اولوالامر سے اختلاف کی صورت میں لائحہ عمل

اب آپ ایک بات اور سمجھئے کہ یہ نظامِ اطاعت دو طرح کا ممکن ہے . ان دونوں کے ضمن میں حکم ہو رہا ہے کہ : فَاِنۡ تَنَازَعۡتُمۡ فِیۡ شَیۡءٍ فَرُدُّوۡہُ اِلَی اللّٰہِ وَ الرَّسُوۡلِ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ ؕ یعنی اگر تم کسی چیز کے معاملے میں اختلافِ رائے کا شکار ہو جاؤ‘تمہارے مابین کسی معاملے میں تنازُع ہو جائے تو اسے لوٹا دو اللہ اور اس کے رسول کی طرف اگر تم ایمان رکھتے ہو اللہ پر اور آخرت کے دن پر. اب دیکھئے تنازع کسے کہتے ہیں.یہ نزع سے باب تفاعل ہے. نزع کے معنی ہیں کھینچنا. جب جان کھینچی جائے گی تو وہ عالمِ نزع ہے . لہذا تنازع کے معنی ہیں کھینچ تان. اگر ایک طرف سے ایک کھینچ رہا ہے اور دوسری طرف سے کوئی دوسرا کھینچ رہا ہے تو یہ تفاعل کے وزن پر تنازع ہے. بابِ مفاعلہ کی طرح بابِ تفاعل کے بھی دو خواص مبالغہ اور مشارکہ ہیں.یعنی شرکت بھی ہوتی ہے اور مبالغہ بھی ہوتا ہے .

تو اس آیت میں اسی بات کی طرف راہنمائی کی جا رہی ہے کہ اگر تمہارے مابین یہ کیفیت پیدا ہو جائے تو اب کیا کرنا ہے! یہ ہو سکتا ہے کہ ایک کی رائے ہو کہ یہ چیز صحیح ہے اور دوسرے کی رائے ہو کہ نہیں‘ یہ غلط ہے. اب یہاں نوٹ کیجیے کہ میں نے ’صحیح‘ اور ’غلط‘ کا لفظ استعمال کیا ہے. صحیح اور غلط کے مختلف درجات ہیں . ایک معاملہ تو یہ ہو سکتا ہے کہ ایک کی رائے ہے کہ یہ چیز اَنسب ہے‘ زیادہ مناسب ہے اور ایک کی رائے ہے کہ یہ کم مناسب ہے .معاملہ نصوص کا نہ ہو‘ حلال و حرام کا نہ ہو‘ بلکہ صرف تدبیر کا ہو کہ بحالاتِ موجودہ ہمارے لیے کون سا طریقۂ کار موزوں تر ہے؟ ابھی ہم کوئی مزید قدم اٹھانے کی پوزیشن میں ہیں یا نہیں ہیں؟ ایک کا خیال ہو سکتا ہے کہ ہیں اور ایک کا خیال ہو سکتا ہے کہ نہیں ہیں. اس بحث کو ایک طرف رکھ دیجیے! یہاں معاملہ نصوص کا ہے. جو معاملات اللہ اور اس کے رسول کی مطلق اطاعت سے متعلق ہوں‘ یعنی 
حلال و حرام ‘ جائز و ناجائز اور صحیح و غلط میں اگر ا ختلافِ رائے ہو جائے اور تنازع پیدا ہو جائے. یہاں وہ حدیث ذہن میں لے آیئے کہ اِنَّ الْحَلَالَ بَیِّنٌ وَاِنَّ الْحَرَامَ بَیِّنٌ وَبَیْنَھُمَا مُشْتَبِھَاتٌ (۱’’حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے‘ البتہ ان دونوں کے مابین کچھ چیزیں مشتبہ (غیر واضح) ہیں‘‘. دین میں جو قطعی حلال و حرام ہیں وہ تو بالکل بیّن ہیں. البتہ ان کے مابین مشتبہات کا دائرہ آ جاتا ہے جہاں اصل میں مسئلہ پیدا ہوتا ہے. مشتبہات میں بھی آدمی کی رائے میں سختی ہو سکتی ہے .کوئی یہ سمجھتا ہے کہ یہ چیز حرام سے زیادہ قریب ہے اور کسی دوسرے کی رائے میں یہی چیز حلال سے زیادہ قریب ہے تو دونوں اپنی اپنی رائے پر جازم ہو جائیں گے اوران کی آراء میں سختی پیدا ہو جائے گی. اس کیفیت کو ذہن میں رکھئے! اس کا حکم یہ دیا کہ : فَرُدُّوۡہُ اِلَی اللّٰہِ وَ الرَّسُوۡلِ ’’لوٹا دو اُس شے کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف‘‘. یہ بالکل منطقی سی بات ہے. اس لیے کہ غیر مقید ‘ غیر مشروط اور مطلق اطاعت تو صرف اللہ اور اس کے رسول کی ہے .

