کا واحد علاج اور ان کے عروج و ترقی کا واحدذریعہ قرار دیا گیا چنانچہ بالکل صاف کہا گیا کہ مذہب کے علاوہ ہر بات میں انگریز بن جاؤ!اور نوبت بایںجا رسید کہ خود خدا کا تصور بھی حی و قیوم‘ سمیع وبصیر‘ رحیم و کریم‘ صاحب ِ ارادہ و مشیت اور غفور و منتقم ہستی کے بجائے سائنس کے علت العلل (۱(The First Cause) کی صورت اختیار کر گیا اور وحی و قرآن کے بارے میں جو تصور اختیار کیا گیا اور ’بے چارے‘ جبریل امین ؑ کو جس طرح بیک بینی و دوگوش ’رخصت‘ کیا گیا (۱) واضح رہے کہ علت العلل اور مسبب الاسباب میں زمین آسمان کا فرق ہے. 

وہ اس شعر سے ظاہر ہے کہ ؎ 

زجبریل امیں قرآں بہ پیغامے نمی خواہم
ہمہ گفتارِ معشوق
(۱)

است قرآنے کہ من دارم

گویا ’مذہب‘کی مکمل قلب ِ ماہیت ہو گئی اور ہماری اپنی وضع کردہ اصطلاح کے مطابق مذہب کا خالص ’غیر مذہبی ایڈیشن‘ تیار ہو گیا. چنانچہ بالکل ٹھیک کہا تھا حضرت اکبر الٰہ آبادی نے کہ ؎ 


دیکھ کاریگریٔ حضرتِ سید اے شیخ
دے گئے لوچ وہ مذہب میں کمانی کی طرح


ہم نے سرسید مرحوم کی جدید مذہبی عقلیت کے یہ چند شاہکار اس لیے پیش کر دیے کہ یہ واضح ہوجائے کہ آج کی تمام نام نہاد مذہبی عقلیت ‘خواہ وہ پرویزیت کی صورت میں ظاہر ہوئی ہو خواہ فضل الرحمانیت کی شکل میں‘ درحقیقت فکر ِسرسید ہی کی خوشہ چینی اور نہایت کورانہ تقلید ہے. سرسید بے چارے تو پھر بھی معذور تھے‘ اس لیے کہ ان کا واسطہ ایک ابھرتی ہوئی فکر کے ساتھ تھا جس کی پشت پر ایک عظیم سیاسی و عسکری قوت بھی بڑی شان و شوکت اور آب و تاب کے ساتھ ابھر رہی تھی‘ رحم تو آتا ہے ان کے ان جدیدمتبعین پر جو آج ان نظریات کوبڑے فخر کے ساتھ پیش فرما رہے ہیں‘ درآں حالیکہ مغربی تہذیب کبھی کی ’’خود اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی‘‘ کر چکی‘ سائنس کی مادہ پرستی کب کی فضا میں تحلیل ہو چکی‘ اور مغرب کی سیاسی و عسکری بالادستی کی بساط کب کی تہہ ہو چکی!

؏ بسوخت عقل زحیرت کہ ایں چہ بوالعجبی ست! 
(۱) اس شعر میں ’معشوق‘ کا اطلاق جس طرح آنحضور پر بھی ہو سکتا ہے اور خدا پر بھی‘ بالکل اسی طرح کا قول ہے ڈاکٹر فضل الرحمن صاحب کا کہ قرآن سارے کا سارا بیک وقت خدا کا کلام بھی ہے اور کلامِ رسول بھیدونوں جگہوں پر اصل انکار جبریل امین علیہ السلام کا ہے! بہرحال اصل اہمیت سرسید کی نہیں فکرسر سید کی ہے. شخص سرسید تو بہت جلد اپنے ربّ سے جاملا لیکن فکر سرسید دراصل تاریخ اسلامی کا ایک دور ہے جو تاحال جاری ہے. سرسید مرحوم نے جو پودا علی گڑھ کی صورت میں لگایا تھا وہ ان کے بعد ایک تناور درخت بنا اور خوب برگ و بار لایا. برصغیر میں قائم ہونے والے تمام اسلامیہ کالجوں اور اسلامیہ ہائی سکولوں کا تعلق علی گڑھ سے وہی ہے‘ جو روئے زمین کی تمام مساجد کا خانہ کعبہ کے ساتھ .اور واقعہ یہ ہے کہ ملت اسلامیہ پاک و ہند کے تمام جدید تعلیم یافتہ عناصر شعوری طور پر اسی مکتبہ فکر سے متعلق و منسلک ہیں جس کی ابتدا سرسید مرحوم نے کی تھی.

