بدلہ اور قصاص یا عفو و درگزر؟

مطلوبہ اوصاف کے ضمن میں متذکرہ بالا تین آیات بہت اہم اور بہت بنیادی ہیں‘ اور ان میں سے ایک ایک میں کئی کئی چیزیں آ گئی ہیں. اب اس کے بعد جو آیات آ رہی ہیں‘ ان میں ایک مضمون بدلہ اور قصاص کا آ رہا ہے. فرمایا:

وَ الَّذِیۡنَ اِذَاۤ اَصَابَہُمُ الۡبَغۡیُ ہُمۡ یَنۡتَصِرُوۡنَ ﴿۳۹
’’اور جب اُن پر زیادتی کی جاتی ہے تو بدلہ لیتے ہیں.‘‘

یہ اس درس کی چوتھی آیت ہے‘ اور اس مضمون پر ایک بحث اگلی چار آیات پر محیط ہے. یہاں بظاہر ایک بڑا ہی مختلف انداز ہے اس سے جو عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ دین کی دعوت کے ضمن میں ہونا چاہیے اور جس کی تلقین واقعتا قرآن مجید میں بھی دعوتِ دین کے ضمن میں کی گئی ہے. وہ یہ کہ دعوت کے میدان میں اور دعوت کی سطح پر ‘ دعوت کے مرحلے پریہی مطلوب ہو گا کہ لوگ گالیاں دیں تو تم دعائیں دو‘ لوگ پتھر ماریں تو تم پھول پیش کرو. وہاں بدلہ لینا دعوت کے راستے کی رکاوٹ بن جائے گا. یہ قرآن مجید کا حسنِ ربط‘ حسنِ ترتیب اور حسنِ اعجاز ہے کہ اس میں ہر سطح اور ہر مرحلے کے لیے ہدایات موجود ہیں.چنانچہ پچھلی سورت حٰم السجدۃ کا مرکزی مضمون چونکہ دعوت ہے لہذا وہاں فرمایا گیا : 
وَ لَا تَسۡتَوِی الۡحَسَنَۃُ وَ لَا السَّیِّئَۃُ ؕ اِدۡفَعۡ بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحۡسَنُ فَاِذَا الَّذِیۡ بَیۡنَکَ وَ بَیۡنَہٗ عَدَاوَۃٌ کَاَنَّہٗ وَلِیٌّ حَمِیۡمٌ ﴿۳۴﴾ ’’اورنیکی اور بدی یکساں نہیں ہیں . تم بدی کا جواب اس نیکی سے دو جو بہترین ہو‘ پھر تم دیکھو گے کہ جس شخص کی تمہارے ساتھ عداوت تھی وہ جگری دوست بن گیا.‘‘ گویا دشمن کے بُرے رویے کے جواب میں حسن سلوک سے کام لینا‘ ان کی گالیوں کے جواب میں ان کو دعائیں دینا‘ ان کے تشدد اور ایذا رسانی کے جواب میں ان کی خدمتیں کرنا‘ یہ دعوت کی تأثیر کے لیے لازم ہے. لیکن کیا اہل ایمان کا یہی دائمی وصف ہو گا؟ 

