عظمتِ قرآن بزبانِ قرآن و صاحبِؐ قرآن

نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّی عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْمِ 
امّا بعد. فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمo بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم o 
اَلرَّحۡمٰنُ ۙ﴿۱﴾عَلَّمَ الۡقُرۡاٰنَ ؕ﴿۲﴾خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ ۙ﴿۳﴾عَلَّمَہُ الۡبَیَانَ ﴿۴﴾ 
وقال تبارک و تعالیٰ:
فِیۡ صُحُفٍ مُّکَرَّمَۃٍ ﴿ۙ۱۳﴾مَّرۡفُوۡعَۃٍ مُّطَہَّرَۃٍۭ ﴿ۙ۱۴﴾بِاَیۡدِیۡ سَفَرَۃٍ ﴿ۙ۱۵﴾کِرَامٍۭ بَرَرَۃٍ ﴿ؕ۱۶﴾ 
صدق اللّٰہ العظیم
رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْo وَیَسِّرْلِیْ اَمْرِیْo وَاحْلُلْ عُقْدَۃً مِّنْ لِّسَانِیْo یَفْقَھُوْا قَوْلِیْo 
اَللّٰھُمَّ اَلْھِمْنِیْ رُشْدِیْ وَاَعِذْنِیْ مِنْ شُرُوْرِ نَفْسِیْ 
اَللّٰھُمَّ اَرِنَا الْحَقَّ حَقًّا وَارْزُقْنَا اتِّبَاعَہ وَاَرِنَا الْبَاطِلَ بَاطِلاً وَارْزُقْنَا اجْتِنَابَہٗ آمین یا ربَّ العَالَمِین! 

حضرات! میری آج کی یہ گفتگو دو حصوں پر مشتمل ہوگی.پہلے حصے میں مجھے یہ عرض کرنا ہے کہ تعلیم و تعلّم قرآن یعنی قرآن حکیم کے پڑھنے پڑھانے اور سیکھنے سکھانے کی کیا اہمیت ہے ‘اور دوسرے حصے میں مجھے اپنے موجودہ حالات کے حوالے سے رُجوع الی القرآن یعنی قرآن حکیم کی طرف از سر نو راغب ہونے کی اہمیت کو بیان کرنا ہے. 


قدرِ گوہر شاہ داند یا بداند جوہری

پہلے مضمون کے ضمن میں میں نے اس وقت سورۃ الرحمن اور سورۂ عبس کی چار چار آیات کی تلاوت کی ہے. ان کے حوالے سے میں چاہوں گا کہ قرآن مجید کی جو عظمت ہمارے سامنے آتی ہے اس پر ہم غور کریں .اسی ضمن میں مَیں نبی اکرم کی چند احادیث بھی آپ کو سنانا چاہتا ہوں تاکہ عظمت قرآن کا بیان جہاں ہم خود کلامِ الٰہی سے سمجھیں وہاں نبی اکرم کی زبانِ مبارک سے بھی یہ بات ہمارے سامنے آئے کہ اس کلام کی کیا عظمت ہے. فارسی کا ایک مصرعہ ہے ؏ ’’قدرِ گوہر شاہ داند یا بداند جوہری‘‘ یعنی موتی اور ہیرے کی قدر و قیمت کو جاننے والا یا تو بادشاہ ہوتا ہے اور یا جوہری! ایک عام دیہاتی کے ہاتھ پر اگر آپ ایک ہیرا یا قیمتی موتی رکھ دیں تو ہوسکتا ہے کہ وہ اسے کانچ کا ایک ٹکڑا سمجھے. تو اسی طرح قرآن مجید کی عظمت سے اصلاً تو وہ ہستی واقف ہے جس کا یہ کلام ہے اور پھر دوسرے نمبر پر اس کی عظمت سے صحیح معنوں میں واقف وہ ہستی ہے کہ جس پر یہ قرآن نازل ہوا ‘یعنی محمد ٌرسول اللہ  ! 

سورۃ الرحمن کی ابتدائی چار آیات بڑی مختصر ہیں. پہلی آیت صرف ایک لفظ پر مشتمل ہے: اَلرَّحۡمٰنُ ۙ﴿۱﴾ اس کے بعد کی تین آیات دو دو الفاظ پر مشتمل ہیں: عَلَّمَ الۡقُرۡاٰنَ ؕ﴿۲﴾خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ ۙ﴿۳﴾عَلَّمَہُ الۡبَیَانَ ﴿۴﴾ لیکن اگر ہم ان الفاظ پر تدبر کریں‘ غور و فکر کریں‘سوچ بچار سے کام لیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ان مختصر ترین الفاظ میں جو مضامین پنہاں ہیں ان مضامین کا بیان کرنا کسی ایک تقریر میں ممکن ہی نہیں. ہر اعتبار سے ایک چوٹی کا مضمون ہے جو ہر آیت میں آیا ہے. 


الرحمن : محبوب ترین صفاتی نام

پہلی آیت ‘جیسا کہ میں نے عرض کیا ‘صرف ایک لفظ ’’اَلرَّحْمٰنُ‘‘ پر مشتمل ہے. ’’الرحمن‘‘ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے. آپ کو معلوم ہے کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کے بہت سے نام وارد ہوئے ہیں اور حدیث شریف میں بھی ان کا ذکر ہے. ویسے تو قرآن مجید سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ ’’فَلَــہُ الْاَسْمَاءُ الْحُسْنٰی‘‘ یعنی جتنے بھی اچھے نام ہیں سب اللہ کے ہیں. جتنی اچھی صفات کا ہم تصور کرسکتے ہیں وہ تمام صفات ذاتِ باری تعالیٰ میں بتمام و کمال موجود ہیں. جس اچھائی‘جس خوبی‘جس خیر اور جس کمال کا ہمارے ذہن میں خیال آسکتا ہے وہ اللہ پاک کی ذات میں موجود ہے. لیکن تعین کے ساتھ اللہ تبارک و تعالیٰ کے نام وہی ہیں جو قرآن مجید میں یا حدیث شریف میں وارد ہوئے ہیں. ان ناموں میں سب سے زیادہ محبوب نام ’’اللہ‘‘ ہے اور اس سے قریب ترین نام ’’رحمن‘‘ہے. چنانچہ تلاوت ِقرآن مجید کا آغاز بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ سے کیا جاتا ہے.پھر سورۃ الفاتحہ کی پہلی آیت کے الفاظ بھی یہ ہیں: اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۱﴾ اور دوسری آیت ہے: الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۲﴾ 

واقعہ یہ ہے کہ لفظ ’’اللہ‘‘ تو عرب میں بہت معروف تھا. نبی اکرم  کی بعثت سے قبل بھی اہل عرب ’’اللہ‘‘ کے نام سے بخوبی واقف تھے. وہ اللہ سے دعائیں کرتے تھے اور اپنے تمام شرک کے باوجود اس حقیقت کو مانتے تھے کہ اس کائنات کے تخلیق کرنے میں اللہ کا کوئی شریک نہیں ہے. اس پوری کائنات کا خالق تنہا وہی ہے. چنانچہ قرآن مجید میں آتا ہے: وَ لَئِنۡ سَاَلۡتَہُمۡ مَّنۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ لَیَقُوۡلُنَّ اللّٰہُ ؕ (لقمان:۲۵’’(اے نبی  ) اگر آپ ان سے سوال کریں کہ یہ آسمان اور زمین کس نے پیدا کیے تو وہ لازماً کہیں گے کہ اللہ نے !‘‘ لیکن اللہ تعالیٰ کے دوسرے ناموں میں سب سے زیادہ نمایاں اور ایک خاص پہلو سے سب سے زیادہ پیارا نام ’’رحمن‘‘ہے. قرآن مجید میں جب یہ نام بار بار آیا تو اہل عرب نے اعتراض کیا کہ یہ ’’رحمن‘‘ کون ہے؟ سورۂ بنی اسرائیل کے آخر میں فرمایا گیا: قُلِ ادۡعُوا اللّٰہَ اَوِ ادۡعُوا الرَّحۡمٰنَ ؕ اَیًّامَّا تَدۡعُوۡا فَلَہُ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰی ۚ (آیت۱۱۰’’(اے نبی ) ان سے کہیے‘چاہے اللہ کہہ کر پکارلو‘چاہے رحمن کہہ کر پکار لو‘پس (یہ جان لو کہ جس کو پکار رہے ہو) تمام اچھے نام اُسی کے ہیں‘‘. تو اس سے بھی ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ’’اللہ‘‘ کے قریب ترین جو نام آتا ہے وہ ’’رحمن‘‘ہے. 

لیکن میں نے جو عرض کیا کہ ایک دوسرے پہلو سے یہ سب سے زیادہ پیارا نام ہے تو اس بات کو بھی سمجھ لیجیے. اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ صفاتی نام اس کی صفت ِرحمت سے بنا ہے. اللہ تعالیٰ کی صفت ِ رحمت وہ صفت ہے جس کے ہم سب سے زیادہ محتاج ہیں. ہمارا معاملہ تو بہت دُور کی بات ہے‘خود نبی اکرم بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت کے ضرورت مند ہیں. حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک بار آپ نے ارشاد فرمایا: لَنْ یُدْخِلَ اَحَدًا عَمَلُہُ الْجَنَّۃَ ’’کوئی شخص بھی محض اپنے عمل کی بنا پر ہرگز جنت میں داخل نہ ہوسکے گا‘‘. اس پر کسی صحابی ؓ نے ہمت کر کے یہ سوال کرلیا : ’’حضورکیا آپ بھی نہیں؟‘‘ تو حضور  نے ارشاد فرمایا: وَلَا اَنَا‘ اِلاَّ اَنْ یَّتَغَمَّدَنِیَ اللہُ بِفَضْلٍ وَّرَحْمَۃٍ (۱’’ہاں میں بھی نہیں‘ مگر یہ کہ اللہ مجھے اپنے خصوصی فضل اور رحمت سے ڈھانپ لے.‘‘ اب آپ اندازہ کیجیے کہ اگر اللہ کے نبیوں‘ پیغمبروں اور سید المرسلین سید الاولین والآخرین محمدرسول اللہ  کو رحمت ِخداوندی کی احتیاج ہے تو ہم اس سے کس طرح مستغنی ہوسکتے ہیں؟ ہم سب اللہ تعالیٰ کی رحمت کی شدید احتیاج رکھتے ہیں. قرآن مجید میں ایک مقام پر آتا ہے : یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اَنۡتُمُ الۡفُقَرَآءُ اِلَی اللّٰہِ ۚ وَ اللّٰہُ ہُوَ الۡغَنِیُّ الۡحَمِیۡدُ ﴿۱۵﴾ (فاطر) ’’ اے لوگو! تم سب کے سب اللہ کی ذات کے فقیر (محتاج) ہو. غنی اور حمید ذات تو صرف اللہ ہی کی ہے‘‘. حضرت موسیٰ علیہ السلام جب مصر سے جان بچا کر نکلے اور پا پیادہ پورا صحرائے سینا عبور کر کے تن تنہا مدین پہنچے تو آبادی کے باہر کنوئیں پر بیٹہ گئے. آپؑ اس وقت انتہائی کسمپرسی کے عالم میں تھے‘وہاں آپؑ کی کوئی جان پہچان تک نہ تھی. اس حال میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زبان مبارک پر جو دعا آئی وہ قرآن حکیم میں بایں الفاظ منقول ہے: رَبِّ اِنِّیۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَیَّ مِنۡ خَیۡرٍ فَقِیۡرٌ ﴿۲۴﴾ (القصص) ’’پروردگار! میں ہر اُس خیر کا محتاج ہوں جو تو میری جھولی میں ڈال دے‘‘. اور واقعہ یہ ہے کہ مخلوق کا معاملہ اللہ کے سامنے اسی فقر اور احتیاج کا ہے‘اور ہم رحمت ِ خداوندی کے ہر آن محتاج ہیں. 

