’’نجویٰ‘‘ کی حقیقت و شناعت . قرآن حکیم کی روشنی میں

اب ان آیاتِ مبارکہ کو سمجھ لینا چاہیے جس میں یہ وضاحت ہے کہ اس پوری بیماری کی ‘جس کا میں نے اس وقت ذکر کیا ہے ‘ کیا علامات ہیں‘ اس کا کیسے ظہور ہوتا ہے اور یہ کیسے آگے بڑھتی ہے؟اس کے لیے ایک عنوان ہے ’’نجویٰ‘‘ .پہلے اس لفظ کی اصل کو سمجھ لیا جائے. عربی زبان میں’’نَجْـَوۃٌ‘‘ بلندی کو کہتے ہیں.اسی سے لفظ نجات بنا ہے جس کے معنی بچ جانے کے ہیں. کسی بلند مقام پر پہنچ جانا دشمن کے نرغے سے نکل کر نجات پاجانے کی ایک صورت ہے. اس کے لیے بہترین مثال غزوۂ اُحد کی ہے کہ جس وقت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نرغے میں آ گئے اور ستر صحابہ شہید بھی ہو گئے اُس وقت نبی اکرم نے صحابہ کو حکم دیا کہ اُحد پہاڑ پر چڑھ جاؤ! چنانچہ بلندی پر چڑھ جانا اُس وقت بچاؤ کی شکل بن گیا.تو بلندی پر پہنچ جانا ایک طرح سے بچاؤ‘ دفاع اور نجات کی ایک شکل بن جاتی ہے. پھر یہ کہ بلندی پر کوئی جاتا ہے تو تنہا ہوتا ہے.اور یہاں بلندی پر جب تنہائی ہو گی تو وہاں ایک دو جوپہنچ گئے ہیں وہ سرگوشیاں کریں گے جو دوسرے نہیں سنیں گے .تو علیحدگی میں خفیہ سرگوشیوں کے لیے یہ لفظ ’’نجویٰ‘‘ ہے. واضح رہے کہ نجات کا اصل مادہ بھی ’’ن ج و‘‘ ہے اور نجویٰ کا مادّہ بھی یہی ہے. 

نجویٰ کے ضمن میں ایک آیت سورۃ النساء میں بھی موجود ہے .اور میرا گمان ہے کہ سورۃ النساء پہلے اور سورۃ المجادلۃ بعد میں نازل ہوئی ہے . 
واللہ اعلم . سورۃ النساء میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے : لَا خَیۡرَ فِیۡ کَثِیۡرٍ مِّنۡ نَّجۡوٰىہُمۡ (آیت ۱۱۴’’ان کی سرگوشیوں میں سے اکثر میں کوئی خیر نہیں ہے ‘‘.یعنی یوں سمجھئے کہ اکثر و بیشتر سرگوشی خرابی کی جڑ بنتی ہے. وہی بات بہتر ہوتی ہے جو کھل کر سامنے کی جائے. اگر کسی کی عدم موجودگی میں اس کی برائی بیان کی جائے تو یہ غیبت ہے. چلیے اگر کوئی حملہ آور ہونا بھی چاہتا ہے تو بھی سامنے سے حملہ کرے‘ پیچھے سے حملہ کرنا تو بزدلی ہے. اگر سامنے سے حملہ کیا جائے گاتو وہ بھی مدافعت کر سکتا ہے. اگر عوام کے اندر اس کو تنقید کا نشانہ بنایا جائے تو اس کو موقع تو ہو گا کہ وہ وضاحت کر کے اپنا دفاع کر سکے کہ یہ بات یوں نہیں ہے. لیکن اگر یہ معاملہ پیچھے سے کیا جائے تو اب وہ مدافعت کے قابل نہیں ہے.لہذا بات تو وہی ہوتی ہے جو ڈنکے کی چوٹ پر سامنے کی جائے‘ اِلاّ یہ کہ آپ اس طرح اس کے استہزاء کا ذریعہ بن جائیں گے تو اس کی اصلاح کا امکان کم ہو جائے گا ‘بلکہ اصلاح کا دروازہ بند ہو جائے گا.یہ مصلحت کی بات ہے. ہر چیز کے اندر استثناء تو ہوتا ہے ‘ لیکن قاعدہ قانون یہی ہے کہ لَا خَیۡرَ فِیۡ کَثِیۡرٍ مِّنۡ نَّجۡوٰىہُمۡ ’’ان کی اکثر سرگوشیوں میں خیر کا کوئی پہلو نہیں ہے‘‘. البتہ اس کی کچھ مستثنیات ہیں جواسی آیت میں بایں الفاظ بیان ہوئی ہیں: 

(i اِلَّا مَنۡ اَمَرَ بِصَدَقَۃٍ ’’سوائے اس کے کہ کوئی (کسی کو) صدقہ کرنے کو کہے ‘‘. آپ نے کسی کو جا کر مشورہ دیا کہ بھائی فلاں شخص احتیاج میں ہے اور میری اِس وقت ایسی حالت نہیں ہے کہ میں اس کی مدد کر سکوں‘ اور میں سمجھتا ہوں کہ آپ اس کی ضرورت کو پورا کر سکتے ہیں‘ لہذا اس کی ضرورت کو پورا کیجیے . 

(ii اَوۡ مَعۡرُوۡفٍ ’’یا کوئی نیک کام (کرنے کو کہے)‘‘. یعنی کسی اور نیک کام کا کسی کو علیحدگی میں مشورہ دینا .محسوس ہو کہ اس کی ہمت کمزور پڑ رہی ہے تو اس کی ہمت بندھانا.

