توکل علی اللہ

ایمان کا دوسرا نتیجہ و ثمرہ اور لب لباب ’’توکل علی اللہ‘‘ قرار دیا گیا کہ وَ عَلٰی رَبِّہِمۡ یَتَوَکَّلُوۡنَ ’’اور وہ اپنے پروردگار پر توکل کرتے ہیں‘‘. چنانچہ توکل صرف اللہ پر ہو‘ توکل ساز و سامان اور اسباب و وسائل و ذرائع پر نہ ہو‘ توکل اپنے زورِ بازو پر نہ ہو‘ توکل اپنی ذہانت و فطانت پر نہ ہو .یعنی پہلی شرط تو یہ کہ دنیا کی عظمت سے دل کو خالی کر کے آؤ. اور دوسرے یہ کہ اس راہ میں جو کچھ تمہیں کرنا ہے اس کے لیے بھی بھروسہ اگر اپنے زور ِبازو پر اور اپنی ذہانت و فطانت پر ہے تو پھر بھی ناکام ہو جاؤ گے. توکل کلیتاً اللہ کی تائید و نصرت پر‘ اللہ کی توفیق پر اور اللہ کی مدد پر ہو. ہمارا کام محنت کرنا‘ مشقت جھیلنا‘ ایثار کرنا‘ قربانیاں دینا ہے. اگر ہم یہ کر گزریں تو ہم تو سرخرو ہو جائیں گے. ہو گا وہی جو وہ چاہے گا‘اور اُس وقت ہو گا جب اس کو منظور ہو گا . یہ فیصلہ ہماری خواہش کے مطابق نہیں ہو گا. ہم تو چاہیں گے کہ فوراً لپک کر منزل پر جا پہنچیں ؏ منزل کی طرف دو گام چلوں اور سامنے منزل آ جائے!ہر شخص یہی چاہے گا .کون چاہے گا کہ میں چلتا چلا جاؤں‘ چلتا چلا جاؤں اور منزل پھر بھی نگاہ کے سامنے نہ آئے. لیکن اس کے لیے بھی تیار رہو کہ اگر اللہ کو ابھی یہ مطلوب نہیں ہے تو پھر ہمیں بھی وہی چیز پسند ہے جو اسے پسند ہے. یہ راضی برضائے ربّ کا مقام ہے.

یوں سمجھ لیجیے کہ اس ایک آیت کے اندر سورۃ التغابن کے مضامین کا خلاصہ موجود ہے. دل اس پر جما ہوا ہو کہ ہار او رجیت کے فیصلے کا دن تو وہ ہے 
ذٰلِکَ یَوۡمُ التَّغَابُنِ جو اُس دن ہارا‘ وہ ہارا اور جو جیتا‘ وہ جیتا. یہاں کسی کو کیا ملا؟ فرض کیجیے کہ کل صبح کسی کو پھانسی ہونی ہے اور آج آپ اسے مخملیں گدّے پر سلا دیں تو اس کے لیے وہ مخملیں گدّا چہ معنی دارد؟ اسے پتا ہے کہ صبح اسے پھانسی ہونی ہے. اس اعتبار سے یہاں کے ساز و سامان اور یہاں کے مال و متاع کی کوئی وقعت دل میں نہ رہے. یہ نہیں کہا گیا کہ انہیں استعمال نہ کرو. یہ بالکل دوسری بات ہے. اللہ نے دنیا میں جو کچھ دیا ہے استعمال کے لیے ہی دیا ہے‘ لہذا اللہ کی دی ہوئی چیزوں کو دل کھول کر برتو. اگر اللہ دولت دیتا ہے تو اسے استعمال کرو‘ لیکن دولت کو اپنے دل میں مت داخل ہونے دو. اس دولت کو بھی اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ بناؤ‘ اسے اِنفاق فی سبیل اللہ اور ادائے حقوق میں صرف کر دو. فرمایا :قُلۡ مَنۡ حَرَّمَ زِیۡنَۃَ اللّٰہِ الَّتِیۡۤ اَخۡرَجَ لِعِبَادِہٖ وَ الطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزۡقِ ؕ (الاعراف:۳۲’’(اے نبیؐ ! ان سے) کہیے کہ کس نے حرام کر دیا ہے اللہ کی اُس زینت کو جسے اس نے اپنے بندوں کے لیے نکالا تھا اور کس نے اس کی بخشی ہوئی پاکیزہ چیزیں ممنوع کر دیں؟‘‘ چنانچہ حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ  نے ارشاد فرمایا: 

اَلـزَّھَـادَۃُ فِـی الدُّنْیَا لَیْسَتْ بِتَـحْرِیْمِ الْحَلَالِ وَلَا اِضَاعَۃِ الْمَالِ وَلٰـــکِنَّ الـزَّھَـادَۃَ فِـی الدُّنْیَا اَنْ لَا تَـکُوْنَ بِمَا فِیْ یَدَیْکَ اَوْثَقَ مِمَّا فِیْ یَدَیِ اللّٰہِ (۱)
’’دنیا میں زہد (اپنے اوپر) حلال کو حرام کر لینے اور مال و دولت کو ضائع کرنے کا نام نہیں ہے‘ بلکہ دنیا میں زہد تو یہ ہے کہ جو کچھ تمہارے ہاتھوں میں ہے اس پر تمہارا توکل اور اعتماد زیادہ نہ ہو جائے اُس چیز سے جو اللہ کے ہاتھ میں ہے‘‘.

یعنی اپنی ذہانت ‘اپنی فطانت ‘ اپنے وسائل اور اپنے ذرائع پر اعتماد نہ رہے‘ بلکہ اعتماد اور توکل اللہ پر ہو. اور سورۃالتغابن کی وہ آیت بھی ذہن میں رکھئے : 
اَللّٰہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ؕ وَ عَلَی اللّٰہِ فَلۡیَتَوَکَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۳﴾ ’’اللہ وہ ہے کہ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں‘ اور اللہ پر ہی اہل ایمان کو توکل کرنا چاہیے‘‘. اہل ایمان کا توکل ذاتِ باری تعالیٰ پر مرتکز ہوجانا چاہیے .

تو اس ایک آیت میں دو اوصاف آ گئے : (۱) ترجیح آخرت (۲) توکل علی اللہ. اصل میں یہ ایمان کے دو نتائج یا دو ثمرات ہیں‘ اور یہ اس راستے کی اوّلین شرائط 
(pre-requisites) ہیں.انسان کی شخصیت میں اور اس کی سوچ اور نقطۂ (۱) سنن الترمذی‘ کتاب الزھد عن رسول اللہ ‘ باب ما جاء فی الزھادۃ فی الدنیا. نظر میں ایمان کے نتیجے میں جو تبدیلی اور انقلاب پیدا ہونا چاہیے یہاں ان کا حوالہ دے دیا گیا ہے کہ انسان کو اس وادی میں قدم رکھنے سے پہلے دیکھ لینا چاہیے کہ ا س کے دامن میں ان دونوں چیزوں کی پونجی موجود ہے یا نہیں.
اگلی آیت میں پھر دو اوصاف بیان ہوئے ہیں :

وَ الَّذِیۡنَ یَجۡتَنِبُوۡنَ کَبٰٓئِرَ الۡاِثۡمِ وَ الۡفَوَاحِشَ وَ اِذَا مَا غَضِبُوۡا ہُمۡ یَغۡفِرُوۡنَ ﴿ۚ۳۷﴾ 
’’اور وہ لوگ کہ جو پرہیز کرتے ہیں بڑے بڑے گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے اور اگر غصہ آ جائے تو درگزر کر جاتے ہیں‘‘.