کبائر اور فواحش سے اجتناب

’’جنب‘‘ پہلو کو کہتے ہیں اور اجتناب کا مفہوم ہے پہلو بچائے رکھنا‘پہلو تہی کرنا‘ کسی چیز سے بچ کر چلنا. ’’اجتناب‘‘ ہم اردو میں بھی استعمال کرتے ہیں. آیت کا مفہوم یہ ہوا کہ وہ لوگ جواجتناب کرتے ہیں ‘جو بچتے رہتے ہیں اور اپنے آپ کو بچائے رکھتے ہیں بڑے بڑے گناہوں سے اور بے حیائی کی باتوں سے. یہ جو لفظ ’’ کبائر‘‘ یہاں آیا ہے یہ مضمون قرآن مجید میں دو اور مقامات پر‘ سورۃ النجم اور سورۃ النساء میں بھی آیا ہے. اس سے اس مضمون کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے. 

اس وصف (کبائر سے اجتناب) کی اہمیت یہ ہے کہ انسان پر جیسے کچھ بہت سے دوسرے جذبات کا غلبہ ہو جاتا ہے ایسے ہی نیکی کا بھی جب آدمی پر ایک غلبہ ہوتا ہے تو اس کی باریک بینیاں بڑھتی چلی جاتی ہیں‘ اس کی حس زیادہ بڑھتی چلی جاتی ہے. ایک برائی سے آپ نے اپنے آپ کو بچایا تو اب اس سے چھوٹی برائی نظر آئے گی. اس کو میں نے کئی مرتبہ بیان کیا ہے کہ یہ بالکل ایسے ہے جیسے پیاز کا ایک چھلکا اتاریئے تو پھر آگے دوسرا چھلکا ہے. اس دوسرے چھلکے پر جو داغ ہے وہ آپ کو نظر نہیں آئے گا جب تک آپ پہلا چھلکا نہیں اتاریں گے. اس سے پہلے آپ کو اس کا احساس ہی نہیں ہو گا کہ میرے اندر یہ خرابی بھی ہے. جب پہلا چھلکا اترے گا‘ پہلی خرابی سے آپ اپنے 
آپ کو بچا لیں گے‘ اپنا دامن پاک کر لیں گے تو دوسرا چھلکا نظر آئے گا. دوسرا چھلکا اتاریں گے تو آگے ایک تیسرا چھلکا ہے. پھر اس کا کوئی داغ ہے جو نظر آئے گا. جب تک دوسراچھلکا نہیں ہٹے گا‘ وہ نظر نہیں آئے گا . تویہ ایک فطری تدریج ہے‘ لیکن اس میں بھی انسان سے ایک غلو ہو جاتا ہے . لیکن یاد رہے کہ اصلاحِ ذات میں اگر غلو ہو جائے گا تو وہ اقامتِ دین کی راہ کی رکاوٹ بن جائے گا. اگرآپ کی ساری توجہ اپنی انفرادی اصلاح پر مرتکز ہو کر رہ جائے اور آپ اپنے نفس ہی کو مانجھنے اور رگڑنے میں لگے رہیں تو پھر معاشرے کی اصلاح اور اللہ کے دین کے غلبہ کی طرف آپ کا دھیان ہی نہیں جائے گا. ہمارے ہاں رہبانیت کی طرز پر خانقاہیت کا جو ایک انسٹی ٹیوشن بن گیا ہے اس میں ساری توجہ انفرادی اصلاح پر ہے کہ اب اسی میں لگے رہو. بعض صوفیاء کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ چالیس سال تک یہ ریاضت کرتے رہے. خدا کے بندو! چالیس برس کی ریاضت کے بعد کون سا وقت آدمی کے پاس رہ گیا کہ وہ اس ماحول کی اصلاح کے لیے بھی نکلے‘ اور اس کے لیے بھی اپنی توانائیاں کھپائے‘ اس ماحول کے اندر کوئی تبدیلی لانے کے لیے باطل کو للکارے اور نیکی کی قوتوں کو منظم کر کے باطل کے ساتھ ٹکرا دے؟ 