(iii اَوۡ اِصۡلَاحٍۭ بَیۡنَ النَّاسِ ؕ ’’یا لوگوں کو آپس میں صلح کا مشورہ دے‘‘. یہ ’’اصلاح ذات البین‘‘ ہے کہ لوگوں کے مابین مصالحت کرانا. اس کے لیے یہ کرنا پڑے گا کہ آپ علیحدگی میں ایک فریق کی بات سنیں‘ پھر دوسرے فریق کا موقف سنیں. اگر وہ آمنے سامنے ہوں گے تو آپس میں الجھ پڑیں گے‘ فوراً مشتعل ہو جائیں گے . اب آپ علیحدگی میں ایک کی بات سن کر اسے سمجھائیں اور ٹھنڈا کریں. پھر دوسرے فریق سے جا کر بات کریں. اس معاملے میں یہاںتک اجازت ہے کہ فرض کریں پہلے فریق نے غیظ و غضب کی حالت میں دوسرے فریق کے لیے نازیبا الفاظ استعمال کیے تو اسے چھپا لیں‘ اس میں توریہ کی حد تک گنجائش ہے ‘ بلکہ اصلاح ِ ذات البین کے لیے اس طرح کی کوئی بات اپنی طرف سے بھی کہی جا سکتی ہے کہ تمہارے لیے اُس کے دل میں محبت ہے‘ یہ تو وقتی طور پر تمہارے مابین غلط فہمی ہو گئی ہے‘ کچھ لوگ ہیں جنہوں نے تمہارے مابین عداوت کے بیج بو دیے ہیں. دین میں اس کے لیے انتہائی تاکیدی تعلیم دی گئی ہے.اس لیے کہ اس کا مقصد بہتری پیدا کرنا ہوتا ہے. اور یہ صرف اہلِ ایمان کے لیے نہیں ہے‘ بلکہ الفاظ آئے ہیں : اَوۡ اِصۡلَاحٍۭ بَیۡنَ النَّاسِ کہ لوگوں کے مابین اصلاح ‘ عام انسانوں کے مابین مصالحت کی کوشش. سورۃ الحجرات میں تو الفاظ ہیں : وَ اِنۡ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اقۡتَتَلُوۡا فَاَصۡلِحُوۡا بَیۡنَہُمَا ۚ (آیت ۹’’اور اگر مؤمنوں کے دو گروہ باہم جھگڑا کریں تو ان کے مابین صلح کراؤ‘‘. لیکن یہاں الفاظ صرف مؤمنین کے لیے نہیں ہیں‘ بلکہ ’’اِصۡلَاحٍۭ بَیۡنَ النَّاسِ‘‘ کے الفاظ ہیں. اس کے لیے سنن ابی داؤد ‘ سنن ترمذی اور مسند احمد میں تاکیدی حدیث موجود ہے کہ یہ کام نماز و روزہ سے افضل ہے کہ لوگوں کے مابین مصالحت کراؤ اور ان کے بگڑے ہوئے تعلقات کو سدھارنے اور سنوارنے کی کوشش کرو. تو ان تین کاموں کے لیے علیحدگی میں جا کر سرگوشی کرنا خیر کے لیے ہے. اس کے علاوہ اگر کسی کام کے لیے سرگوشی ہو گی تو اس میں خیر نہیں ہے‘ چاہے آدمی خود کو کتنا ہی دھوکہ دے کہ میں یہ کام نیک نیتی سے کر رہا ہوں‘ بھلائی کے لیے کر رہا ہوں‘ لیکن حقیقتاً وہ خیر سے خالی ہو گا. آگے فرمایا : وَ مَنۡ یَّفۡعَلۡ ذٰلِکَ ابۡتِغَآءَ مَرۡضَاتِ اللّٰہِ فَسَوۡفَ نُؤۡتِیۡـہِ اَجۡرًا عَظِیۡمًا ﴿۱۱۴﴾ ’’اور جو شخص یہ کام اللہ کی رضاجوئی کے لیے کرے گا تو ہم اسے عنقریب اجر عظیم سے نوازیں گے‘‘. 

اب آیئے اس پس منظر میں سورۃ المجادلۃ کی آیات پر غور کر لیا جائے. فرمایا : 
اَلَمۡ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یَعۡلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ ’’کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے؟‘‘ یہ درحقیقت جانی پہچانی اورتمہاری مانی ہوئی حقیقت ہے جس سے تمہیں اِس وقت ذہول ہو رہا ہے‘ اِس وقت تم اس کو بھلا رہے ہو .یہ تمہید ہے کہ کس سے چھپ کر کانا پھوسی کر رہے ہو؟ ایک کان تو ہمیشہ ہر جگہ سننے والا موجود ہے . یہ نہ سمجھو کہ تمہاری ان باتوں کو سننے والا کوئی نہیں ہے.اللہ تو سن رہا ہے. 

مَا یَکُوۡنُ مِنۡ نَّجۡوٰی ثَلٰثَۃٍ اِلَّا ہُوَ رَابِعُہُمۡ ’’نہیں ہوتا (ان میں سے) کسی بھی تین افراد کا باہم سرگوشی کرنا مگر یہ کہ اللہ اُن کا چوتھا ہوتا ہے ‘‘ وَ لَا خَمۡسَۃٍ اِلَّا ہُوَ سَادِسُہُمۡ ’’اور نہ پانچ کا (نجویٰ ہوتا ہے) مگر یہ کہ اللہ اُن کا چھٹا ہوتا ہے‘‘ وَ لَاۤ اَدۡنٰی مِنۡ ذٰلِکَ ’’اورنہ اس سے کم‘‘.دو بھی باہم سرگوشیاں کر رہے ہیں تو بھی تیسرا اللہ موجود ہے. دو سے کم تو نہیں ہو سکتے‘ کیونکہ ایک آدمی تو بیٹھ کر سوچ ہی سکتا ہے. وَ لَاۤ اَکۡثَرَ ’’نہ اس سے زائد‘‘ اِلَّا ہُوَ مَعَہُمۡ اَیۡنَ مَا کَانُوۡا ۚ ’’مگر یہ کہ اللہ ان کے ساتھ ہے جہاں کہیں بھی وہ ہوتے ہیں‘‘.وہ چاہے پہاڑ کی چوٹی پر پہنچ گئے ہوں‘ یا کھوہ میں چھپ کر مشورے کر رہے ہوں‘ یا کہیں زمین کے پیٹ میں گھس کر یا فضا کی پہنائیوںمیں کر رہے ہوں‘ خواہ کہیں بھی ہوں گے اللہ ان کے ساتھ ہے. ثُمَّ یُنَبِّئُہُمۡ بِمَا عَمِلُوۡا یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ ’’پھر اللہ انہیں قیامت کے دن جتلا دے گا جو وہ کرتے رہے ہوں گے‘‘. اِنَّ اللّٰہَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿۷﴾ ’’یقینا اللہ تعالیٰ ہر چیز کاجاننے والا ہے‘‘.یہاں نَبَّاَ‘ یُنَبِّئُ کا لفظ ہے. اس کے علاوہ نَبَّہَ، یُنَبِّہُ کا لفظ آتا ہے جو تنبیہہ کے لیے استعمال ہوتا ہے کہ متنبہ کرنا. جبکہ یہ ’’نَبَأٌ‘‘ سے ہے جس کا مطلب ہے ایک ایک کر کے جتلا دینا کہ تم نے فلاں تاریخ‘ فلاں وقت یہ مشورے کیے‘ یہ ہے تمہارانجویٰ.