اوّل تو یہ جان لیجیے کہ اقامت دین سے جو شے مطلوب ہے وہ اقامتِ عدل و قسط ہے. میں اپنے مختلف خطابات میں یہ بات واضح کر چکا ہوں کہ اکثر و بیشتر قانون کا 
تقاضا اخلاق و روحانیت کے تقاضے سے مختلف ہوتا ہے. آپ کو کوئی تھپڑ دے مارے تو اب آپ کے لیے دو راستے ہوں گے. ایک یہ کہ جواباً آپ بھی تھپڑ رسید کریں‘ ایک یہ کہ آپ معاف کر دیں. اگر انتقام لینے کی قدرت رکھنے کے باوجود آپ معاف کرتے ہیں تو یہ آپ کی انفرادی تربیت اور روحانی ترفع کی طرف پیش قدمی کے لیے تو مفید ہے‘ لیکن اس سے اجتماعی سطح پر یہ نقصان ظاہر ہو گا کہ شریروں کی حوصلہ افزائی ہو گی. جس نے ایک تھپڑ آج آپ کو مارا ہے ‘ کل کسی اور کو مارے گا ‘ اس لیے کہ اسے جوابی تھپڑ رسید نہیں ہوا‘ چنانچہ اس کی شرارت کی حوصلہ افزائی ہوئی. لہذا اجتماعی سطح پر اس کا تقاضا یہ ہے کہ وَ لَکُمۡ فِی الۡقِصَاصِ حَیٰوۃٌ یّٰۤاُولِی الۡاَلۡبَابِ (البقرۃ:۱۷۹’’اوراے ہوش مندو! بدلہ لینے میں تمہارے لیے زندگی ہے!‘‘ جس نے کسی کو تھپڑ رسید کیا ہے اس کو جوابی تھپڑ رسید کرو‘ ورنہ اس کی حوصلہ افزائی ہو گی‘ شرارت بڑھے گی اور زندگی کا نظم درہم برہم ہو جائے گا. یہی اسلامی تعزیرات کا فلسفہ ہے. شدید ترین تعزیرات اور شدید ترین سزاؤں کا مقصد یہی ہے. چنانچہ آنحضور نے ایسے حضرات کو بھی رجم کروایا کہ جن کے بارے میں ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ انہوں نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر اسے مدینے کی پوری آبادی پر تقسیم کر دیا جائے تو سب کی مغفرت کے لیے کافی ہو جائے . اس کے باوجود انہیں رجم کروایا‘ اس لیے کہ اس کے ذریعے سے زنا کا سدّباب ہو گا. اگر سزا نافذ نہیں کرتے‘ معاف کر دیتے ہیں تو زنا کی طرف لوگوں کا رجحان بڑھے گا. یہ دو چیزیں علیحدہ علیحدہ ہیں. اسی طرح جو کچھ آپ نے حلال ذریعے سے کمایا‘ قانونی سطح پر اس میں سے صرف زکوٰۃ اور عشر لینے کے بعد جو کچھ آپ کا ہے وہ آپ کو دیا جائے گا‘ آپ کا حق تسلیم کیا جائے گا‘لیکن اخلاقی سطح پر تعلیم یہ ہے کہ جو کچھ بھی زائد از ضرورت ہے‘ اللہ کی راہ میں دے دو! تو یہ دو چیزوں میں بظاہر فرق ہے. بعض لوگ اس کو exploit کرتے ہیں کہ یہ تضادات ہیں . یا پھر ایک پہلو کو وہ کسی وجہ سے چھپاتے ہیں اور دوسرے کو نمایاں کرتے ہیں تو یہی درحقیقت گمراہی کی جڑ بن جاتی ہے. دونوں چیزوں کو بیک وقت نگاہ میں رکھئے. دعوت کے مرحلے پر عفو و درگزر اور اقامت کے مرحلے پر بدلہ اور انتقام. 

چنانچہ آگے فرمایا : 
وَ جَزٰٓؤُا سَیِّئَۃٍ سَیِّئَۃٌ مِّثۡلُہَا ۚ ’’اور برائی کا بدلہ تو برائی ہے ویسی ہی‘‘. آپ دیکھ رہے ہیں کہ یہ اب وہ بھکشوؤں کا سا انداز نہیں رہا‘ اب وہ خانقاہیت والا نظام یہاں نہیں رہا.یہ تو بڑا جارحانہ اور militant انداز ہے. ان دونوں کا مقام اپنی اپنی جگہ پر ہے. ہر شے کو اس کے مقام پر رکھئے‘ اس کا نام عدل اور انصاف ہے. کسی چیز کو اپنے مقام سے ہٹا کر کہیں اور رکھ دیں گے تو یہ ظلم ہے. ظلم کی تعریف ہے : ’’وضع الشّی ء فی غیر محلّہ‘‘ یعنی کسی چیز کو اس کے اصل مقام سے ہٹا دینا. ہر شے کو اس کے مقام پر رکھئے. یہاں ’’مِّثۡلُہَا‘‘ کے لفظ سے یہ بھی اشارہ ہو گیا کہ جتنی زیادتی ہوئی ہے اتنی ہی زیادتی ہو‘ اس سے زائد نہیں . یہ نہ ہو کہ انتقام کے جوش میں آ کر ایک تھپڑ کے بدلے میں دس تھپڑ مارے جائیں. یہ جائز نہیں ‘بلکہ وَ جَزٰٓؤُا سَیِّئَۃٍ سَیِّئَۃٌ مِّثۡلُہَا ۚ ’’اوربرائی کا بدلہ تو ویسی ہی برائی ہے‘‘.