متذکرہ بالا جدید مذہبی عقلیت کے مقابلے میں اسلام کے نقل کے دفاع کا سب سے بڑا مرکز دیو بند بنا‘ جس نے قا ل اللہ و قال الرسول کے حصار میں محصور ہو کر مذہب کا تحفظ کیا. اور اس قول میں ہرگز کوئی مبالغہ نہیں ہے کہ دیو بند ایک درس گاہ و دارالعلوم ہی نہیں ایک عظیم تحریک ہے جس نے اس دور میں دین و مذہب کی حفاظت کا مؤثر رول ادا کیا اور جس سے متعدد علمی و عملی سوتے پھوٹے. چنانچہ شیخ الہند مولانا محمود حسن رحمہ اللہ علیہ کے بعد شیخ الحدیث مولانا انور شاہ کاشمیری‘ حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی ‘مجاہد حریت مولانا حسین احمد مدنی‘ شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی اور مبلغ ملت مولانا محمد الیاس رحمہم اللہ اور ان کے تمام علمی و روحانی‘ مذہبی و سیاسی اور دعوتی و تبلیغی سلسلوں کا اصل منبع دیو بند ہی ہے. حتیٰ کہ اوپر ہی کی مثال کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ برصغیر کی اکثر دینی درسگاہوں اور دینی و مذہبی تحریکوں کا تعلق بھی دیوبند کے ساتھ و ہی ہے جو دنیا بھر کی مساجد کا خانہ کعبہ کے ساتھ .اور برصغیر کے مذہبی عناصر میں سے صرف اُن کو چھوڑ کر جن کی مذہبیت بس عرس و میلاد اور فاتحہ و درود تک محدود ہے بقیہ تمام فعال مذہبی عناصر تحریک دیو بند ہی کی مختلف شاخوں سے متعلق و منسلک ہیں.

تحریک ِ دیوبند کی ان مختلف شاخوں کے مابین مجموعی مزاج اور دائرہ ہائے کار کا فرق و امتیاز بھی ایک دلچسپ علمی موضوع ہے. ان میں اصل عوامی عنصر جو مذہب و سیاست دونوں کا مظہر یا بالفاظِ دیگر مذہبی سیاست کا سب سے بڑا علمبردار ہے ذہناً و قلباً ’حسینی‘ 
ہے ‘یعنی مولانا حسین احمد مدنی ؒ سے ذہنی تعلق اور قلبی ارادت و عقیدت رکھتا ہے. مجلس احرار اسلام بھی درحقیقت اسی کا تتمہ یا صحیح تر الفاظ میں ضمیمہ ہے. تھانوی اور عثمانی حلقے علمی ذوق اور متصوفانہ مزاج کے حامل ہیں. مولانا انور شاہ کاشمیری ؒ صاحب کے تلمیذ رشید مولانا یوسف بنوری کا مزاج خالص علمی ہے اور تبلیغی جماعت خالص غیرسیاسی و غیر علمی لیکن نہایت پرجوش وفعال مذہبیت کا مظہر ہے ان تمام امتیازات کے علی الرغم جہاں تک مذہبی فکر کا تعلق ہے وہ ان سب میں مشترک ہے. مذہب کے نقل کے یہ سب ایک سے فدائی ہیں اور قال اللہ وقال الرسول ہی نہیں اس کی بھی ایک متعین صورت یعنی مسلک حنفی کے سب کے سب یکساں شیدائی ہیں. عقل کا مصرف ان سب کے نزدیک بس ایک ہی ہے اور وہ یہ کہ قرآن و سنت کا معروضی (objective) مطالعہ کرے اور زیادہ سے زیادہ یہ کہ شریعت کے اوامرونواہی کے اَسرار و حکم کو سمجھنے کی کوشش کرے .اور سب سے بڑا علمی مشغلہ ان کے نزدیک یہ ہے کہ اشعری وماتریدی عقائد اور فقہ حنفی کے لیے کچھ بس پڑ سکے تو عقلی بھی ورنہ زیادہ تر نقلی دلائل فراہم کیے جائیں دوسری طرف جدید علوم و فنون سے یہ بالکل کورے ہیں. جدید سائنس کی انہیں ہو اتک نہیں لگی اور طبیعیات ‘ کیمیا‘ فلکیات‘ حیاتیات اور نفسیات کے میدان میں انسان نے اپنے مشاہدے اور تجربے سے جو عظیم علمی ذخیرہ پچھلی دو تین صدیوں میں فراہم کیا ہے اس کے بارے میں ان کی معلومات زیادہ سے زیادہ کچھ سنی سنائی باتوں پر مشتمل ہیں. فلسفہ و منطق کے جدید رجحانات کا انہیں براہِ راست کوئی علم نہیں. جدید عمرانیات اور خصوصاً سیاسیات اور معاشیات کی پیچیدگیوں اور الجھنوں کابھی بلاواسطہ علم انہیں حاصل نہیں گویا کہ یہ پورا حلقہ ذہنی و فکری اعتبار سے خالصتاً آج سے سات آٹھ سو برس قبل کی دنیا میں رہ رہا ہے ‘اور خواہ ان میں سے کچھ حضرات اپنی تحریر و تقریر میں کچھ سنی سنائی جدید اصطلاحات بھی استعمال کر لیتے ہوں‘ واقعہ یہ ہے کہ جدید دنیا کا نہ انہوں نے قریب سے مشاہدہ کیا ہے نہ براہِ راست مطالعہ.