اب دیکھئے‘ نظم جماعت کی دو علیحدہ علیحدہ شکلیں ہیں ‘ جنہیں سمجھ لینا چاہیے. ایک معاملہ ہو سکتا ہے کسی اسلامی ریاست میں حکومت کے ساتھ اس جھگڑے کے پیش آجانے کا. سورۃ الحجرات کے آغاز میں اسلامی ریاست کا اصل الاصول بیان کر دیا گیا: 
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُقَدِّمُوۡا بَیۡنَ یَدَیِ اللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ(آیت۱’’اے اہل ایمان! اللہ اور اس کے رسول سے آگے مت بڑھو!‘‘ کیونکہ قرآن و سنت ہی اس کا دستورِ اساسی ہے اور اہل ایمان کے پاس جو بھی قانون سازی کا اختیار ہے وہ ایک دائرے کے اندر محدود ہے. چنانچہ پاکستان کے دستور میں بھی یہ شق موجود ہے کہ :

".No Legislation will be done repugnant to the Quran and the Sunnah" 

(۱) صحیح البخاری‘ کتاب الایمان‘ باب فضل من استبرأ لدینہ. وصحیح مسلم‘ کتاب المساقاۃ‘ باب اخذ الحلال وترک الشبہات. اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس ریاست کا ایک شہری اگریہ محسوس کرتا ہے کہ جو مسودۂ قانون اس وقت زیربحث ہے اس کی کوئی شق یا وہ پورا قانون شریعت کے دائرے سے تجاوز کر رہا ہے‘ یا یہ کہ جو قانون اس وقت ریاست میں موجود ہے ‘ اس کی رائے کے مطابق (چاہے اس کی رائے صحیح ہو یا غلط) اس میں اللہ اور اس کے رسول کے دائرے سے تجاوز ہے‘ تو اس صورت میں اس کا کیا حل ہو گا؟ اس کی وضاحت تفصیلاً ہو چکی ہے کہ الحمد للہ‘ ثم الحمد للہ کہ اس دَور میں جو ادارے‘ (institutions) وجود میں آئے ہیں اور جو عمرانی ارتقاء ہوا ہے اس نے ریاست کے تین بنیادی اعضاء‘ (organs) کو علیحدہ علیحدہ متعارف کرایا ہے. ایک قانون ساز ادارہ‘ (Legislature) ہے‘ایک انتظامیہ‘ (Executive) ہے اور ایک عدلیہ‘ (Judiciary) ہے. تویہ معاملہ عدالت کے حوالے ہو گا. جیسے دستور کی جو دوسری‘ provisions ہیں‘ ان سب کی امین‘ (custodian) عدلیہ ہے. مثلاً اگر کسی کے بنیادی حقوق میں کمی کی گئی ہے تو وہ کہاں جائیں گے !عدالت ہی کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے. اسی طرح جب ریاست کے دستورِ اساسی میں یہ طے ہے کہ قرآن و سنت کے خلاف کوئی قانون سازی نہیں کی جائے گی تو اختلاف کی صورت میں آپ عدالت ہی کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے . آپ کے خیال میں اگر کوئی عمل قرآن و سنت کے خلاف ہو رہا ہے ‘ ممکن ہے آپ کو مغالطہ ہو‘ لیکن یہ کہ آپ کے لیے راستہ تو یہی ہے کہ جو بھی اعلیٰ عدالتیں ہیں ان کا دروازہ کھٹکھٹائیں! وہاں علماء کو بھی بحث اور استدلال کا موقع ہے کہ وہ عدالت میں جائیں اور دلائل دے کر ثابت کریں کہ یہ صرف مغالطہ تھا یا بات واقعی صحیح تھی. یہ ہے صورت جو اسلامی ریاست کے اندر اِس دَور میں اختیار کی جائے گی. 