آگے فرمایا: 
اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ نُہُوۡا عَنِ النَّجۡوٰی ثُمَّ یَعُوۡدُوۡنَ لِمَا نُہُوۡا عَنۡہُ (۱’’کیاتم نے اُن لوگوں کی طرف نہیں دیکھا جنہیں نجویٰ سے روکا گیا تھا؟ پھر (۱) اس آیت سے بھی میرا گمان ہے کہ سورۃ النساء ‘ سورۃ المجادلہ سے پہلے نازل ہوئی ہے ‘کیونکہ اس مقام کے علاوہ قرآن مجید میں نجویٰ کے بارے میں صرف سورۃ النساء کی ایک آیت ہے. تو محسوس ہوتا ہے کہ یہاں اُس آیت کی طرف اشارہ ہو رہا ہے. بھی وہ وہی حرکت کیے جاتے ہیں جس سے انہیں منع کیا گیا تھا‘‘.دیکھئے وہ روکنے کا بہترین اور لطیف ترین انداز تھا. اس میں ڈانٹ ڈپٹ‘ سختی اور گرفت کا انداز نہیں تھا‘ بالکل ایسے جیسے کوئی کائناتی حقیقت بیان کی جا رہی ہو کہ: لَا خَیۡرَ فِیۡ کَثِیۡرٍ مِّنۡ نَّجۡوٰىہُمۡ اِلَّا مَنۡ اَمَرَ بِصَدَقَۃٍ اَوۡ مَعۡرُوۡفٍ اَوۡ اِصۡلَاحٍۭ بَیۡنَ النَّاسِ ؕ یعنی جان لو اِن تین کاموں کے سوا جو کچھ ہے اس میں خیر نہیں ہے . لیکن ظاہر ہے جن کے دلوں میں اصلاح پذیری کا مادہ تھا وہ اگر غیر شعوری طور پر یہ کام کر رہے تھے تو اب شعوری طور پر رُک گئے‘ ٹھٹک گئے‘ انہوں نے اپنی باگیں کھینچ لیں.لیکن جن لوگوں کے دلوں میں روگ یا مرض ہوتا ہے تو فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ مَّرَضٌ ۙ فَزَادَہُمُ اللّٰہُ مَرَضًا ۚ کے مصداق اُن کا روگ تو مسلسل بڑھتا ہے. اب یہاں اُن کی طرف اشارہ ہو رہا ہے. یہ اُس معاشرے میں وہ لوگ تھے جنہیں آج ہم منافقین کہتے ہیں .لیکن ان کی پیشانیوں پر لکھا ہوا نہیں تھا کہ یہ منافق ہیں‘ بلکہ وہ مسلمان ہی سمجھے جاتے تھے. حضور کے علم میں تھا کہ کون منافقین ہیں‘ لیکن حضور نے اسے ایک راز ہی رکھا ہے. اپنے ایک صحابی ؓ کو اگر چند خاص منافقین کا نام بتا بھی دیا تھاتو انہیں بھی آگے بیان کرنے سے سختی سے روک دیا تھا کہ یہ ایک راز ہے .لہذا وہ مسلمانوں میں گڈمڈ تھے. اس اعتبار سے یہ نہ سمجھئے کہ اس کا ہم سے کوئی سروکار نہیں ہے. اصل میں تو قرآن مجید میں جو بھی منافقین کا بیان ہے ہم اس سے اس وجہ سے محروم رہتے ہیں کہ ہم انہیں ایک علیحدہ category قرار دے کر سمجھتے ہیں کہ ہم سے ان کا کوئی تعلق نہیں. تو یہ سمجھئے کہ یہ درحقیقت ہمیشہ مسلمانوں میں گڈمڈ ہوتے ہیں. یہ بہتر سے بہتر جماعت میں موجود تھے. صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت سے توبہتر جماعت نہیں ہو سکتی ‘ اس میں یہ ففتھ کالمسٹ عنصر موجود تھا. غور کیجیے کہ تابہ دیگراں چہ رسد؟کون سی جماعت یہ سمجھ سکتی ہے کہ ہم اس سے بالاتر ہیں ‘منزّہ اورپاک ہیں!

وَ یَتَنٰجَوۡنَ بِالۡاِثۡمِ وَ الۡعُدۡوَانِ وَ مَعۡصِیَتِ الرَّسُوۡلِ ۫ ’’اور یہ لوگ چھپ چھپ کر آپس میں گناہ اور زیادتی اور رسول کی نافرمانی کی باتیں کرتے ہیں‘‘. یعنی مندرجہ بالا تین چیزوں کے مقابلے میں یہ جو نجویٰ کرتے ہیں‘ سرگوشیاں اور کھسر پھسر کرتے ہیں‘وہ ایک تو گناہ کے لیے ہوتا ہے. لفظ ’’اِثْم‘‘ کا ترجمہ ہم ’’ گناہ‘‘ کرتے ہیں اور ’’عُدوان‘‘ کا ترجمہ ’’ زیادتی ‘‘. اصل میں گناہ کے دو پہلو ہوتے ہیں. ایک ہے کوتاہی‘ یعنی آپ اپنا فرض ادا نہیں کر رہے. اور دوسرا ہے زیادتی‘ کہ کسی کے حق پر دست درازی کرنا‘ حملہ آور ہونا. یہ دو پہلو علیحدہ ہیں. لہذا اگر آپ ایمان کا تقاضا پورانہیں کر رہے تو یہ ’اِثْم‘ ہے . اہل عرب اس اونٹنی کو ’’آثِمَۃٌ‘‘ کہتے ہیں جو قافلے سے پیچھے رہ گئی ہو. اگر کوئی اونٹنی قافلے میں موجود تمام اونٹوں اور اونٹنیوں کے ساتھ ساتھ چلے گی تب ہی وہ قافلہ بنے گی‘ ورنہ تو وہ قافلے سے پیچھے رہ جائے گی اور اب وہ ’ آثمۃ‘ کہلائے گی.
اب یوں سمجھئے کہ جن فرائض کی ادائیگی کے لیے کوئی اجتماعی نظام قائم ہوا ہے‘ جو لوگ ان فرائض کو بحسن و خوبی ادا کر رہے ہوں وہ تو گویا قافلے کے ساتھ چل رہے ہیں‘ جبکہ کچھ ایسے ہوتے ہیں جو پیچھے ہوتے ہیں اور اپنے ان تقاضوں کو پورا نہیں کر پا رہے ہوتے. تو یہ 
’اِثْم‘ ہے.ایسے آدمی کی عزتِ نفس اسے ابھارتی ہے کہ دیکھو ایسا دُم کٹا کوئی اور بھی ہے یا نہیں! تو جن کے اندر کسل ہوتا ہے ان کے مابین یگانگت (affinity) پیدا ہو جاتی ہے اور وہ پیچھے رہ جانے والے خود بخود ایک دوسرے کی طرف ایک میلان محسوس کرنے لگتے ہیں اور ایک دوسرے کے لیے جواز فراہم کرتے ہیں. تو اس کا پہلا عنوان ہے یَتَنٰجَوۡنَ بِالۡاِثۡمِ . ’اِثم‘ کے معنی روکنے کے بھی ہوتے ہیں. یہ لوگ ایک دوسرے کی خیر خواہی کے انداز میں کہتے ہیں کہ بے وقوف نہ بنو‘ یہ تو پاگل ہیں‘ لیکن ہمیں تو دیکھ کر چلنا ہے اور انہیں بھی سمجھانا ہے .جیسے اُس دَور کے منافقین کہا کرتے تھے : اَنُؤۡمِنُ کَمَاۤ اٰمَنَ السُّفَہَآءُ ؕ(البقرۃ:۱۳’’کیا ہم ایمان لے آئیں ان بے وقوفوں کی طرح؟‘‘ انہیں تو کسی خیر و شر اور نفع و نقصان کی فکر نہیں ہے.یہ تو دیوانے (fanatics) ہو گئے ہیں.تو اب اس طرح کی گفتگو ہو گی. وَ الۡعُدۡوَانِ ’’اور زیادتی کے لیے (سرگوشیاں کرتے ہیں)‘‘.یہ دوسرا رُخ ہے کہ کسی کی عزت پر حملہ کرنا‘ کسی کے حقوق پر دست درازی. 

