دین میں ’’سمع و طاعت‘‘ کا مقام


اس ضمن میں اب ہم اس سورۂ مبارکہ کی آیت ۱۶ کا مطالعہ کرتے ہیں:
فَاتَّقُوا اللّٰہَ مَا اسۡتَطَعۡتُمۡ وَ اسۡمَعُوۡا وَ اَطِیۡعُوۡا وَ اَنۡفِقُوۡا خَیۡرًا لِّاَنۡفُسِکُمۡ ؕ وَ مَنۡ یُّوۡقَ شُحَّ نَفۡسِہٖ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴿۱۶﴾ (التغابن) 
’’پس اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اپنی امکانی حد تک‘ اور سنو اور اطاعت کرو‘ اور خرچ کرو اپنے بھلے کے لیے. اور جو کوئی بچا دیا گیا اپنے جی کے لالچ سے تو یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں.‘‘

سور ۃ التغابن کے دوسرے رکوع کی پہلی پانچ آیات (۱۱.۱۵) کے بارے میں یہ بات بیان ہو چکی ہے کہ ان میں ثمراتِ ایمانی کا بیان آیا ہے‘ جن میں سے چار آیات کا تعلق فکر و نظر کی تبدیلی سے ہے‘ جبکہ صرف ایک آیت عمل سے متعلق ہے‘ جس پر ہم نے تفصیل سے گفتگو کی ہے. اس کے بعد آیت ۱۶ سے زوردار دعوتِ عمل دی جا رہی ہے. صرف ایک لفظ 
’’فَاتَّقُوا اللّٰہَ‘‘ میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایمان باللہ اور ایمان بالآخرۃ دونوں کو سمو لیا گیا ہے اور اس کے بعد سارا زور دعوتِ عمل اور اس میں بھی خاص طور پر اطاعت پر ہے. چنانچہ اس کے ضمن میں فرمایا گیا: ’’وَاسْمَعُوْا وَاَطِیْعُوْا‘‘ (سنو اور اطاعت کرو!) اطاعت کے ضمن میں اگرچہ اس سے پہلے پوری ایک آیت گزر چکی ہے‘ جس پر ہم تفصیلی گفتگو کر چکے ہیں‘ لیکن اس آیہ ٔمبارکہ میں بھی ’’وَاسْمَعُوْا وَاَطِیْعُوْا‘‘ کے الفاظ میں اطاعت کی زوردار دعوت ہے. ان الفاظ کے حوالے سے چار باتیں ذہن نشین کرنے کے قابل ہیں.