اللہ تعالیٰ کی اس صفت رحمت سے اس کے دونام بنے ہیں: رحمن اور رحیم ! اور یہ واحد صفت ہے جس سے اللہ کے دو نام آتے ہیں. ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ ان میں رحمت کی د و شانوں کا ظہورہورہا ہے. ’’رحیم‘‘ فعیل کے وزن پر صفت ِمشبہ ہے جو اس کیفیت کو ظاہر کررہا ہے جو اس دریاکی مانند ہے جو مسلسل بہہ رہا ہو جس میں سکون‘دوام اور پائیداری ہو اور ’’رحمن‘‘رحمت خداوندی کی اس شان کو ظاہر کرتا ہے جو ایک ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کی مانند ہے‘جس میں ایک ہیجان کی کیفیت ہے. فَعلان کے وزن پر عربی زبان کے جو بھی الفاظ آتے ہیں ان میں یہ شدت پائی جاتی ہے‘ ایک ہیجانی اور طوفانی کیفیت ان کا خاصہ ہے. عرب کہے گا: ’’اَنَا عَطْشَانُ‘‘ کہ میں بہت پیاسا ہوں.یعنی پیاس سے جان نکل رہی ہے. بھوک سے کوئی شخص مررہا ہے تو وہ کہے گا: ’’اَنَا (۱) صحیح البخاری‘ کتاب المرضیٰ‘ باب تمنی المریض الموت. وصحیح مسلم‘ کتاب صفۃ القیامۃ والجنۃ والنار‘ باب لن یدخل احد الجنۃ بعملہ بل برحمۃ اللّٰہ تعالیٰ. 

جَوْعَانُ‘‘ اسی طرح ’’غَضْبَانُ‘‘ کے معنی ہیں بہت زیادہ غضبناک. اسی طرح یہ لفظ ’’رحمن‘‘ بنا ہے ‘یعنی انتہائی رحم فرمانے والا‘جس کی رحمت ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کی طر ح ہے. تو اللہ تعالیٰ کی صفت رحمت گویا انتہائی پیاری اور محبوب صفت ہے‘ اور اس میں بھی شانِ رحمانیت ایک عجیب کیفیت کی حامل ہے. 

اسی شانِ رحمانیت کے حوالے سے فرمایا گیا: 

اَلرَّحۡمٰنُ ۙ﴿۱﴾عَلَّمَ الۡقُرۡاٰنَ ؕ﴿۲﴾ 
’’اس رحمن نے تعلیم دی ہے قرآن کی!‘‘ 

قرآن کی عظمت کو اس سے سمجھو کہ اس کا تعلق اللہ تعالیٰ کی صفت ِرحمانیت سے ہے. اگر فرمایا جاتا: 
’’اَللّٰہُ عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ‘‘ تو بھی بات مکمل ہو جاتی‘لیکن قرآن کا ذکر اللہ پاک کی صفت ِرحمانیت کے حوالے سے ہورہا ہے. اَلرَّحْمٰنُ جس کی رحمت ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کی طرح ہے‘اس نے قرآن سکھایا.یہاں یہ بات قابل توجہ ہے کہ اللہ نے صرف قرآن نہیں سکھایا‘اس نے تو انسان کو بہت کچھ سکھایا ہے. انسان کے پاس جو بھی علم ہے‘وہ اللہ ہی کا دیا ہوا ہے. سورۃ البقرۃ کی ابتدا میں حضرت آدم علیہ السلام کا جو قصہ بیان ہوا ہے ‘اس میں فرمایا گیا: وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الۡاَسۡمَآءَ کُلَّہَا (آیت۳۱’’اور اللہ نے سکھا دیے آدم کو تمام کے تمام نام‘‘. اور اس موقع پر فرشتوں کا جواب یہ تھا: سُبۡحٰنَکَ لَا عِلۡمَ لَنَاۤ اِلَّا مَا عَلَّمۡتَنَا ؕ (آیت۳۲’’تو پاک ہے‘ہمیں کوئی علم حاصل نہیں سوائے اس کے جو تو نے ہمیں عطا کیا‘‘. تو جن و انس ہوں‘ملائکہ ہوں‘انبیاء و رسل ہوں،اولیاء اللہ ہوں‘یا بڑے سے بڑا سائنسدان اور بڑے سے بڑا فلسفی ہو‘جس کے پاس بھی علم کی کچھ رمق موجود ہے‘وہ آخر کہاں سے آئی ہے؟ آیۃ الکرسی میں فرمایا گیا: وَ لَا یُحِیۡطُوۡنَ بِشَیۡءٍ مِّنۡ عِلۡمِہٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ ۚ (البقرۃ:۲۵۵یعنی مخلوق میں سے کوئی اس کے علم میں سے کسی شے کا احاطہ نہیں کرسکتا‘سوائے اتنے حصے کو جتنا وہ خود کسی کو دینا چاہے. بلکہ ایک نومولود بچہ جو دنیا میں آتا ہے‘اسے یہ علم ہوتا ہے کہ اس کا رزق کہاں ہے‘اس کی روزی کہاں ہے. وہ ماں کی چھاتی پر جس طرح منہ مارتا ہے‘اس کی تربیت اسے کس نے دی ہے؟ یہ شعور وہ کہاں سے لے کر آیا ہے؟ وہ کون سی تربیت گاہ تھی جہاں 
سے وہ یہ ٹریننگ لے کر آیا ہے؟ تو معلوم ہوا کہ علم خواہ جبلی ہو‘خواہ فطری ہو‘خواہ وہ ہمارے نفس میں ودیعت شدہ ہو اور خواہ وہ ہم تعلیم کے نظام کے ذریعے سے حاصل کرتے ہوں‘اس کا منبع اور سرچشمہ ذاتِ باری تعالیٰ ہے اور ہمیں سبھی کچھ اُسی نے سکھایا ہے. لیکن اُس نے جو کچھ سکھایا ہے‘اس میں چوٹی کی چیز قرآن ہے. یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے بہت بلند صفت ہے رحمتاوراس رحمت کی بہت بلند شان ہے جو لفظ ’’رحمن‘‘ میں ظاہر ہوتی ہے‘اسی طرح اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو کچھ سکھایا ہے‘اس میں سب سے چوٹی کی چیز جس کی تعلیم دی‘وہ قرآن حکیم ہے:اَلرَّحۡمٰنُ ۙ﴿۱﴾عَلَّمَ الۡقُرۡاٰنَ ؕ﴿۲﴾ 

انسان:تخلیق کانقطۂ عروج

اب تیسری آیت پر آئیے. فرمایا: 

خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ ۙ﴿۳﴾ 
’’انسان کی تخلیق فرمائی.‘‘ 

یہاں پھر وہی بات سامنے آتی ہے. اللہ تعالیٰ نے صرف انسان کی تخلیق نہیں فرمائی‘جنوں کو بھی اُ سی نے تخلیق فرمایا‘ملائکہ کی تخلیق بھی اُسی نے فرمائی‘یہ شجر و حجر جو ہیں‘یہ بھی اسی کے تخلیق کردہ ہیں‘یہ چاند اور سورج بھی تو اُسی نے پیدا کیے ہیں‘ لیکن یہاں امتیازی طور پر انسان کا ذکر ہو رہا ہے. اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان اللہ تعالیٰ کی تخلیق کا نقطۂ عروج (climax) ہے. آج ہمارے سائنسی اور مادّی علوم کا نتیجہ اور ماحصل بھی یہی ہے کہ مخلوقات میں سب سے پہلے جمادات تھے‘ جمادات کے بعد نباتات اور نباتات کے بعد حیوانات آئے. پھر جمادات کے مقابلہ میں نباتات ایک اعلیٰ خلقت کی حامل ہیں. نباتات کے اوپر حیوانات کا سلسلہ ہے‘اور وہ ایک مزید اعلیٰ درجہ کی تخلیق ہے. حیوانات میں اگر ارتقاء (evolution) کے نظریے کو تسلیم کیا جائے تو انسان کا مقامِ شجر ارتقاء (evolution tree) کی چوٹی پر ہے. گویا یہ سلسلہ ٔتخلیق کا نقطہ ٔعروج ہے .اور قرآن سے بھی اس کی گواہی ملتی ہے. سورۂ بنی اسرائیل میں فرمایا: 

وَ لَقَدۡ کَرَّمۡنَا بَنِیۡۤ اٰدَمَ وَ حَمَلۡنٰہُمۡ فِی الۡبَرِّ وَ الۡبَحۡرِ وَ رَزَقۡنٰہُمۡ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلۡنٰہُمۡ عَلٰی کَثِیۡرٍ مِّمَّنۡ خَلَقۡنَا تَفۡضِیۡلًا ﴿٪۷۰﴾ ’’اور ہم نے بنی آدم کو عزت و اکرام عطا فرمایا ‘اور ان کو بحر و بر میں سواریاں دیں‘اور پاکیزہ چیزوں سے رزق عطا فرمایا‘ اور جتنی مخلوقات ہم نے پیدا کیں‘ان میں سے اکثر پر انہیں فضیلت عطا فرمائی.‘‘ 

سورۃ صٓ میں فرمایا: 

لِمَا خَلَقۡتُ بِیَدَیَّ ؕ (آیت۷۵
’’جسے میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا.‘‘ 

تورات میں بھی اس طرح کے الفاظ آتے ہیں کہ اللہ نے انسان کو اپنی صورت پر بنایا. یہ الفاظ اگرچہ قرآن میں نہیں ہیں‘لیکن حدیث صحیح میں موجود ہیں: 

خَلَقَ اللّٰہُ آدَمَ عَلٰی صُوْرَتِہٖ (۱
’’اللہ نے آدم کو اپنی صورت پر تخلیق فرمایا.‘‘

اس کے لیے اب مزید دلائل کی ضرورت نہیں. سورۃ الرحمن کی پہلی تین آیات سے ہم نے تین باتیں سمجھی ہیں: (i)صفاتِ باری تعالیٰ میں سے چوٹی کی صفت رحمن. (ii) اللہ نے انسان کو جو علم عطا فرمایا‘اس میں چوٹی کا علم قرآن. (iii) جو کچھ اس نے پیدا فرمایا اس میں چوٹی کی تخلیق انسان. 

