محترمی و مکرمی جناب نعیم صدیقی صاحب

و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ!
گرامی نامہ محررہ۱۴ جون ہمارے دفتر میں ۲۰ جون کو موصول ہو گیا تھا لیکن میرے مطالعے میں اپنے غیر ملکی سفر سے واپسی پر عید الاضحی کے بعد آیا. آپ میرے بزرگوں میں سے ہیں‘ اور آپ کا غیظ و غضب اور تلخی و ترشی سب میرے لئے ع ’’ کہ ہرچہ ساقی ما ریخت عین الطاف است!‘‘ کے حکم میں ہے! بلکہ مجھے افسوس ہے کہ میری وجہ سے آپ کو بقول خود ’’ شر مسار‘‘ اور میرے نزدیک کبیدہ خاطر ہونا پڑا. بہر حال آپ نے اتنے طویل خط کے لکھنے میں جو زحمت گوارا کی اس پر ممنون ہوں!

خط پڑھ کر سب سے پہلا اثر تو مجھ پر یہ ہوا کہ اپنے وہ الفاظ یاد آگئے جو میں نے پورے تینتیس (۳۳) سال قبل رکنیت جماعت سے استعفے کی تحریر کے آخر میں درج کئے تھے. استعفے کی طویل تحریر کے حسب ذیل اقتباس کے خط کشیدہ الفاظ آپ کے خط پر میرے تاثر کی بھر پور نمائندگی کرتے ہیں:

’’…اس دس سال کے عرصہ میں میری پوری دنیا جماعت ہی کے چھوٹے سے حلقہ میں محدود رہی ہے. تعلقات اور دوستیاں‘ مجتییں اور الفتیں حتیٰ کہ رشتے داریاں تک اسی حلقہ میں محدود رہیں. بیٹھا اٹھنا بھی اسی میں رہا اور ہنسنا بولنا بھی اسی میں رہا. 
اب دفعتہ اس حلقہ سے نکلتے ہوئے دل و دماغ سخت صدمہ محسوس کر رہے ہیں. کتنے ہی بزرگوں سے مجھے والہانہ عقیدت ہے اور کتنے ہی ساتھیوں سے بے پناہ محبت ہے. جب میں سوچتا ہوں آج کے بعد شاید میرے بزرگ میری عقیدت کی قدر نہ کریں اور میرے دوست میری محبت پر اعتماد نہ کریں تو دل اندر سے پکڑا سا جاتا ہے. پھر میں یہ بھی جانتا ہوں کہ جماعت کے بہت سے بزرگ مجھ سے بزرگانہ شفقت کا اور کتنے ہی ارکان و متفق مجھ سے حقیقی محبت کا تعلق رکھتے ہیں. جب سوچتا ہوں کہ آج اپنے اس اقدام سے میں نہ معلوم کتنوں کے جذبات کو مجروح کروں گا تو اپنے ہی آپ میں ایک ندامت کا احساس بھی ہوتا ہے لیکن اس سب کے باوجود اس اقدام پر مجبورا اس لئے آمادہ ہو گیا ہوں کہ اب اس کے سوا اور کوئی چارۂ کار نظر نہیں آتا‘‘.

