سیرت النبیﷺ سے بیعت کا ثبوت

بیعت کے ضمن میں ہمیں سیرت النبی سے جو طرزِ عمل ملتا ہے وہ ایک بالکل فطری معاملہ ہے. مکی دَور میں اہل مَکّہ میں سے جو لوگ اسلام لائے سیرت میں ہمیں ان سے کسی بیعت کا ذکر نہیں ملتا (میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ان سے حضور نے بیعت نہیں لی‘لیکن ذکر نہیں ملتا). سیرت النبیؐمیں حضراتِ ابوبکر‘ عمر اور حمزہ رضی اللہ عنہم کے ایمان لانے کے واقعات بڑے اہم ہیں اور ان کا ذکر تفصیل سے ملتا ہے‘ لیکن ان کی تفصیلات میں کہیں بھی بیعت کا لفظ نہیں آتا. البتہ اگر کوئی شخص باہر سے آیا اور اس نے آ کر اسلام کا اظہار کیا ‘ وہ اسلام لایا تو اس کے ضمن میں روایات مل جاتی ہیں کہ پھر وہ مصافحہ اور قول و قرار بھی ہوا‘ اور اسے بیعتِ اسلام کہتے ہیں. یہ بیعتِ اسلام مکی دَور میں ثابت ہے ‘ لیکن اہل مَکّہ سے نہیں‘ باہر سے آنے والوں سے.اس کے بعد ایک بیعت نظمِ جماعت‘ ڈسپلن اور سمع و طاعت کی بھی سیرتِ طیبہ سے ثابت ہے‘ لیکن اس کا بھی ہمیں مَکّہ والوں سے پورے مکی دَور میں کہیں ثبوت نہیں ملتا.میں پھر عرض کروں گا کہ کسی شے کا عدم ثبوت اس کے عدم وجود کو‘ مستلزم نہیں ہے. ہو سکتا ہے کوئی واقعہ ہوا ہو لیکن مذکور نہ ہو. بہرحال واقعہ یہی ہے کہ اس کا ذکر نہیں ملتا. لیکن مدینہ والوں سے دو اہم بیعتیں محمدٌ رسول اللہ نے لی ہیں. ایک سن۱۱ نبوی میں اور دوسری سن ۱۲ نبوی میں.

اہل مدینہ میں سے سب سے پہلے چھ افراد ایمان لائے تھے‘ ان کے ضمن میں کسی بیعت کا ذکر نہیں. یہ اغلباً سن ۱۰ نبوی ہی کا واقعہ ہے‘ وہی سال کہ جس میں آپؐ نے طائف کاسفر کیا تھا. وہاں سے آپؐ واپس آئے تو اس کے فوراً بعد جو موسمِ حج آیا اس میں مدینہ کے چھ افراد حضور پر ایمان لائے. لیکن اس وقت بھی کسی بیعت کا ذکر نہیں ہے.اگلے سال وہ بارہ تھے. پہلے سال والے چھ میں سے ایک صاحب نہیں آئے تھے ‘ان میں سے پانچ تھے اور سات مزید تھے. جب بارہ افراد نے اسلام کا اظہار کیا تو پہلی بیعت ہوئی. اس کو بیعت عقبہ اُولیٰ کہتے ہیں. اس بیعت کے الفاظ تقریباً وہی تھے جو کم و بیش دس برس بعد بیعت النساء کے ضمن میں نازل ہوئے اور ابھی ہم نے سورۃ الممتحنہ کی آیت میں پڑھے ہیں. گویا اس بیعت میں کسی نظمِ جماعت کا ایک بیج تو موجود ہے ‘ حکم ماننے کا اقرار ہو رہا ہے کہ جو بھی نیکی کی بات آپؐ فرمائیں گے ہم مانیں گے‘ لیکن اس میں نظمِ جماعت‘ سمع و طاعت اور اس کے مختلف لوازم کو ظاہر نہیں کیا گیا. ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ جیسے گٹھلی کے اندر پورا درخت اور بیج کے اندر پورا پودا موجود ہوتا ہے اسی طرح یہ لوازم اسی بیعت میں بالقوۃ 
(potentially) موجود ہیں. بعد میں اُمت میں جو بیعت ارشاد کا سلسلہ چلا اس کے لیے اس بیعت کو بطور سند اور بطور دلیل قبول کیا گیا کہ اس میں شرک سے اجتناب‘ چوری سے اجتناب‘ بدکاری سے اجتناب‘ قتلِ اولاد سے اجتناب اور بہتان طرازی سے اجتناب وغیرہ کا وعدہ ہے. چنانچہ اس کو بیعتِ توبہ بھی کہا جاتا ہے‘ بیعتِ ارشاد بھی اور بیعتِ اصلاح بھی.