قوتِ بیان : انسان کی امتیازی صلاحیت

اب چوتھی آیت آتی ہے:

عَلَّمَہُ الۡبَیَانَ ﴿۴﴾ 
’’انسان کو اس نے بیان کی تعلیم عطا فرمائی!‘‘ 

اب ذرا غور کیجئے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے بہت سی قوتیں اور صلاحیتیں عطا فرمائی ہیں. ان میں سے قوت بیان کا حوالہ کس اعتبار سے دیا گیا ہے؟ واقعہ یہ ہے ہم میں جو بھی جسمانی صلاحیتیں ہیں‘وہ اکثر وبیشتر دیگر حیوانات میں بھی ہیں. ہم کھانا کھاتے ہیں‘اور جو کچھ کھاتے ہیں اسے ہضم کرتے ہیں. یہ نظامِ ہضم حیوانات میں بھی ہے. ہم میں اگر جنس کا مادہ رکھا گیا ہے اور توالد و تناسل کا سلسلہ جاری کیا گیا ہے تو یہ حیوانات میں بھی ہے. 
____________________________ (۱) صحیح البخاری‘ کتاب الاستیذان‘ باب بدء السلام. وصحیح مسلم‘ کتاب البر والصلۃ والآداب ‘ باب النھی عن ضرب الوجه . ہمیں اگر بینائی عطا کی گئی ہے تو آپ کو پرندوں میں ایسے پرندے بھی مل جائیں گے جن کی بینائی ہم سے ہزاروں گنا زیادہ ہے. مثلاً بلندی پر پرواز کرتا ہوا عقاب زمین پر پڑی ہوئی سوئی تک دیکھ لیتا ہے. اب ایسے آلے بھی ایجاد کرلیے گئے ہیں جن کی بینائی ہماری بینائی سے کہیں زیادہ ہے. کتنے ہی حیوانات ہیں جن کی قوتِ شامہ یعنی سونگھنے کی قوت ہم سے کہیں بڑھ کر ہے. تو یہ استعدادات جو ہمارے اندر ہیں‘حیوانات میں بھی ہیں. البتہ ایک صفت وہ ہے جس کے اعتبار سے اہل فلسفہ اور اہل منطق نے انسان کو دیگر حیوانات سے ممیز قرار دیا ہے‘ اور وہ یہ کہ انسان حیوانِ ناطق ہے . اس کو نطق و گویائی کی صفت عطا کی گئی ہے‘ اسے اظہار ما فی الضمیر کے لیے زبان دی گئی ہے. وہ زبان جو اس کے باہمی تبادلہ ٔخیالات کا ذریعہ بنتی ہے. انسانی دماغ کی ساخت کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ تمام حیوانات کے مقابلے میں انسانی دماغ اس اعتبارسے مختلف ہے کہ اس میں سب سے بڑا حصہ مرکزتکلم (speech centre) ہے‘جو تمام حیوانات کی نسبت سب سے زیادہ ترقی یافتہ (developed) ہے. چنانچہ یہاں انسان کی سب سے امتیازی صلاحیت کا حوالہ دیا گیا ہے کہ ہم نے اسے قوت ِبیانیہ عطا کی. 
اب ان چار آیات کا ماحصل ایک بار پھر اپنے سامنے رکھیے:

اَلرَّحْمٰنُ: صفاتِ باری تعالیٰ میں سے چوٹی کی صفت. 
عَلَّمَ الْقُرْآنَ: رحمن کی طرف سے سب سے بڑی دولت اور نعمت جو انسان کو عطا کی گئی وہ یہ ہے کہ اسے قرآن سکھایا گیا. 
خَلَقَ الْاِنْسَانَ: اللہ نے انسان کو پیدا کیا ‘جو اس کی تخلیق کا نقطۂ کمال ہے. 
عَلَّمَہُ الْبَیَانَ: انسان کو اس نے جو صلاحیتیں دی ہیں ان میں سب سے اونچی صلاحیت اس کے بیان کی قوت ہے. 
یہ چار آیات تین جملوں پر مشتمل ہیں‘جن کا ترجمہ یہ ہوگا: 

(i) رحمن نے قرآن سکھایا. 
(ii) اس نے انسان کو تخلیق کیا. 
(iii) اسے قوتِ بیان عطا فرمائی.

قوتِ بیان کا بہترین مصرف

اب ذرا غور کیجیے کہ ان تین باتوں کانتیجہ کیا نکلتا ہے؟ ریاضی میں نسبت و تناسب کے قاعدے سے تین معلوم اَقدار کی مدد سے چوتھی قدر کا تعین کیا جاتا ہے. یہاں بھی ہمیں چوتھی قدر کا تعین کرنا ہے اور وہ یہ ہوگی کہ انسا ن کو جو قوتِ گویائی اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی ہے‘اس کا بہترین مصرف اگر کوئی ہے تو وہ قرآن مجید کا پڑھنا پڑھانا اور اس کا سیکھنا سکھانا ہے. انسان کو اللہ تعالیٰ نے جو قوتِ بیانیہ دی ہے‘یہ انسان کے اوصاف میں سے اعلیٰ ترین وصف ہے‘ اور اس کا بہترین مصرف یہی ہوسکتا ہے کہ اس کے ذریعے اللہ کے کلام کو بیان کیا جائے‘اللہ کے پیغامِ ہدایت کو عام کیاجائے‘اللہ کے اس کلام کی تبلیغ واشاعت کی جائے. 

سورۃ الرحمن کی تین آیات میں سے میں نے یہ جو نتیجہ نکالا ہے یہ رسول اللہ  کی ایک حدیث سے ثابت ہے‘جس کے راوی حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ ہیں. اس سے ہمیں قرآن اور حدیث کا باہمی تعلق سمجھنے میں بھی مدد ملتی ہے. ہمارے ہاں کچھ ایسے محروم لوگ ہیں جو اپنے آپ کو حدیث سے مستغنی سمجھ بیٹھے ہیں اور اس طرح شدید گمراہی میں مبتلا ہوگئے ہیں. وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہمار ے لیے بس قرآن کافی ہے اور نبی کریم  کے فرمودات کو سمجھنے اور ان سے استفادہ کی ضرورت نہیں. حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ اگر صرف کتاب کافی ہوتی تو نبیوں اور رسولوں کی بعثت کی ضرورت نہیں تھی. کتاب کے ساتھ ایک معلم ضروری ہوتا ہے. آپ اعلیٰ سے اعلیٰ کتابیں چھاپ لیجیے‘لیکن آپ کا کیاخیال ہے کہ دُنیا کے اندر کوئی نظامِ تعلیم بغیر معلمین کے بنایا جاسکتا ہے؟ اکبر الٰہ آبادی کا بڑا پیارا شعر ہے کہ ؎ 

کورس تو لفظ ہی پڑھاتے ہیں 
آدمی‘ آدمی بناتے ہیں! 

کورس پڑھنے سے تو انسان انسان نہیں بنتا. انسان تو انسان کے بنانے سے بنتا ہے. تعلیم کے لیے معلّم کی ضرورت ناگزیر ہے. تو یہ جان لیجیے کہ محمد رسول اللہ  معلم بن کر آئے. حضور نے خود فرمایا: وَاِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّمًا (۱’’اور میں تو معلم ہی بنا کر ____________________________(۱) سنن ابن ماجہ‘ المقدمۃ‘ باب فضل العلماء والحث علی طلب العلم.وسنن الدارمی‘ المقدمۃ‘ باب فی فضل العلم والعالم. بھیجا گیا ہوں‘‘. قرآن مجید میں حضور  کے طریق ِکار کے ضمن میں (قدرے تقدیم و تاخیر کے ساتھ )چار جگہ یہ الفاظ ملتے ہیں: 

یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِکَ وَ یُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ 
(البقرۃ:۱۲۹و۱۵۱‘ آل عمران:۱۶۴‘ الجمعۃ:۲)

’’وہؐ انہیں اللہ کی آیات تلاوت کرکے سناتا ہے‘اور ان کا تزکیہ کرتا ہے‘اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے.‘‘

تو اللہ کی کتاب‘اللہ کے کلام کے معلم ہیں محمد رسول اللہ  . 

لسانِ نبوت میں ’’بہترین‘‘ کون؟

ان چار آیات کی جو میں نے اس قدر تفصیل بیان کی ہے‘اور ایک ایک لفظ پر اتنا وقت صرف کرنے کے بعد آپ کو جس نتیجہ پر پہنچایا ہے‘جس کے لیے میں نے نسبت و تناسب کے قاعدے کا حوالہ بھی دیا ہے‘وہ نتیجہ محمد رسول اللہ  نے ایک سادہ سے جملہ میں بیان فرمادیا ہے. اس حدیث کے راوی حضرت عثمان غنی ذوالنورین رضی اللہ عنہ ہیں. چونکہ میں اسے ان آیات کے ساتھ جوڑ رہا ہوں جن میں چوٹی کے مضامین بیان ہوئے ہیں تو یہ بھی ذہن میں رکھئے کہ سند کے اعتبار سے یہ حدیث بھی چوٹی کا مقام رکھتی ہے. یہ حدیث امام بخاری‘امام ترمذی‘ امام ابوداؤد‘ امام ابن ماجہ‘ امام احمد بن حنبل اور امام دارمی وغیرہم ( رحمہم اللہ) نے روایت کی ہے. صحیح بخاری کے بارے میں آپ جانتے ہیں کہ کتب حدیث میں یہ چوٹی کی حیثیت کی حامل ہے. اس کے بارے میں ’’اَصَحُّ الْکُتُبِ بَعْدَ کِتَابِ اللّٰہِ‘‘ ہونے پر علمائے کرام کا اتفاق ہے. یعنی قرآن حکیم کے بعد یہ دنیا کی صحیح ترین کتاب ہے. صحیح بخاری کے علاوہ یہ حدیث دیگر کتب حدیث میں بھی موجود ہے. وہ حدیث یہ ہے کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم  نے ارشاد فرمایا:

خَیْرُکُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَہٗ (١) 
____________________________ (١) صحیح البخاری‘ کتاب فضائل القرآن‘ باب خیرکم من تعلم القرآن وعلمہ. وسنن الترمذی‘ کتاب فضائل القرآن‘ باب ما جاء فی تعلیم القرآن. وسنن ابی داوٗد‘ کتاب الصلاۃ‘ باب فی ثواب قراء ۃ القرآن. صحیح بخاری‘ سنن ترمذی‘ سنن ابن ماجہ اور مسند احمد میں یہ الفاظ بھی وارد ہوئے ہیں : اِنَّ اَفْضَلَکُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَہٗ (حاشیہ از مرتب) ’’تم میں سے بہترین وہ ہے جس نے قرآن سیکھا اور اسے (دوسروں کو) سکھایا.‘‘ 
یعنی اہل ایمان میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جو قرآن سیکھیں اور سکھائیں‘ قرآن پڑھیں اور پڑھائیں. اور دیکھئے یہاں 
’’خَیْرُکُمْ‘‘ کِن سے کہا جارہا ہے؟ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے! ظاہر بات ہے کہ صحابہ کرامؓ میں بھی فرقِ مراتب ہے‘ ان میں درجات ہیں: ؏ ’’گرحفظ مراتب نہ کنی زندیقی!‘‘ ہم اہل سنت کا متفق علیہ عقیدہ ہے کہ ’’اَفْضَلُ الْبَشَرِ بَعْدَ الْاَنْبِیَاءِ بِالتَّحْقِیْقِ‘ اَبُوْبَکْرٍ الصِّدِّیْقُ رضی اللّٰہُ عنہ‘‘ یعنی یہ بات ثابت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ انبیاء کے بعد افضل البشر ہیں. آپؓ کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا مقام ہے‘پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں. خلفائے اربعہ کے بعد پھر عشرہ مبشرہ ہیں رضوان اللہ علیہم اجمعین . تو ظاہر ہے کہ ؏ ’’ہر گلے را رنگ و بوئے دیگر است‘‘ . مزاج میں بہرحال کچھ نہ کچھ فرق ہے. حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی طبیعت جمالی ہے‘حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی جلالی ہے. حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے اندر رحمت و شفقت کا مادہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے. حضرت عمر رضی اللہ عنہ دین کے معاملات میں بہت شدید ہیں. حضرت عثمان رضی اللہ عنہ میں سچائی اور حیا کا مادہ بدرجہ ٔاتم موجود ہے. حضرت علی رضی اللہ عنہ مقدمات کے فیصلے کرنے میں بہت زِیرک ہیں. چنانچہ رسول اللہ  نے ارشاد فرمایا:
اَرْحَمُ اُمَّتِی بِاُمَّتِی اَبُوْبَکْر‘ وَاَشَدُّھُمْ فِیْ اَمْرِ اللّٰہِ عُمَر‘ وَاَشَدُّھُمْ حَیَاءً عُثْمَان‘ وَاَقْضَاھُمْ عَلِّیٌّ …… الخ (۱

