نہی عن المنکر کی خصوصی اہمیت

آگے فرمایا: وَ یَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ یَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ ؕ ’’اور نیکی کا حکم دیں اور بدی سے روکیں‘‘. یہاں آپ وہ احادیث پڑھ لیجیے اور انہیں یاد کرنے کی کوشش کیجیے .ان کے بارے میں پہلی اہم بات یہ ہے کہ دونوں مسلم شریف کی روایات ہیں . ان میں سے ایک حدیث جو حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے‘ وہ تو پھر بھی مشہور ہے اور اس کو تقریر و تحریر میں بیان بھی کیا جاتا ہے‘ لیکن دوسری حدیث جو حضرت عبد اللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ سے مروی ہے‘ وہ عام طور پر لوگوں کے ذہنوں سے بالکل خارج ہو چکی ہے‘ حالانکہ مسلمان معاشرے پر اطلاق کے اعتبار سے یہ حدیث بہت اہم ہے. پہلے ہم اسی حدیث کا مطالعہ کرتے ہیں جو زیادہ عام ہے. عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ رَّأَی مِنْکُمْ مُّنْکَرًا فَلْیُغَیِّرْہُ بِیَدِہٖ (۱حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا:’’جو کوئی بھی تم میں سے دیکھے کسی منکر کو (کسی بدی کو) اس کا فرض ہے کہ اس کو بدلے اپنے ہاتھ سے‘‘.عام طور پراس کا ترجمہ ’’اسے چاہیے‘‘ سے کیا جاتا ہے‘ لیکن اس سے بڑا مغالطہ ہو جاتا ہے. یہ اخلاقی تعلیم نہیں ہے‘ یہ ’’فعل امر‘‘ ہے. اور اَلْاَمْرُ لِلْوُجُوْبِ (امر وجوب کے لیے ہوتا ہے)اِلاّ یہ کہ کوئی اور قرینہ ہو .لہذا ترجمہ ہو گا : اس پر واجب ہے‘ لازم ہے ‘ فرض ہے. یہ نزولی ترتیب ہے .یعنی اصلاً تو مطلوب یہ ہے ‘ البتہ اگر کوئی مانع ہے تو اس کا دوسرا درجہ یہ ہے : فَاِنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِہٖ ’’پھر اگر استطاعت نہ رکھتا ہوتو اپنی زبان کے ساتھ اس سے روکے‘‘ .استطاعت کا نہ ہونا دونوں اعتبارات سے ہو سکتا ہے. ایک تو یہ کہ آدمی بودا ہے‘ کمزور ہے‘ بزدل ہے‘ دوسرے یہ کہ حالات واقعی انتہائی خوفناک اور خطرناک ہو گئے ہیں. ان دونوں چیزوں سے نتیجہ ایک ہی نکلے گا کہ استطاعت نہیں ہے‘ داخلی یا خارجی. پس اگر بیچ میں یہ عارض موجود ہو‘ یعنی کوئی چیز رکاوٹ ہو تو پھر یہ دوسرا درجہ آئے گا کہ زبان سے اس برائی سے روکا جائے. بدقسمتی سے اس وقت یہ تصور عام کر دیا گیا ہے کہ یہ بس زبان سے ہی کرنے کا کام ہے‘ طاقت سے کرنے کا کام تو حکومت کا ہے .لہذا اس غلط فہمی کی اصلاح مطلوب ہے.

آگے فرمایا: 
فَاِنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِہٖ وَذٰلِکَ اَضْعَفُ الْاِیْمَانِ ’’ اگر اس کی بھی طاقت نہ ہوتو دل سے (برا جانے اور اسے بالید روکنے کے لیے قوت فراہم کرے) اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے‘‘. اس میں بھی استطاعت کا نہ ہونا خارجی اور داخلی دونوں اعتبارات سے ہو سکتا ہے. تو اس برائی کے خلاف دل میں نفرت ہو‘ طبیعت کے اندر اباء ہو‘ revolt ہو ‘بلکہ خون جوش میں آ رہا ہو. ایک معاملہ تو (۱) صحیح مسلم‘ کتاب الایمان‘ باب بیان کون النھی عن المنکر من الایمان وان الایمان یزید وینقص. قہر درویش بر جانِ درویش والا بھی ہوتا ہے. اگر اس برائی کو ہاتھ سے روک دینے کی ہمت یا استطاعت نہیں ہے تو کم سے کم خون تو کھولے. اگر خون بھی نہیں کھول رہا تو گویا ایمان کی رمق بھی دل میں موجود نہیں ہے. 
یہاں وہ حدیث مبارکہ پیش نظر رہنی چاہیے جس میں حضور نے فرمایا: 

اَوْحَی اللہُ عَزَّوَجَلَّ اِلٰی جِبْرَائِیْلَ عَلَیْہِ السَّلَامُ اَنِ اقْلِبْ مَدِیْنَۃَ کَذَا وَکَذَا بِاَھْلِھَا قَالَ : فَقَالَ : یَارَبِّ اِنَّ فِیْھَا عَبْدَکَ فُلَانًا لَمْ یَعْصِکَ طَرْفَۃَ عَیْنٍ قَالَ : فَقَالَ : اِقْلِبْھَا عَلَیْہِ وَعَلَیْھِمْ‘ فَاِنَّ وَجْھَہٗ لَمْ یَتَمَعَّرْ فِیَّ سَاعَۃً قَطُّ (رواہ البیھقی) 

