پیش لفظ

بسم اللہ الرحمن الرحیم 

ربّ ِ کائنات نے انسان کی تخلیق اور اس کےہبوطِ ارضی کے ساتھ ہی اس کی دنیوی و اخروی فوزوفلاح کے لیےراہنمائی کا انتظام بھی فرمادیا تھا.چنانچہ بنی نوع انسان کا اوّلین فرد پہلا نبی بھی تھاجس نے اپنی اولاد کواپنے خالق ومالک کی بندگی کا درس دیا.پھراللہ تعالیٰ نےانسانوں ہی میں سےانتخاب کرکےانبیاءورسل کاسلسلہ جاری فرمایاجواپنےابنائےنوع کو اللہ کی بندگی اوردین اسلام کی پیروی کی دعوت دیتے رہے.ان پیغمبروں پرگاہےبگاہےآسمانی کتب اورصحائف کا نزول بھی ہوتارہا.لیکن ہر دورمیں ایسا ہوتارہاکہ پیغمبروں کی دعوت کوقبول کرلینے والے لوگ بھی رفتہ رفتہ بگاڑ کا شکار ہو جاتے اور اپنے پاس موجودآسمانی ہدایت میں من مرضی کی تحریفات کرکےاسےمسخ کردیتے.بالآخرربّ ِکائنات نےنبی آخرالزماں محمدعربی کومبعوث فرمایااوران پر اپنا آخری اورتکمیلی پیغام ِہدایت ’’ قرآن حکیم‘‘ کی صورت میں نازل فرمایااورقیامت تک اس کی حفاظت کا انتظام بھی فرمادیا. ؎

نوع ِانسان راپیام ِآخریں
حامل او رحمۃٌ للعالمیں 

قرآن حکیم کومحمدرسول اللہ کی دعوت و تبلیغ میں مرکزومحورکی حیثیت حاصل تھی اورآپؐ نے اس کی راہنمائی میں نوع ِانسانی کا عظیم ترین انقلاب برپافرمادیا.

عصر حاضر میں بانی تنظیم اسلا می و مؤسس مرکزی انجمن خدام القرآن لاہورڈاکٹر اسرار احمدؒ پراللہ تعالیٰ کا خصوصی فضل وکرم ہواکہ انھیں اپنی کتاب سےخصوصی تعلق و نسبت عطافرمائی اور آپ نے اپنی پوری زندگی قرآن حکیم کےعلم و حکمت کی نشرواشاعت اوراس کی انقلابی دعوت کوعام کرنے میں صرف کردی.

پیش نظر کتاب ’’ قرآن حکیم اور ہم‘‘ محترم ڈاکٹر صاحب کی آٹھ کتابوں کو یکجاکرکےتیارکی گئی ہے،جن میں آپ نے قرآن حکیم کاتعارف پیش کیا ہے،قرآن و حدیث کی روشنی میں اس کی عظمت کو اجاگر کیا ہےاورمسلمانوں سےقرآن کےمطالبات اور تقاضےبیان کیے ہیں.

قرآن حکیم بلاشبہ نوع انسانی کےلیےخالق کائنات کا سب سے بڑاانعام اور سب سے عظیم نعمت ہے.اس حوالےسےاس کتاب کا آغازمحترم ڈاکٹر صاحب کےایک خطاب’’دنیا کی عظیم ترین نعمت،قرآن حکیم‘‘ سےکیاگیاہےجوآپ نے۲۹/رمضان المبارک ۱۴۲۰ھ کوسمن آباد میں نمازتراویح میں دورۂ ترجمہ قرآن کے ایک پروگرام کی اختتامی تقریب میں فرمایاتھا.