یہاں یہ بات اچھی طرح سمجھ لیجیے کہ نبی اکرم کے اندر تو دیگر ہزاروں حیثیتوں کے ساتھ یہ تینوں حیثیتیں بھی جمع تھیں. صدرِ ریاست ہونے کے ساتھ ساتھ حضور ہی چیف جسٹس بھی تھے‘ حضور ہی چیف ایگزیکٹو بھی تھے اور قانون سازی بھی حضور ہی کے ہاتھ میں تھی. آپ ؐ تو خود شارع ہیں .شارع اوّل اللہ تعالیٰ 
اور شارع ثانی محمدٌ رسول اللہ . تو یہ تینوں حیثیتیں حضور کی ذات میں جمع تھیں. اسی کا عکس آپ کو خلافت راشدہ میں نظر آئے گا‘ اگرچہ ذرا آگے چل کر اس میں تقسیم شروع ہوئی ہے. غالباً حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں علیحدہ عدالتی نظام قائم ہوا ہے ‘ورنہ حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ کے زمانے میں کوئی علیحدہ عدالتی نظام نہیں تھا اور خلیفۂ وقت چیف جسٹس بھی تھا. ان چیزوں کے بارے میں لوگوں کو مغالطے لاحق ہو گئے ہیں. وہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ وہ کیفیت ہمیشہ کے لیے واجب العمل (binding) ہے اور وہ تمدنی ارتقاء کو نظر انداز کر گئے ہیں. چنانچہ اس ضمن میں بڑے بڑے لوگوں نے ٹھوکر کھائی ہے. یہ بات اچھی طرح سمجھ لیجیے کہ نظامِ خلافت راشدہ دراصل نظامِ دورِ نبوت کا تتمہ اور اس کا عکس ہے اور یہ حیثیت آئندہ کسی بھی نظامِ حکومت کو حاصل نہیں ہو سکتی‘ اس لیے کہ حضور نے اس کے نظائر کو ہمارے لیےbinding قرار دے دیا ہے. حضور کا فرمان ہے : فَعَلَیْکُمْ بِسُنَّتِیْ وَسُنَّۃِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِیْنَ الْمَھْدِیِّیْنَ (۱’’پس تم پر لازم ہے کہ میرا طریقہ اور ہدایت یافتہ خلفاءِ راشدین کا طریقہ اختیار کرو‘‘.اب کسی اعلیٰ سے اعلیٰ اسلامی حکومت کا بھی تاقیامِ قیامت یہ مقام نہیں ہو گا. خلافت راشدہ تو اصل میں تتمہ اور نمونہ ہے دورِ نبوت کا.بہرحال یہ اولی الامر کا معاملہ اس طور سے اسلامی ریاست میں حل ہو گا.