تو ظاہر بات ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی نسبتیں ہیں. حضور  ان سے فرماتے ہیں: 
خَیْرُکُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَہٗ

’’تم میں سے بہترین وہ ہے جوقرآن سیکھے اور اسے (دوسروں کو) سکھائے.‘‘ 

صحابہ کرامؓ کی درخشاں مثالیں

اس حوالے سے میں خاص طور پر نوجوانوں کے لیے عرض کروں گا کہ ان کے دلوں میں قرآن کو سیکھنے سکھانے کی آرزو اور امنگ پیدا ہونی چاہیے. جوانی کا دَورآرزوؤں اور امنگوں کا دور ہوتا ہے‘ لیکن عام طور پر ہم جن آرزوؤں کے پیچھے دوڑتے ہیں ان کا تعلق ____________________________(۱) سنن الترمذی‘ کتاب المناقب‘ عن انس بن مالک رضی اللہ عنہ. اسی دُنیوی زندگی سے ہوتا ہے. عمدہ کیریئر‘اچھا مکان اور دنیوی آسائشوں کے حصول کی آرزوئیں تو ہر ایک کے دل میں پیدا ہوتی ہیں لیکن آپ کے دل میں وہ آرزو پیدا ہونی چاہیے جس کے بارے میں علامہ اقبال فرماتے ہیں ؎ 

آرزو اوّل تو پیدا ہو نہیں سکتی کہیں 
اور ہوجائے تو مر جاتی ہے یا رہتی ہے خام! 

وہ کون سی آرزو ہے؟ وہ ان چیزوں کی آرزو ہے کہ جن سے اس مادہ پرستی کے دورمیں ہماری نگاہیں بالکل ہٹ گئی ہیں. کاش کہ یہ آرزو پیدا ہوجائے کہ ہم صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نقش قدم پر چل سکیں. کاش نوجوانوں کے دلوں میں وہ آرزو پیدا ہو کہ اللہ ہمیں جناب ارقم رضی اللہ عنہ یا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق دے دے. یہ دو نام میں نے آپ کو اس لیے سنائے ہیں کہ یہ دونوں نبی اکرم سے قرآن سیکھتے تھے اور پھر جاکر دوسروں کو سکھاتے تھے. آپ کو معلوم ہے کہ مکہ میں حالات بڑے دگرگوں اور نامساعد تھے. کفر و شرک کاغلبہ تھا. کوئی مسجد تو ایسی نہ تھی جہاں حضور تشریف فرما ہوں اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو تعلیم دیں. ایسا تو ممکن ہی نہ تھا. ایک حضرت ارقم رضی اللہ عنہ کا گھر تھا جس میں حضور  صحابہ کرامؓ کو تعلیم دیتے ‘اور ظاہر بات ہے کہ سب لوگ وہاں جمع نہیں ہوسکتے تھے. لوگوں کی اپنی مصروفیات بھی ہوتیں. پھر یہ کہ اگر محسوس ہوجاتا کہ یہاں مرکز بن گیا ہے تو مخالفت شدید ہو جاتی . ان حالات میں تعلیم کا طریق کار یہ تھا کہ کچھ لوگوں نے اپنے آپ کو اس کام کے لیے وقف کردیا تھا کہ وہ حضور کی صحبت میں رہتے تھے. جیسے ہی وحی نازل ہوتی‘وہ اسے سیکھ لیتے اور پھر اہل ِ ایمان کے گھروں پر جاکر اس وحی کو پہنچاتے تھے. اس طریقے سے قرآن کے علم کی تبلیغ جاری تھی. 

انہی نوجوانوں میں سے ایک صحابی حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ تھے. یہ وہ صحابی ہیں کہ جن کو دہکتے ہوئے انگاروں پر ننگی پیٹہ لٹایا گیا اور ان کی کمر کی چربی پگھلنے سے وہ انگارے ٹھنڈے ہوئے. ایمان لانے کے بعد انہیں ایسی ایسی سختیاں جھیلنی پڑیں‘ لیکن وہ اس سب کے باوجود اس کام میں ثابت قدمی سے لگے رہے کہ اللہ کا جو کلام محمدرسول اللہ  پر نازل ہوتا‘وہ آپؐ سے سیکھتے اور لوگوں تک پہنچاتے. حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ایمان لانے کا جو واقعہ آتا ہے اس میں بھی حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کا کردار بہت اہم ہے. حضرت عمر رضی اللہ عنہ گھر سے حضور کو قتل کرنے کے ارادے سے ننگی تلوار لے کر بڑی جلالی کیفیت میں نکلے تھے. راستے میں انہیں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ مل گئے جو اگرچہ ایمان لاچکے تھے‘لیکن انہوں نے اپنا ایمان ابھی چھپایا ہوا تھا. انہوں نے پوچھا: کہاں جارہے ہو؟ کہا: میں آج محمدؐ کو قتل کرکے چھوڑوں گا‘اب یہ قصہ چکا دینا ہے (نعوذُ باللّٰہِ مِنْ ذٰلک). حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بڑی حکمت سے رُخ موڑ دیا کہ تم محمد( ) کو قتل کرنے جارہے ہو‘پہلے اپنے گھر کی تو خبر لو‘تمہاری ہمشیرہ اور تمہارے بہنوئی دونوں ایمان لاچکے ہیں! اب آپ تصور نہیں کرسکتے کہ اُس وقت عمرؓ کے غیظ و غضب کا کیا عالم ہوگا. وہ غصے میں آگ بگولہ اپنی ہمشیرہ حضرت فاطمہ بنت خطاب رضی اللہ عنہا کے گھر پہنچے تو وہاں حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ‘ آپ کی ہمشیرہ اور آپ کے بہنوئی حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہما کو سورۂ طٰہٰ کی آیات سکھا رہے تھے. کاش ہمارے دل میں بھی یہی جذبہ پیداہوجائے. 

دوسرا نام میں نے حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کا لیا ہے. ان کا ذکر شاید ہمارے دلوں کے اندر کوئی آرزو پیدا کرنے کا ذریعہ بن جائے. یہ بڑے لاڈ اور پیار سے پلے تھے. ان کے لیے دو دو سو درہم کا جوڑا شام سے تیار ہو کر آتا تھا. آپ نے سنا ہوگا کہ جوانی کے عالم میں پنڈت جواہر لال نہرو کے کپڑے پیرس سے سل کر آیا کرتے تھے. ہندوستان میں پہلی کار جو غیر سرکاری طور پر آئی تھی وہ ان کے والد پنڈت موتی لال نہرو کی تھی. اپنی پوتی اندرا گاندھی کی پیدائش پر پنڈت موتی لال نہرو نے پورے الٰہ آباد کے لوگوں کی دعوت کی تھی. تو جس طرح یہ بات مشہور تھی کہ جواہر لال نہرو کے کپڑے پیرس سے سل کر آتے ہیں اور پیرس سے دُھل کر آتے ہیں‘اس طرح کا معاملہ تھا حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کا. ان کے جوڑے شام سے تیار ہو کر آتے تھے اور لباس اس قدر معطر ہوتا تھا کہ جس راستے سے مصعبؓ گزر جاتے‘پورا راستہ معطر ہو جاتا. لیکن وہ جب نبی اکرم پرایمان لے آئے تو ان کے گھروالوں نے ان کے بدن سے سارے کپڑے تک اُتروا لیے اور انہیں بالکل برہنہ کرکے گھر سے نکال دیا کہ اگر تم نے باپ دادا کا دین چھوڑ دیا ہے تو باپ کی کمائی میں سے جو کپڑے ہیں‘ان پر بھی تمہارا حق نہیں ہے. اس کے 
بعد دو دو سو درہم کا جوڑا پہننے والے اس نوجوان پر وہ وقت بھی آیا کہ پھٹا ہوا ایک کمبل جسم پر ہے اور اس میں پیوند لگے ہوئے ہیں. ایمان لانے کے بعد انہوں نے اپنے آپ کو تعلیم و تعلّم قرآن کے لیے وقف کردیا. 

انسان کا رُخ جب بدلتا ہے تو اس کی آرزوئیں اور امنگیں بھی بدل جاتی ہیں. پہلے وہ اُس معاملہ میں آگے تھے ‘اب اِس معاملہ میں آگے ہیں. اسی کام میں اپنی صلاحیتیں لگا رہے ہیں. بیعت ِ عقبہ اولیٰ کے موقع پر ایمان لانے والے مدینہ کے بارہ افراد نے آنحضور کی خدمت میں عرض کیا کہ ہمیں اپنے کوئی ایسے ساتھی دے دیجیے جو ہمیں قرآن پڑھائیں. اُس وقت نبی اکرم  نے حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو مامور کیا کہ تم مدینہ جاکر وہاں کے لوگوں کو قرآن پڑھاؤ. حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ نے وہاں سال بھر قرآن کی تعلیم و تدریس کا کام کیا اور اس عظیم کام کی مناسبت سے وہاں آپ کا نام ہی ’’مقری‘‘(پڑھانے والا) پڑگیا. لوگ آپ کو دیکھتے تو پکار اُٹھتے: ’’جَاءَ الْمُقْرِی‘‘ (وہ پڑھانے والے آگئے). حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کی سال بھر کی محنت و کوشش کا نتیجہ یہ نکلا کہ اگلے سال مدینہ سے ۷۵ اشخاص آئے اور انہوں نے محمد  کے ہاتھ پر بیعت کی. یہ گویا مصعب ؓ کی ایک سال کی کمائی تھی. 

حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کا ذکر آیا ہے تو میں ان کے بارے میں کچھ مزید عرض کردوں. رسول اللہ  جب مکہ سے ہجرت فرماکر مدینہ تشریف لے آئے تو ایک روز آپؐ مسجد نبوی میں تشریف فرماتھے کہ حضرت مصعب رضی اللہ عنہ دروازے کے سامنے سے گزرے. اس وقت ان کے جسم پر ایک پھٹا ہوا کمبل تھا جس میں پیوند لگے ہوئے تھے. انہیں دیکھ کر نبی اکرم کی آنکھوں میں آنسو آگئے کہ یہ مصعب ؓ اللہ کے دین کے لیے کہاں سے کہاں پہنچا! غزؤہ احد میں جب یہ شہید ہوئے تو اس وقت ان کے جسم پر بس ایک چادر تھی اور آپ کو معلوم ہے کہ شہیدکا کفن وہی لباس ہوتا ہے جس میں اسے شہادت ملے. اب تدفین کے وقت یہ مسئلہ پیدا ہوگیا کہ مصعبؓ کے جسم پر جو چادر تھی‘وہ اتنی چھوٹی تھی کہ اگراس سے اُن کا سر ڈھانپتے تھے تو پاؤں کھل جاتے اور پاؤں ڈھانپتے تھے تو سر کھل جاتا. یہ مسئلہ حضور کے سامنے رکھا گیا تو آپؐ نے فرمایا کہ ان کا سر چادر سے
ڈھانپ دو اور ان کے پاؤں پر گھاس ڈال دو. یہ ہے آخری لباس جو مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو میسر آیا . مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کی شکل و صورت میں حضور  سے بڑی مشابہت تھی. یہی وجہ ہے کہ غزوۂ اُحد میں جب آپؓ نے جامِ شہادت نوش کیا تو مشہور ہوگیا کہ حضور شہید ہوگئے . غزؤہ اُحد میں یہ اسلامی فوج کے علم بردار تھے. 

