جنرل محمد یحییٰ خان کا مارشل لاء

مئی ۱۹۶۹ء
ملک میں مارشل لاء کو نافذ ہوئے سوا مہینہ ہوگیا ہے اور اس عرصے میں وہ گومگو کی سی کیفیت اور غیر یقینی سی صورتحال ختم ہوچکی ہے جو کسی اچانک تبدیلی کے بعد کچھ عرصہ تک فطری طور پر طاری رہتی ہے. اس دوران میں نہ صرف یہ کہ حالیہ فوجی حکومت کے ذمہ دار حضرات نے قوم کو بار بار یہ اطمینان دلایا ہے بلکہ اب تو ان کے طرزِ عمل سے بھی بہت حد تک ثابت ہوگیا ہے کہ نہ وہ کوئی سیاسی عزائم رکھتے ہیں اور نہ ہی اپنے دور اقتدار کو غیر ضروری طول دینے کے خواہش مند ہیں بلکہ ان کا مقصد محض ایک ایسی صورتحال کو جو بالکل بے قابو ہوئی جا رہی تھی ‘قابو میں لانا اور ملک کی سیاسی زندگی کی گاڑی کو ازسرِ نو صحیح پٹڑی پر ڈالنا ہے. واقعہ یہ ہے کہ یہ امر انتہائی اطمینان بخش ہے اور موجودہ فوجی قیادت اس پر پوری قوم کے تشکر و امتنان کی مستحق ہے.

اس اعتبار سے دیکھا جائے تو حالیہ مارشل لاء گزشتہ مارشل لاء سے بہت مختلف ہے جو بڑی آن بان کے ساتھ ملک وملت کے جملہ عوارض و امراض کی مسیحائی کے دعوے کے ساتھ آیا تھا اور جس نے صرف ایک نیا تنظیمی ڈھانچہ ہی نہیں بلکہ ایک مکمل جدید سیاسی فلسفہ اور مختلف عمرانی معاملات حتیٰ کہ دینی و مذہبی مسائل میں بھی ایک نیا انداز فکر قوم پر مسلط کرنے کی کوشش کی تھی حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ سارے معاملات مارشل لاء کے فطری دائرہ کار سے باہر ہیں. مارشل لاء کبھی کسی قوم یا ملک کے امراض و عوارض کا مستقل اور پائیدار علاج نہیں بن سکتا. اس کی مثال زیادہ سے زیادہ ان فوری اور سریع الاثر مگر خالص وقتی اور عارضی افاقہ بخش ادویہ کی سی ہے جو کسی مرض کی بحرانی کیفیت میں فوری خطرے کو ٹالنے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں. 

ہم ان صفحات میں اس سے قبل بھی عرض کر چکے ہیں اور اب پھر اس کا اعادہ کرتے ہیں کہ دیانت دار اور باضمیر سیاسی کارکنوں‘منظم و محکم سیاسی جماعتوں اور مسلسل اور پیہم سیاسی سرگرمی کا فقدان ہماری قومی و ملی زندگی کا ایک مہیب اور خطرناک خلا ہے جسے لازماً پر کیا جانا چاہیے. اب 
ظاہر ہے کہ یہ خلا اگر پرہو سکتا ہے تو سیاسی سرگرمی ہی سے ہوسکتا ہے‘ کوئی دوسری چیز اس کا بدل نہیں بن سکتی اور مارشل لاء ہر گز اس خلاء کو پر نہیں کرسکتا. مارشل لاء زیادہ سے زیادہ یہی کرسکتا ہے کہ ملک کی انتظامی مشینری کو پوری رفتار سے حرکت میں لے آئے ‘سستی اور کاہلی کا قلع قمع کر دے‘سرکاری دفاتر اور عدالتوں میں جمع شدہ کام تیزی سے پورا کرادے‘دھاندلی اور غنڈہ گری کا سدباب کر دے‘شہری زندگی کی بد عنوانیوں کا خاتمہ کرا دے اور سرکاری واجبات کی وصولی کافوری بندوبست کر دے. اور الحمد للہ کہ یہ سارے کام پورے زور شور کے ساتھ اس وقت جاری ہیں. رہا ملک اور قوم میں فکری و نظریاتی ہم آہنگی پیدا کرنا اور ملک و ملت کو ایک جذبہ تازہ دے کر سرگرمِ عمل کرنا تو ظاہر ہے کہ نہ کسی فوجی حکومت سے اس کی توقع کی جاتی ہے اور نہ ہی خدا کاشکر ہے کہ ان معاملات میں موجودہ فوجی قیادت نے بلند بانگ دعاوی کے ساتھ کسی لمبی چوڑی مہم کا آغاز ہی کیا ہے. خدا کرے کہ یہ صورتحال برقرار رہے اور صدر مملکت آغامحمد یحییٰ خان اپنی ذمہ داریوں میں اضافہ کرنے کی بجائے جلد از جلد ان سے سبکدوش ہونے کی کوشش کریں.

