دین کے تقاضوں سے گریز کا انجام

اصل میں یہی پسپائی ہے جو یہاں (سورۃ المائدۃ کی آیت ۵۴ میں) زیر بحث ہے.خبردار (warn) کیا جا رہا ہے کہ دیکھو‘ کہیں اندر ہی اندر ضعف ایمان میں مبتلا ہو کر نفاق کے راستے پر نہ پڑ جانا. اب فرض کیجیے کہ کوئی شخص پہلی سٹیج پر ہے تو متنبہ ہو جائے اور واپس لوٹ آئے اس راستے کی طرف کہ ہر چہ بادا باد ‘اگر دوسری سٹیج پر ہے تب بھی واپسی کا امکان ہے‘ لیکن اگر تیسری سٹیج پر پہنچ گئے تو اب وہ ’’point of no return‘‘ ہے‘ پھر وہاں سے لوٹنے کا امکان نہیں رہے گا. اس لیے آ گاہ کیا جا رہا ہے: یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مَنۡ یَّرۡتَدَّ مِنۡکُمۡ عَنۡ دِیۡنِہٖ... ’’اے ایمان کے دعوے دارو! جو کوئی بھی لوٹ گیا تم میں سے اپنے دین سے …‘‘ یعنی اپنے دین کے تقاضوں کو ادا کرنے سے گھبرا گیا ذرا اپنے باطن میں نظر ڈالو‘ اپنے گریبانوں میں جھانکو! اگر یہ محسوس کرو کہ پسپائی کے عمل کا آغاز ہو گیا ہے تو فوراً ہوش میں آ جاؤ. یہاں کلام میں حذف کا اسلوب ہے کہ جو بھی تم میں سے پیچھے پھر جائے گا وہ یہ نہ سمجھے کہ وہ اللہ کا کچھ بگاڑ لے گا. یہ مفہوم یہاں پر محذوف یا مقدر (understood) ہے. تمہارے پھر جانے سے اللہ کا کچھ نہیں بگڑے گا‘ اس لیے کہ اللہ تو کسی اورکو اٹھالائے گا‘ وہ کسی اور کو یہ سعادت عطا فرما دے گا. وہ تو ایک سعادت تھی جو اللہ نے تمہیں عطا فرمائی تھی ؎

منّت منِہ کہ خدمتِ سلطاں ہمی کنی
منّت شناس ازو کہ بخدمت بداشتت

’’تم اپنا احسان نہ دھرو کہ تم بادشاہ کی خدمت کر رہے ہو‘ بلکہ بادشاہ کا احسان مانو کہ اس نے تمہیں اپنی خدمت کا موقع عنایت فرمایا‘‘.
یہ تو ایک سعادت تھی کہ اللہ نے تمہیں چن لیا‘ تمہیں پسند فرما لیا‘ 
ہُوَ اجۡتَبٰىکُمۡ . لیکن اب اگر تم اس سے دستبردار ہو رہے ہو‘ پسپائی اختیار کر رہے ہو‘ کم ہمتی کا اظہار کر رہے ہو تو اس سے اللہ کا کچھ نہیں بگڑے گا‘ اللہ تمہاری جگہ کسی اور کو اٹھا دے گا‘وہ پوری کی پوری قوم کو ختم کر کے کسی نئی قوم کو اپنے دین کا جھنڈا تھما سکتا ہے. وہ تو پوری نوعِ انسانی کو ختم کر کے ایک بالکل نئی نسل پیدا کر سکتا ہے. افراد کو ہٹا کر ان سے بہتر افراد لا سکتا ہے. لہذا اس میں سارا نقصان تمہارا اپنا ہے‘ اللہ کا نہ کوئی گھاٹا ہے اور نہ نقصان ہے.