وَ مَعۡصِیَتِ الرَّسُوۡلِ ۫ ’’اور رسولؐ کی نافرمانی کے لیے (سرگوشیاں کرتے ہیں)‘‘. یہاں رسول کی حیثیت ذہن میں رکھئے! رسول کی ایک حیثیت یہ ہے کہ وہ اللہ کا پیغام پہنچانے والے ہیں. رسول کی ایک حیثیت اس جماعت کے امیر کی بھی ہے اور رسول کی ایک حیثیت اس ریاست کے سربراہ کی بھی ہے. یہ ایسا معاملہ ہے جو زیادہ کٹھن گزرتا ہے. میرے نزدیک نفاق کے موضوع پر سورۃ النساء قرآن مجید میں اصولی طور پر اہم ترین سورت ہے. اب جو چیزیں نفاق کا اصل سبب بنتی تھیں ان میں سے ایک اہم چیز ’’رسول کی اطاعت‘‘ تھی . وہ سمجھتے تھے کہ رسول بھی تو آخر ہمارے جیسے انسان ہیں. بس ان پر وحی اترتی ہے جسے ہم تسلیم کرتے ہیں. باقی تو یہ ہمارے جیسے انسان ہیں‘ ہم کیسے ان کے آگے سر جھکائیں!کیا ان سے خطا نہیں ہو سکتی؟ کیا ہماری بات بہتر نہیں ہو سکتی؟ ہمیں تجربہ حاصل ہے‘ ہم جانتے ہیں‘ ہم معاملات کو چلاتے رہے ہیں. انہیں تو کوئی تجربہ نہیں ہے. یہ ساری باتیں رسول اللہ کے بارے میں کہی جاتی تھیں. یہ ہے معصیت رسول ‘رسول کے حکم سے سرتابی. منافقین کی علامتیں اور ان کے مشاغل قرآن مجید میں کئی جگہ مذکور ہیں. انہیں حضور سے جو کدّ ہو گئی تھی اس کا ظہور مختلف طریقوں سے ہوتا تھا .

آگے فرمایا: 
وَ اِذَا جَآءُوۡکَ حَیَّوۡکَ بِمَا لَمۡ یُحَیِّکَ بِہِ اللّٰہُ ۙ ’’اورجب یہ آپؐ کی خدمت میں آتے ہیں تو آپ کو وہ دعا دیتے ہیں جو اللہ نے آپ کو نہیں دی‘‘. عربوں کا ایک عام دعائیہ کلمہ ’’حَیَّاکَ اللّٰہُ‘‘ ہے جس کے معنی ہیں ’’اللہ تمہاری عمر دراز کرے‘‘. یہیں سے لفظ ’’تَحِیَّۃ‘‘ بنا ہے جو اپنے نیک جذبات کا اظہار ہے. اسے آپ‘ greetings کہتے ہیں.اصل سلام تو ’’السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ‘‘ ہے‘ لیکن منافقین ’’السَّام علیکم‘‘ کہتے تھے‘ جس کے معنی ہیں ’’تم پر موت آئے‘‘. (معاذ اللہ. نقل کفر کفر نباشد!) اگر کوئی پکڑ لیتا تو کہنے لگتے کہ ہم نے تو السلام علیکم کہا ہے‘ شاید آپ کو ٹھیک سنائی نہیں دیا ‘ذرا اپنے کان کی میل نکلوایئے اور اس میں تیل ڈلوایئے!الٹا اسے شرمندہ کر دیتے.

وَ یَقُوۡلُوۡنَ فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ لَوۡ لَا یُعَذِّبُنَا اللّٰہُ بِمَا نَقُوۡلُ ؕ ’’اور وہ اپنے جی میں کہتے اللہ ہمیں سزا کیوں نہیں دیتا اُس پر جو ہم کہتے ہیں‘‘. اسی طرح سورۃ البقرۃ میں مثال آئی ہے کہ ’’رَاعِنَا‘‘ کے بجائے ’’رَا عِیْنَا‘‘ کہتے‘ یعنی ’’اے ہمارے چرواہے!‘‘ ’’رَاعِنَا‘‘ ایک مجلسی کلمہ تھا کہ ہماری طرف ذرا متوجہ ہوں‘ہمارا لحاظ کیجیے‘ ہم بات سمجھ نہیں سکے. جیسے ’’pardon‘‘ کا لفظ عام طور پر بولا جاتا ہے کہ معاف کیجیے گا. لیکن وہ ’’رَاعِینا‘‘ کہہ کر اپنے دل کی بھڑاس نکال لیتے تھے. اور شیطان کا وسوسہ دیکھئے: وَ یَقُوۡلُوۡنَ فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ لَوۡ لَا یُعَذِّبُنَا اللّٰہُ بِمَا نَقُوۡلُ ؕ ’’اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ ہماری ان باتوں پر اللہ ہمیں عذاب کیوں نہیں دیتا؟‘‘ یعنی شیطان اب اور پٹی پڑھا رہا ہے کہ دیکھو‘ تم نے رسول( ) سے گستاخی کی. اگر یہ رسول ہوتے تو اللہ تمہاری زبان گدی سے کھینچ لیتا. اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہارا شک و شبہ صحیح ہے . یہ ہے وہ برائی کا چکر ( wicious circle ) یعنی ایک برائی دوسری برائی کو جنم دیتی ہے اور دوسری پہلی برائی کو مزید تقویت دیتی ہے کہ دیکھو بھائی میں نے تواُس وقت اتنا کلام کر دیا‘ اب اگر فی الواقع یہ رسول ہوتے تو کیا اللہ اس کو گوارا کرتا! کیوں نہیں اللہ ا س پر ہمیں عذاب دیتاجو ہم کہہ رہے ہیں! اس کا مطلب صاف ہے کہ یہ رسول نہیں ہیں اور ہمارا شبہ صحیح ہے. فرمایا: حَسۡبُہُمۡ جَہَنَّمُ ۚ یَصۡلَوۡنَہَا ۚ ’’ان کا ٹھکانہ جہنم ہے جس میں یہ پہنچ کررہیں گے (جھونکے جائیں گے) ‘‘ فَبِئۡسَ الۡمَصِیۡرُ ﴿۸﴾ ’’اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے‘‘.