بد قسمتی سے ہمارے یہاں ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے جو ایک طرف تو ہر چڑھتے سورج کی پرستش کو اپنا فرض عین سمجھتے ہیں اور دوسری طرف ہر اس شخص کو جو کسی وقت کسی طرح برسر اقتدار آجائے ‘قوت و اقتدار کے نشے میں مست کرکے اس کے ذریعے اپنا اُلو سیدھا کرنے میں بھی ید طولیٰ رکھتے ہیں.ایسے لوگ سروسز میں بھی کثرت سے ہیں اور پرانے زمینداروں اور نئے صنعت کاروں میں بھی. حال ہی میں ان کی صفوں میں کچھ سرگرمی کے آثار بھی نظر آئے ہیں. خدا کرے کہ موجودہ فوجی قیادت ایسے لوگوں کے منحوس اثرات سے محفوظ رہے اور کم سے کم مدت میں ان نازک ذمہ داریوں سے عہد برآ ہوکر جو اس وقت اس کے کاندھوں پر آ گئی ہیں ‘اپنی تمام تر توجہات اور مساعی کو اپنی اصل اور مستقل ذمہ داری یعنی دفاعِ وطن عزیز پر مرکوز کردے.

مارشل لاء کے نفاذ سے قبل مسلسل پانچ چھ ماہ سے جو ہنگامی صورتحال پورے ملک پر طاری چلی آ رہی تھی اس کے یک لخت خاتمے سے جو پرسکون کیفیت پیدا ہوئی اس میں ملک و ملت کے بہی 
خواہوں میں سے بہت سے اصحاب فکر و نظر نے ان عوامل کا سراغ لگانے کی کوشش کی ہے جن کے نتیجے میں ہمارے یہاں سیاسی عدم استحکام اور فکری و نظریاتی انتشار پیدا ہوا ہے اور یومًا فیومًابڑھتا چلا جا رہا ہے. چنانچہ اخبارات و رسائل میں بہت سے عمدہ مضامین اس موضوع پر شائع ہوئے ہیں جن سے یہ تو ضرور معلوم ہوتا ہے کہ قوم کے اصحابِ فکر و نظر اس امر کی ضرورت شدت کے ساتھ محسوس کرتے ہیں کہ قوم میں فکر و نظر کی وہی یک جہتی اور جذبہ و عمل کی وہی ہم آہنگی دوبارہ پیدا کی جائے جو آج سے تقریباً ربع صدی قبل کچھ عرصے کے لیے ملت اسلامیہ پاک و ہند میں پیدا ہوئی تھی اور جس کے نتیجے کے طور پر پاکستان وجود میں آیا تھا. لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس سوال کا کوئی جواب نہیں ملتا کہ اُس وقت وہ کیفیت کیوں اور کن اسباب و عوامل سے پیدا ہوئی تھی اور آج اسے کیونکر پیدا کیا جا سکتا ہے!مبہم طور پر یہ کہہ دینا کہ اُس وقت بھی وہ جذبہ اسلام کی بنیاد پر پیدا ہوا تھا اور آج بھی اسے اسلام ہی کی بنیاد پر دوبارہ پیدا کیا جا سکتا ہے‘ شاعری میں تو شاید روا ہو لیکن ملک و ملت کے ٹھوس مسائل سے بحث کرنے والی سنجیدہ علمی تحریروں کے شایانِ شان نہیں …اس لیے کہ اس کے معاًبعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر وہ سب کچھ اسلام ہی کی بنیاد پر تھا تو بعد میں وہ ختم کیوں ہوگیا جبکہ اسلام سے نہ اس قوم کے عوام منحرف ہوئے نہ خواص بلکہ کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں بتایا جا سکتا جو یہاں کبھی کسی حیثیت سے برسرِ اقتدار رہا ہو اور اٹھتے بیٹھتے اسلام کا کلمہ نہ پڑھتا رہا ہو اور اپنے جملہ مسائل و مشکلات کا حل اسلام ہی میں نہ بتاتا رہا ہو. 