البتہ اس کے ساتھ ہی فرما دیا : 
فَمَنۡ عَفَا وَ اَصۡلَحَ فَاَجۡرُہٗ عَلَی اللّٰہِ ؕ ’’تو جوکوئی معاف کر دے اور اصلاح کرے تو اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے‘‘. یہاں ایک بڑا لطیف اشارہ کر دیا گیا کہ معافی اس صورت میں دی جائے اگر یہ نظر آ رہا ہو کہ اس سے اصلاح ہو جائے گی. ایسی معافی نہ ہو جو شریروں کی ہمت افزائی کا ذریعہ بن جائے. جہاں آپ یہ محسوس کریں کہ زیادتی کرنے والے پر واقعی ندامت طاری ہو چکی ہے اور اسے اپنے کیے پر بڑا پچھتاوا ہے‘ میں اگر اسے معاف کر دوں گا تو اس میں اصلاح کی کیفیت پیدا ہو گی‘ اور آپ اسے معاف کر دیں تو اس طرح آپ اپنے لیے بہت بڑا اجر کما سکتے ہیں. 

اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۴۰﴾ ’’یقینااللہ تعالیٰ ظالموں کو پسند نہیں کرتا‘‘. اگر عفو سے ظلم کی جڑ کٹ جاتی ہو ‘اصلاح ہو جاتی ہو تو عفو بہتر ہے. لیکن اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند نہیں کہ ظالموں کی ہمت افزائی اور حوصلہ افزائی ہو اور نیک لوگ کونوں کھدروں میں‘ خانقاہوں میں بیٹھے رہیں اور شریروں کے لیے دنیا چھوڑ دیں. انہیں شریروں کی سرکوبی کے لیے میدان میں آنا ہو گا .

وَ لَمَنِ انۡتَصَرَ بَعۡدَ ظُلۡمِہٖ فَاُولٰٓئِکَ مَا عَلَیۡہِمۡ مِّنۡ سَبِیۡلٍ ﴿ؕ۴۱﴾ ’’اور جو لوگ ظلم ہونے کے بعد بدلہ لیں ان پر کوئی ملامت نہیں‘‘.میں نے عرض کیا تھا کہ دونوں چیزیں بیک وقت اپنی اپنی جگہ اہم ہیں. اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ میرے معاف کر دینے سے اصلاح ہو جائے گی ‘ بہتری کی توقع ہے تو معاف کر دے. اس کا اجر اللہ کے پاس محفوظ ہے. لیکن اگر کوئی شخص اپنے اس اختیار کو استعمال کرتے ہوئے معاف کرنے سے انکار کرتا ہے اور کہتا ہے میں تو بدلہ لوں گا تو آپ اس کو ملامت کرنے کے درپے نہ ہو جائیں کہ دیکھو اچھا کام چھوڑ کر برا کام کر رہا ہے. یہاں واضح کر دیا گیا کہ جو کوئی بدلہ لے‘ انتقام لے اس کے بعد کہ اُس پر ظلم ہوا ہے تو ایسے لوگوں کے اوپر کوئی ملامت کا راستہ نہیں ہے‘ آپ انہیں discourage نہیں کر سکتے‘ آپ انہیں ملامت نہیں کر سکتے. وہ ان کا حق ہے ‘وہ بدلہ لے سکتے ہیں.اس ضمن میں سورۃ النساء میں تو یہاں تک فرما دیا: لَا یُحِبُّ اللّٰہُ الۡجَہۡرَ بِالسُّوۡٓءِ مِنَ الۡقَوۡلِ اِلَّا مَنۡ ظُلِمَ ؕ (آیت ۱۴۸’’اللہ تعالیٰ کو کسی بری بات کا بلند آوازی سے کہنا پسند نہیں ہے‘ سوائے اس کے جس پر ظلم ہوا ہو‘‘. مظلوم اگر اپنے اوپر ہونے والے ظلم کے درد سے کراہتے ہوئے چیخ و پکار کرتا ہے اور اس کی زبان سے اگر کوئی برا کلمہ نکل جاتا ہے تو اسے معاف کیا جائے گا‘ اس سے درگزر کیا جائے گا. عام حالات میں بری بات کا زبان سے نکالنا اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ہے مگر جس پر ظلم کیا گیا ہو وہ مستثنیٰ ہے.