ماخوذ از ’’سر افگندیم‘‘ صفحہ ۱۲۴
اس کے ساتھ ہی آٹھ دس سال قبل کے بعض واقعات کی فلم بھی شعور کی سکرین پر چلنے لگی. مثلاً ۱۹۴۸ء کی ایک شام کا واقعہ کہ جب گوال منڈی میں دفتر کوثر سے ملحق چھت پر جماعت اسلامی لاہور کے ایک اجتماع کے دوران نمازِ مغرب کا وقت آ گیا اور مولانا مودودی مرحوم اور بعض دوسرے اکابر جماعت سمیت سب لوگ قریب کی ایک تنگ سی گلی میں واقع مسجد میں نماز کے لیے گئے تو راستے میں میرے بڑے بھائی اظہار احمد صاحب نے آپ سے میرا تعارف کرایا اور یہ الفاظ کہے کہ ’’اسے آپ سے بڑی محبت ہے‘‘ تو آپ بڑی شفقت اور محبت کے ساتھ گفتگو کرتے رہے. یا مثلاً یہ کہ دسمبر۱۹۵۱ء کے آخری دس ایام اور ۱۹۵۲ء کے موسم گرما کی تعطیلات کے پندرہ ایام کے دوران اسلامی جمعیت طلبہ کی تربیت گاہوں میں (جن میں‘ میں بحیثیت ناظم شریک تھا) آپ نے لٹریچر کا مطالعہ کرایا تو آپ سے بہت دلچسپ گفتگوئیں رہتی تھیں اور میں آپ کی شفقت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے آپ کو خاصا زچ کیا کرتا تھا‘ یا مثلاً آپ کی بے شمار تقریریں جو میں نے دس سال کے عرصے میں سنیں اور جن کی بنا پر میری یہ رائے بنی کہ آپ نے اپنی تقریر میں مولانا مودودی اور مولانا اصلاحی دونوں کے طرز خطاب کی خوبیوں کو جمع کر لیا ہے‘ یا مثلاً آپ کی بہت سی تحریریں جو میں نے پڑھیں بالخصوص وہ ’’اشارات‘‘ جو آپ نے مولانا مرحوم کی نظر بندی کے دوران تحریر فرمائے اور ان میں سے خاص طور پر وہ جن میں نظم جماعت کے تقاضوں‘ اور بالخصوص تنقید کے آداب و شرائط کی وضاحت فرمائی تھی‘ 
وقس علیٰ ہذا. 

اور اس کے ساتھ ساتھ آپ کے وہ بہت سے اشعار بھی کانوں میں رس گھولنے لگے جو میری لوحِ قلب پر نقش ہیں اور جن میں سے بعض میرے دروس و خطابات میں بارہا بے اختیار زبان پر آتے رہے ہیں: مثلاً ؎

اے آندھیو سنبھل کے چلو اس دیار میں
امید کے چراغ جلائے ہوئے ہیں ہم !

یا آپ کی شاہکار نظم ’’اٹھارہ سال‘‘ اور خاص طور پر اس کا یہ ’’دلدوز‘‘ شعر کہ ؎

وہ بد نصیب جو گر جائے اپنی آنکھوں سے
تم اپنی آنکھ پہ کیسے اسے بٹھاؤ گی !

… اسی طرح آپ کی شہدائے بالا کوٹ کے بارے میں نظم اور خصوصاً اس کا یہ بند 
ہیں بالا کوٹ کی مٹی کے ذرے‘ ہماری آرزوؤں کے مزارات
ہیں ہر ذرے کی پیشانی پہ منقوش‘ ہمارے عزم کے خونیں نشانات!
وغیرہ وغیرہ!

آپ کی اس تصویر کے پس منظر میں جس کا تانا بانا متذکرہ بالا تاثرات سے قائم ہوا تھا جب میں نے آپ کے خط کے مندرجات پر غور کیا تو حیرت ہوئی کہ آپ نے اپنی اس تحریر میں میرے بیان کردہ واقعے کی پوری توثیق فرمائی‘ اور اس کے ضمن میں میری کسی بات کی نفی نہیں کی‘ تو پھر ریکارڈ کی وہ ’’کجی‘‘ کونسی تھی جس کو آپ نے ’’درست‘‘ کرنے کی کوشش کی؟ میں آپ کا تہہ دل سے ممنون ہوں کہ آپ نے نہ صرف یہ کہ ’’درست‘‘ ریکارڈ کو ’’درست‘‘ ہی رکھا اور اس میں کوئی کجی پیدا نہ کی‘ بلکہ میرے اجمالی خاکے میں تفصیل کا مزید رنگ بھر کر میری بات کو مزید واضح اور میری ’’حجت‘‘ کو مزید محکم کر دیا! فجزاکم اللہ احسن الجزاء! میری حیرت اس بنا پر دو چند ہو جاتی ہے کہ اگرچہ میرے علم میں ہے کہ آپ کی صحت بالعموم اچھی نہیں رہتی‘ تاہم آپ ابھی بحمد اللہ اُس ’’ارذل العمر‘‘ کو نہیں پہنچے جس میں قوائے ذہنی مضمحل ہو جاتے ہیں‘ چنانچہ آپ کا حافظہ بھی ما شاء اللہ ابھی اس قدر قوی ہے کہ سترہ سال قبل کا مکالمہ آپ کو تفصیلاً یاد ہے. اندریں حالات آپ کی جانب سے اتنی غیر منطقی تحریر‘ یعنی چہ؟ 

۲۲؍ جولائی

مصروفیات کے ہجوم اور فرصت کی کمی کے باعث آج چار روز بعد دوبارہ قلم ہاتھ میں لے سکا ہوں. اور اس دعا کے ساتھ بات دوبارہ شروع کر رہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو میری مصروفیات پر ٹھنڈے دل سے غور کرنے کی توفیق عطا فرمائے.