ہمارے یہاں ’’اسلام!‘‘… ’’اسلام!‘‘اور ’’پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ ‘‘کے نعرے اِس وقت جس زور شور کے ساتھ لگ رہے ہیں‘ویسے تو ہمارے لیے وہ ہر حال میں خوش آئند ہیں اور ہم بہر صورت انہیں خوش آمدید کہتے ہیں‘لیکن ہمیں افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج سے ربع صدی قبل کسی محکم اور پائیدار اساس کے بغیر محض ہوا میں ان نعروں کی گونج پیدا کرکے مسلسل بائیس سال تک ہم جس طرح ان کی مٹی پلید کرتے آئے ہیں‘ ہمیں خدشہ ہے کہ آج جس انداز سے یہ نعرے لگ رہے ہیں اس کے تیور بتا رہے ہیں کہ مستقبل میں ان کی حرمت کو کچھ اور بھی زیادہ ہی بٹا لگایا جائے گا اور ان مقدس الفاظ کی رسوائی پہلے سے بھی کچھ زائد ہی ہوگی. اس کا تھوڑا سا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اُس وقت جو جلوس یہ نعرے لگاتے تھے ا ن میں شامل 
خواتین کی اکثریت باپردہ اور برقع پوش ہوتی تھی جبکہ آج وہ نوجوان لڑکیاں ان کی علمبردار ہیں جو پردے اور برقعے کی قید سے بالکل آزاد ہوچکی ہیں اور نیم عریاں ٹیڈی لباس میں ملبوس ہیں. ؏ ’’قیاس کن زگلستان من بہار مرا!‘‘

ہمارے یہاں اس وقت جن اصحابِ قلم و قرطاس نے اسلام کی دہائی دی ہے ان میں سے کچھ تو وہ ہیں جو سوشلزم کے ہوے سے خوف زدہ ہوکر اسلام کی پناہ گاہ کی جانب رجوع کرنے پر مجبور ہوئے ہیں اور جن کے دین و مذہب سے تازہ شغف کی حقیقت اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ ؏ ’’جب دیا رنج بتوں نے تو خدا یا دآیا!‘‘

ان کو ایک طرف رکھتے ہوئے بعض ایسے حضرات کا حال بھی ‘جن کے خلوص اور اخلاص کے ہم بھی معترف ہیں اور جن کے بارے میں ہم یہ جانتے ہیں کہ وہ اسلام کے قدیم شیدائی و فدائی ہیں‘یہ ہے کہ خود ان کا مسجد سے کوئی رشتہ و تعلق نہیں اور ان کی جوان لڑکیاں بے پردہ گھومتی اور ’’قتالہ عالم ‘‘کا لقب پاتی ہیں. 
اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ! 

خدا کے لیے حقائق کا مواجہہ کرنا سیکھئے! حقائق سے گریز محض خود فریبی ہے‘اس سے نہ یہ ارض و سماء دھوکا کھاتے ہیں نہ خالق ارض و سماوات اور 
وَ مَا یَخۡدَعُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡفُسَہُمۡ کے سوا اور کچھ حاصل نہیں ہوتا.واقعہ یہ ہے کہ اسلام سے تو پوری امت مسلمہ بحیثیت مجموعی کب کی دستبردار ہوچکی. دین و مذہب کے ساتھ اس کا مخلصانہ رشتہ استوار ہوتا تو یہ عالمگیر ذلت و رسوائی سے دوچار ہی کیوں ہوتی. غلطی اَنۡتُمُ الۡاَعۡلَوۡنَ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۳۹﴾ میں نہیں‘امت کے دعویٰ ایمان میں ہے. ؎

میرؔ کے دین و مذہب کی کیا پوچھو ہو جی‘ان نے تو
قشقہ کھینچا‘دیر میں بیٹھا‘کب کا ترک اسلام کیا