’’عظمت قرآن‘‘ محترم ڈاکٹر صاحب کےخصوصی دلچسپی کےموضوعات میں سےایک تھااوراس موضوع پر آپ نے متعدد بار اظہارخیال فرمایاتھا.اس ضمن میں آپ کے دو خطبات شاملِ کتاب 
کیے گئے ہیں،ایک’’ عظمتِ قرآن: بزبان قرآن وصاحب ِقرآن ‘‘ اور دوسرا ’’ عظمتِ قرآن:قرآن وحدیث کےآئینے میں‘‘(’’تعارف ِقرآن‘‘ کےضمیمے کے طور پر)

’’ قرآن حکیم کی قوت تسخیر‘‘محترم ڈاکٹر صاحب کا اظہارِ تشکراورتحدیث ِنعمت پر مشتمل ایک اہم خطاب ہےجو۱۹۹۲ءمیں ایک ایسےموقع پر ہواجب آنجناب کے قائم کردہ قرآن کے انقلابی فکرپرمبنی دواداروں یعنی مرکزی انجمن خدام القرآن لاہوراور تنظیم اسلامی کےسالانہ اجتماعات کا انعقادپہلوبہ پہلو ہوا.جس سیشن میں یہ خطاب ہوا،اس میں دونوں اداروں کے وابستگان جمع تھے.

’’تعارف ِقرآن‘‘محترم ڈاکٹر صاحب کےچندسلسلہ وار خطابات کا مجموعہ ہے،جوآٹھ ابواب اور ایک ضمیمہ پر مشتمل ہے.

’’ قرآن اور امنِ عالم‘‘محترم ڈاکٹر صاحب کا ستمبر۱۹۶۸ءکاایک خطاب ہے،جوفیصل آباد کے ایک دینی ادارےکےسالانہ تربیتی اجتماع میں ہوا.امن وامان کی موجودہ عالمی صورت حال کےتناظرمیں اس تحریر کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ گئی ہےاور اسے بڑے پیمانے پرعام کرنے کی ضرورت ہے.
’’مسلمانوں پر قرآن مجیدکےحقوق‘‘محترم ڈاکٹر صاحب کے دوخطابات ِجمعہ پر مبنی مضمون ہے جو جنوری۱۹۶۸ءمیں جامع مسجدخضرا،سمن آبادلاہور میں ہوئےاور بعدازاں آپ نےانہیں خود مرتب کر کےکتابچے کی صورت دی.اس کتابچے کو دعوت رجوع الی القرآن کی اساسی دستاویزکی حیثیت حاصل ہےاوریہ اب تک لاکھوں کی تعداد میں شائع ہو چکا ہے.
’’انفرادی نجات اوراجتماعی فلاح کے لیےقرآن کا لائحہ عمل‘‘محترم ڈاکٹر صاحب کے ایک خطاب عام پر مشتمل کتابچہ ہےجوآپ نے۳۱دسمبر۲۰۰۰ءکوقرآن آڈیٹوریم لاہورمیں فرمایااور اس میں اپنے دینی فکرکو جامع اور مانع شکل میں پیش کر کےاُمت کے لیے عملی رہنمائی کا اہتمام فرمایا.

’’جہادبالقرآن اوراس کےپانچ محاذ‘‘محترم ڈاکٹر صاحب کے۱۹۸۴ءکےتین خطابات پر مبنی ایک معرکۃالآراءکتاب ہے،جنہیں شیخ جمیل الرحمن مرحوم نے ترتیب و تسویدکےمراحل سےگزارا.

پیش نظر کتاب میں شامل بعض خطابات،خصوصاً ’’تعارف ِقرآن‘‘کی ترتیب و تسویدکی سعادت راقم الحروف کے حصے میں آئی ہے.اللہ تعالیٰ سے دعا ہےکہ وہ اس خدمت ِقرآنی کوشرف ِقبول عطا فرما کراسےمحترم ڈاکٹر صاحب کےلیے صدقۂ جاریہ اور رفعِ درجات کا ذریعہ بنائے،اور اس کی ترتیب و تدوین اوراشاعت وطباعت کی خدمات سرانجام دینے والوں کے لیےاسے دنیوی و اخروی فوزوفلاح کا باعث بنائے.

حافظ خالد محمود خضر
مدیر شعبہ مطبوعات،قرآن اکیڈمی لاہور 
۱۵/فروری۲۰۱۲ء