خدا را ذرا غور فرمایئے کہ:
۱. آپ تسلیم فرماتے ہیں کہ قرآن کانفرنس میں شرکت کا دعوت نامہ لے کر میں خود آپ کی خدمت میں حاضر ہوا (یعنی ۷۳ء کی بات ہے جب ہم پہلی بار یہ کانفرنس منعقد کر رہے تھے). 

۲. آپ نے اس کی بھی نفی نہیں فرمائی کہ اس کے بعد بھی یہ دعوت نامہ مسلسل آپ کی خدمت میں ارسال کیا جاتا رہا‘ تا آنکہ آپ نے اس پر تحریری طور پر اظہارِ ناراضگی فرمایا. 

۳. آپ نے اس کی بھی نفی نہیں فرمائی کہ آپ کے ابتدائی انکار اور اس کے ضمن میں یہ دلیل پیش کرنے پر کہ تم مسلسل جماعت پر تنقید کر رہے ہو‘ میں نے عرض کیا تھا کہ کیا ولی خان‘ اصغر خان‘ مولانا نورانی وغیرہم جماعت پر شدید اور دل آزار تنقیدیں نہیں کرتے؟ تو اگر آپ سیاسی پلیٹ فارم پر اُن کے ساتھ جمع ہو سکتے ہیں تو قرآنی پلیٹ فارم پر میرے ساتھ کیوں نہیں بیٹھ سکتے؟ جس پر آپ نے زچ ہو کر فرمایا: ’’کہ میں جانتا تھا کہ آپ یہی دلیل پیش کریں گے!‘‘ تاہم جوابی دلیل کوئی پیش نہ کی!

اس سلسلے میں پندرہ سال بعد کی صورت حال بھی یہ ہے کہ خان عبد الولی خان صاحب نے جہاد افغانستان کو فساد فی الارض اور جماعت اسلامی کو امریکہ کا ایجنٹ قرار دیا. اس کے بعد بھی جماعت آئی جے آئی کے ناتے سی او پی 
(COP) میں اُن کی حلیف ہے آج سے پینتیس چھتیس سال قبل کی یہ بات بھی آپ کو یقینا یاد ہو گی کہ مولانا امین احسن اصلاحی برملا فرمایا کرتے تھے (جبکہ ابھی وہ خود جماعت میں شامل تھے) کہ ’’اہل مذہب ہمیں(یعنی جماعت کو) بہروپئے سمجھتے ہیں‘ اور اہل سیاست کے نزدیک ہم چغد ہیں !!‘‘ اس کے باوجود مسلسل تعاون اہل مذہب سے بھی رہا اور اہل سیاست سے بھی! تو پھر اس پوری زمین پر اس آسمان کے نیچے کیا کُل کا کُل بیر اور بغض میرے ہی لیے رہ گیا ہے؟
۴. اللہ تعالیٰ آپ کو جزا دے کہ آپ نے یاد دلا دیا کہ میں نے تو آپ کی شرکت کے لیے اجازت حاصل کرنے کے لیے امیر جماعت کے پاس حاضر ہونے کا ارادہ بھی ظاہر کیا. گویا میں نے تو اپنی حد تک ؏ ’’میں کوچۂ رقیب میں بھی سر کے بل گیا!‘‘ پر عمل کر کے آپ پر حجت قائم کر دی لیکن آپ نے خود ہی اپنے خلاف مزید حجت قبول کر لی. ورنہ اگر آپ مجھے نہ روکتے اور انکار امیر جماعت کی طرف سے ہوتا تو کم از کم آپ پر یہ الزام نہ آتا. جیسا کہ بعد میں سید اسعد گیلانی صاحب کے معاملے میں ہوا کہ انہوں نے ہماری ایک تربیت گاہ میں شرکت پر آمادگی ظاہر فرما دی تھی‘ یہ دوسری بات ہے کہ میاں طفیل محمد صاحب نے منع فرما دیا !