مدت مدید گزری کہ اسلام کا شجرہ طیبہ بیخ و بن سے اکھڑ چکا اور اب از سر نو تخم ریزی و آبیاری کا محتاج ہے. دین و مذہب کی عمارت محض شکستہ ہی نہیں ہوئی کہ ادھر اُدھر کی مرمت سے کام چل جائے‘یہ عظیم تعمیر کبھی کی زمین بوس ہوچکی . اگرچہ اس کے کھنڈر اب بھی اس کی عظمت رفتہ کے شاہد ہیں‘تاہم اب ضرورت بالکل بنیاد سے از سر نو تعمیر کی ہے اور افسوس کہ اُمت مسلمہ تا حال اس حقیقت کے اعتراف تک پر آمادہ نہیں‘بلکہ مسلسل مغالطے ہی میں مبتلا رہنے پر مصر ہے. تو پھر کون سے تعجب کی بات ہے اگر ہر تدبیر الٹی پڑتی نظر آئے اور کوئی دوا کارگر ثابت نہ ہو.

حقیقت یہ ہے کہ نہ آج سے ربع صدی قبل ملت اسلامیہ پاک و ہند کی باسی کڑھی میں جو اُبال آیا تھا اس کا اصل محرک دینی و مذہبی جذبہ تھا‘نہ آج اس کی ملی و اجتماعی زندگی میں دین و مذہب کو کسی مؤثر عامل کی حیثیت حاصل ہے. اُس وقت کا سارا جوش و خروش ایک ایسی قوم کے جذبہ تحفظ و خود اختیاری کا رہین منت تھا جس کی بنیاد تو صدیوں پہلے مذہب ہی کی اساس پر قائم ہوئی تھی لیکن جس کا دین و مذہب سے تعلق اب محض برائے نام رہ گیا تھا اور جسے کچھ مخصوص حالات میں یہ خطرہ محسوس ہورہا تھا کہ اس کا قومی تشخص ختم ہوجائے گا اور وہ ایک بڑی قومیت میں جذب ہوکر رہ جائے گی. اس خالص قومی تحریک کے آخری ایام میں خالص وقتی اور عارضی طور پر کچھ رنگ آمیزی دینی و مذہبی جذبے کی بھی کی گئی تھی‘لیکن یہ سب کچھ ایک فوری ضرورت 
(expediency) کے تحت تھانہ کہ کسی مستقل اور محکم اساس پر .چنانچہ جب تحریک ایک حد تک کامیاب ہوگئی اور اس قوم کو اپنے معاشی و سیاسی تحفظ کی ضمانت کے طور پر ایک علیحدہ خطہ مل گیا تو وہ جوش و خروش بھی فوراً ختم ہوگیا … اور دوبارہ اس کا سراغ کبھی ملا تو صرف اس وقت جب ایک بار پھر ۱۹۶۵ء میں خطرہ پیدا ہوگیا کہ کہیں قوم کا یہ دفاعی حصار ٹوٹ نہ جائے اور ہندو امپریلزم کا سیلاب اس قوم کو بہا کر نہ لے جائے. پھر جونہی یہ خطرہ دوبارہ ٹلا‘ وہ جذبہ بھی سرد پڑ گیا اور پھر وہی صورتحال طاری ہوگئی ؏ ’’اب اسے ڈھونڈ چراغِ رخِ زیبا لے کر!‘‘

یہ ہیں وہ حقائق جن کا ادراک اس لیے ضروری ہے کہ ملک و ملت کا ہر بہی خواہ اچھی طرح سمجھ سکے کہ مسئلے کی حقیقی نوعیت کیا ہے اور اصلاحِ احوال کے لیے کس جگہ سے کام کی ابتدا لازمی ہے. ظاہرہے کہ علاج کی کامیابی کا سارا دارومدار تشخیص کی صحت و درستی پر ہے. ہمارا مرض سطحی نہیں بلکہ بہت گہرا اور نہایت مزمن ہے. چنانچہ اس کا علاج بھی سطحی تجاویز سے نہیں ‘بڑی گہری حکیمانہ تدبیر ہی سے ممکن ہے.

یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے انکار کی جرات شاید ہی کوئی کرسکے کہ پاکستان کا استحکام ہی نہیں محض وجود و بقا بھی اسلام ہی سے وابستہ ہے… لیکن خوب اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ یہ اسلام اس وقت ہمارے عقیدہ و عمل دونوں سے خارج ہوچکا ہے اور اب اس کی بازیافت محض نعروں‘تقریروں‘مقالوں اور بیانوں سے ممکن نہیں . 

اس کے لیے مسلسل اور پتہ مار کر کام کرنے اور پیہم جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے. اس جدوجہد کا اصل اور اولین میدان علم و فکر کا میدان ہے. علم و فکر کا رشتہ ایمان و یقین کے ساتھ از سرِ نو استوار کرنا وقت کی اہم ترین اور مقدم ترین ضرورت ہے. پھر اخلاق و اعمال کی دنیا میں انقلاب لانا لازمی ہے. اس لیے کہ تطہیر فکر اور تزکیۂ اخلاق کی کٹھن مہموں کے سر ہونے کے بعد ہی اس کی توقع کی جا سکتی ہے کہ قوم کے رگ و پے میں دینی و اسلامی جذبہ سرایت کرجائے اور 
اِنَّ صَلَاتِیۡ وَ نُسُکِیۡ وَ مَحۡیَایَ وَ مَمَاتِیۡ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۶۲﴾ۙ کی صورت عملاًپیدا ہو.

ہماری ان گزارشات سے ممکن ہے کہ بعض اصحاب کو یہ بدگمانی پیدا ہو کہ شاید ہم فوری طور پر اسلامی نظام کے قیام کی کوششوں کے حامی نہیں‘یا یہ کہ ہم پر مایوسی کا غلبہ ہے. در حقیقت صورتِ واقعہ نہ تو یہ ہے نہ وہ.ہم تجدید ِدین اور احیائے اسلام کی ہر کوشش کی دل سے قدر کرتے ہیں اور خود بھی بحمد اللہ اپنی صلاحیتوں کی حقیر سی پونجی کو اسی مقصد کے لیے کھپا دینے کا عزمِ مصمم رکھتے ہیں. پھر ہم یہ یقین بھی رکھتے ہیں کہ بہت جلد انسانیت اپنے مسائل کے حل اور اپنے دکھوں کے مداوا کے لیے اسلام ہی کی جانب رجوع کرنے پر مجبور ہوگی اور وہ دور زیادہ دُور نہیں جب پورے عالم ارضی پر اسلام ہی کا غلبہ ہوگا…لیکن اس کے لیے کیا کام اور کس طرح سے کیا جانا چاہیے‘اس کے بارے میں ہمارا ایک پختہ نقطۂ نظر ہے اور ہم علیٰ وجہ البصیرت جانتے ہیں کہ یہ کام کس نہج پر کیا جا سکتا ہے. ہمیں دکھ ہوتا ہے تو اس وقت‘اور ہمارے لہجے میں تلخی پیدا ہوتی ہے تو تب جب ہم دیکھتے ہیں کہ اچھے بھلے سمجھ دار لوگ اس معاملے میں غالباً صرف تساہل فکر کی بنا پر محض سطحی باتوں پر اکتفا کرتے ہیں اور مسئلے کی حقیقی و واقعی نوعیت کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے. واقعہ یہ ہے کہ ہمارے دل میں ایک بے اختیار ہوک اٹھتی ہے اُس وقت جب ہمیں خیال آتا ہے کہ برصغیر کی ایک اچھی بھلی دینی تحریک جو صورتحال کی صحیح تشخیص 
کے ساتھ ایک بہت حد تک صحیح طریق کار پر برسر عمل ہوئی تھی‘ وہ بھی قیام پاکستان کے وقت حالات اور مواقع کی ایک وقتی سی ترغیب و تحریص (temptation) کے زیراثر اپنے موقف سے منحرف اور اپنے نہجِ کار سے دستبردار ہوگئی اور سطحیت ِفکر و عمل کا شکار ہوکر وہی خالی نعرے لگانے میں مصروف ہوگئی جن کی شدید مذمت ماضی میں وہ خود کرتی رہی تھی . آج بھی جبکہ تقریباً ربع صدی گزر چکی ہے ‘وہ سیاست کے ریگ زار میں حکومت و اقتدار کے سراب کے پیچھے بھٹکتی پھر رہی ہے‘ فَاعْتَبِرُوا یٰٓاُولِی الْاَبْصَارِ. اس تحریک کا خیال ہمیں بار بار اس لیے آتا ہے کہ خود ہم نے اسی تحریک کی گود میں آنکھ کھولی تھی اور اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی تڑپ اسی کے طفیل پائی تھی ؎