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا تَنَاجَیۡتُمۡ فَلَا تَتَنَاجَوۡا بِالۡاِثۡمِ وَ الۡعُدۡوَانِ وَ مَعۡصِیَتِ الرَّسُوۡلِ ’’اے اہل ایمان! جب تم آپس میں پوشیدہ بات کرو تو گناہ اور زیادتی اور رسول کی نافرمانی کی باتیں نہ کرو‘‘. یعنی اگر تمہیں نجویٰ کرنا ہی ہے ‘ تنہائی میں گفتگو کرنی ہی ہے‘ کوئی مل بیٹھنے کا موقع آ ہی گیا ہے تو ان تین چیزوں سے بچو: (i)اثم‘ (ii)عدوان‘ (iii)معصیت رسول. وَ تَنَاجَوۡا بِالۡبِرِّ وَ التَّقۡوٰی ؕ ’’اور باہم تنہائی میں نیکی اور تقویٰ کی باتیں کرو‘‘. اگر نجویٰ کرنا ہی ہے تو نیکی اور تقویٰ کے لیے کرو‘ خیر اور بھلائی کے لیے کرو‘ ایک دوسرے کو نیکی پر آمادہ کرو ‘ ایک دوسرے کی طبیعت میں کوئی رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے تو اس کو دور کرو‘ دوسرے کی ہمت اگر پست ہو رہی ہے تو اسے ہمت دلاؤ. لیکن اثم‘ عدوان اور معصیت رسول سے بچو . وَ اتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِیۡۤ اِلَیۡہِ تُحۡشَرُوۡنَ ﴿۹﴾ ’’اور تقویٰ اختیار کرو اس اللہ کا جس کی طرف تم جمع کیے جاؤ گے‘‘.

اِنَّمَا النَّجۡوٰی مِنَ الشَّیۡطٰنِ ’’جان لو کہ کانا پھوسی تو ایک شیطانی کام ہے‘‘. آج میں نے وہیں سے بات شروع کی ہے کہ جو اجتماعیت دین کا بول بالا کرنے کے لیے وجود میں آئی ہے تو شیطان کو سب سے بڑھ کر تکلیف لازماً اسی سے ہو گی‘چنانچہ وہ اپنی توجہات سب سے زیادہ اسی پر مرکوز کرے گا. لِیَحۡزُنَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ’’(اور یہ اس لیے کیا جاتا ہے)تاکہ اہل ایمان کو غم ہو‘‘ اندوہ ہو‘ رنج و صدمہ ہو‘ ان کی یکسوئی اور یک جہتی مجروح ہو‘ ان کے دلوں میں خلجان پیدا ہو جائے. یہ ہے جس کے لیے شیطان نجویٰ کا جال بچھاتا ہے اور اس کے اندر اس نے بڑی خوش نمائی پیدا کر دی ہے. وَ لَیۡسَ بِضَآرِّہِمۡ شَیۡئًا اِلَّا بِاِذۡنِ اللّٰہِ ؕ ’’حالانکہ اِذنِ خدا کے بغیر وہ (نجویٰ) انہیں کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکتا‘‘. اب یہ اہل ایمان کو اطمینان دلانے کے لیے فرمایا جا رہا ہے کہ مطمئن رہو ‘تمہیں اللہ کے اِذن کے بغیر کوئی کچھ بھی ضرر نہیں پہنچا سکتا.جیسے ہم کہتے ہیں : لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلاَّ بِاللّٰہِ. شیطان کو ہرگز کوئی اختیار حاصل نہیں ہے‘ اگر اس کا کوئی وارکارگر ہوتا بھی ہے تو وہ بھی اذنِ ربّ سے ہوتا ہے ‘اس میں بھی اللہ کی طرف سے کوئی خیر ہوتا ہے‘ کوئی تمہاری تربیت یا اصلاح مقصود ہوتی ہے‘ اللہ اسے تمہاری اصلاح کا بہانہ بناتا ہے. وَ عَلَی اللّٰہِ فَلۡیَتَوَکَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۰﴾ ’’اور اہل ایمان کو تو اللہ پر اپنا پورا توکل او ربھروسہ کرنا چاہیے‘‘. اطمینان دلایا جا رہاہے کہ اس میں زیادہ پریشان ہونے کی بات نہیں ہے. حتی الامکان سدّباب کرو‘ لیکن جس شخص کا معاملہ اللہ کے ساتھ صاف ہے اسے ان چیزوں سے زیادہ دل گیر اور دل گرفتہ نہیں ہونا چاہیے. البتہ ان تمام مفاسد سے اس ہیئت اجتماعیہ کو پاک کرنے کی کوشش کرنا بالکل دوسری بات ہے. 

چونکہ میں نے پس منظر بیان کر دیا ہے اس لیے آپ کو یہ بات سمجھنے میں کافی سہولت ہو جائے گی.فرمایا: 
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا قِیۡلَ لَکُمۡ تَفَسَّحُوۡا فِی الۡمَجٰلِسِ فَافۡسَحُوۡا یَفۡسَحِ اللّٰہُ لَکُمۡ ۚ ’’اے اہل ایمان!جب تم سے کہا جائے کہ مجالس میں کشادگی پیدا کرو تو کھل کر بیٹھا کرو‘ اللہ تمہارے لیے کشادگی پیدا کرے گا ‘‘. بڑا پیارا ربط ہے. یہ ایک فطری بات ہے کہ جو تین چار آدمی علیحدگی میں آپس میں ملاقاتیں کرتے ہیں اور باہم سرگوشیاں کرتے ہیں وہ جب کسی اجتماع میں آئیں گے تو بھی اکٹھے بیٹھیں گے اور علیحدگی میں کھسر پھسر اور سرگوشیاں کریں گے‘ کن انکھیوں میں تبادلۂ خیال کریں گے جو بہت خطرناک ہے. تب ہی تو کہا جا رہا ہے کہ جب تم سے کھل کر بیٹھنے کو کہا جائے تو کھل کر بیٹھ جایا کرو‘ اللہ تمہارے لیے کشادگی پیدا کر ے گا.یوں سمجھئے اس نجویٰ کا ظہور اب مسلمانوں کے اجتماعات کے اندر ہونے لگا تھا جس کے لیے کہا جا تا تھا کہ کھل کر بیٹھو‘ تاکہ آپ کے مابین جگہ ہو اور کوئی اور آنے والا بیٹھ سکے. منافقین اس طریقے سے جتھہ بندی کرتے تھے کہ ان کے مابین کوئی تیسرا آدمی نہ بیٹھ جائے‘ کیونکہ اگر ان میں کوئی باہر کا آدمی شامل ہو گیا تو وہ ان کی رپورٹ کرے گا اور یوں ان کی باتیں دوسروں کے علم میں آجائیں گی. لہذا کہا جا رہا ہے کہ اس طرح اللہ تعالیٰ تمہارے لیے کشادگی پیدا کرے گا اور تنگیوں سے جو فساد پیدا ہو رہا ہے اس کی روک تھام کی جا سکے گی.