انفرادی اصلاح اور معاشرے کی اصلاح‘ یہ دونوں عمل ساتھ ساتھ چلنے چاہئیں اور ان میں عدم توازن نہیں ہونا چاہیے. یہ بھی نہ ہو کہ آدمی اپنے آپ کو بھولا رہے اوردوسروں کی اصلاح کے لیے کوشاں رہے. یہ ایک انتہا ہے‘ جس کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے : 
اَتَاۡمُرُوۡنَ النَّاسَ بِالۡبِرِّ وَ تَنۡسَوۡنَ اَنۡفُسَکُمۡ وَ اَنۡتُمۡ تَتۡلُوۡنَ الۡکِتٰبَ ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۴۴﴾ (البقرۃ) ’’کیا تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور خود اپنے آپ کو بھول جاتے ہو‘ درآں حالیکہ تم کتاب پڑھتے ہو. تو کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟‘‘ اور دوسری انتہا یہ ہے کہ اپنی انفرادی اصلاح میں غلو سے کام لیا جائے اور اجتماعی اصلاح سے اغماض برتا جائے. اب آپ غور کیجیے‘ اسی شہر لاہور میں ایک صاحب موجود ہیں‘ انتہائی نیک آدمی ہیں‘ وہ گوشت اس لیے نہیں کھاتے کہ کچھ پتا نہیں کہ صحیح ذبح ہوا یا نہیں ہوا. پھل اس لیے نہیں کھاتے کہ آج کل باغات کا جو ٹھیکہ ہوتا ہے وہ صحیح طریقے پر نہیں ہوتا. اس طرح انہوں نے نامعلوم کیا کیا چیزیں اپنی خوراک میں سے خارج کی ہوئی ہیں .تو انفرادی زہد کا تو یہ عالَم ہے‘ لیکن اس ماحول میں رہ رہے ہیں جس میں باطل کا غلبہ ہے اور اس کے ازالے کے لیے کسی اجتماعی جدوجہد کی ان کے اندر کوئی تحریک پیدا نہیں ہوتی. یہ ہے وہ عدم توازن کہ ایک طرف تو یہ معلوم ہوا کہ فلاں صاحب اتنے زاہد ‘ اتنے عابد اور اتنے متقی ہیں کہ ان کا گھوڑا بھی مشکوک گھاس نہیں کھاتا. ٹھیک ہے! اللہ تعالیٰ وہ مقام اگر کسی کو دے دے تو کیا کہنے ہیں. لیکن یہ کہ باطل کا غلبہ ہو‘ غیر اسلامی حکومت ہو ‘ اور اس کی وہ تھانے داری فرما رہے ہوں تو اسے آپ کیا کہیں گے؟ یہ ہے عدم توازن‘ کہ ذاتی زہد اور ذاتی تقویٰ کا غلو تو اس حد کو پہنچا ہوا ہے‘ لیکن باطل سے نبرد آزمائی اور حق کے غلبے کے لیے جدوجہد سرے سے خارج از بحث ہے. یہاں اس عدمِ توازن کو روکنا مقصود ہے جس کا ذکر ایک حدیث نبویؐ میں بایں الفاظ کیا گیا ہے :

قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اَوْحَی اللہُ عَزَّوَجَلَّ اِلٰی جِبْرَئِیْلَ عَلَیْہِ السَّلَامُ اَنِ اقْلِبْ مَدِیْنَۃَ کَذَا وَکَذَا بِاَھْلِھَا. قَالَ: فَقَالَ: یَا رَبِّ اِنَّ فِیْھَا عَبْدَکَ فُلَانًا لَمْ یَعْصِکَ طَرْفَۃَ عَیْنٍ. قَالَ : فَقَالَ : اِقْلِبْھَا عَلَیْہِ وَعَلَیْھِمْ‘ فَاِنَّ وَجْھَہٗ لَمْ یَتَمَعَّرْ فِیَّ سَاعَۃً قَطُّ (۱

’’رسول اللہ نے ارشاد فرمایا:’’اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل علیہ السلام کو حکم دیا کہ فلاں فلاں بستیوں کو اُن کے رہنے والوں سمیت الٹ دو‘‘. آپؐ فرماتے ہیں: ’’حضرت جبرئیل ؑ نے عرض کیا : ’’اے اللہ! اس بستی میں تو تیرا وہ بندہ بھی ہے جس نے پلک جھپکنے جتنی دیر بھی تیری معصیت میں بسر نہیں کی.‘‘ آپؐ نے فرمایا کہ’’ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ’’الٹ دو اِس کو پہلے اُس پر‘ پھر دوسروں پر‘ اس لیے کہ اس کے چہرے کا رنگ کبھی تھوڑی دیر کے لیے بھی میری غیرت اور حمیت میں متغیر نہیں ہوا‘‘. (۱) رواہ الامام البیھقی بحوالہ خطبات الاحکام ‘ تالیف مولانا اشرف علی تھانویؒ . ذرا اس شخص کی ذاتی نیکی کا اندازہ لگایئے کہ اپنے نفس کو مانجھ مانجھ کر اس انتہا کو پہنچ گیا کہ حضرت جبرئیل ؑ اللہ تعالیٰ کے حضور گواہی دے رہے ہیں کہ اس نے کبھی ایک لمحہ بھی تیری معصیت میں بسر نہیں کیا‘ لیکن اس کی بے غیرتی اور بے حمیتی بھی ملاحظہ کیجیے کہ اسے اس سے کوئی غرض ہی نہیں کہ باہر کیا ہو رہا ہے‘ کفر کس طرح دندنا رہا ہے‘ شیطنت کس طرح ننگا ناچ ناچ رہی ہے‘ بے حیائی کا سیلاب کس طور سے آ رہا ہے‘ اللہ کی شریعت کا استہزاء کس طرح ہو رہا ہے!

تو یہ جو عدم توازن ہے اس کو قرآنِ حکیم کے ان الفاظ کی روشنی میں دیکھئے : 
کَبٰٓئِرَ الۡاِثۡمِ وَ الۡفَوَاحِشَ یعنی بڑے بڑے گناہوں سے اپنے آپ کو بچا لیجیے ‘ ان سے اپنا دامن پاک کر لیجیے اور بے حیائی کے کاموں سے اپنے آپ کو بچا لیجیے. ا س کے بعد میدانِ عمل میں قدم رکھئے‘ اس جدوجہد میں پڑیئے‘ تو مزید اصلاح ہو گی. لیکن اگرہم یہ فیصلہ کر لیں کہ اپنی اصلاح کے عمل کو کامل کر کے ہم اس جدوجہد میں قدم رکھیں گے تو وہ وقت کبھی نہیں آئے گا. آدمی کامل تو کبھی ہو گا ہی نہیں. کون کہہ سکتا ہے کہ میں کامل ہو گیا؟ جو یہ دعویٰ کرے وہ احمق ہے. اصلاح تو زندگی بھر کے لیے ایک مسلسل عمل ہے.