گزشتہ منزلیں منزل بہ منزل یاد آتی ہیں
مسافر یہ خلش دل کی بآسانی نہیں جاتی


دین ومذہب سے قطع نظر کہ وہ بے چارے تو ہمارے یہاں اب صرف ’’بوقت ضرورت‘‘استعمال کے لیے رہ گئے ہیں اور اسلام و ایمان کو ایک طرف رکھتے ہوئے کہ وہ غریب صرف لیڈروں کی تقریروں کا مطلع و مقطع فراہم کرنے کے کام آتے ہیں‘خالص قومی سطح پر بھی غور کیا جائے تو نظر آتا ہے کہ ہم زندہ قوموں کے لازمی اوصاف سے خطرناک حد تک تہی دست ہیں اور اس میدان میں بھی ہماری تہی دامنی روز بروز بڑھتی چلی جارہی ہے. ہماری قومی و ملی زندگی جس طرح پے بہ پے حادثوں سے دوچار ہورہی ہے اور ملکی سیاست کی گاڑی جس طرح بار بار زور دار جھٹکوں کے ساتھ رک جاتی ہے اس کا سبب یہ ہے کہ آزادی ایسی نعمت عظمیٰ کے حصول سے قبل قومی تعمیر کا کام جس حد تک لازماً ہوجانا چاہیے تھا وہ ہمارے یہاں نہیں ہوا. اس عظیم ذمہ داری سے کماحقہ عہدہ برآ ہونے کے لیے جن صلاحیتوں کی ضرورت تھی وہ ناگزیر حد تک بھی پیدا نہیں ہوئیں. گویا آزادی ہمیں ایک ایسے عطیہ کی حیثیت سے ملی جس کے لیے ہم عملاً تیار نہ تھے.

یہ صورتِ حال بہت مشابہ ہے اس کیفیت سے جس سے بعض وہ طالب علم جو 
نچلے درجوں میں رعایتی پاس ہوتے چلے آتے ہیں‘ کسی بڑے امتحان کے موقع پر دو چار ہوجاتے ہیں … کہ لاکھ کوشش کرنے پر بھی ان کی وہ بنیادی کمی کسی طرح پوری نہیں ہوتی جو بالکل ابتدا میں رہ گئی تھی!

برصغیر کی ہندو قوم میں قومی تعمیر نو کا کام انیسویں صدی کے اواخر ہی سے شروع ہوگیا تھا اور بیسویں صدی کی ابتدا سے تو اس میں بے پناہ جوش و خروش اور جذبۂ عمل پیدا ہوگیا تھا. چنانچہ ہر جہت اور ہر سمت میں تعمیر و اصلاح کا کام تیزی کے ساتھ شروع ہوا‘بے شمار انجمنیں بنیں‘لاتعداد ادارے وجود میں آئے‘ہزاروں ٹرسٹ قائم ہوئے‘ چھوٹی بڑی لاکھوں درس گاہیں تعمیر ہوئیں اور لکھوکھا قومی کارکن جذبۂ اخلاص کے مظہر‘سادگی و کفایت شعاری کے پیکر اور مجسم قربانی و ایثار بن کر میدانِ عمل میں کود پڑے. پھر تعمیر جدید کا یہ کام کسی ایک ہی میدان میں نہیں ہوا بلکہ ایک طرف اگر سیاسی میدان میں ہلچل اور ہماہمی تھی تو دوسری طرف خالص معاشرتی اور سوشل اصلاح اور معاشی فلاح و بہبود کے لیے بھی زور شور سے کام جاری تھا. ایک طرف مذہبی اصلاح و تجدید کی کوششیں ہو رہی تھیں اور مذہبی افکار کے تنقیدی جائزے اور ان میں شکست و ریخت اور تالیف ِجدید سے نئے نئے دھرم ایجاد ہورہے تھے تو دوسری طرف صحت و تندرستی کے اصولوں کے پرچار اور ورزش و ریاضت کے عملی پروگراموں سے جسم اور جسمانی قوتوں کے نشوونما کا کام بھی پورے انہماک سے ہورہا تھا .غرض ہر شعبۂ زندگی میں ایک نئی ہلچل اور نئی سرگرمی پیدا ہوگئی تھی جس کے نتیجے میں پوری ہندو قوم میں بیداری اور حرکت کی ایک لہر دوڑ گئی اور فی الجملہ آزادی کی عظیم ذمہ داریوں سے عہدہ بر آ ہونے کی صلاحیت اور استعداد اس میں پیدا ہوگئی. 