وَ اِذَا قِیۡلَ انۡشُزُوۡا فَانۡشُزُوۡا ’’اور جب کہا جائے کہ اُٹھ جاؤ تو اٹھ جایا کرو‘‘. یہ اب ان کے نجویٰ کی تیسری شکل ہوتی ہے. اجتماع اختتام پذیر ہو جائے اور کہہ دیا جائے کہ اب آپ تشریف لے جایئے تو ان لوگوں کا نجویٰ فوراً وہیں شروع ہوجاتا ہے. کچھ دیر اطمینان سے بیٹھے رہتے ہیں‘ تاکہ دورانِ اجتماع اگر کوئی تبصرے نہیں ہو سکے تو تبادلۂ خیال کر لیں اور ایک دوسرے کو فقرے بازیوں پر داد دے لیں.لہذا وہ وہاں سے فوراً روانہ نہیں ہوتے. اس لیے اہل ایمان سے کہا جا رہا ہے کہ اگر تمہیں کہاجائے کہ اٹھ جاؤ تو اٹھ جایا کرو. 

یَرۡفَعِ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمۡ ۙ وَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ دَرَجٰتٍ ؕ ’’تم میں سے جو لوگ واقعی اہل ایمان ہیں اور جن کو علم عطا کیا گیا ہے‘ اللہ ان کے درجات بلند کرے گا‘‘. غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہاں پر صنعتِ لفظی کا ایک خوبصورت انداز ہے.یہ بھی کلام کا ایک حسن ہے. کہا جا رہا ہے کہ اے اہل ایمان! جب تم سے کہا جائے کہ اٹھ جاؤ تو اٹھ جایا کرو‘ اللہ تمہیں اونچا کرے گا . اگر تم خلوص و اخلاص کے ساتھ احکام مانو گے تو اللہ تمہیں رفعت عطا فرمائے گا.

اس ضمن میں بعض حضرات نے بڑی عمدہ بات کہی ہے . بعض اوقات کسی اجتماع میں یہ صورت پیش آتی ہے کہ دو حضرات آپس میں سرگوشی کر رہے ہیں‘ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آپ یہاں سے اُٹھ کر وہاں بیٹھئے تو اس میں آدمی اُس وقت اپنی توہین محسوس کرتا ہے ‘حالانکہ سوچنا چاہیے کہ کوئی شخص ہے جو اِس اجتماع کو 
conduct کر رہا ہے اور اس کی نگاہ میں یہ بات آگئی ہے‘ لہذا وہ اس اجتماع کی تأثیر کو ختم کرنے والی شے کو رفع کرنا چاہتا ہے تو اس میں انسان اپنی توہین محسوس نہ کرے. اس لیے کہ جو صاحبِ امر اور ذمہ دار ہے اسے اس کا نظم چلانا ہے‘ اسے اس اجتماع کو بہتر سے بہتر نتیجے تک منتج کرنا ہے ‘ نتیجہ خیز اور بارآور بنانا ہے‘ لہذا اگر کہہ دیا جائے کہ اٹھ جایئے یا یہ کہ فلاں جگہ پر تشریف لے جایئے تو اس پر برانہیں ماننا چاہیے. بہرحال جو صاحب علم ہو گا اور جس کے دل میں ایمان کی رمق ہو گی وہ اسے خیر سمجھے گا اور اس ہدایت پر عمل اپنی توہین نہیں سمجھے گا‘ تو اللہ اس کے درجات بلند کرے گا‘ لیکن جس کے دل میں روگ ہو وہ اسے برا مانے گا کہ اسے نمایاں کر کے سب کے سامنے ذلیل کر دیا گیا ہے‘ جبکہ یہ کام اس کے بجائے کوئی دوسرا کر رہا تھا اور دوسرے کا وبال اس پر آ گیا ہے. حالانکہ اسے سوچنا چاہیے کہ اگر وہ اس غلطی کا ارتکاب نہیں کر رہا تھا اور غلطی سے اسے اٹھ جانے کو کہہ دیا گیا ہے توکون سی قیامت آ گئی ہے!اگر اس کام کی اہمیت کو سامنے رکھتے ہوئے مثبت انداز میں سوچا جائے پھر تو یہی نتیجہ نکلے گا کہ ٹھیک ہے وہ صاحبِ نظم ہے‘ اس سے غلطی ہو بھی گئی ہے تب بھی کسی کی کوئی توہین نہیں ہے. اس سلسلے میں زیادہ حساسیت انہی لوگوں کو ہوتی ہے جن کے دل میں کچھ کبر اور فساد ہوتا ہے. جیسے کہا گیا ہے : فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ مَّرَضٌ ۙ فَزَادَہُمُ اللّٰہُ مَرَضًا ۚ ورنہ انسان سوچے گا کہ اگر میرا قصور نہیں بھی تھا ‘ بلکہ کچھ زیادتی ہو گئی ہے تو اللہ تعالیٰ مجھے اس کا کوئی نہ کوئی اجر عطا فرمائے گا‘ تلافی (compensate) کرے گا‘ اگر صاحب امر نے زیادتی کی ہے تو اس کی کوئی نیکی مجھے مل جائے گی‘ لہذا مجھے توکوئی نقصان نہیں ہے‘ میرے لیے تو بس حصول ہی حصول ہے. یہ تب ہوتا ہے جب ایمان اور خلوص و اخلاص ہو‘ اور اس اجتماعیت سے مخلصانہ تعلق ہو. وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ ﴿۱۱﴾ ’’اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اس سے خوب باخبر ہے‘‘. 
اس میں ایک اوربات قابل توجہ ہے کہ جو شخص کسی اجتماعی جدوجہد میں شریک نہیں ہے تو قرآن مجید کی یہ باتیں اسے کس طرح سمجھ میں آئیں گی! ان کا محض ترجمہ تو کیا جا سکتا ہے مگر اِن کی اہمیت و عظمت اسی صورت میں سمجھ آ سکتی ہے جب کسی اجتماعیت میں شریک ہوا جائے‘ ورنہ تو لوگ سمجھیں گے کہ ٹھیک ہے یہ اللہ کا کلام ہے اور ہم نے اسے پڑھ کر ثواب حاصل کر لیا ہے. لیکن یہ کہ ان باتوں میں کیا حکمتیں ہیں اور ان میں ہمارے لیے کیا ہدایات مضمر ہیں‘ یہ حقیقت اسی وقت ابھر کر اور نکھر کر سامنے آئے گی جب مقصد زندگی اقامت دین معین ہو چکا ہو ‘ جس کے بارے میں ارشاد ہے :

لِیَقُوۡمَ النَّاسُ بِالۡقِسۡطِ ۚ وَ اَنۡزَلۡنَا الۡحَدِیۡدَ فِیۡہِ بَاۡسٌ شَدِیۡدٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَ لِیَعۡلَمَ اللّٰہُ مَنۡ یَّنۡصُرُہٗ وَ رُسُلَہٗ بِالۡغَیۡبِ ؕ (الحدید:۲۵)
’’تاکہ لوگ انصاف پر قائم رہیں‘ اور ہم نے لوہا اتارا جس میں لڑائی کی سخت قوت ہے اور لوگوں کے لیے دوسرے فوائد بھی ہیں‘ اور (اس لیے بھی)تاکہ اللہ تعالیٰ ظاہر کر دے اس کو جو مدد کرتا ہے اللہ کی اور اس کے رسول کی غیب میں رہتے ہوئے.‘‘ 

اقامت ِدین کے لیے جو اجتماعیت قائم ہوئی ہے اس کی مصلحتیں اور اس کاتحفظ اللہ کی نگاہ میں کتنا عزیز ہے‘ یہ وہ بات ہے جو سمجھ میں آئے گی توہی اس کی اہمیت و عظمت 
منکشف ہو گی.

