غلبہ واقامت دین کے لیے مختلف اصطلاحات

اب ہم اس سلسلے کا پہلا درس شروع کر رہے ہیں جس کا عنوان ہے ’’اقامتِ دین کی فرضیت اور اس کے لیے زوردار دعوت‘‘. یہ درس سورۃ الشوریٰ کی آیات ۱۳تا۱۵ اور آیات ۴۷۴۸ پر مشتمل ہے. ان آیات کا لفظ بلفظ مطالعہ شروع کرنے سے پہلے یہ نوٹ کر لیجیے کہ سورۃ الصف اور سورۃ الفتح میں جو اصطلاح ’’اظہار دین الحق علی الدّین کلہٖ‘‘ وارد ہوئی ہے اسی مفہوم کو ادا کرنے کے لیے قرآن میں تین مزید اصطلاحات ہیں. ایک سورۃ المدثر کی اصطلاح ’’تکبیر ربّ ‘‘ہے . فرمایا: یٰۤاَیُّہَا الۡمُدَّثِّرُ ۙ﴿۱﴾قُمۡ فَاَنۡذِرۡ ۪ۙ﴿۲﴾وَ رَبَّکَ فَکَبِّرۡ ۪﴿ۙ۳﴾ ’’اے لحاف میں لپٹنے والے! کھڑے ہو جاؤ‘ لوگوں کو خبردار کرو اور اپنے ربّ کی بڑائی کرو!‘‘ یعنی زبان سے بھی اللہ اکبر کا اعلان کرو کہ ہمارا ربّ سب سے بڑا ہے‘ سب چھوٹے ہیں وہ بڑا ہے. اور پھر اس کی بڑائی کو عملاً دنیا کے اندر قائم کرو کہ وہ نظام برپا ہو جائے جس میں بالفعل اللہ کی بڑائی مسلم ہو‘ اللہ کی بڑائی نافذ ہو. ورنہ تو وہ کہنے کی ایک بات ہے‘اس کے سوا کچھ نہیں. تو تکبیر ربّ کا مفہوم بھی وہی ہو گیا جو دین کے غلبے کا مفہوم ہے.

ایک دوسری اصطلاح اقامت دین ہے ‘ جو سورۃ الشوریٰ کی آیت ۱۳ میں وارد ہوئی ہے. تیسری اصطلاح مدنی سورتوں میں سورۃ الانفال اور سورۃ البقرۃ میں آئی ہے‘ لیکن سورۃ الانفال میں زیادہ کامل شکل میں آئی ہے. فرمایا: وَ قَاتِلُوۡہُمۡ حَتّٰی لَا تَکُوۡنَ فِتۡنَۃٌ وَّ یَکُوۡنَ الدِّیۡنُ کُلُّہٗ لِلّٰہِ ۚ (آیت ۳۹’’ان سے جنگ جاری رکھو یہاں تک کہ فتنہ وفساد بالکل فرو ہو جائے اور دین کُل کا کُل صرف اللہ کے لیے ہو جائے‘‘. یہ درحقیقت تین مزید اصطلاحات ہیں جو ’’اظہار دین الحق علی الدّین کلہٖ‘‘ ہی کے مفہوم کو ادا کر رہی ہیں‘ صرف یہ کہ الفاظ بدلے ہوئے ہیں . ؏ اک پھول کا مضموں ہو تو سو رنگ سے باندھوں! اس ضمن میں حدیث نبویؐ کی ایک اور اصطلاح اعلائے کلمۃ اللہ ہے. ایک حدیث میں الفاظ آئے ہیں: لِتَکُوْنَ کَلِمَۃُ اللہِ ھِیَ الْعُلْیَا (۱’’تاکہ اللہ کی بات سب سے اونچی ہو جائے‘‘. سب کی باتیں نیچی رہ جائیں اور اللہ کی بات سب سے اونچی ہو جائے. یہی مفہوم انجیل میں ’’ آسمانی بادشاہت‘‘ کی اصطلاح کی صورت میں بیان ہوا ہے. زمین پر آسمانی بادشاہت قائم کرنے کا مطلب وہی ہو گیا کہ اللہ کا دین قائم کرنا. زمین پر کسی بادشاہ ‘ کسی فرعون‘ کسی نمرود کی بادشاہی نہیں‘ کسی قوم کی بادشاہی نہیں‘ بلکہ آسمان کی بادشاہی قائم ہو. اور آسمان سے مراد اللہ تعالیٰ ہے. بائبل کی Lord's Prayer میں اسے اس طرح تعبیر کیا گیا ہے کہ:

,Thy Kingdom come
Thy will be done on earth 
.as it is in Heavens

’’اے ربّ! تیری حکومت آئے‘ تیری سلطنت قائم ہو جائے‘ اور تیری مرضی زمین پر بھی اسی طرح پوری ہو جس طرح آسمانوں میں پوری ہوتی ہے‘‘.