نظم جماعت کی دوسری صورت ایک اسلامی جماعت کی ہے. بالفرض ریاست قائم نہیں ہے اور اس کے قیام کی جدوجہد کے لیے ایک جماعت قائم ہوئی ہے تو اس میں جو اولی الامر ہوں گے ان کے ساتھ معاملہ کس طور سے ہو گا؟اب اس میں بھی دیکھئے کہ ایک تو وہ شخص ہے جس کے ہاتھ پر آپ نے بیعت کی ہے .وہ آپ کا امیرِ اوّل ہے ‘ وہ داعی ٔ اوّل ہے. اس نے پکارا ہے 
مَنۡ اَنۡصَارِیۡۤ اِلَی اللّٰہِ . آپ اس کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے جمع ہو گئے. اس کے ہاتھ پر آپ نے بیعت سمع و طاعت (۱) سنن ابن ماجہ‘ المقدمۃ‘ باب اتباع سنۃ الخلفاء الراشدین المھدیین. وسنن ابی داوٗد‘ کتاب السنۃ‘ باب فی لزوم السنۃ. فی المعروف کی ہے. اب اس کے نیچے امراء کا ایک نظام ہے اور امراء کی ایک لمبی زنجیر ہے. جتنی بڑی وہ جماعت ہو گی اور اس جماعت کا جتنا پھیلاؤ ہو گا اتنی ہی وہ لمبی زنجیر بنتی چلی جائے گی. اب یہاں پر اگر تدبیر کے معاملے میں آپ کا کوئی اختلاف ہو گا تو آپ صرف اپنی رائے پیش کرکے آزاد ہو جائیں گے. اب اس پر جو فیصلہ صاحب امر کرے گا آپ کو اسے تسلیم کرنا ہو گا‘ چاہے آپ اسے فِی الْمَنْشَطِ قبول کریں اور چاہے فِی الْمَکْرَہِ. اب یہاں تک توکوئی مسئلہ پیدا نہیں ہو گا. مسئلہ اس وقت پیدا ہو گا جب ایک شخص کا خیال ہو کہ یہ تو شریعت کی حدود سے تجاوز ہو رہا ہے. اب اس صورت میں یہ ہو گا کہ اگر تو یہ زیریں اطاعتیں ہیں‘ یعنی اصحابِ امرامیر اوّل سے نیچے والے ہیں تو آپ کو ایک لائن آف اپیل میسر ہے. آپ اس امیر سے بالاتر امیر کے پاس اپیل کریں گے . اور اگر آپ کو اس سے بھی اختلاف ہے تو اس سے بالاتر کے پاس جائیں گے. آپ کو through proper channel اس بات کو امیر اوّل تک پہنچانا ہو گا. اس میں کوئی شخص اپنے آپ کو آخری فیصلہ کرنے والا متصور نہ کرے. فرض کیجیے کہ بات آخری امیر یعنی امیر اوّل تک پہنچ گئی اور آپ اس کی ذات سے بھی مطمئن نہیں ہوئے تو آپ کے لیے راستہ بالکل کھلا ہو گا کہ آپ اس سمع و طاعت کی بیعت کا قلادہ گردن سے نکال کر پھینک دیں. 

ریاست اور جماعت میں یہی بنیادی فرق ہے کہ ریاست کی علاقائی حد بندی 
(territorial jurisdiction) ہوتی ہے‘ آپ اس سے نکل کر کہیں نہیں جا سکتے. یہاں جو بھی نظام قائم ہے آپ طوعاً یا کرہاً اس کے رکن ہیں‘ جب کہ جماعت کا کوئی علاقائی تسلط نہیں ہوتا . آپ فوراً ہی جماعت سے الگ ہو سکتے ہیں. اس کے لیے آپ کو نہ شہر اور گاؤں چھوڑنا پڑتا ہے اور نہ ملک چھوڑنا پڑتا ہے . آپ نے جماعت کا ایک نظم اختیار کیا تھا جو ایک معنوی نظم ہے‘ علاقائی نظم نہیں ہے.کسی شخص کی اصابتِ رائے پر آپ کو اعتماد ہوا تھا تو آپ فکری ہم آہنگی کی بنا پر جماعت میں شامل ہوئے تھے‘ کسی شخص کے خلوص و اخلاص پر آپ کے دل نے گواہی دی تھی اور اُس کی عزیمت اور ہمت پر آپ کو اعتماد ہوا تھا تو آپ شامل ہوئے تھے. اگرآپ کے نزدیک اب ان میں سے کوئی چیز نہیں رہی تو آپ کے لیے راستہ کھلا ہے‘ آپ آنِ واحد میں علیحدہ ہو سکتے ہیں. یہ ہے اصل فرق جسے لوگ نہیں سمجھتے .یعنی ریاست کے ضمن میں فیصلے کے لیے عدلیہ سے رجوع کیا جائے گا. اور جماعت میں امکان بھر کوشش کیجیے کہ اس بات کو معین طریق کار کے ذریعے آگے تک پہنچایئے! لیکن بہرحال کہیں نہ کہیں جاکر تو بات رُکے گی!کہیں پر جا کر تو وہ زنجیر بند ہو گی اور بات آخری امیر تک پہنچے گی! لہذا وہاں جا کر آدمی کو فیصلہ کرنا پڑے گا کہ اگر اس کا دل مطمئن نہیں ہے تو وہ کیسے چل سکتا ہے! تدبیر کے معاملے میں اگر دل مطمئن نہیں ہے تو اس کو چلنا چاہیے. لیکن اگر نصوص کے بارے میں دل مطمئن نہیں رہا تو اب اس کا چلنا ضروری نہیں ہے. وہ اس اطاعت کے قلادے کو اتار پھینکے. اس کے لیے یہ راستہ کھلا ہے. 

