’’اولی الامر‘‘ کی اطاعت

حکم اور اطاعت ہی کے ضمن میں ایک اہم بات یہ ہے کہ اللہ اور رسول کی اطاعت کے بعد ’’اولی الامر‘‘ کی اطاعت کا معاملہ آتا ہے. چنانچہ فرمایا گیا: 

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ وَ اُولِی الۡاَمۡرِ مِنۡکُمۡ ۚ فَاِنۡ تَنَازَعۡتُمۡ فِیۡ شَیۡءٍ فَرُدُّوۡہُ اِلَی اللّٰہِ وَ الرَّسُوۡلِ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ ؕ (النساء:۵۹
’’اے ایمان والو! اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور والیانِ امر کی جو تم میں سے ہوں. پھر اگر باہم جھگڑپڑو کسی چیز میں تو اس کو لوٹا دو اللہ اور رسولؐ کی طرف اگر یقین رکھتے ہو اللہ پر اور آخرت کے دن پر.‘‘

یہ آیت مبارکہ اس اعتبار سے قرآن حکیم کی اہم ترین آیات میں شمار ہوتی ہے کہ اسلامی ریاست کے اندر جو دستوری اور قانونی نظام قائم کیا جائے گا اس کے لیے راہنمائی کا یہ گویا سب سے بڑا مخزن اور منبع و سرچشمہ ہے. اللہ کی اطاعت اور رسولؐ کی اطاعت کے بارے میں تو ہم گفتگو کر چکے ہیں‘ یہاں اب اولی الامر کی اطاعت کے معاملے کو تھوڑا سا تجزیہ کر کے سمجھ لیا جائے. 

اطاعت کی دو لازمی شرائط

(۱) سب سے پہلی بات یہ کہ یہاں ’’اُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ‘‘ کے الفاظ آئے ہیں‘ یعنی اولی الامر جو خود تم (مسلمانوں) میں سے ہوں. حاکم اور والی ٔامر اگر غیر مسلم ہو تو وہ ان الفاظ کا مصداق نہیں ہو گا اور ایسے حاکم کی اطاعت اگر طوعِ خاطر سے کی جائے گی تو اس سے اسلام کی نفی ہو جائے گی. غیر مسلم حاکم کی اطاعت مجبوراً تو کی جاسکتی ہے‘ برضا و رغبت نہیں! امثال کے طور پر اگر کسی غیر مسلم حکمران نے مسلمانوں کا کوئی علاقہ بزورِ شمشیر فتح کر لیا ہویا کسی نے کسی مسلمان کو جبراً گرفتار کر کے غلام بنا لیا ہو‘ جیسے افریقہ سے ہزاروں مسلمانوں کو جبری طور پر غلام بنا کر لوہے کی زنجیروں میں جکڑ کر امریکہ لے جایا گیا‘ تو ایسی صورت میں ایک مسلمان ایک غیرمسلم کی اطاعت پر مجبور ہے لیکن درحقیقت اصل اطاعت جو طوعِ خاطر سے کی جائے اس کے لیے ’’مِنْکُمْ‘‘ شرطِ لازم ہے.

(۲) جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا‘ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت مستقل بالذات ہے‘ لیکن اولی الامر کی اطاعت اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کے تابع اور اس سے مشروط ہے. یہ اطاعت کبھی بھی غیر مشروط نہیں ہو سکتی‘ بلکہ ہمیشہ سے مشروط رہی ہے اور ہمیشہ مشروط ہی رہے گی. 

’’اولی الامر‘‘ کون ہیں؟

سوال پیدا ہوتا ہے کہ اولی الامر کون ہیں؟ ہم اس کا بھی تجزیہ کرتے ہیں. اولی الامر معاشرتی نظام میں بھی ہیں اور سیاسی نظام میں بھی. چنانچہ گھر کا سربراہ اپنے گھر کے لیے والی ٔامر ہے. اسی طرح معاشرتی نظام میں ہر جگہ درجہ بدرجہ ہر شخص کی جو بھی حیثیت ہے‘ اس کے اعتبار سے وہ اپنے دائرے کے اندر صاحب ِ امر ہے. لہذا اطاعت کا سلسلہ صرف حاکم ِ اعلیٰ تک محدود نہیں سمجھنا چاہیے. بیوی کے لیے شوہر والی ٔامر ہے‘ جیسا کہ قرآن حکیم میں ارشاد ہوا: ﴿فَالصّٰلِحٰتُ قٰـنِتٰتٌ﴾ (النساء:۳۴کہ نیک بیویاں وہی ہیں جو اپنے شوہروں کی فرمانبردار ہیں. بیوی کے لیے شوہر کے ہر حکم کی اطاعت لازم ہے‘ اِلا یہ کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت سے متصادم ہو. ایسی صورت میں لَا طَاعَۃَ لِمَخْلُوْقٍ فِیْ مَعْصِیَۃِ الْخَالِقِ کا ابدی اصول مدنظر رکھا جائے گا. 