ایک اور مسئلہ بھی ہے جو اجتماعی زندگی کا بڑا اہم مسئلہ ہے‘ ہر صاحبِ امر کو اِس سے سابقہ پیش آتا ہے.اس کا پس منظر یہ ہے کہ اوّل تو ہر شخص فطری طور پر یہ چاہتا ہے کہ اسے صاحب امر سے قرب ہو‘ اس سے تنہائی میں بات کرنے کا موقع ملے‘ یہ فطری اور اچھی بات ہے‘ اس میں کوئی برائی نہیں ہے. لیکن اس کا ایک منفی رُخ بھی ہے‘ کہ کچھ لوگ کام میں تو پیچھے ہوتے ہیں‘ لیکن اپنی دولت یا وجاہت دُنیوی کی وجہ سے کچھ نمایاں ہوتے ہیں اور وہ اپنی اس دُنیوی اہمیت کو ظاہر کرنے کے لیے صاحبِ امر کے قریب ہو کر بیٹھتے ہیں اور کان میں گفتگو کرتے ہیں ‘تاکہ سب کو معلوم ہو جائے کہ وہ ان سے بہت قریب ہیں‘ امیر ان کی بڑی رعایت کرتے ہیں اور بڑا لحاظ کرتے ہیں. وہ اس کے لیے اپنی حیثیت کو ذریعہ بناتے ہیں. سوچیے کہ امیر کے پاس تو وقت محدود ہے اور اجتماعیت کے حقوق بھی اس پر ہیں‘ تو جب اس کے وقت میں اس طرح سے دخل اندازی ہوتی ہے تو اس کا اجتماعیت کو نقصان پہنچتا ہے. اس بات کی قباحت کو تین درجات میں سمجھ لیجیے .یہ فطری خواہش ہوتی ہے اور یہ کوئی بری بات نہیں ہے‘ لیکن مفسدین اسی چیز سے غلط فائدہ اٹھاتے ہیں اور اپنے مقام و مرتبہ کو ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں.عبد اللہ بن اُبی خاص طور پر ایسا کرتا تھا.ویسے بھی وہ قبیلۂ خزرج کا سردار تھا ‘رسول اللہ کی مدینہ تشریف آوری سے قبل اس کی بادشاہت کا فیصلہ ہو چکا تھا. جب حضور کو خطبہ ارشاد فرمانا ہوتا تو پہلے وہ کھڑا ہوتا تھا اور لوگوں سے کہتا کہ یہ اللہ کے رسول ہیں‘ ان کی بات پوری توجہ سے سنیے . اصل مقصد اپنی حیثیت اور سرداری کو نمایاں کرنا ہوتا تھا .اگر کوئی شخص امیر سے کہتا ہے کہ مجھے آپ سے تخلیے میں گفتگو کرنی ہے تو لوگوں کے سامنے آئے گا کہ یہ امیر سے بہت قریب ہیں اور ان کی رائے کو بہت اہمیت دی جاتی ہے‘ تبھی تو جب دیکھو یہ علیحدگی میں بات کرنے کے لیے وقت مانگ رہے ہوتے ہیں اور انہیں وقت دیا جا تا ہے.

اس کا دوسرا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ جو وقت اجتماعی مصالح اور بہبود پر صرف ہونا ہو وہ 
اس طریقے سے ضائع ہو جاتا ہے. آخر انسان کی صلاحیت اور قوتِ کارمحدود ہوتی ہے. حضور کا معاملہ یہ تھاکہ آپؐ شرافت اور مروّت کا پیکر ِمجسم تھے‘ سب کچھ معلوم ہوتے ہوئے بھی آپ زبان سے کچھ نہیں کہتے تھے. جیسے سورۃ الاحزاب میں آیا ہے کہ حضور اہل ایمان کو کھانے کی دعوت دیتے تو کچھ لوگ بہت پہلے پہنچ جاتے‘ اب دھرنا مار کر بیٹھے ہوئے ہیں ‘جبکہ ابھی کھانا پکنے کی تیاری ہو رہی ہے. پھر کھانا کھانے کے بعد بھی بیٹھے رہتے تھے. اس میں دونوں طرح کی باتیں ہو سکتی ہیں. اس میں مخلصین کے لیے تو یہ پہلو تھاکہ حضور سے قرب کا موقع مل جاتا.اور جو حضور کو تنگ کرنے والے تھے وہ اس کے ذریعے سے حضور کو تنگ کرتے تھے‘ آپؐ کی privacy میں مخل ہوتے تھے اور جانے کا نام نہیں لیتے تھے. لہذا فرمایا گیاکہ نہ پہلے آ جایا کرو اور نہ بعد میں بیٹھے رہا کرو.مُسۡتَاۡنِسِیۡنَ لِحَدِیۡثٍ کے الفاظ ہیں کہ کھانے کے بعد باتوں میں نہ مشغول ہو جایا کرو. یہ چیز نبی اکرم کو تکلیف دیتی ہے‘ لیکن وہ چونکہ حیا کا پیکر ہیں اس لیے وہ تم سے کچھ نہیں کہہ سکتے. یہ ذکر قرآن میں ہے. اسی طرح اس معاملے میں کوئی تخلیے میں بات کرنے کے لیے وقت مانگ رہا ہے‘ تو اب وہ کس کس کو وقت دیں! جبکہ وہ انکار کسی کو نہیں کر رہے. اس کا تیسرا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اگر کسی کے پاس واقعی کوئی اہم بات ہو تو وہ رہ جاتی ہے. یہ ساری چیزیں عملی ہیں. اور یہ باتیں اس وقت سمجھ میں آتی ہیں جب انسان پر بیتتی ہے اور ان کا تجربہ ہوتا ہے‘ ورنہ تو معلوم ہوگا کہ‘ معاذ اللہ‘ اس کی کوئی خاص عملی اہمیت نہیں ہے. 