اِنَّمَا السَّبِیۡلُ عَلَی الَّذِیۡنَ یَظۡلِمُوۡنَ النَّاسَ وَ یَبۡغُوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ بِغَیۡرِ الۡحَقِّ ؕ ’’یقیناملامت کے مستحق تو وہ ہیں جو لوگوں پرظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق سرکشی کرتے ہیں‘‘. لہذا اقامتِ دین کی جدوجہد کے لیے جو جماعت وجود میں آئے وہ منظم ہو کر ان لوگوں کے مقابل خم ٹھونک کر میدان میں آئے جو ظلم کر رہے ہیں‘ جو لوگوں کے حقوق پر دست درازی کر تے ہیں‘ جنہوں نے لوگوں کے حقوق کو غصب کر رکھا ہے. یہ ظلم معاشرتی بھی ہوتا ہے‘ معاشی بھی ہوتا ہے اور سیاسی بھی ہوتا ہے . جو لوگ دوسروں کو اپنا محکوم بنا لیں‘ وہ ظالم ہیں.جو معاشی طور پر دوسروں کو مفلوج کریں‘ وہ ظالم ہیں. جو دوسروں کے حقوق پر دست درازی کریں‘ وہ ظالم ہیں . جنہوں نے کچھ لوگوں کو گھٹیا قرار دے دیا ہے‘ وہ سب سے بڑھ کر ظالم ہیں. اسی گوشت پوست کے بنے ہوئے اور ایک آدم و حوا کی نسل سے پیدا ہونے والے انسانوں میں سے بعض کو بڑھیا اور اعلیٰ قرار دے دینا اور بعض کو گھٹیا اور ادنی ٰ سمجھنا بہت بڑا ظلم ہے. چنانچہ ظلم خواہ معاشرتی سطح پر ہو یا معاشی سطح پر یا سیاسی سطح پر‘ جو بھی ظلم کا ارتکاب کر رہا ہے وہ ظالم ہے‘ اور سب سے بڑا ظلم اللہ کی زمین پر غیر اللہ کی حاکمیت کو تسلیم کرنا ہے. یہ زمین اللہ کی ہے‘ وہ اس کا جائز حاکم ہے ‘جو اس حاکمِ حقیقی کے خلاف بغاوت کر رہا ہے اور ناحق سرکشی کر رہا ہے اس سے بڑا ظالم اور کون ہو گا؟چاہے اس نے کچھ خیراتی ادارے بھی قائم کر دیے ہوں‘ فاؤنڈیشنز بنا دی ہوں‘ چاہے وہ ویلفیئر سٹیٹ بنائے بیٹھا ہو‘ لیکن اللہ کا حق غصب کیے ہوئے ہے اور اللہ کے قانون کے بجائے اپنا قانون چلوا رہا ہے. 

اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۴۲﴾ ’’یہ ہیں وہ لوگ جن کے لیے درد ناک عذاب ہے‘‘.ان ظالموں کے لیے آخرت میں بھی دردناک عذاب ہے اور دنیا میں بھی تم اپنے غصے اور ملامت کا ہدف اِن لوگوں کو بناؤ ‘نہ کہ اُن لوگوں کو جو مظلوم ہیں. ؎

ڈرو مظلوم کی آہوں سے جب اٹھتی ہیں سینوں سے
قبولیت ہے کرتی خیر مقدم چرخ سے آ کر!

یہ شعر دراصل فارسی کے اس شعر کا اردو ترجمہ ہے ؎ 

بترس از آہِ مظلوماں کہ ہنگامِ دعا کردن
اجابت از درِ حق بہر استقبال می آید! 

ماہر القادری مرحوم کہتے ہیں کہ کوئی دعا ایسی بھی ہوتی ہے جس کی قبولیت کے لیے رحمت ِ خداوندی پہلے سے بے تاب ہوتی ہے. دعا کریں تو سہی! ؏ ’’ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں!‘‘ایک دعا وہ بھی ہے جس کے لیے حدیث قدسی میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ رات کے پچھلے پہر سمائے دنیا پر نزول فرما کر ارشاد فرماتا ہے : ھَلْ مِنْ سَائِلٍ فَاُعْطِیَہٗ؟ ھَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ فَاُغْفِرَ لَہٗ؟ (۱’’ہے کوئی مانگنے والا کہ میں اسے عطا کروں؟ ہے کوئی استغفار کرنے والا کہ میں اسے بخش دوں؟‘‘ تو ماہر صاحب نے بھی اسی انداز میں ایک شعر کہا ہے ؎ 

یہ کون پچھلے پہر رات کو ہے محوِ سجود
دعا کو ڈھونڈ رہی ہیں ابھی سے تأثیریں! 

بہرحال یہ ذہن میں رکھئے کہ یہ ظلم‘ یہ عدوان‘ یہ تعدّی‘ یہ استحصال جس شکل میں بھی ہے ان لوگوں کے لیے ایک چیلنج ہے کہ جو اللہ کے بندے ہیں‘ جو اللہ کی زمین پر اللہ کی حاکمیت کے علمبردار ہیں‘ جو اس کے نظامِ عدل و قسط کے نام لیوا ہیں. ان کے خلوص و اخلاص اور ان کی محبت خداوندی کا ثبوت یہ ہے کہ وَ لِیَعۡلَمَ اللّٰہُ مَنۡ یَّنۡصُرُہٗ وَ رُسُلَہٗ بِالۡغَیۡبِ ؕ ’’اوراللہ تعالیٰ دیکھنا چاہتا ہے کہ کون (ہیں اس کے وفادار بندے جو قوت کو ہاتھ میں لے کر‘ لوہے کو ہاتھ میں لے کر)اس کی اور اس کے رسولوں کی مدد کرتے ہیں‘ غیب میں رہتے ہوئے‘‘. اس کی مدد کیا ہے؟ اس کے دیے ہوئے نظامِ عدل و قسط کا قیام‘ اس کے دین کا غلبہ! رسولوں کی مدد کیا ہے؟ کہ یہ اصلاً فرضِ منصبی رسول کا ہے‘ جو کوئی اس میں ہاتھ بٹاتا ہے وہ ان کا اعوان وانصار بنتا ہے.

آخری آیت ہے : 
وَ لَمَنۡ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِکَ لَمِنۡ عَزۡمِ الۡاُمُوۡرِ ﴿٪۴۳﴾ ’’اور جو کوئی صبر کرے اور معاف کر دیا کرے ‘تو یقینا یہ بڑی ہمت کے کاموں میں سے ہے‘‘. اس راہ پر چلتے ہوئے قدم قدم پر عفو ودرگزر کی ضرورت پیش آئے گی اور سب سے بڑھ کر اپنے ساتھیوں کے ضمن میں پیش آئے گی. ساتھی بھی تو ایک دوسرے پر زیادتی کر بیٹھتے ہیں. حضور کے ساتھ اپنوں نے کیا نہیں کیا ؎ 

چھوڑا نہیں غیروں نے کوئی ناوکِ دشنام
چھوٹی نہیں اپنوں سے کوئی طرزِ ملامت!