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اس طرح کے واقعات قلب پر گہرا تاثر چھوڑتے ہیں. جو بھی مسلمان ہے اگر اس کے سامنے حضرت خباب رضی اللہ عنہ یا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کی تصویر سامنے آئے تو کیسے ممکن ہے کہ دل پر اثر نہ ہو! لیکن جو بات سمجھنے کی ہے وہ یہ کہ یہاں ان صاحب ِ عزیمت ہستیوں کا ذکر کس حوالے سے ہورہا ہے! کاش! اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں میں بھی یہ آرزو پیدا فرمادے کہ جس طرح انہوں نے اپنے آپ کو اس کے لیے وقف کردیا کہ وہ کلامِ الٰہی جو محمد رسول اللہ  پر نازل ہوا اس کو عام کریں‘اس کو پھیلائیں‘ اسے دوسروں تک پہنچائیں‘اسی طرح اسی کے لیے زندگیاں وقف کرنے کی کوئی اُمنگ‘کوئی آرزو ہمارے دلوں میں بھی پیدا ہو جائے. 

سورۃ عبس کی چار آیات

سورۃ عبس کی چار آیات‘جن کی آغاز میں تلاوت کی گئی‘وہ بھی اسی مضمون کی شرح پر مشتمل ہیں. ارشاد ہوتا ہے: 

فِیۡ صُحُفٍ مُّکَرَّمَۃٍ ﴿ۙ۱۳﴾مَّرۡفُوۡعَۃٍ مُّطَہَّرَۃٍۭ ﴿ۙ۱۴﴾بِاَیۡدِیۡ سَفَرَۃٍ ﴿ۙ۱۵﴾کِرَامٍۭ بَرَرَۃٍ ﴿ؕ۱۶﴾ 

ذرا غور کیجیے کہ ان الفاظ میں کس قدر شکوہ ہے. کاش کہ قرآن کریم سے ہماری یہ مناسبت بھی پیدا ہو جائے. واقعہ یہ ہے کہ قرآن کا جو صوتی آہنگ ہے اور اس میں جو ایک ملکوتی غنا اور موسیقی مضمر ہے‘اس کی کوئی دوسری نظیر ممکن نہیں. ایک موسیقی وہ ہے جس کے ہم عادی ہو گئے ہیں اور ایک یہ ملکوتی موسیقی ہے جو اس قرآن مجید کے صوتی آہنگ میں ہے. آپ کو بہت سے ایسے لوگ ملے ہوں گے جنہیں موسیقی سے ہی کوئی مناسبت نہیں ہوتی. کوئی اچھے سے اچھا راگ بھی ہو تو انہیں پتا نہیں چلتا کہ کیا ہورہا ہے. اسی طرح ہمارا حال یہ ہے کہ ہم قرآن حکیم کی ملکوتی موسیقی سے بے بہرہ ہیں. اس کائنات میں بہترین موسیقی یہ اللہ کا کلام ہے‘ لیکن افسوس کا مقام ہے کہ ہمارے لیے اس میں کوئی کشش اور دلچسپی نہیں. 

اس پہلو سے قرآن کے ساتھ ہماری ذہنی و قلبی مناسبت پیدا ہونی چاہیے. رسول اللہ  نے بڑی تاکید کے ساتھ فرمایا ہے کہ : 

زَیِّنُوا الْقُرْآنَ بِاَصْوَاتِکُمْ (۱
’’اس قرآن کو اپنی آوازوں سے مزین کیا کرو!‘‘

نبی اکرم کے صحابہؓ میں سے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو اللہ تعالیٰ نے بہت اچھی آواز عطا کی تھی اور ان کی قراء ت کو خود نبی اکرم بڑے شوق سے سنتے تھے. ایک مرتبہ حضور  رات کے وقت ان کے گھر کے پاس گزرے‘اس وقت حضرت ابوموسی ٰ ؓ اپنی خاص کیفیت کے ساتھ قرآن پڑھ رہے تھے. حضور بڑی دیر تک وہاں کھڑے ہو کر قرآن سنتے رہے اور فجر میں ان سے فرمایا: 
یَا اَبَا مُوْسٰی! لَقَدْ اُوتِیْتَ مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِیْرِ آلِ دَاوٗدَ (۲’’ اے ابوموسیٰ! تمہیں تو اللہ تعالیٰ نے آلِ داؤد کے سازوں میں سے ایک ساز عطا کیا ہے!‘‘ حضرت داؤد علیہ السلام جب صبح کے وقت زبور کے حمد کے ترانے پڑھاکرتے تھے تو قرآن میں گواہی موجود ہے کہ پرندے بھی ان کے ساتھ شریک ہوجاتے اور پہاڑ بھی وجد میں آجاتے تھے. قرآن حکیم کے الفاظ میں جو پرشکوہ صوتی آہنگ اور ملکوتی غنا ہے وہ ان چار آیات میں نمایاں طور پر دیکھا جاسکتا ہے. 

قرآن مجید کی عظمت خود قرآن میں جا بجا بیان ہوئی ہے‘لیکن آج کی اس نشست میں ہم نے اس کے لیے سورۃ رحمن اور سورۃ عبس کی چار چار آیات کا انتخاب کیا ہے. سورۃ عبس کی ان آیات میں قرآن مجید کے بارے میں فرمایا گیا: 

فِیۡ صُحُفٍ مُّکَرَّمَۃٍ ﴿ۙ۱۳﴾ 
’’یہ کتاب بڑے باعزت صحیفوں میں ہے.‘‘ 

یہ لوح ِ محفوظ میں لکھی ہوئی ہے. یہاں دنیا میں تو اس کا ایک عکس ہے جو آپ دیکھ رہے 
____________________________ (۱سنن النسائی‘ کتاب الافتتاح‘ باب تزیین القرآن بالصوت. وسنن ابی داوٗد‘ کتاب الصلاۃ‘ باب استحباب الترتیل فی القراء ۃ. وسنن ابن ماجہ‘ کتاب اقامۃ الصلاۃ والسنۃ فیھا‘ باب فی حسن الصوت بالقرآن. عن البراء بن عازبؓ . 

(۲صحیح البخاری‘ کتاب فضائل القرآن‘ باب حسن الصوت بالقراء ۃ للقرآن. وصحیح مسلم‘ کتاب صلاۃ المسافرین وقصرھا‘ باب استحباب تحسین الصوت بالقرآن . 
ہیں. اصل کتاب تو لکھی ہوئی ہے لوح ِ محفوظ میں‘ بالفاظِ قرآنی: 

بَلۡ ہُوَ قُرۡاٰنٌ مَّجِیۡدٌ ﴿ۙ۲۱﴾فِیۡ لَوۡحٍ مَّحۡفُوۡظٍ ﴿٪۲۲﴾ (البروج)

ایک دوسری جگہ فرمایا: 

فِیۡ کِتٰبٍ مَّکۡنُوۡنٍ ﴿ۙ۷۸﴾لَّا یَمَسُّہٗۤ اِلَّا الۡمُطَہَّرُوۡنَ ﴿ؕ۷۹﴾ (الواقعہ) 

کہ یہ کتاب تو ’’ مکنون‘‘ ہے ‘جیسے کسی بہت ہی قیمتی ہیرے کو ڈبیہ میں بند کرکے ڈبیہ کو کسی بکس میں رکھا جاتا ہے. ساتھ ہی فرمایا کہ اسے صرف وہی چھوتے ہیں جو انتہائی پاک و طیب ہیں‘یعنی فرشتے. اس وقت ان سب آیات کی تشریح ممکن نہیں ہے. میں صرف سورۃ عبس کی آیات کا ترجمہ کررہا ہوں. ان باعزت صحیفوں کے بارے میں فرمایا:

مَّرۡفُوۡعَۃٍ مُّطَہَّرَۃٍۭ ﴿ۙ۱۴﴾ 
’’بہت ہی رفیع الشان اور بہت ہی پاک کیے ہوئے (صحیفے ہیں).‘‘

اور کن کے ہاتھوں میں ہیں؟ 

بِاَیۡدِیۡ سَفَرَۃٍ ﴿ۙ۱۵﴾کِرَامٍۭ بَرَرَۃٍ ﴿ؕ۱۶﴾ 
’’ان لکھنے والوں کے ہاتھوں میں‘جو بڑے بلند مرتبہ اور نیکو کار ہیں.‘‘

اب ان آیات سے متعلق ایک حدیث سن لیجیے. سورۃ الرحمن کی چار آیات کا خلاصہ بھی میں نے آپ کو حدیث شریف سے سنایا ہے اور ان چار آیات کا خلاصہ بھی حدیث میں ہے. اُمّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اس کی راویہ ہیں. فرماتی ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا: 

اَلْمَاھِرُ بِالْقُرْآنِ مَعَ السَّفَرَۃِ الْکِرَامِ الْبَرَرَۃِ (۱

حضور فرماتے ہیں کہ جو شخص قرآن کا ماہر ہوجائے‘اس کو صحیح طور پر پڑھتا ہو‘اس کو سمجھتا ہو‘اس کا رتبہ بھی ان فرشتوں کا سا ہے جن کے لیے سورۃ عبس میں ’’سَفَرَۃٍ کِرَامٍۭ بَرَرَۃٍ ﴿ؕ۱۶﴾‘‘ کے الفاظ آئے ہیں. یعنی لوح ِ محفوظ میں قرآن کو لکھنے والے بلند مرتبہ نیکو کار فرشتوں کا جو مقام و مرتبہ ہے‘وہی رتبہ ہے ان لوگوں کا جو قرآن کے پڑھنے پڑھانے والے ہیں‘سمجھنے سمجھانے والے ہیں‘ قرآن کی مہارت رکھتے ہیں‘پڑھتے ہیں تو صحیح پڑھتےہیں‘اس کے (۱) صحیح البخاری‘ کتاب تفسیر القرآن‘ باب عبس وتولی … وصحیح مسلم‘ کتاب صلاۃ المسافرین وقصرھا‘ باب فضل الماھر فی القرآن والذی یتتعتع بہ. واللفظ للمسلم. مفہوم کو سمجھتے ہیں‘اور اسی کے تعلیم و تعلّم میں شب و روز لگے ہوئے ہیں. 