تویہ جو خواتین کی بیعت قرآن میں مذکور ہے یہی بیعت ہمیں بیعت عقبہ اُولیٰ کی صورت میں سیرت النبیؐ میں ملتی ہے اور حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں مذکور ہے. حضرت عبادہ بن صامتؓ بیعت عقبۂ اُولیٰ اور بیعت عقبۂ ثانیہ دونوں بیعتوں میں موجود تھے. ابھی ہم جو بات سمجھ رہے ہیں وہ یہ ہے کہ یہ بیعت درحقیقت کسی نظم کا ہیولیٰ اپنے اندر کم سے کم ظاہری اور نمایاں طور پر نہیں رکھتی‘ بلکہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ جس طرح ایمان بالرسالت کے اندر اس کے پورے مضمرات موجود ہیں کہ جب آپؐ کو رسول مان لیا‘ایمان لے آئے تو اطاعت تو کرنی ہے‘ اسی طرح اس کا صرف ایک تھوڑا سا اظہار کر دیا گیا کہ آپؐ ہمیں جو حکم بھی دیں گے اس کی نافرمانی نہیں کریں گے. اس بیعت کے وقت اہل مدینہ نے کہا تھا کہ ہمیں اپنا کوئی جان نثار‘ اپنا ساتھی دیجیے جو ہمیں قرآن پڑھائے. حضور نے حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو ان کے ساتھ کر دیااور بعد میں کچھ دنوں کے بعد حضرت عبد اللہ بن اُمّ مکتوم رضی اللہ عنہ کو بھی بھیجا.ان حضرات کی تعلیم اور تبلیغ سے اب وہاں پرجو انقلاب آیا تو اگلے سال ۷۲ مَرد اور ۳ عورتیں آئیں اور ان ۷۵‘ افراد نے جو بیعت کی وہ ہے بیعتِ عقبہ ثانیہ‘ اور وہ سرتاسر نظمِ جماعت کی بیعت ہے. 

اس کی وجہ بھی سمجھ لیجیے کہ حضور نے یہ بیعتِ جماعت مَکّہ والوں سے کیوں نہیں لی؟اس کا ایک سبب بالکل ظاہر و باہر ہے کہ حضور وہاں خود موجود ہیں‘ ابھی کوئی نظم علیحدہ سے قائم کرنے کی ضرورت نہیں‘ کسی اور کو امیر بنانے کا سوال نہیں. وہ 
chain ابھی وجود میں نہیں آ رہی کہ ایک کے بعد دوسرا اور اس کے بعد تیسرا امیر مقرر کیا جائے. حضور خود موجود ہیں .لہذا جو چیز از خود ہو رہی ہو اس کے لیے خواہ مخواہ کے تکلف اور تصنع کی کوئی ضرورت نہیں. چنانچہ جیسے مَکّہ والوں سے بیعتِ اسلام ثابت نہیں‘اسی طرح اُن سے کوئی بیعت سمع و طاعت بھی ثابت نہیں. اور جس طرح باہر سے آنے والے اسلام لائے تو ان کے لیے بیعت کا ذکر مل گیا اسی طرح مدینہ والے آئے تو اُن سے بیعت سمع وطاعت لی گئی. اور یہ بیعت سمع و طاعت بھی شروع میں نہیں لی گئی‘ بلکہ جب وہاں ایک ہیئت اجتماعیہ کے قیام کی ضرورت پیش آ گئی کہ اب دو چار آدمیوں کی بات نہیں ہے‘ ۷۲ افراد ہیں ‘تو ان سے بیعت سمع و طاعت لی گئی اور ان کے اندر حضور نے بارہ نقیب مقرر فرمائے. یہ نقیب کون تھے؟ یہ حضور کے نامزد کردہ تھے اور وہاں پر حضور کی طرف سے ڈسپلن اور نظم کے ذمہ دار مقرر کیے گئے تھے. ان کے پاس ذاتی حیثیت سے کوئی اتھارٹی یا اختیار نہیں تھا. جیسے دوسرے ایمان لانے والے ہیں ویسے یہ ایمان لانے والے ہیں. ان کو اگر کوئی فوقیت یا فضیلت حاصل ہوئی تو وہ درحقیقت نبی اکرم کی نامزدگی سے حاصل ہوئی. اب یہاں ضرورت پیش آئی کہ وہ پورا ڈھانچہ اور پورا نظام تشکیل پا جائے‘ کہ کوئی شخص کوئی اتھارٹی حاصل کر رہا ہے تو کس بنیاد پر؟ اس لیے کہ حضور نے اس کو نامزد کیا ہے. اب گویا کہ ایک نظم قائم ہو رہا ہے. حضور تو ابھی مَکّہ میں تشریف فرما ہیں. مدینہ والوں سے ملاقات بھی ہو گی تو ایک سال کے بعد موسمِ حج میں ہو گی.یہاں مدینہ میں جو کام چلے گا اس کا کون نگران ہے‘ کون ذمہ دار ہے؟ کون امیر ہو گا ‘ کون مأمور ہو گا؟ کون حکم دے گا‘ کون سنے گا؟ کس پر اطاعت لازم ہو گی؟ یہ ہے اصل میں وہ وقت کہ جب مدینہ والوں سے آپؐ نے بیعت سمع و طاعت لے لی. فلسفۂ سیرت کو سمجھنے کے لیے اس تاریخی پس منظر کو اور اس تدریج کو سمجھنا ضروری ہے کہ کس طرح سے حالات کیexfoliation ہوئی ہے ‘ کس طرح سے تقاضے ابھرے ہیں‘ کہاں ضرورت پیدا ہوئی ہے. جہاں کوئی ضرورت نہیں ہے وہاں ہمیں سیرت النبیؐ میں کوئی تکلف اور کوئی تصنع نظر نہیں آتا.