اس چیز کی روک تھام کے لیے اب فرمایا گیا : 
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نَاجَیۡتُمُ الرَّسُوۡلَ فَقَدِّمُوۡا بَیۡنَ یَدَیۡ نَجۡوٰىکُمۡ صَدَقَۃً ؕ ’’اے اہل ایمان! جب تم رسول سے علیحدگی میں کوئی بات کرو (تمہیں تخلیے میں کوئی بات کرنی ہو) تو اس سے پہلے (اللہ کے راستے میں) کچھ صدقہ دے دیا کرو‘‘. یہ گویا فیس لگا دی گئی ہے .اور یہ فیس حضور کو نہیں ملے گی (معاذ اللہ)‘بلکہ یہ صدقہ ہے‘ تاکہ کچھ تو بریک لگے. منافقین کو تو مال بہت مرغوب اور محبوب تھا ‘اور وہی نفاق کی جڑ ہے‘ تو یہ ایک چھلنی تولگ جائے گی کہ کوئی صدقہ دے کر پھر علیحدگی میں کوئی بات کر ے. ذٰلِکَ خَیۡرٌ لَّکُمۡ وَ اَطۡہَرُ ؕ ’’یہی تمہارے لیے بہتر ہے اور پاکیزگی کے اعتبار سے بڑھ کر ہے‘‘. فَاِنۡ لَّمۡ تَجِدُوۡا فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۲﴾ ’’پھر اگر کچھ بھی نہ پاؤ تو یقینااللہ غفور ہے رحیم ہے‘‘. اگر کوئی نادار ہے اور اس کے پاس کچھ نہیں ہے تو کوئی بات نہیں. لیکن ان ناداروں میں تو وہ منافقین تھے ہی نہیں. حضور سے جو خصوصی کھسر پھسر کرنا چاہتے تھے وہ تو وہاں کے سردار اور صاحب ثروت و وجاہت لوگ تھے. لہذا مساکین اور غرباء کے لیے راستہ کھلا رکھا گیا کہ اگر کسی کے پاس صدقہ کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے تو کوئی پروا نہیں .اصل مقصد تو اس غلط طرزِ عمل کی روک تھام تھا ‘جس کے لیے یہ چھلنی لگائی گئی ہے. 

ءَاَشۡفَقۡتُمۡ اَنۡ تُقَدِّمُوۡا بَیۡنَ یَدَیۡ نَجۡوٰىکُمۡ صَدَقٰتٍ ؕ ’’کیا تم اس سے ڈر گئے ہو کہ تم (اپنے رسولؐ سے) تخلیہ میں گفتگو سے پہلے صدقات دیا کرو؟‘‘ گھبراگئے ہو اس سے؟ فَاِذۡ لَمۡ تَفۡعَلُوۡا ’’تو اب جبکہ تم نے یہ نہیں کیا‘‘. یہ مشکلات القرآن میں سے ہے. بعض حضرات نے سمجھا ہے کہ یہ کسی نے بھی نہیں کیا. اور ایک روایت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس حکم پر عمل کرنے والا سب سے پہلا شخص میں ہی تھا‘ مجھے حضور سے علیحدگی میں کوئی بات کرنا تھی تو میں نے پہلے صدقہ دیا پھر گفتگو کی. بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ یہ حکم صرف چند گھنٹے کے لیے تھا‘ اس کے بعد یہ آیت جو اَب ہم پڑھ رہے ہیں‘ نازل ہو گئی تھی.لیکن یہ بات صحیح معلوم نہیں ہوتی‘ بلکہ اس میں کچھ نہ کچھ وقت لگا ہو گا. قرآن مجید میں اس کی مثالیں ہیں کہ بسا اوقات ناسخ و منسوخ دونوں ساتھ ساتھ رکھ دیے گئے ہیں. سورۃ المزمل میں اس کی سب سے بڑی مثال موجود ہے کہ آخری آیت جس پر دوسرا رکوع مشتمل ہے‘ وہ کچھ عرصہ کے بعد نازل ہوئی. ہمارے یہاں اس بارے میں اختلافِ روایات ہے. کوئی کہتا ہے کہ ایک سال بعد نازل ہوئی اور بعض حضرات اسے مدنی بھی مانتے ہیں. گویا کہ پہلے اور دوسرے رکوع کے مابین دس سے بارہ سال کا فصل ہے‘لیکن مصحف میں وہ ساتھ ساتھ ہیں. یہی صورت حال سورۃ البقرۃ کے رکوع ۲۳ میں روزہ کے حکم کے بارے میں ہے‘ جسے اکثر لوگوں نے چونکہ اس پس منظر میں نہیں سمجھا اس لیے بہت سی ٹھوکریں کھائی ہیں. وہی معاملہ یہاں بھی ہے. کچھ نہ کچھ فصل تو اس میں یقینا ہو گا.

یہاں 
فَاِذۡ لَمۡ تَفۡعَلُوۡا میں یہ اشارہ بھی ہو سکتا ہے کہ تم اب اس غلط حرکت سے باز آ گئے ہو اور جو اِس عارضی حکم کا مقصد تھا وہ حاصل ہو چکا . بہرحال اس کا ایک ترجمہ تو یہ ہو سکتا ہے کہ تم نے صدقہ نہیں دیا اور ڈر کر حضور سے خلوت میں بات کرنا چھوڑ دی. اور ایک ترجمہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جبکہ تم نے اس بے احتیاطی کو ترک کر دیا تو جو ضرورت تھی وہ ختم ہو گئی‘ لہذا اب ہم اپنے اس حکم کو منسوخ کر رہے ہیں. وَ تَابَ اللّٰہُ عَلَیۡکُمۡ ’’اور اللہ نے (عنایت کے ساتھ) تم پر توجہ فرمائی .‘‘ یعنی نظر عنایت کی.اللہ کی توبہ بندوں پر شفقت و رحمت کی نگاہ کرنا ہے . اللہ نے تم پر رحم فرمایا‘ مہربانی کی. فَاَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتُوا الزَّکٰوۃَ وَ اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ ؕ ’’تو نماز قائم کرو‘ زکو ٰۃ ادا کرو اور اطاعت کرو اللہ اور اس کے رسولؐ کی‘‘. یعنی جو مطلوب شے ہے وہ یہ ہے کہ اس نظم کو مضبوط کرو. اس کے لیے نماز اللہ کے ساتھ تمہارے تعلق کو مضبوط کرنے والی شے ہے. اب تم اس نظم اور ڈسپلن کو مضبوط رکھو. یہ ڈسپلن فی ذاتہٖ مطلوب نہیں ہے‘ یہ ایک عظیم مقصد کے لیے مطلوب ہے .اور جسے وہ مقصد عزیز ہو گا وہ اس نظم کی امکانی حد تک حفاظت کرے گا‘ اسے مضبوط رکھے گا‘ اس میں رخنوں کو روکنے کی امکانی کوشش کرے گا . وَ اللّٰہُ خَبِیۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿٪۱۳﴾ ’’اور جو کچھ تم کررہے ہو اللہ اس سے خوب باخبر ہے‘‘. 

بارک اللہ لی ولکم فی القرآن العظیم ونفعنی وایاکم بالآیات والذکر الحکیم