مسلمانوں کے عروج و زوال کی حقیقت

اب میں اپنے موضوع کے دوسرے حصے کی طرف آتا ہوں جس کاتعلق ہمارے موجودہ حالات سے ہے. اس ضمن میں ایک حدیث‘جس کے الفاظ اگرچہ بہت مختصر ہیں‘لیکن یہ ایک بڑی عظیم حقیقت کو بیان کررہی ہے‘حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے. یہ حدیث صحیح مسلم میں وارد ہوئی ہے. رسول اللہ نے فرمایا: 

اِنَّ اللّٰہ یَرْفَعُ بِھٰذَا الْکِتَابِ اَقْوَامًا وَیَضَعْ بِہٖ آخَرِیْنَ (۱
یعنی اللہ تعالیٰ اسی کتاب کی بدولت قوموں کو اُٹھائے گا‘ ترقی دے گا‘عروج بخشے گا‘انہیں اس دنیا میں بلندی سے سرفراز فرمائے گا‘اور اسی کتاب کو چھوڑنے کے باعث قوموں کو ذلیل و خوار کرے گا. یہ حدیث بڑی اہم ہے. میں نے جب اس حدیث پر غور کیا تو یہ بات سامنے آئی کہ اس حقیقت کا تعلق بالخصوص مسلمانوں سے ہے. محمدرسول اللہ  کے اس فرمان کے بموجب مسلمانوں کے لیے اللہ تعالیٰ کا مستقل ضابطہ یہ ہے کہ ان میں سے جو قوم بھی قرآن کو لے کر اُٹھے گی اسے اللہ تعالیٰ دنیا میں عروج و سربلندی اور غلبہ عطا فرمائے گا ‘اور مسلمانوں میں سے جو قوم قرآن کو ترک کر دے گی‘ قرآن کو چھوڑ دے گی‘ قرآن کی طرف پیٹھ کر لے گی‘اس کو اللہ تعالیٰ ذلیل و رسوا کردے گا. ہمارے موجودہ حالات میں یہ بات ہمارے لیے بڑی قابل توجہ ہے. واقعہ یہ ہے کہ رواں صدی یعنی بیسویں صدی عیسوی ‘ یہ دنیا میں ہماری ذلت و رسوائی کی آخری حد ہے. ویسے تو چند سال قبل مجھے یہ گمان ہوا تھا کہ شاید ہماری ذلت و رسوائی کا دور اب ختم ہو رہا ہے اور شاید اب ہم دنیا میں عروج کی طرف گامزن ہو رہے ہیں . وہ جو مولانا حالی نے کہا تھا ؎ 

پستی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے 
اسلام کا گر کر نہ ابھرنا دیکھے 
مانے نہ کبھی کہ مد ہے ہر جزر کے بعد 
دریا کا ہمارے جو اُترنا دیکھے! 

تو یہ قانونِ فطرت ہے کہ جزر کے بعد مدآتا ہے اور مد کے بعد جزر. تو ایک خیال یہ آیا تھا کہ شاید ہمارے زوال کا دور اب ختم ہوگیا ہے اور ہمارے عروج کا دور شروع ہورہا ہے . (۱) صحیح مسلم‘ کتاب صلاۃ المسافرین وقصرھا‘ باب فضل من یقوم بالقرآن ویعلمہ… وسنن ابن ماجہ‘ المقدمۃ‘ باب فضل من تعلم القرآن وعلمہ. ومسند احمد‘ح:٢٢٦ ــ . یہ دن وہ تھے جب ہمارے یہاں اسلامی سربراہی کانفرنس ہوئی تھی. ملت اسلامیہ میں بہت جوش اور ولولہ نظر آرہاتھا. اس زمانے میں شاہ فیصل موجود تھے‘جو مسلمانوں کی امیدوں کامرکز بن گئے تھے. عرب حکمرانوں کے اندر بھی اتحاد نظر آرہا تھا اور عربوں نے علامہ اقبال کے الفاظ میں ؏ ’’لڑا دے ممولے کو شہباز سے!‘‘ کے مصداق تیل کا ہتھیار استعمال کرکے امریکہ جیسی طاقت کو ہلا کر رکھ دیا تھا. پھر یہ کہ ترکوں اور عربوں کے درمیان جو دشمنی تھی‘وہ بھی کچھ کم ہورہی تھی. چنانچہ بہت سے اعتبارات سے محسوس ہوتا تھا کہ اب شاید اُمت مسلمہ کے دن پھرنے والے ہیں‘ لیکن معلوم ہوتا ہے کہ ابھی وہ وقت نہیں آیا. غالباً ابھی ہمارے اوپر اللہ کے عذاب کے مزید کوڑے برسنے والے ہیں. اب تک ہماری پیٹھ پر عذابِ الٰہی کے کئی کوڑے برس چکے ہیں‘ لیکن ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم نے ان سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا. ۱۹۱۹ء کا بالشویک انقلاب کوئی معمولی المیہ نہ تھا‘جس کے نتیجہ میں روسی ترکستان کا وسیع و عریض علاقہ‘ تاجکستان‘ ازبکستان اور سمر قند و بخارا جیسے ہماری تہذیب و تمدن کے ایسے بڑے گہوارے سرخ امپریلزم کے شکنجے میں آ گئے اور وہاں کے مسلمانوں کی اس طرح برین واشنگ کی گئی کہ انہیں اپنا مسلمان ہونا بھی یاد نہیں رہا. 

یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم نے کبھی اپنے عروج و زوال کے ادوار کی طرف نظر تک نہیں کی. ہم تو اپنے ماضی سے بالکل منقطع ہو کر رہ گئے ہیں. انگریز کے مسلط کردہ نظامِ تعلیم نے ہمیں اپنے ماضی سے بالکل کاٹ کررکھ دیا ہے. عربی اور فارسی سے تعلق منقطع ہوا تو اپنے ماضی سے تعلق منقطع ہوگیا ہے. کس کو یہ معلوم ہے کہ ایک وقت وہ بھی تھا جب بنو امیہ کی فوجیں پورے سپین کو اپنے قدموں تلے روندتی ہوئی عین فرانس کے قلب میں پہنچ گئی تھیں ‘اور ایک وقت وہ بھی آیا تھاکہ ترک افواج پورا مشرقی یورپ فتح کرنے کے بعد اٹلی کے دروازوں پر پہنچی ہوئی تھیں ؎ 

کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تونے!
وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا! 

لیکن آج ہم ذلت و رسوائی کی چکی میں پس رہے ہیں. ہر طرف سے ہمیں خطرات و خدشات نے گھیرا ہوا ہے. سب سے بڑا خطرہ ہمیں اپنے ہندو ہمسائے سے ہے جو قیام ِ پاکستان کے وقت سے ہماری دشمنی پر کمر بستہ ہے. سقوطِ ڈھاکہ پر اندرا گاندھی نے کہا تھا کہ ہم نے اپنی ہزار سالہ شکست کا بدلہ چکا دیا ہے‘ لیکن واقعہ یہ ہے کہ اس سے بھی ان کے سینے میں انتقام کی آگ ٹھنڈی نہیں ہوئی. ان کے سینے کا اصل ناسور تو سندھ ہے‘جسے ’’بابُ الاسلام‘‘ بننے کا شرف حاصل ہوا. یہیں پر ہندو کو مسلمان کے ہاتھوں سب سے پہلی شکست اُٹھانا پڑی. راجہ داہر یہاں پر بہت بڑے علاقے پر حکمران تھا جسے انتہائی ذلت آمیز شکست ہوئی تھی اور سندھ صرف دارالاسلام ہی نہیں‘اس پورے برعظیم کے لیے باب الاسلام بنا تھا. بے چارے مشرقی پاکستان میں تو بہت دیر بعد کہیں اسلام پہنچا تھا. چنانچہ سندھ سے بدلہ لینے کی امنگیں تو ان کے دل میں اب بھی موجزن ہیں. سقوطِ مشرقی پاکستان کے سانحے پر اندرا گاندھی نے اپنی قوم کو چند ماہ کے اندر ایک اور خوشخبری سنانے کا اعلان بھی کیا تھا اور آپ کو یاد ہوگا کہ اسی زمانے میں یہاں سندھ میں لسانی فسادات کی آگ بھڑک اُٹھی تھی. ان کی طرف سے تو نقشہ تیار تھا‘ یہ الگ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے بچا لیا. 

اس وقت پورے عالم ِ اسلام کے جو حالات ہیں‘ان سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ ذلت و رسوائی کے یہ سائے ابھی اور گہرے ہوتے جائیں گے. اللہ تعالیٰ کے عذاب کے کوڑے جو ہماری پیٹہ پر برسے ہیں‘وہ ہمیں خوابِ غفلت سے بیدار نہیں کرسکے. جو کچھ مشرقی پاکستان میں ہوا‘جیسی کچھ عربوں کو یہودیوں کے ہاتھوں شکست و ہزیمت ہوئی اور مسجد اقصیٰ ہمارے ہاتھ سے نکلی اس کا تو آج ہمارے بہت سے لوگوں کے ذہن میں خیال بھی نہیں رہا ہوگا. جب شروع شروع میں یہ واقعہ ہوا تھا تو بڑی بے چینی تھی‘ بڑے جلسے جلوس تھے‘ قراردادیں پاس کی جاتی تھیں‘عالمی رائے عامہ بیدار کرنے کی کوششیں ہوتی تھیں‘لیکن آج صورت حال یہ ہے کہ ہم قبلہ ٔاوّل پر یہودیوں کا قبضہ ذہنی طور پر تسلیم کرچکے ہیں. مستقبل کے بارے میں واضح طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ اب کیا صورت ہے جو سامنے آنے والی ہے. اگر حالات پر غور کیا جائے تو بڑا ہی تاریک اور بہت ہی مایوس کن نقشہ سامنے آتا ہے. لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان حالات میں کیا کیا جائے ؟
اس ضمن میں سب سے پہلی بات تو یہ سمجھنے کی ہے کہ ہماری اس ذلت و رسوائی اور 


پستی و زوال کا سبب کیا ہے؟ ؎ 
ہیں آج کیوں ذلیل کہ کل تک نہ تھی پسند
گستاخیٔ فرشتہ ہماری جناب میں! 

اس کا کوئی جواب ملنا چاہیے. اس کا جواب محمد رسول اللہ  کے اس فرمان میں موجود ہے جو میں نے ابھی آپ کے سامنے پیش کیا: اِنَّ اللّٰہ یَرْفَعُ بِھٰذَا الْکِتَابِ اَقْوَامًا وَیَضَعُ بِہٖ آخَرِیْنَ .ہمیں سزا مل رہی ہے تو اسی بات کی کہ ہم نے اس قرآن کریم سے دُوری اختیار کرلی. حضور کے فرمان کے بعد کسی اور دلیل کی ضرورت نہیں. ہمارے لیے سب سے بڑی سند اللہ کا کلام اورمحمد رسول اللہ  کا فرمان ہے‘لیکن مزیدوضاحت کے لیے اس صدی کی دو عظیم ترین شخصیتوں کا حوالہ دینا چاہتا ہوں. آپ کو معلوم ہے کہ ہمارے ہاں اہل ِ علم کے دو حلقے ہیں. ایک حلقہ علماء کا ہے جن کی پوری زندگیاں دارالعلوموں میں ’’قال اللّٰہ وقال الرسول‘‘ کے سیکھنے سکھانے میں گزرتی ہیں. دوسرے ہمارے کالجوں اور یونیورسٹیوں سے نکلنے والے لوگ ہیں. برعظیم پاک و ہند میں دارالعلوموں کا سلسلہ دیوبند سے اور کالجوں یونیورسٹیوں کا سلسلہ علی گڑھ سے شروع ہوا ہے. 