آیت کے آخر میں فرمایا : 
ذٰلِکَ خَیۡرٌ وَّ اَحۡسَنُ تَاۡوِیۡلًا ﴿٪۵۹﴾ ’’یہی بہتر ہے اور انجامِ کار کے اعتبار سے صحیح طریقہ ہے‘‘. اس میں لفظ ’’تأویل‘‘ کا مفہوم سمجھ لیجیے. اٰلَ‘ یَؤُوْلُ کا مطلب ہے کسی چیز ‘ کسی مرکز کی طرف لوٹنا .اسی سے لفظ آل بنا ہے جس میں ایسے تمام لوگ ہوتے ہیں جو کسی بڑی شخصیت کی طرف اپنی نسبت کریں‘ اپنے آپ کو اس سے جوڑیں‘ اس سے تعلق قائم کریں ‘ کسی معاملے میں اس کی طرف رجوع کریں. وہ سب گویااس کی آل ہیں. اس معنی میں ’’ آلِ محمد‘‘ پوری اُمت ہے. جو بھی حقیقت کے اعتبار سے رسول اللہ کے ساتھ جڑا ہوا ہے وہ آپ کی آل میں شامل ہے. تو اٰلَ‘ یَؤُوْ لُ سے باب تفعیل میں تأویل بنا ہے جس کے معنی ہیں لوٹانا‘ کسی چیز کو رجوع کرانا. یعنی اگر اپنی جدوجہد کو کامیابی اور نتیجہ خیزی کی طرف لوٹانا چاہتے ہو تو اس کا یہ راستہ ہے ‘جو بہت بہتر اور سب سے عمدہ اور خوبصورت شکل ہے لوٹنے کی اور اپنے معاملے کو لوٹانے کی. کیونکہ آیت میں الفاظ آئے ہیں : فَرُدُّوۡہُ اِلَی اللّٰہِ وَ الرَّسُوۡلِ تو یہ اس کی ظاہری شکل اور کامیابی کی طرف لوٹنا ہے.

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی بیعت کی متفق علیہ حدیث کی ایک 
روایت میں : ’’ وَعَلٰی اَنْ لَا نُنَازِعَ الْاَمْرَ اَھْلَہٗ‘‘ کے بعد اِن الفاظ کا اضافہ ہے : ’’اِلاَّ اَنْ تَرَوْا کُفْرًا بَوَاحًا عِنْدَکُمْ مِنَ اللہِ فِیْہِ بُرْھَانٌ‘‘ (۱.یہ الفاظ حضور نے ارشاد فرمائے ہوں گے‘اس لیے کہ یہاں صیغہ بدل گیا ہے. ان الفاظ میں حضور نے گویا ایک مضمر شے کو نمایاں فرمایا:’’سوائے اس کے کہ تم کھلم کھلا کفر کا مشاہدہ کرو جس کے ضمن میں تمہارے پاس اللہ کی طرف سے برہان ہو (دلیل اورسند ہو)‘‘. کوئی بھی محض اپنے ذاتی خیال اور وجدان کی بنیاد پر یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہاں حدودِ شریعت سے تجاوز ہو رہا ہے‘ بلکہ یہاں تو واضح دلیل اور سند کی ضرورت ہے. ورنہ تو نظم کہاںرہا! پھر تو سمع و طاعت کی روح غائب ہو گئی! سمع و طاعت کے پورے نظام کی چولیں ہل جائیں گی.