مسلمان قوم میں صورت اس کے برعکس رہی. اس کی اکثریت ’’عظمت رفتہ‘‘ کی یاد ہی کو سینے سے لگائے بیٹھی رہی اور ’’پدرم سلطان بود‘‘ کا راگ الاپ کر ہی دل کو تسلی دیتی رہی. قومی و ملی تعمیر جدید کا کام تقریباً نہ ہونے کے برابر رہا اور تعطل و جمود کا تسلط اور بد نظمی‘انتشار اور طوائف الملوکی کا دور دورہ رہا. ہم اسی حال میں تھے کہ دفعۃً محسوس ہوا کہ غیر ملکی اقتدار کا خاتمہ ہونے کو ہے اور اس صورت میں ہندوستان کی مسلمان قوم ہندو اکثریت کے رحم و کرم پر رہ جائے گی. چنانچہ فوری طور پر اپنے قومی تشخص کے تحفظ کی ضرورت محسوس ہوئی اور جیسے تیسے ایک قومی تحریک 
اٹھی جسے ابتداء ً صرف کچھ نوابوں اور جاگیر داروں کی پشت پناہی حاصل تھی اور جس کا دائرہ کار ابتدا میں صرف کچھ آراستہ پیراستہ ڈرائنگ روم تھے. چنانچہ اسی بنا پر قوم کے وہ مذہبی طبقات اس سے بد ظن بھی ہوگئے جو حریت و آزادی کی راہ میں مسلسل قربانیاں دیتے آئے تھے اور جن میں عوامی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد بھی موجود تھی اور اس طرح قوم بے شمار مخلص کارکنوں سے محروم ہوگئی .آزادی سے متصلاً قبل ایک دو سال کے لیے اس قومی تحریک میں بھی کچھ عوامی رنگ پیدا ہوا تھا‘لیکن ابھی اس کے کارکن بالکل خام حالت ہی میں تھے کہ آزادی کی گھڑی آ پہنچی اور اللہ تعالیٰ کے ایک خصوصی عطیہ اور انعام کے طور پر اس قوم کو بھی ایک علیحدہ آزاد مملکت مل گئی.

پھر آزادی کیا ملی‘ گویا دولت و ثروت کا سیلاب آ گیا جو قوم کی دیانت و شرافت اور خلوص و اخلاص کی رہی سہی پونجی کو بھی بہا کر لے گیا. اولاً متروکہ دولت پر چھینا جھپٹی ہوئی‘پھر تجارت و صنعت کے میدانوں میں دولت کے دریا بہنے لگے‘دیکھا دیکھی سرکاری ملازموں نے بھی ہاتھ رنگنے شروع کیے اور دشت دولت کے ’’ہر آبلہ پا سے زبردستی خراج‘‘وصول کرنا شروع کیا. غرض پوری قوم کے سر پر دولت کا بھوت سوار ہوگیا. قومی تعمیر نو کا کام پہلے ہی نہیں ہوا تھا جبکہ اس کے لیے تمام تر اسباب و عوامل بھی موجود تھے تو اب کیا خاک ہوتا!خلوص‘دیانت‘ایثار اور قربانی نام کی کوئی شے پہلے کہیں کچھ موجود تھی تو اس دور میں بالکل ختم ہوگئی. ذمہ داری‘احساسِ فرض‘تن دہی اور محنت کالعدم ہوگئے. سیاست نے ایک کاروبار کی صورت اختیار کرلی اور روپے پیسے یا زیادہ سے زیادہ کنبہ و برادری کے سوا اس میدان میں کوئی سکہ رواں نہ رہا. چنانچہ طبقہ متوسط کے وہ لوگ جو قومی تحریک کے آخری ایام میں ملی و قومی جذبات کے تحت سیاست کے میدان میں آ گئے تھے‘ رفتہ رفتہ مایوس اور بددل ہوکر اسے خیر باد کہہ گئے اور سیاست اور حکومت کا پورا معاملہ صرف بڑے زمینداروں‘جاگیر داروں اور سرمایہ داروں کا مشغلہ بن کر رہ گیا. ان میں سے جو کبھی کسی وجہ سے مات کھا جاتا تھا ‘ایسے خاموش اور بیکار ہوکر بیٹھ رہتا تھا جیسے سیاست بازی کے علاوہ ملک و ملت کی فلاح و بہبود کے لیے کرنے کا کوئی اور کام ہے ہی نہیں. نتیجتاً سیاسی اختلال پیدا ہوا‘جوڑ توڑ اور سازش کا بازار گرم ہوا‘حکومتیں آئے دن بدلنے لگیں‘بین الاقوامی ساکھ اور قومی و ملکی معیشت کا دیوالہ نکل گیا تو پہلا مارشل لاء لگا‘ جس نے کچھ عرصہ کے لیے ان امراض کی ظاہری علامتوں کو دبا دیا. لیکن جونہی خالص فوجی حکومت سے کسی قدر سیاسی و دستوری حکومت کی طرف رجعت 
ہوئی‘ وہی پہلا سماں پھر بندھ گیا اور علامت ِمرض پھر ظاہر ہوگئیں بلکہ حالت پہلے سے بد تر ہوگئی.