حکیمُ الاُمّت کی نبض شناسی

اب آپ ذہن میں رکھیے کہ کالجوں اور یونیورسٹیوں سے نکلنے والے لوگوں میں سے چوٹی کی شخصیت علامہ اقبال کی ہے. ذہنی و فکری اعتبار سے پورے عالم ِ اسلام میں ان کی ٹکر کا آدمی اس صدی میں پیدا نہیں ہوا. intellectual level پر وہ بالکل مسلمہ طور پر بلند ترین شخصیت ہیں جو اس صدی میں پیدا ہوئی. اور دینی حلقوں سے‘ دارالعلوموں سے تعلیم یافتہ‘قال اللہ و قال الرسول کی فضاؤں میں پلنے بڑھنے والوں میں اس صدی کی عظیم ترین شخصیت حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن رحمۃ اللہ علیہ تھے. آپؒ دارالعلوم دیوبند کے پہلے طالب علم ہیں اور پھر ایسے ایسے بڑے شاگردوں کے استاد ہیں کہ جن کا نام سن کر انسان کی گردن خود بخود جھک جاتی ہے. مولانا حسین احمد مدنی‘مولانا شبیر احمد عثمانی‘مولانا اشرف علی تھانوی‘مولانا انور شاہ کاشمیری رحمہم اللہ اور یہ سب کے سب شاگرد ہیں مولانا محمود حسن دیوبندی رحمۃ اللہ علیہ کے. لفظ دیوبندی سے ہوسکتا ہے کہ بعض حضرات کو تھوڑا سا مغالطہ ہو جائے. تو میں یہ وضاحت بھی کردوں کہ مولانا مرحوم اُس وقت جمعیت علمائے ہند کے صدر تھے جبکہ پورے ہندوستان میں ایک ہی جمعیۃ العلماء تھی. اُس وقت آج کی طرح دیوبندیوں‘بریلویوں اور اہل ِحدیث کی علیحدہ علیحدہ جمعیتیں نہ تھیں. جمعیۃ علمائے ہند پورے ہندوستان کے علماء کا متفقہ پلیٹ فارم تھی. بریلوی‘ دیوبندی اور اہل حدیث علماء سب اسی میں شامل تھے. بالفاظ دیگر دہلی‘ بدایوں اور اجمیر کے علماء اسی جمعیت میں تھے اور اُس وقت شیخ الہندؒ اس جمعیۃ علمائے ہند کے صدر تھے. پھر سیاسی اعتبار سے ان کے قد کاٹھ کا تصور اس سے کیجیے کہ انہوں نے ریشمی رومال کی تحریک چلائی تھی. شاید آپ میں سے بہت سوں نے اس تحریک کا نام بھی نہ سنا ہو. اُس وقت انگریز کو ہندوستان سے نکالنے کے لیے جو ایک زبردست ٹیم بنی تھی‘اس کے بنانے والے یہی شیخ الہندؒ تھے. چنانچہ انگریزوں نے انہیں گرفتار کرلیا. آپ اس وقت حجازِ مقدس میں تھے اور شریف حسین جو والی ٔ مکہ تھا‘اس نے غداری کرکے آپ کو گرفتار کروادیا. مکہ سے گرفتار کرنے کے بعد انہیں ہندوستان نہیں لایا گیا‘بلکہ بحیرۂ روم کے جزیرہ مالٹا میں رکھا گیا. گویا ؎ 

اقبال کے نفس سے ہے لالے کی آگ تیز
ایسے غزل سرا کو چمن سے نکال دو! 

اور انہیں اس وقت رہا کیا گیا جب ٹی بی تیسری سٹیج کو پہنچ چکی تھی. انگریز کو اندیشہ یہ تھا کہ اگر ہماری قید میں ان کی موت واقع ہو گئی تو طوفان کھڑا ہو جائے گا‘لہذا رہا کردیا گیا. رہا ہو کر جب ہندوستان پہنچے اور بمبئی کے ساحل پر قدم رکھا تو پہلے دن جو لوگ ملنے کے لیے حاضر ہوئے ان میں مہاتما گاندھی بھی تھا. وہ آپ کی قدم بوسی کے لیے حاضر ہوا تھا. اس سے آپ اندازہ کیجیے شیخ الہندؒ کی شخصیت کا. 
شیخ الہندؒ اور علامہ اقبال کا ذکر میں یہاں اس لیے کررہا ہوں کہ یہ دونوںشخصیتیں اس بات پر متفق ہیں کہ ہمیں جو سزا مل رہی ہے‘ وہ قرآن کو ترک کرنے کی وجہ سے ہے. میں نبی مکرم  کی حدیث آپ کو سنا چکا ہوں اور ہمارے لیے مستند ترین بات حضور کا فرمان ہی ہے‘لیکن مزید وضاحت کے لیے اپنے ان بزرگوں کی بات بھی سن لیجیے. 

علامہ اقبال نے جوابِ شکوہ میں فرمایا کہ ؎

وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہوکر! 

یہی بات انہوں نے فارسی میں بڑے پر شکوہ انداز میں کہی ہے ؎ 

خوار از مہجوریٔ قرآں شدی
شکوہ سنجِ گردشِ دوراں شدی
اے چو شبنم بر زمیں افتندۂٖ
در بغل داری کتابِ زندۂٖ 

کہ اے امت ِمسلمہ تو جو ذلیل و رُسوا ہوئی ہے اور دنیا میں اس طرح پامال کی جارہی ہے‘ یہ قرآن کو ترک کرنے کی وجہ سے ہے. یہاں اقبال نے ’’مہجوری ٔ قرآن‘‘ کی ترکیب سورۃ الفرقان سے لی ہے‘جہاں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَ قَالَ الرَّسُوۡلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوۡمِی اتَّخَذُوۡا ہٰذَا الۡقُرۡاٰنَ مَہۡجُوۡرًا ﴿۳۰﴾ 
’’اور رسولؐ فریاد کریں گے کہ اے رب! میری قوم نے اس قرآن کو ترک کردیا تھا.‘‘

تویہ ہے علامہ اقبال کی نظر میں ہماری ذلت و نکبت اور پستی و رسوائی کا اصل سبب جو اس نے قرآن پر گہرے غور و خوض کے نتیجے میں اخذ کیا ہے. 

شیخ الہندؒ کا نتیجہ فکر

دوسری طرف شیخ الہند مولانا محمود حسن رحمہ اللہ علیہ بھی اسی نتیجے پر پہنچے ہیں. اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے مفتی محمد شفیع صاحبؒ کو جنہوں نے حضرت شیخ الہندؒ کا واقعہ اپنی کتاب ’’وحدتِ اُمت‘‘میں نقل کردیا‘ ورنہ اتنا بڑا اور اہم واقعہ ہمارے علم میں نہ آسکتا. وہ اس واقعے کے عینی شاہد ہیں. حضرت شیخ الہندؒ جب مالٹا کی جیل سے رہائی پاکر ہندوستان تشریف لائے تو دارالعلوم دیوبند میں ایک بہت بڑا جلسہ ہوا. اس جلسہ میں وہ سب بزرگ موجود تھے جن کے ابھی میں نے نام گنوائے ہیں. یعنی مولانا حسین احمد مدنی‘ مولانا اشرف علی تھانوی‘مولانا شبیر احمد عثمانی اور مولانا انور شاہ کاشمیری وغیرھم رحمہم اللہ . انہی کے ساتھ مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ بھی وہاں موجود تھے. انہوں نے یہ واقعہ بیان کیا کہ حضرت شیخ الہندؒ نے فرمایا کہ ’’ہم نے تو مالٹا کی زندگی میں دو سبق سیکھے ہیں‘‘. یہ الفاظ سن کر سارا مجمع ہمہ تن گوش ہوگیا کہ اس استاذ العلماء درویش نے ۸۰سال علماء کو درس دینے کے بعد آخری عمر میں جو سبق سیکھے ہیں‘وہ کیا ہیں. فرمایا: 

’’میں نے جہاں تک جیل کی تنہائیوں میں اس پر غور کیا کہ پوری دنیا میں مسلمان دینی اور دنیوی ہر حیثیت سے کیوں تباہ ہو رہے ہیں تو اس کے دو سبب معلوم ہوئے. ایک ان کا قرآن کو چھوڑ دینا‘دوسرے ان کے آپس کے اختلافات اور خانہ جنگی. اس لیے میں وہیں سے یہ عزم لے کر آیا ہوں کہ اپنی باقی زندگی اس کام میں صرف کروں کہ قرآن کریم کو لفظاً اور معناً عام کیا جائے… اور مسلمانوں کے باہمی جنگ و جدال کو کسی قیمت پر برداشت نہ کیا جائے!‘‘
(وحدتِ اُمت‘ص۳۹.۴۰

اس کے بعد مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ نے بڑی پیاری بات فرمائی ہے کہ حضرتؒ نے جو دو باتیں فرمائیں اصل میں وہ دو نہیں ایک ہی ہے. درحقیقت ہمارے اختلافات میں شدت اس وجہ سے ہوئی کہ ہم نے قرآن کو چھوڑ دیا. اس لیے کہ قرآن مرکز تھا‘اور جب تک سب مرکز سے جڑے ہوتے تھے تو ایک دوسرے سے بھی جڑے ہوتے تھے. جب اس مرکز سے دور ہوتے چلے گئے تو ایک دوسرے سے بھی دور ہوتے چلے گئے. بالکل سادہ سی بات ہے. تو انہوں نے فرمایا: ’’غور کیا جائے تو یہ آپس کی لڑائی بھی قرآن کو چھوڑنے ہی کا لازمی نتیجہ تھی. قرآن پر کسی درجے میں بھی عمل ہوتا توخانہ جنگی یہاں تک نہ پہنچتی‘‘. پس اس تباہی کا ایک ہی سبب ہے اور وہ ہے قرآن کو ترک‘کردینا. 

کرنے کا اصل کام

میں آپ کو وہ حدیث سنا چکا ہوں جس میں یہ قانونِ خداوندی بیان ہوا کہ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کو اُٹھائے گا تو اسی قرآن کی وجہ سے اُٹھائے گا اور جب گرائے گا تو اسی قرآن کو ترک کرنے کے باعث گرائے گا. آج ہم اسی قانونِ خداوندی کی زد میں ہیں. قرآن کے معاملے میں اپنا جو حال ہے وہ کسی کو نظر نہیں آرہا ہے. آج سے تیس چالیس سال پہلے مسلمانوں کے محلوں میں سے گزرتے ہوئے ہر گھر سے قرآن پڑھنے کی آواز تو آتی تھی. یہ الگ بات ہے کہ لوگ ٹھیک سے سمجھتے نہیں تھے‘لیکن تلاوت تو بہرحال ہوتی تھی. اب تو تلاوت بھی نہیں ہے. غور وفکر اور سوچ بچار کا تو سوال ہی نہیں. عربی کون سیکھے‘کون پڑھے؟ عربی سے ہمارا کوئی دنیوی مفاد وابستہ ہو تو ہم سیکھیں.ہم انگریزی پڑھیں گے اور ایسی پڑھیں گے کہ انگریزوں کو پڑھا دیں‘لیکن عربی سیکھنے کے لیے کوئی بھی وقت نکالنے کے لیے تیار نہیں. ہم نے کئی جگہ عربی کلاس کا اجراء کیا. شروع میں بڑا ذوق و شوق ہوتاہے‘ پچاس ساٹھ افراد شریک بھی ہوجاتے ہیں‘ لیکن چند دنوں کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ سب چھٹی کرگئے. پابندی کے ساتھ وقت نکالنا آسان نہیں جب تک کہ دین کی لگن نہ ہواور ایک فیصلہ نہ ہو کہ یہ کام مجھے کرنا ہے. اور اس طرح کے فیصلے ہم دنیا کے لیے تو کرتے ہیں‘ دین کے لیے نہیں. 