۵. اللہ آپ کو مزید جزا عطا فرمائے کہ آپ نے میرے حق میں‘ اور اپنے خلاف حجت بالائے حجت پیش فرما دی کہ میں نے تو آپ سے ؏ ’’سپراند اختیم اگر جنگ است!‘‘ پر عمل پیرا ہونے کے لیے آپ سے یہ بھی دریافت کیا کہ بتائیے میری جانب سے کس تحریر پر آپ مطمئن ہو سکتے ہیں؟ لیکن آپ نے اس سے بھی انکار کیا. مجھے اس سے ہرگز انکار نہیں ہے کہ عین ممکن ہے کہ میں آپ کی تجویز کردہ تحریر قبول نہ کر سکتا اس لیے کہ میں صرف مخالفت برائے مخالفت یا خواہ مخواہ کی محاذ آرائی کے تاثر کو ختم کرنے والی عبارت کو تو قبول کر سکتا تھا‘ اپنے حق اختلاف سے دست برداری اختیار نہیں کر سکتا تھا! تاہم اول تو ضروری نہیں تھا کہ یہی صورت پیش آتی‘ اس لیے کہ آپ بھی میرے حق اختلاف کی تو نفی نہیں کر سکتے تھے‘ بصورت دیگر بھی حجت مجھ پر قائم ہوتی نہ کہ ’’حجت بالائے حجت‘‘ کے طور پر آپ پر !!

حاصل کلام یہ کہ میں اس پر تو اللہ کا شکر اور آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے سیدھے ریکارڈ کو نہ صرف یہ کہ کج نہیں کیا بلکہ مزید سیدھا کر دیا لیکن ’’محو حیرت ہوں‘‘ کہ آپ نے یہ خط کس مقصد سے لکھا؟ اور اس سے کیا حاصل کیا؟؟ 

رہی آپ کے موقف کی اصل اساس اور آپ کے خط کا وہ ’’محور‘‘ جس کے گرد پوری تحریر گھوم رہی ہے‘ یعنی آپ کے نزدیک میرا جماعت کے خلاف مخالفت کا ’’کھیل‘‘ اور ’’تصادم‘‘ کا رویہ تو اس کے ضمن میں بھی اختصار کے ساتھ چند باتیں پیش خدمت ہیں‘ ذرا تحمل سے غور فرمائیں:
اولاً ذرا اپنے طرز خطاب پر نظر ثانی فرمائیں گویا ؎

آپ ہی اپنی اداؤں پہ ذرا غور کریں
ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہو گی !