یہ ہیں وہ حالات جن سے ہم بحیثیت قوم دو چار ہیں … کہ قوم کے سوادِ اعظم کے پیش نظر نہ کوئی نظریہ ہے نہ مقصد‘نہ قومی و ملی ذمہ داریوں کا احساس ہے نہ شہریت کے فرائض کا ‘پھر نہ کوئی مستحکم قومی تنظیم موجود ہے نہ قابل اعتماد قومی قیادت. سیاسی شعور کی کمی کا یہ حال ہے کہ جو چاہے وقتی طور پر نعرے لگائے اور عارضی طور پر قوم کو اپنے پیچھے لگا لے. قیادت کے افلاس کا یہ عالم ہے کہ جس شخص کے بارے میں ذرا یہ معلوم ہو کہ دیانت دار اور مخلص آدمی ہے‘قوم بالکل یتیموں کی طرح سرپرستی کے لیے اس کی طرف دیکھنا شروع کردیتی ہے چاہے وہ سیاست کے میدان میں بالکل نووارد ہی ہو اور سیدھا کسی سرکاری محکمے کی ملازمت سے فارغ ہوکر چلا آرہا ہو. 
وَ قِس علی ھذا! 
اس میں شک نہیں کہ حال ہی میں بعض گروہ ایسے بھی سامنے آئے ہیں جو کچھ واضح نظریات بھی رکھتے ہیں اور کسی قدر محکم تنظیمی سلسلے بھی‘لیکن چونکہ ابھی ان کا حلقہ اثر بہت محدود ہے وہ وسیع تر ملی و قومی تقاضوں کا جواب نہیں بن سکتے.

یہ حالات متقاضی ہیں کہ ملت اسلامیہ پاکستان کا ہر فرد اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرکے ان کو ادا کرنے کے لیے سرگرمِ عمل ہوجائے اور ان بنیادی کمزوریوں‘کمیوں اور کوتاہیوں کی تلافی کے لیے کوشاں ہو جو عرصۂ دراز سے چلی آ رہی ہیں اور اس طرح دین و مذہب‘علم و فکر‘ تعلیم وتربیت‘تطہیر اخلاق و عمل‘سماجی و معاشرتی اصلاح‘قومی و ملی تنظیم غرض ہر میدان میں اصلاح و تعمیر کا عمل تیزی سے شروع ہوجائے.
واقعہ یہ ہے کہ ہم بحیثیت ملک و ملت اس وقت موت و زیست کی کشمکش سے دو چار ہیں. ایسا نہ ہو کہ قدرت کی جانب سے عطا کردہ مہلت ہماری غفلت میں اضافے کا موجب ہو اور پھر قانونِ خداوندی کا کوئی کوڑا ہم پر اچانک برس پڑے!

رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا واِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَکُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِینَ.آمین