اللہ کی پکار پر لبیک کہنا

یہاں استجابت کا لفظ آیا ہے جو ہم گزشتہ درس میں پڑھ چکے ہیں : اِسۡتَجِیۡبُوۡا لِرَبِّکُمۡ اور یہ بھی سمجھ چکے ہیں کہ وہ پکار کون سی ہے. اس سے مراد ہے : اَنۡ اَقِیۡمُوا الدِّیۡنَ وَ لَا تَتَفَرَّقُوۡا فِیۡہِ ؕ ’’دین کو قائم کرو اور دین کے باب میں (اور اقامت دین کی جدوجہد میں) متفرق نہ ہو جاؤ‘‘. یہاں دو آیتوں میں چار اوصاف اس سے پہلے بیان کر کے پانچواں وصف یہ فرمایا کہ ’’وہ اپنے ربّ کی پکار پر لبیک کہتے ہیں‘‘. ان اوصاف کے درمیان صحیح ربط یہ قائم ہوا کہ یہ چار بنیادی شرائط ہیں‘ جو شخص یہ چار کام کر لے وہ اس وادی میں قدم رکھے. اگر مال و دولتِ دنیا کی وقعت اور محبت ابھی دل میں ہے اور آپ اقامتِ دین کے اس راستے میں پڑ گئے تو خود آپ کی اپنی شخصیت اور کام دونوں کو نقصان پہنچے گا. اس لیے کہ یہی شے درحقیقت منافقت کے لیے تمہید بنتی ہے. اگر اللہ پر توکل نہیں ہے تو بھی وہ کام کسی غلط رُخ پرپڑ جائے گا. 

اسی طرح اگر اپنے آپ کو ابھی بڑی بڑی خرابیوں سے بھی نجات نہیں دلائی ہے اور ضبطِ نفس ابھی اتنا نہیں ہوا کہ غصے کو قابو میں رکھ سکو تو بھی آپ غلط شروعات کر رہے ہیں. اس لیے کہ وہ حدیث آپ کو معلوم ہے جس میں حضور نے منافق کے چار اوصاف بیان کیے کہ جس میں یہ چاروں موجود ہیں وہ پکا اور کٹر منافق ہے‘اور جس میں ان میں سے ایک وصف موجود ہے اس میں اسی نسبت سے نفاق موجود ہے. اس حدیث میں چوتھا وصف یہ بیان ہوا : 
وَاِذَا خَاصَمَ فَجَرَ (۱کہ جب وہ کسی سے جھگڑتا ہے تو آپے سے باہر ہو جاتا ہے‘ پھٹ پڑتا ہے‘ گالم گلوچ پر اتر آتا ہے. اسے (۱) صحیح البخاری‘ کتاب الایمان‘ باب علامۃ المنافق. وصحیح مسلم‘ کتاب الایمان‘ باب بیان خصال المنافق. اپنے اوپر کنٹرول ہی نہیں رہتا‘ غصے میں اس کی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ جو مُنہ میں آیابک دیا اور جو اینٹ روڑا ہاتھ میں آیا‘ دے مارا. تو یہ درحقیقت نفاق کی ایک علامت ہے. چنانچہ غصے کی حالت میں ضبطِ نفس کی تلقین فرمائی گئی. یہ چار اوصاف بیان فرما دیے گئے کہ اقامت دین کی جدوجہد کے لیے میدان میں آنے سے پہلے آدمی یہ اوصاف اپنے اندر پیدا کر لے. یہ گویا pre-requisites کے درجے میں ہیں.اسی لیے یہاں پر اب پانچواں وصف یہ بیان فرمایا: وَ الَّذِیۡنَ اسۡتَجَابُوۡا لِرَبِّہِمۡ ’’وہ لوگ کہ جو اپنے ربّ کی پکار پر لبیک کہیں‘‘. جو اپنے ربّ کی دعوت قبول کریں.

ہم استقامت اور اقامت کے فرق پر بحث کر چکے ہیں. اقامت کا ایک شاذ مفہوم وہ ہے کہ جو استقامت کا اصل مفہوم ہے لہذا کہیں کہیں استقامت کی جگہ لفظ اقامت بھی استعمال ہو جاتا ہے‘ لیکن اقامت کا اپنی جگہ پر اصل مفہوم کسی شے کو قائم کرنا ہے. اسی طرح کے یہ دو الفاظ اجابت اور استجابت ہیں. اجابت بھی کسی کی دعا یا کسی کی پکار کو قبول کرنے اور کسی کی ندا پر لبیک کہنے کے معنوں میں استعمال ہو جاتا ہے‘ لیکن اس کے لیے اصل لفظ استجابت ہے. لفظ ’’اجابت‘‘ کے مختلف صیغے قرآن مجید میں آٹھ جگہ استعمال ہوئے ہیں‘ جبکہ لفظ ’’استجابت‘‘ کے صیغے قرآن حکیم میں اٹھائیس مقامات پر آئے ہیں . اور اس سورۂ مبارکہ میں تو تین مرتبہ استجابت کا لفظ آیا ہے. سب سے پہلے آیت ۱۶ میں فرمایا: 

وَ الَّذِیۡنَ یُحَآجُّوۡنَ فِی اللّٰہِ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا اسۡتُجِیۡبَ لَہٗ حُجَّتُہُمۡ دَاحِضَۃٌ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ وَ عَلَیۡہِمۡ غَضَبٌ وَّ لَہُمۡ عَذَابٌ شَدِیۡدٌ ﴿۱۶﴾ 
اس کے بعد آیت زیر مطالعہ میں لفظ ’’اسۡتَجَابُوۡا‘‘ آیا اورپھر سورۃ کے آخری حصے میں آیت ۴۷ میں ’’اِسۡتَجِیۡبُوۡا‘‘ کا لفظ آیا. بہرحال ‘ اب یہاں الفاظ آئے ہیں : وَ الَّذِیۡنَ اسۡتَجَابُوۡا لِرَبِّہِمۡ ’’اور وہ لوگ کہ جو لبیک کہیں اپنے ربّ کی پکار پر‘‘ .