مزید برآں‘ ماتحت امراء کا شمار بھی اولی الامر میں ہوتا ہے. ایسے امراء رسول اللہ کے زمانے میں بھی ہوتے تھے‘ جیسے کہیں کوئی لشکر بھیجا جاتا تو اس کا کسی کو سپہ سالار مقرر کیا جاتا‘ کہیں کوئی چھوٹا دستہ بھیجا جاتا تو اس میں بھی کسی کو امیر بنایا جاتا. اس ضمن میں میں چاہتا ہوں کہ حضور کی حیاتِ طبیہ کے دو واقعات آپ کے سامنے آ جائیں. غزوۂ اُحد میں ۳۵ حضرات کی طرف سے اپنے امیر حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کی حکم عدولی کا واقعہ بہت مشہور ہے. انہیں رسول اللہ نے پچاس تیر اندازوں کا امیر مقرر کر کے ایک درّے پر متعین کیا تھا اور ان حضرات کو حکم دیا تھا کہ آپ 
لوگ اس درّے کو مت چھوڑیں خواہ ہمیں شکست ہو جائے‘ ہم سب قتل ہو جائیں اور آپ لو گ دیکھیں کہ پرندے ہمارا گوشت نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں. ان حضرات نے جب اپنے لشکر کو فتح سے ہمکنار ہوتے اور دشمن کو راہِ فرار اختیار کرتے دیکھا تو درّے کو چھوڑ کر جانے لگے‘ کیونکہ ان کے خیال میں حضور نے درّے کو نہ چھوڑنے کاجو حکم دیا تھا وہ شکست کی صورت میں تھا. لوکل کمانڈر حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ انہیں روکتے رہے‘ لیکن ان پچاس میں سے ۳۵ صحابہ کرامؓ درّے کو چھوڑ گئے. ماتحت امیر کے حکم کی خلاف ورزی کی سزا اللہ تعالیٰ کی طرف سے فوری طو ر پر یہ دی گئی کہ جیتی ہوئی جنگ کا پانسہ پلٹ دیا گیا. سورۂ آل عمران میں اس کا نقشہ یوں کھینچا گیا ہے: 

وَ لَقَدۡ صَدَقَکُمُ اللّٰہُ وَعۡدَہٗۤ اِذۡ تَحُسُّوۡنَہُمۡ بِاِذۡنِہٖ ۚ حَتّٰۤی اِذَا فَشِلۡتُمۡ وَ تَنَازَعۡتُمۡ فِی الۡاَمۡرِ وَ عَصَیۡتُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ مَاۤ اَرٰىکُمۡ مَّا تُحِبُّوۡنَ ؕ (آیت ۱۵۲
’’اور اللہ نے تو تمہیں اپنا وعدہ سچ کر دکھایا تھا جب تم انہیں اس کے حکم سے گاجر مولی کی طرح کاٹ رہے تھے. یہاں تک کہ تم ڈھیلے پڑے اور تم نے نظم کو توڑا اور تم نے نافرمانی کی‘ بعد اس کے کہ میں تم کو وہ چیز دکھا چکا جو تمہیں بہت محبوب ہے( یعنی فتح)‘‘.

یہاں نافرمانی سے مراد رسول اللہ کی نافرمانی نہیں‘ بلکہ ماتحت کمانڈر کی نافرمانی ہے‘ کیونکہ رسول اللہ کے حکم کی تو انہوں نے تاویل کر لی تھی.

اسی طرح ایک بار رسول اللہ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا ایک دستہ کہیں بھیجا اور ان میں سے ایک صاحب کو اس کا امیر مقرر کیا.یہ صاحب ذرا جلالی مزاج کے مالک تھے‘ کسی بات پر اپنے ساتھیوں سے ناراض ہو گئے اور یہ ناراضگی اس حد تک پہنچی کہ انہوں نے اپنے ساتھیوں کو ایک بہت بڑا گڑھا کھودنے کا حکم دیا. جب انہوں نے گڑھا کھود دیا تو ان سے کہا کہ اس کے اندر لکڑیاں جمع کرو. لکڑیاں جمع کر دی گئیں تو انہیں آگ لگانے کا حکم دیا. جب آگ بھڑک اٹھی تو ساتھیوں سے فرمایا کہ اب اس آگ کے اندر کود جاؤ! اس پر ساتھیوں نے کہا کہ اس آگ سے بچنے کے لیے تو ہم نے محمد( ) کا دامن تھاما ہے‘ ہم اس میں داخل ہونے کو توتیار نہیں ہیں. جب واپس آ کر یہ معاملہ 
رسول اللہ کے سامنے پیش کیا گیا تو حضورؐ نے ان کی تصویب کی اور فرمایا کہ اگر یہ لوگ اپنے اس امیر کا حکم مان کر آگ میں کود پڑتے تو ہمیشہ آگ ہی میں رہتے. اس لیے کہ یہ خود کشی ہوتی جس کی سزا خلود فی النار ہے. چنانچہ ماتحت امراء کی اطاعت رسول اللہ کے زمانے میں بھی اللہ اور رسول کے حکم کے تابع تھی‘ اس دائرے سے خارج نہ تھی اور آپؐ کے بعد بھی یہ اللہ اور رسولؐ کی اطاعت کے ساتھ مشروط رہے گی.