ثانیاً مجھے تسلیم ہے کہ ؏ ’’مردی و نا مردی قدمے فاصلہ دارد!‘‘ کے مصداق اختلاف اور مخالفت کے مابین فصل و بُعد بہت کم ہے لیکن میں چیلنج کرتا ہوں کہ سوائے اس کے کہ ایک خاص دَور میں اظہار اختلاف کے پیرایہ ’’بیان‘‘ اور اس کے ضمن میں الفاظ کے انتخاب میں میری جانب سے شدت ہوئی ہے (جس کا بارہا علیٰ رؤس الاشہاد اعتراف اور اعلان کر چکا ہوں) مجھے بتایا جائے کہ: (i) کیا میں نے کبھی ملانا مودودی مرحوم یا اُن کے اہل خانہ‘ یا جماعت کے کسی بھی دوسرے رہنما یا کارکن کے ذاتی کردار یا خانگی زندگی پر کوئی حملہ کیا؟ (ii) کیا میں نے جماعت اسلامی کے خلاف کسی برسر اقتدار شخصیت یا جماعت اور اس کی سیاسی میدان میں کسی حریف جماعت کے ساتھ گٹھ جوڑ کیا؟ میاں محمد یاسین وٹو موجود ہیں‘ ان سے پوچھ لیا جائے کہ کیا سابق صدر ایوب مرحوم اور نواب کالاباغ مرحوم کی ایک مجلس میں جماعت اسلامی کی مخالفت کے لیے آلہ ٔ کار کے طور پر استعمال کرنے کے ضمن میں جب بعض دوسری شخصیات کے ساتھ مولانا امین احسن اصلاحی اور میرا نام لیا گیا تو اس مجلس میں یہ بات نہیں کی گئی کہ ان دونوں کو دوسروں پر قیاس نہ کیا جائے! شاید لاہور ٹیلی وژن کے عملے میں کوئی صاحب گواہی دے سکیں کہ بھٹو صاحب کے زمانے میں جب جماعت کی کردار کشی کے لیے بعض علماء کرام کی خدمات حاصل کی گئیں اور اس ضمن میں جماعت کے ’’سابقون الاولون‘‘ میں سے بھی ایک صاحب سکرین پر آئے‘ اس وقت جب مجھ سے رابطہ قائم کیا گیا اور میری جانب سے انکار پر اصرار میں یہاں تک کہا گیا کہ آپ 
اپنے دین و ایمان کی روسے جو بات صحیح سمجھتے ہیں وہی کہیں‘ ہم کوئی قطع و برید نہیں کریں گے بلکہ Live Telecast کر دیں گے تو میں نے جواباً کہا کہ میں حب علیرضی اللہ عنہ کا قائل ہوں‘ بغض ِ معاویہرضی اللہ عنہ کا نہیں!! میں اپنا اختلاف اپنے طور پر بیان کر رہا ہوں. اس کو کسی دوسرے کی تقویت کا ذریعہ نہیں بنا سکتا! خدا را سوچئے کہ کیا مخالفت کا ’’کھیل‘‘ کھیلنے والوں کا طرز عمل یہی ہوتا ہے !!

ثالثاً جس طرح نادانستہ طور پر آپ ریکارڈ کو سیدھا کرنے کی کوشش میں اپنے آپ پر الزام در الزام لیتے چلے گئے‘ اسی طرح ‘ معاف فرمایئے آپ نے مجھے مشورے دیتے ہوئے بعض بہت ہلکی اور جماعت کے اصل موقف کے صریحاً خلاف باتیں ارشاد فرما دی ہیں جن پر اگر آپ خود بھی دوبارہ غور کریں تو یقینا ندامت محسوس کریں گے. 

خدا را غور فرمایئے کہ: (i) کیا ’’اقامت دین کی جدو جہد‘‘ آپ کا 
Exclusive پلیٹ فارم ہے؟ جس پر کسی اور کی موجودگی آپ کو گوارا نہیں. اور کیا آپ بھی اس پلیٹ فارم کو اسی انداز میں صرف اپنے گروہی مفادات کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں جیسے کہ بعض دوسرے لوگ اپنے اپنے مخصوص پلیٹ فارموں کو کر رہے ہیں؟ میرے نزدیک تو نہ صرف یہ کہ یہ جماعت کے موقف کے بالکل خلاف ہے بلکہ اس خلوص اور اخلاص کے بھی منافی ہے جو ؏ ’’محبت چوں جواں گردو‘ رقابت از میاں خیزد!‘‘ کا تقاضا کرتا ہے. (ii) مزید برآں یہ طرز عمل اس حدیث نبوی کے بھی صریحاً خلاف ہے جس میں نہایت تاکیدی انداز میں فرمایا گیا کہ: ’’لا یومن احدکم حتی یحب لاخیہ ما یحب لنفسہ‘‘. (iii) ذرا اپنے دل میں جھانک کر دیکھئے کہ کیا آپ واقعتا دین کی صرف علمی خدمت یا خدمت خلق کے کاموں کو اقامت دین کی اجتماعی جدو جہد کے برابر سمجھتے ہیں؟ (’’اَجَعَلْتُمْ سِقَایَۃَ الْحَاجِّ…‘‘) 

اسی طرح کیا آپ اور تحریک اسلامی کے جملہ کارکنان‘ جماعت اسلامی سے علیحدگی اختیار کرنے والے جملہ اکابر (مثلاً مولانا اصلاحی‘ مولانا عبد الغفار حسن‘ مولانا عبد الرحیم اشرف‘ وغیرہم) پر یہ الزام عائد نہیں کرتے کہ انہوں نے جماعت سے علیحدہ ہو کرمحض 
جزوی‘ علمی یا تعلیمی و تدریسی مساعی پر کیوں اکتفا کر لیا؟ اور کیوں نہ اقامت دین کی جدو جہد کے لیے اپنے پسندیدہ طریق کار کے مطابق اجتماعی جدو جہد کی ’’کٹھن‘‘ راہ اختیار کی؟ پھر یہ کیسا طرز عمل ہے کہ ایک کام انہوں نے نہیں کیا تو وہ بھی مجرم اور میں کرنے کی کوشش کروں تو میں بھی مجرم؟ اور یہ کیسا استدلال ہے کہ چت بھی اپنی اور پٹ بھی اپنی. 