’’اللہ تعالیٰ نے جبرائیل علیہ الصلوٰۃ والسلام کو وحی کیا کہ فلاں فلاں بستی کو الٹ دو اُن کے رہنے والوں سمیت (اس لیے کہ وہ گنہگار ہیں)‘‘. حضور فرماتے ہیں : ’’تو جبرائیل علیہ السلام نے آ کر عرض کیا : ’’اے پروردگار! اس بستی میں تو تیرا ایک ایسا بندہ بھی ہے جس نے پلک جھپکنے جتنی دیر بھی تیری نافرمانی نہیں کی‘‘. آپ فرماتے ہیں : ’’تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اس بستی کو پلٹو پہلے اس پر پھر دوسروں پر‘ اس لیے کہ میری حمیت میں ایک لمحے کے لیے بھی اس کا چہرہ متغیر نہیں ہوا‘‘. 

ایسا شخص تو بے حمیت اور بے غیرت ہے کہ اِن حالات میں اس کے احساسات پر جوں تک نہیں رینگتی‘ اس کاخون نہیں کھولتا. کم از کم خون تو کھولے! اس کے بعد اگر حالات کے جبر کی کیفیت ہے ‘ کوئی مجبوری ہے تو الگ بات ہے. آپ کو معلوم ہے کہ کمزور سے کمزور انسان کو بھی اگر ماں کی گالی دی جائے‘ اور چاہے وہ اپنی کمزوری کے سبب گالی دینے والے پر اپنا ہاتھ نہ اٹھا سکے‘ مگر وہ غصے سے کانپے گا تو سہی‘ اس کا خون تو کھولے گا‘ چاہے وہ لرز کر اور کانپ کر اپنی جگہ پر رہ جائے اور کچھ کر نہ سکے. لیکن اگر اس کا خون بھی نہیں کھولتا تو پھر تو وہ بے غیرت ہے .اور یہ ’’بے غیرت‘‘ پٹھانوں کے نزدیک سب سے بڑی گالی ہے‘ کوئی اور گالی اس کے ہم وزن نہیں ہے. 

اب ہم مسلم شریف کی دوسری حدیث کا مطالعہ کرتے ہیں. یہ حدیث خاص طور 
پر کسی مسلمان اُمت کے ضمن میں اہم تر ہے.

عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: مَا مِنْ نَبِیٍّ بَعَثَہُ اللہُ فِیْ اُمَّۃٍ قَبْلِیْ اِلاَّ کَانَ لَہٗ مِنْ اُمَّتِہٖ حَوَارِیُّوْنَ وَاَصْحَابٌ ’’کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جسے اللہ نے مجھ سے پہلے کسی اُمت میں مبعوث کیا ہو مگر یہ کہ اس کے لیے اس کی اُمت میں سے حواری اور اصحاب ہوتے تھے‘‘. حواری کا لفظ قرآن مجید میں خاص طو رپر حضرت عیسٰی علیہ السلام کے ساتھیوں کے لیے آیا ہے اور اصحاب کا لفظ تو ہم نبی کریم کے ساتھیوں کے لیے بھی بولتے ہیں. تو ان تمام کو شامل کر لیجیے! یعنی وہ لوگ جو اُن کے ساتھی‘ دست و بازو اور جان نثار بنتے تھے‘ ان کے مقصد کی تکمیل کے لیے تن من دھن لگانے کے لیے تیار رہتے تھے‘ جو انصار اللہ اور انصار الرسول بنتے تھے وہ سب حواری اور اصحاب ہیں. ان اصحاب کا طرزِ عمل کیا تھا! یَاْخُذُوْنَ بِسُنَّتِہٖ وَیَقْتَدُوْنَ بِاَمْرِہٖ ’’وہ اس کی سنت کو مضبوطی سے پکڑتے تھے اور اس کے حکم کا اقتداء کرتے تھے‘‘. 