بیسویں صدی میں ہمارے کچھ اسلاف نے‘ جو اَب اللہ کے ہاں جا چکے‘ اس کام کے لیے اپنی کوششیں کیں اور اس ضمن میں مختلف اصطلاحات استعمال کیں. اس سے قطع نظر کہ کون راستے میں تھک ہار کر رہ گیا اور کون غلط موڑ مڑ گیا‘ ہم ان اصطلاحات کا جائزہ لیتے ہیں. ان میں اوّلین مولانا ابوالکلام آزاد ہیں‘ جنہوں نے ’’حکومتِ الٰہیہ کا قیام‘‘ کی اصطلاح اختیار کی. یہی اصطلاح پھر مولانا مودودی نے اپنائی اور اسی زمانے میں علامہ مشرقی اور خیری برادران نے بھی غلبہ دین کے لیے یہی ’’حکومتِ الٰہیہ کا قیام‘‘ کی اصطلاح اپنائی ‘یعنی اللہ کی حکومت قائم ہو جائے.پھر جماعت اسلامی میں مولانا امین احسن اصلاحی صاحب نے اس کی جگہ ’’اقامت دین‘‘ کی اصطلاح متعارف کرائی. مولانا مودودی کے قلم سے جماعت اسلامی کے قیام سے قبل جو ابتدائی تحریریں نکلی ہیں ان میں حکومتِ الٰہیہ کی اصطلاح استعمال ہوئی ہے. اصلاحی صاحب 

(۱) صحیح البخاری‘ کتاب العلم‘ باب من سأل وھو قائم عالما جالسا. مولانا فراہیؒ کے شاگرد تھے‘ ان کا خصوصی شغف قرآن مجید کے ساتھ تھا. چنانچہ شہادت علی الناس کی اصطلاح بھی اور اقامت دین کی اصطلاح بھی انہوں نے متعارف کرائی‘ یہاں تک کہ جماعت اسلامی کی تحریک میں یہ اصطلاح اتنی مقبول ہو ئی کہ پھر حکومت الٰہیہ کی اصطلاح کو ترک کر دیا گیا اور جماعت اسلامی کے زیر اثر ایک ایک بچے کی زبان پر جو لفظ سب سے زیادہ سننے میں آنے لگا وہ اقامتِ دین تھا. البتہ ’’اقامت دین‘‘ چونکہ ایک ثقیل لفظ ہے جس کے معنی ہیں دین کو کھڑا کرنا‘ دین کو قائم کرنا‘ لہذا جب جماعت اسلامی نے سیاست کے میدان میں قدم رکھ دیا تو انہوں نے کوشش کی کہ اب اصطلاحات بھی ذرا زیادہ عام فہم ہونی چاہئیں تو انہوں نے ’’قیامِ نظامِ اسلامی‘‘ کی اصطلاح استعمال کی. مفہوم کے اعتبار سے کوئی فرق واقع نہیں ہوا. پھر ہمارے ہاں ۱۹۷۷ء میں بھٹو صاحب کے خلاف پاکستان قومی اتحاد(.P.N.A) کی جو تحریک چلی تھی‘ اس کے اندر جب دینی جذبہ پیدا ہوا اور اس کو مشرف باسلام کیا گیا تو اس میں ایک اصطلاح استعمال کی گئی ’’نظامِ مصطفی کا نفاذ‘‘. یہ اصطلاح مولانا شاہ احمد نورانی صاحب نے پیش کی تھی جسے اتحاد میں شامل جماعتوں نے قبول کر لیا اورپھر یہی اصطلاح اس تحریک کا عنوان بن گئی. مفہوم کے اعتبار سے یہ اصطلاح بھی متذکرہ بالا اصطلاحات کے ہم معنی ہے.

اِس دور میں ان اصطلاحات میں ایک اصطلاح ’’اسلامی انقلاب‘‘ کا اضافہ ہوا ہے. اس لیے کہ جب زمانہ بدلتا ہے تو لوگوں کے ذہن کا صغریٰ کبریٰ تک بدلتا ہے‘ لہذا ابلاغ کے لیے نئی اصطلاحات کی ضرورت پیش آتی ہے. چنانچہ اسی سلسلۂ اصطلاحات میں ’’اسلامی انقلاب‘‘ کی اصطلاح سب سے زیادہ مؤثر ‘ 
سریع الاثر اور سمجھنے میں آسان ہے. تو یہ ساری اصطلاحات ’’عباراتُنا شتّٰی وحسنک واحدٌ‘‘ کی مصداق ہیں. آپ اسے اظہار دین حق علی الدین کلہ کہیں‘ اقامتِ دین کہیں‘ وَ یَکُوۡنَ الدِّیۡنُ کُلُّہٗ لِلّٰہِ کہیں‘ تکبیر ربّ کہیں‘ اعلائے کلمۃ اللہ کہیں‘ آسمانی بادشاہت کہیں‘ اللہ کی حکومت یا حکومت الٰہیہ کہیں‘ نظامِ مصطفی ؐ کا نفاذ کہیں‘ نظامِ اسلامی کا نفاذ کہیں یا اسلامی انقلاب کا نام دیں‘ مفہوم ایک ہی ہے. 

اس موضوع پر ’’اقامت دین‘‘ کی اس اصطلاح کو متعارف کرانے کے لیے سورۃ الشوریٰ کی آیات ۱۳تا۱۵ اور آیات ۴۷۴۸ ہمارے اس منتخب نصاب (۲) میں درسِ اوّل کے طور پر شامل کی گئی ہیں.