اس وقت ہمارے جو حالات ہیں‘ان میں جگانے کی ضرورت ہے‘ہوش میں آنے کی ضرورت ہے. بھانت بھانت کی بولیاں بولی جارہی ہیں کہ وہ ہونا چاہیے‘ یہ کرنا چاہیے‘ اس طرح کام ہونا چاہیے. میں ان میں سے کسی کی تردید یا تضحیک نہیں کررہا ہوں. ٹھیک ہے‘ اسلحہ بھی فراہم کرنا ہوگا. اس کے لیے حکم ربانی ہے: 
وَ اَعِدُّوۡا لَہُمۡ مَّا اسۡتَطَعۡتُمۡ (الانفال:۶۰کہ جس قدر ممکن ہو جمع کیا جائے. پھر ہمیں اپنی خارجہ پالیسی پر بھی نظر کرنا ہوگی‘ دوست و دشمن کی تمیز کرنا ہوگی. یہ سارے کام کرنے ہوں گے. دعا کریں کہ جن لوگوں کے ہاتھ میں اس وقت ملک کی زمامِ کار ہے‘ اللہ تعالیٰ انہیں صحیح رائے پر پہنچنے کی توفیق عطا فرمائے. ان میں سے کسی شے کی نفی نہیں ہے‘ لیکن میں جو بات بتانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ اللہ کے ہاں مسلمان کا معاملہ خاص ہے. ؏ ’’خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ؐ ہاشمی‘‘اس کا معاملہ عام دنیا والوں کی طرح کا نہیں ہے. جیسا کہ قرآن مجید میں حضور  کی ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنھن سے بایں الفاظ خطاب فرمایا گیا: لَسۡتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ (الاحزاب:۳۲کہ تم عام عورتوں کی مانند نہیں ہو. تم اگر نیکی کرو گی تو اس کا دُگنا اجر ملے گا اور اگر کوئی غلط حرکت کرو گی تو سزا بھی دُگنی ملے گی. کیونکہ تمہاری نیکی اُمت کی لاکھوں عورتوں کے لیے نمونہ بننے والی ہے‘ اور تمہاری لغزش اُمت ِمسلمہ کی کروڑہا عورتوں کے لیے لغزش کی بنیاد بن سکتی ہے. یہی معاملہ اُمت مسلمہ کا ہے. ہمارے پاس تو اللہ کی کتاب ہے اور اس کو دنیا تک پہنچاناہمارے ذمے لگایا گیا ہے. اگر ہم ہی اس میں کوتاہی کرتے ہیں تو دوسروں کے پاس تو عذر موجود ہے کہ اے اللہ‘ہمیں تو انہوں نے یہ کتاب پہنچائی ہی نہیں. یہ بدبخت اس کے اوپر خزانے کا سانپ بن کر بیٹھے رہے‘نہ خود پڑھا ‘نہ ہمیں پڑھنے دیا‘نہ خود عمل کیا‘نہ اسے ہمارے سامنے رکھا. لہذا یہ دوہرے مجرم ہیں‘ان کو سزا بھی دُگنی ملنی چاہیے. چنانچہ یہ وہ سزا ہے جو ہمیں دنیا میں مل رہی ہے اور یہی ہے اس سوال کا جواب کہ ؎
 
ہیں آج کیوں ذلیل کہ کل تک نہ تھی پسند
گستاخیٔ فرشتہ ہماری جناب میں! 

ہمارے نوجوانوں کے ذہنوں میں یہ سوال بھی ابھرتا ہے کہ غیر مسلم اقوام دنیا میں سربلند کیوں ہیں؟ ہم کتنے ہی گئے گزرے سہی‘پھر بھی ہم میں سے کوئی نماز پڑھتاہے‘کوئی روزہ رکھتا ہے‘کوئی نہ کوئی قرآن بھی پڑھتا ہے‘ لیکن علامہ اقبال کے الفاظ میں ؎ 

رحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشانوں پر
برق گرتی ہے تو بیچارے مسلمانوں پر! 

والا معاملہ کیوں ہے؟ اس کا جواب یہی ہے کہ یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ یہ دوہری سزا کے مستحق ہیں. اگر یہ اپنا فرضِ منصبی انجام دیں اور جس پیغام کے یہ علمبردار اور امین بنائے گئے تھے‘ اس پیغام کو دُنیا میں پیش کریں اور پھیلائیں تو دوہرا اجر ملے گا. اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے : وَ اَنۡتُمُ الۡاَعۡلَوۡنَ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۳۹﴾ (آل عمران) ’’اور تم ہی غالب رہو گے اگر تم حقیقی مومن ہوئے‘‘.اور اگر یہ اس میں کوتاہی کریں گے تو اوّلین سزا کے مستحق بھی یہی ہوں گے. ان کی پیٹھ پر اللہ کے عذاب کے کوڑے دوسروں سے زیادہ برسیں گے. اور آج ہم اسی قانونِ خداوندی کی گرفت میں آئے ہوئے ہیں. 

اعتصامش کن کہ حبل اللہ اوست!

اب میں آپ کے سامنے اس سلسلے کی ایک اور حدیث کا مفہوم پیش کرنا چاہتا ہوں. اس حدیث کے راوی حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں. میں نے آپ کو ایک روایت حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی اور ایک روایت حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کی سنائی ہے‘ اور اب حضرت علی رضی اللہ عنہ کی روایت بیان کررہا ہوں. حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ  نے خطبہ دیا‘جس میں آپؐ نے فرمایا: اِنَّھَا سَتَکُوْنُ فِتْنَۃٌ ’’عنقریب ایک بہت بڑا فتنہ ظاہر ہوگا‘‘. حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: مَا الْمَخْرَجُ مِنْھَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ؟ ’’اے اللہ کے رسول! اس فتنے سے نکلنے کا راستہ کیا ہو گا؟‘‘اس سے بچاؤ کیسے ہوگا‘ اس فتنے سے اپنے آپ کو محفوظ کرنے کا طریقہ کون سا ہے؟ اب اس سوال کے جواب میں حضور نے فرمایا: کِتَابُ اللّٰہِ یعنی اس فتنے سے نکلنے کا ایک ہی راستہ ہے‘ اور وہ ہے اللہ کی کتاب! یہی اس فتنے سے محفوظ کرسکتی ہے. آپؐ نے مزیدفرمایا: فِیْہِ خَبَرُ مَا قَبْلَکُمْ وَنَبَأُ مَا بَعْدَکُمْ کہ اس میں جو تم سے پہلے کے حالات ہیں وہ بھی لکھے ہوئے ہیں اور جو بعد میں آنے والے حالات ہیں ان کا عکس بھی اس کتاب کی آیاتِ بینات میں موجود ہے…یہ حدیث خاصی طویل ہے‘ لیکن اس کا ایک ٹکڑا میں خاص طور پر یہاں بیان کرنا چاہتا ہوں. فرمایا: ھُوَ حَبْلُ اللّٰہِ الْمَتِیْنُ (۱کہ یہ اللہ کی مضبوط رسی ہے!!

موجودہ حالات میں ہر چہار طرف سے مسلمانوں سے یہ بات کہی جارہی ہے کہ انہیں متحد ہو جانا چاہیے اور انہیں اپنے سارے اختلافات ختم کرلینے چاہئیں. یہ بات اصولی طور پر تو درست ہے‘ لیکن اتحاد کی بات کرنے والے یہ نہیں بتاتے کہ بنائے اتحاد کیا ہو؟ وہ کونسی چیز ہے جس کی بنیاد پر ہم مجتمع ہو سکتے ہیں؟ صرف خطرے کی بنیاد پر جو اتحاد ہوتا ہے وہ منفی اتحاد ہوتا ہے. ہمارے ہاں یہ منفی اتحاد بہت ہوئے ہیں‘ اور آپ کو معلوم ہے کہ آج تک ان منفی اتحادوں کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا. تو ضرورت مثبت اتحاد کی ہے جس کے لیے کوئی ٹھوس بنیاد ہو ‘اور قرآن حکیم نے اہل ایمان کے لیے اتحاد کی بنیاد یہ بتائی ہے کہ وہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں. سورۃ آلِ عمران میں فرمایا: 
وَ اعۡتَصِمُوۡا بِحَبۡلِ اللّٰہِ جَمِیۡعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوۡا ۪ (آیت۱۰۳’’اللہ کی رسی کو مجتمع ہو کر مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو!‘‘ اب غور طلب بات یہ ہے کہ وہ ’’حبل اللہ‘‘ کونسی ہے جسے مضبوطی سے تھاما جائے؟ زیر نظر حدیث میں حضور  کی طرف سے اسی کی وضاحت ہے : ’’ھُوَ 
____________________________ (۱) سنن الترمذی‘ کتاب فضائل القرآن‘ باب ما جاء فی فضل القرآن. وسنن الدارمی‘ کتاب فضائل القرآن‘ باب فضل من قرأ القرآن. حَبْلُ اللّٰہِ الْمَتِیْنُ‘‘ کہ یہ قرآن مجید ہی اللہ کی وہ مضبوط رسی ہے جسے تم نے تھامنا ہے. یہی وہ مرکز ہے کہ اس کے قریب تر آؤ گے تو ایک دوسرے سے بھی جڑتے چلے جاؤ گے اور اگر اس سے دور ہٹتے جاؤ گے تو تمہارے اندر اضطراب‘ اختلاف و انتشار اور تشتت بڑھتا چلا جائے گا. 

تو واقعہ یہ ہے کہ ان حالات میں اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ قرآن حکیم کی طرف ہمارا رجوع ہو. ہماری تقدیر اس وقت تک نہیں بدلے گی جب تک اس قرآن کے ساتھ ہم اپنے تعلق کو از سرِ نو مضبوط نہیں کرلیتے. جب تک ہم اس قرآن کا حق ادا نہیں کریں گے‘اُس وقت تک صرف سازو سامان ہمارے لیے مفید نہیں ہوگا. سازو سامان دوسروں کے حق میں مفید ہوسکتا ہے‘لیکن اس اُمت کے لیے یہ اس وقت مفید ہوگا جب یہ اپنے مرکز کے ساتھ بھی وابستہ ہو جائے. اور ہمارا مرکز‘ جیسا کہ میں عرض کرچکا ہوں‘ قرآن ہے. ہمارے اتحاد کی اگر کوئی بنیاد ہے تو قرآن ہے‘ ہمارے عروج و بلندی کے لیے اگر کوئی زینہ ہے تو قرآن ہے‘ اور ذلت و رسوائی سے نجات کا کوئی راستہ ہے تو قرآن ہے. ہماری قسمت اسی کتاب کے ساتھ وابستہ ہے . اگر کوئی راستہ کھلے گا تو اسی کے ذریعے سے کھلے گا. اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی اس کتاب کو حرزِ جان بنانے کی توفیق عطا فرمائے اور اس کے جو جملہ حقوق ہم پر عائد ہوتے ہیں‘ان کی ادائیگی کی توفیق عطا فرمائے. 

oo اقول قولی ھذا واستغفر اللّٰہ لی ولکم ولسائر المسلمین والمسلمات oo