محسو س ایسا ہوتا ہے کہ آپ حضرات انتخابی سیاست کی بھول بھلیوں میں ؏ ’’کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گم ہے!‘‘ کے مصداق اتنے گم ہو چکے ہیں کہ اپنی اصل اور اساسی دعوت کو بالکل بھول گئے. اگر برا نہ مانیں تو ذرا مولانا مودودی مرحوم کے مشہور اور مقبول پمفلٹ ’’شہادتِ حق‘‘ کا دوبارہ مطالعہ فرما لیں. خصوصاً اس کے (اسلامک پبلی کیشنر کے شائع کردہ چوالیسویں ایڈیشن کے) صفحات ۲۵ تا ۲۹ کا. شاید کہ آپ ’’وزدرونِ من نہ جُست اسرارِ من‘‘ کے جس طرح عمل کے میرے بارے میں مرتکب ہو رہے ہیں اس پر آپ کو تنبّہ حاصل ہو جائے. 
و ما ذالک علی اللہ بعزیز !! 

فقط و السلام مع الاکرام
دعا کا طالب
خاکسار اسرار احمد عفی عنہ
پس نوشت:

۱. الحمد للہ کہ میں نے کبھی بھی ’’دعوت رجوع الی القرآن‘‘ کو اپنا مخصوص 
(Exelusive) پلیٹ فارم نہیں سمجھا. اور اس پر اپنے ’’مخالفین‘‘ تک کو شریک کر کے خود اپنے آپ پر محض تنقید ہی نہیں‘ طنز و استہزاء کا بھی موقع دیا. 

۲. میں نے مولانا مودودی مرحوم کی شہادت حق والی دعوت کو شعوری طور پر قبول کر کے اپنی زندگی کا رخ تبدیل کیا تھا اور اس کے لیے میڈیکل پریکٹس کو تو اگرچہ میں نے ۱۹۷۱ء میں ترک کیا‘ لیکن اصل ’’پروفیشن‘‘ کو میں نے ۱۹۵۱ء ہی میں خیر باد کہہ دیا تھا. ورنہ مجھے اگر صرف خدمت خلق کے ذریعے دین کا کام کرنا ہوتا‘ یا جماعت کی صرف پیسے سے مدد کرنی ہوتی تو میرا پروفیشن اس کا بہترین ذریعہ بن سکتا تھا. اسی 
طرح اگر میں کوئی علمی کام کرتا تو سائیکالوجی کے میدان میں کرتا جس سے مجھے طبعی مناسبت تھی. لیکن میں نے دعوتِ دین‘ شہادت علی الناس اور اقامت دین کے لیے اجتماعی جدو جہد کی دعوت کو شعوری طور پر قبول کیا تھا‘ اور آج کے دن تک بحمد اللہ اس پر کاربند و گامزن ہوں.

۳. آپ نے اثنائے ملاقات میں میرے سامنے میرے بعض ہم عصر اور ہم عمر ساتھیوں کا بھی تذکرہ کیا تھا‘ تو اس ضمن میں نوٹ کر لیجئے کہ آرٹس اور 
Humanities کے طلبہ کے لیے تو تحریکی اور سیاسی سرگرمی ان کے پیشے کے لیے مفید اور مؤید ہوتی ہے لیکن سائنس اور ٹیکنالوجی کے طلبہ کے لیے ایسی سرگرمی اپنے پروفیشن کو چھوڑے بغیر ممکن نہیں ہوتی!

٭٭٭ 

(نوٹ: مولانا مودودی مرحوم کی تقریر ’’شہادتِ حق‘‘ کا محولہ بالا اقتباس اگلے صفحے پر ملاحظہ فرمائیں)