غیبت : جماعتی زندگی میں رخنہ اندازی کا ایک بڑا ذریعہ

اس سلسلۂ نواہی میں مزید ارشاد ہے: وَ لَا یَغۡتَبۡ بَّعۡضُکُمۡ بَعۡضًا ؕ ’’اور تم میں کا ایک دوسرے کی غیبت نہ کیاکرے‘‘. اس لیے کہ غیبت توسب سے ثقیل اور قبیح حرکت ہے. غیبت یہ ہے کہ اپنے کسی بھائی کی کسی برائی یا عیب کا ذکر اس کی عدم موجودگی میں کرنا. ویسے تو یہ باتیں ہمارے عام مجلسی اور معاشرتی آداب میں شامل ہیں‘ لہٰذا ہر مسلمان کے ساتھ یہی معاملہ کرنا ہے‘ لیکن اقامت ِ دین جیسے عظیم مقصد کے لیے قائم کی گئی جماعت کے رفقاء کے لیے ان احکامات کی ضرورت و اہمیت سو گنا بڑھ جاتی ہے اور انہیں ان تمام چیزوں کا سوگنا زیادہ اہتمام کرنا چاہیے‘ اس لیے کہ یہاں شیطان سو گنا زیادہ زور لگائے گا.

جماعتی نظم کے حوالے سے غیبت خاص طور پر قابلِ وضاحت ہے. جان لیجیے کہ ایک تو تنقید ہوتی ہے کہ کسی کو اس کی کسی کمزوری‘ کوتاہی اور کسی عیب وغیرہ پر متنبہ اور مطلع کرنا .یہ تو اصلاح کے لیے اجتماعیت کی ایک اہم اور ناگزیر ضرورت ہے. لیکن اس کے کچھ آداب ہیں.اوّلاً یہ کہ آپ اپنے کسی بھائی میں کوئی کمزوری دیکھیں تو خود اُس سے اُس معاملے میں بات کریں‘ اسے تنہائی میں سمجھائیں اور مطلع کریں‘ سب کے رُوبرو اُس کا تذکرہ نہ کریں. ثانیاً آپ کے انداز میں اس حد تک دل سوزی ہو کہ وہ خود محسوس کرے کہ میرے سامنے یہ بات کر کے اسے کوئی خوشی نہیں ہو رہی ‘یہ کوئی لذت نہیں لے رہا‘ کوئی اپنی بڑائی کا اظہار نہیں کر رہا اور میری عزتِ نفس کو مجروح کرنا اس کے پیشِ نظر نہیں ہے‘ بلکہ یہ فی الواقع دل سے میری اصلاح کا خواہاں اور کوشاں ہے . یہ دو شرطیں اگر پوری نہ ہوں تو تنقید مہلک اور مضر ثابت ہوتی ہے اور اپنی افادیت کا پہلو کھو دیتی ہے. اس سے آگے بڑھ کر مَیں ایک اور بات کی طرف توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں. دیکھئے تنظیم اسلامی میں یہ بات طے ہے کہ اس سے کسی رفیق کے اخراج کا معاملہ بھی ہو سکتا ہے. کسی شخص کا معاملہ ایسا ہو جس سے تنظیم کی بدنامی کا اندیشہ ہو جائے تو 
اس کا اخراج عمل میں آ سکتا ہے. کسی ساتھی نے اپنے اس بھائی کی اصلاح کی انفرادی سطح پر پوری کوشش کر لی‘ اس سے بارہا ملا اور تنہائی میں دل سوزی اور خلوص و اخلاص کے ساتھ گفتگو کی ‘لیکن وہ سمجھ رہا ہے کہ اصلاح کی طرف اس کا کوئی رجحان نہیں ہے اور اس چیز کی اطلاع اصحابِ امر تک پہنچا دینا جماعتی مصلحت کے لیے ضروری ہے اور اس سے مقصود اجتماعیت کو اس کے مضر اور منفی اثرات سے بچانا ہے تو عام رفیق کا کام یہ ہے کہ صاحب نظم کو اس سے مطلع کر کے خاموش ہو جائے . دوسرے ساتھیوں میں اس کی برائی کا چرچا کرنا اور لذت لے لے کر اس کا ذکر کرناانتہائی مہلک شے ہے. یہ ہے وہ غیبت جس کے لیے قرآن کریم میں سخت ترین الفاظ آئے ہیں: اَیُحِبُّ اَحَدُکُمۡ اَنۡ یَّاۡکُلَ لَحۡمَ اَخِیۡہِ مَیۡتًا فَکَرِہۡتُمُوۡہُ ؕ ’’کیا تم میں سے کوئی شخص اسے پسند کرے گا کہ اپنے کسی مُردہ بھائی کا گوشت (اس کی بوٹیاں نوچ نوچ کر) کھائے؟ یہ تو تمہیں انتہائی ناپسند ہے‘‘. لیکن تم غیبت کرتے ہو ہَنِیۡٓــًٔا مَّرِیۡٓــًٔا ‘ خوب لذتیں لے لے کر اور چٹخاروں کے ساتھ. تو جماعتی زندگی میں اس چیز کو channelize کرنا ضروری ہے. کسی مقامی تنظیم کا امیر اگر اپنے کسی ساتھی میں کوئی کمزوری دیکھتا ہے اور اس نے اپنے اُس ساتھی کی اصلاح کی ہر ممکن کوشش بھی کر لی ہے مگر وہ اصلاح پر مائل نہیں ہو رہا‘ تو اب اس مقامی امیر کو پہلے تو یہ judgement کرنی ہو گی کہ یہ عام کمزوری اور خامی ہے یا اس نوعیت کی ہے کہ اس سے جماعت کی نیک نامی پر حرف آ سکتا ہے. اگر صورت دوسری ہے تو وہ بھی اپنے سے بالاتر اصحابِ امر تک اطلاع پہنچائے اور یوں سمجھے کہ اس کی ذمہ داری ختم ہوئی.اب یہ معاملہ ان کے ہاتھ میں آ گیا ہے اور وہ اسے کس طور سے نمٹاتے ہیں یہ ان کی ذمہ داری ہے.