نتیجہ یہ ہے کہ ہمارا جسد ملی اس وقت دو بالکل متضاد حصوں میں منقسم ہے‘ اور اس 
بحرمحیط میں دو روئیں بالکل پہلو بہ پہلو لیکن قطعاً علیحدہ علیحدہ بعینہٖ اسی کیفیت کے ساتھ چلی جا رہی ہیں جس کا نقشہ سورۃ الرحمن کی ان آیات میں کھینچا گیا ہے کہ: 

مَرَجَ الۡبَحۡرَیۡنِ یَلۡتَقِیٰنِ ﴿ۙ۱۹﴾بَیۡنَہُمَا بَرۡزَخٌ لَّا یَبۡغِیٰنِ ﴿ۚ۲۰﴾ 
’’چلائے دو دریا کہ باہم ملے ہوئے (بھی) ہیں (اور) ان کے مابین ایک حجاب (بھی) ہے (جس سے) تجاوز نہیں کر سکتے.‘‘

ان دو متضاد فکری و تہذیبی سوتوں کا سب سے بڑا مظہر دو مختلف نظام ہائے تعلیم ہیں‘ جن میں سے ایک علی گڑھ کا معنوی تسلسل ہے اور دوسرا د یو بند کا‘ اور پوری ملت دو نمایاں طور پر مختلف مکاتب فکر و نقطہ ہائے نظر کے مابین بٹی ہوئی ہے. دونوں کا ایک ایک پہلو مفید و روشن ہے اور ایک ایک مضر اور مایوس کن ایک جانب جدید علوم و فنون اور سائنس و ٹیکنالوجی ہے لیکن ملحدانہ طرز فکر اور مادہ پرستانہ نقطہ ٔنظر کے ساتھ ‘اور دوسری طرف ایمان و اسلام ہے لیکن جمودِ مطلق اور فرسودہ واز کار رفتہ فلسفہ و منطق کے ساتھ. ان دونوں مکاتب ِ فکر کو علیحدہ علیحدہ پروان چڑھتے پوری ایک صدی بیت گئی ہے اور واقعہ یہ ہے کہ اس دور کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ تاحال ان کے مابین امتزاج کی کوئی مؤثر صورت پیدا نہیں ہو سکی. اس کے برعکس ان کے مابین ایک مسلسل کشمکش جاری ہے جو اکثر و بیشتر تو خاموش آویزش اورسرد جنگ تک ہی محدود رہتی ہے لیکن کبھی کبھی گرج دار تصادم کی صورت بھی اختیار کر لیتی ہے اور غالباً ملت اسلامیہ کی اس وقت کی سب سے بڑی بدقسمتی یہی ہے کہ اس ’’آویزش‘‘ میں کسی واقعی وحقیقی ’’آمیزش‘‘ کا رنگ تا حال پیدا نہیں کیا جا سکا.