یہ تو آج ہم کہتے ہیں کہ فلاں منافق تھا‘ فلاں منافق تھا‘ اس وقت تو وہ بظاہر حضور (۱) صحیح مسلم‘ کتاب صلاۃ المسافرین وقصرھا‘ باب الترغیب فی الدعاء والذکر فی آخر اللیل والاجابۃ. ومسند احمد. (الفاظ مسند احمد کے ہیں) کے ساتھی تھے‘ لیکن کیا کر رہے تھے ؟کیا کچھ کیا ہے عبد اللہ بن ابی نے! نہ معلوم کس کس نے کس کس طور سے ایذا پہنچائی ہے . قرآن حکیم میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا شکوہ نقل ہوا ہے : یٰقَوۡمِ لِمَ تُؤۡذُوۡنَنِیۡ وَ قَدۡ تَّعۡلَمُوۡنَ اَنِّیۡ رَسُوۡلُ اللّٰہِ اِلَیۡکُمۡ ؕ (الصف:۵’’اے میری قوم کے لوگو! تم کیوں مجھے ایذا پہنچا رہے ہو درآں حالیکہ تم جانتے ہو کہ میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں‘‘. آپ اندازہ کیجیے کہ حضرت موسٰی ؑ کی زبان سے جب یہ الفاظ نکلے ہوں گے تو کتنا دکھا ہوا دل ہو گا. یہ فرعون اور آلِ فرعون کے مظالم کا شکوہ نہیں ہے‘ بلکہ اپنوں کے ہاتھوں جو چرکے اٹھائے ہیں ان کا ذکر ہے. تو بہرحال اس کا ایک محل تو یہ ہو گا کہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ عفو ودرگزر کا معاملہ ہو ؏ ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم! لیکن ظالموں‘ کافروں اور زمین میں جو اللہ کے باغی ہیں وَ یَبۡغُوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ بِغَیۡرِ الۡحَقِّ ؕ اور اپنی حکمرانی کے دعوے دار ہیں ان سے انتقام اور بدلہ لیا جائے. 

آخر میں صرف ایک بات مزید نوٹ کر لیجیے کہ انقلابی تحریک کا ایک دَور وہ ہوتا ہے جس میں حکم یہ ہوتا ہے کہ اس وقت اپنے ہاتھ روکے رکھو 
کُفُّوۡۤا اَیۡدِیَکُمۡ . یہ حکم مستقل نہیں ہوتا ‘بلکہ اس لیے ہوتا ہے کہ اپنے غیظ و غضب کو اپنے اند رپالتے رہو‘ اپنے آپ کو منظم کرو اور ایک طاقت بن جاؤ! علامہ اقبال کایہ شعر اسی حقیقت کی ترجمانی کر رہا ہے ؎ 

نغمہ ہے بلبلِ شوریدہ ترا خام ابھی
اپنے سینے میں اسے اور ذرا تھام ابھی!

ایک وقت آئے گا جب تمہارے ہاتھ کھول دیے جائیں گے ‘ پھر یہ لاوا پورے زورشور کے ساتھ نکلے گا. اور وہ اُس وقت نکلا جب قرآن میں یہ حکم نازل ہوا : اُذِنَ لِلَّذِیۡنَ یُقٰتَلُوۡنَ بِاَنَّہُمۡ ظُلِمُوۡا ؕ وَ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی نَصۡرِہِمۡ لَقَدِیۡرُۨ ﴿ۙ۳۹﴾ (الحج) ’’اجازت دے دی گئی ان لوگوں کو (جنگ کی) جن کے خلاف جنگ کی جا رہی ہے ‘ کیونکہ وہ مظلوم ہیں. اور اللہ یقینا ان کی مدد پر قادر ہے‘‘. 

بارک اللّٰہ لی ولکم فی القرآن العظیم‘ ونفعنی وایاکم بالایات والذکر الحکیمoo