ثُمَّ اِنَّھَا تَخْلُفُ مِنْ بَعْدِھِمْ خُلُوْفٌ ’’پھر اُن کے بعد ایسے ناخلف لوگ آجاتے تھے‘‘. اب یہ لوگ کون ہیں؟ ہیں تو اُمتی ہی‘ نام لیوا تو ہیں‘ اس نبی کو ماننے والے تو ہیں‘ لیکن وہ ناخلف لوگ کیا کرتے تھے ؟ یَقُوْلُوْنَ مَا لَا یَفْعَلُوْنَ ’’کہتے وہ تھے جو کرتے نہیں تھے‘‘. اسلام کی بات کہنی تو پڑتی ہے. مسلمان معاشرے میں اسلام کی بات زبان سے کہے بغیر تو چارۂ کار نہیں ہے. وَیَفْعَلُوْنَ مَا لَا یُؤْمَرُوْنَ ’’اور کرتے وہ تھے جس کا انہیں حکم نہیں ہوا تھا‘‘. اب اس میں قول و فعل کا تضاد ‘ عمل میں فسق و فجور اور بدعات تینوں چیزیں آ گئیں. یہ ہے گویا وہ بگڑا ہوا مسلمان معاشرہ جو اِس درس کا عنوان ہے اور یہ اس کی بہترین تعبیر ہے. اس سے زیادہ جامع الفاظ ممکن نہیں. یہاں حضور کا وہ دعویٰ ملاحظہ کیجیے کہ اُوْتِیْتُ جَوَامِعُ الْکَلِمِ ’’مجھے (اللہ کی طرف سے)انتہائی جامع کلمات عطا کیے گئے ہیں‘‘.اور یہ کہ اَنَا اَفْصَحُ الْعَرَبِ ’’میں عرب کا فصیح ترین انسان ہوں‘‘. 

اب اس صورتِ حال میں کیا کرنا ہے؟ فرمایا: 
فَمَنْ جَاھَدَھُمْ بِیَدِہٖ فَھُوَ مُؤْمِنٌ ’’تو جو ایسے لوگوں سے جہاد کرے گا اپنے ہاتھ سے تو وہ مؤمن ہے‘‘ وَمَنْ جَاھَدَھُمْ بِلِسَانِہٖ فَھُوَ مُؤْمِنٌ ’’اور جو اُن کے ساتھ جہاد کرے گا اپنی زبان سے وہ مؤمن ہے ‘‘ وَمَنْ جَاھَدَھُمْ بِقَلْبِہٖ فَھُوَ مُؤْمِنٌ ’’اور جواُن سے جہاد کرے گا اپنے قلب سے وہ مؤمن ہے‘‘ وَلَیْسَ وَرَآءَ ذٰلِکَ مِنَ الْاِیْمَانِ حَبَّۃُ خَرْدَلٍ ’’اور اس کے بعد تو ایمان رائی کے دانے کے برابر بھی نہیں‘‘. (۱)

ان الفاظ میں پورا لائحہ عمل موجود ہے. اس سے عیاں ہے کہ طاقت نہیں ہے تو طاقت حاصل کرو. جیسے ارشادِ الٰہی ہے : وَ اَعِدُّوۡا لَہُمۡ مَّا اسۡتَطَعۡتُمۡ (الانفال:۶۰’’اوراُن کے مقابلے کے لیے اپنی امکانی حد تک تیاری کرو‘‘. یہاں اگر طاقت حاصل کرنے کی امکانی جدوجہد تم کر لو اور طاقت ہاتھ میں نہ آئے تو تم معذور ہو گے. لیکن طاقت تم نے چھوڑ دی ہو فساق و فجار کے لیے اور خود قانع ہو گئے ہو اپنے کچھ مذہبی مناصب پر‘ میدان کھلا چھوڑ دیا ہو فاسقوں اور فاجروں کے لیے‘ خود اُن کا ضمیمہ بن جانا قبول کر لیا ہو تو یہ ہرگز نہ قرآن کا تقاضا ہے‘ نہ ایمان کا تقاضا ہے اور نہ عقل کا تقاضا ہے. لہذا طاقت حاصل کرو ‘ جدوجہد کرو‘ جمعیت فراہم کرو! آج کے دَور کی اصل طاقت جمعیت ہے. کتنے پیارے الفاظ ہیں سراج منیر کے کہ ’’نتیجہ خیزی کا دار و مدار تنظیم پر ہے‘‘. یہ ہے اُمت وَلۡتَکُنۡ مِّنۡکُمۡ اُمَّۃٌ. قوت تو اسی سے وجود میں آتی ہے .اور یہ کس طریقے سے وجود میں آتی ہے؟یہ قوت ’’ایک اکیلا دو گیارہ‘‘ کے تناسب سے بڑھتی ہے‘ جسے آپ Geometric progression کہتے ہیں. لہذا طاقت حاصل کرو‘ جماعت بناؤ! جب ایک منظم جماعت (disciplined organization) وجود میں آجائے تو پھر اپنی پسند اور ناپسند کا مظاہرہ (Demonstration of your will) کرو‘ یعنی یہ بتاؤ کہ یہ بات ہمیں پسند نہیں (۱) صحیح مسلم‘ کتاب الایمان‘ باب بیان کون النھی عن المنکر من الایمان … ہے. اور یہ بھی میرے نزدیک ابھی نہی عن المنکر باللّسان کی ایک صورت ہے. باللّسان کی ایک صورت وعظ و نصیحت ہے. ہر مسجد کا خطیب اور ہر خادمِ دین وعظ کر رہا ہے. وہ نہی عن المنکر باللسان میں شامل ہو گیا. لیکن اس کے بعد یہی بات جب آپ منظم اور پُرامن طریقے سے ایک اجتماعی مظاہرے کی شکل میں سامنے لائیں گے‘ تو یہ بھی باللسان ہی ہے‘ لیکن یہ اب گاڑھا ہو گیا ہے.