پاکستان کا عدم استحکام

حقیقی و واقعی یا وہمی و خیالی؟

عالمی سطح پر پاکستان کا شمار بالعموم غیر مستحکم یا بالقوہ مائل بہ انتشار خطوں میں ہوتا ہیـ. چنانچہ پروفیسر زائرنگ جو طویل عرصے تک پاکستان میں مقیم رہے او رپاکستان کے اعلیٰ ترین سرکاری تربیتی ادارے (اسٹاف کالج لاہور) سے وابستہ رہے، اُن کا ایک مضمون غیر ملکی جرائد کے حوالے سے پاکستان کے اخبارات میں بھی شائع ہو چکا ہے، جس میں انہوں نے برملا اور واشگاف الفاظ میں ان خیالات کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان تا حال اپنے جداگانہ تشخص کا جواز ثابت نہیں کر سکا ہے، لہٰذا عنقریب مزید حصے بخرے ہونے کے عمل سے دو چار ہو جائے گا. اعاذنا اللہ من ذلک!! 

اِدھر داخلی طور پر ایک جانب تو بانی پاکستان کا یہ جملہ تمام ذرائع ابلاغ کے ذریعے مسلسل نشر ہوتا ہے کہ ’’پاکستان ہمیشہ قائم رہنے کے لیے بنا ہے.‘‘ اور دوسری طرف صورت واقعی یہ ہے کہ ذرا ہوا تیز چلتی ہے تو پاکستان کی کشتی ہچکولے کھانے لگتی ہے، اور سیاسی حالات میں ذرا مدو جذر کی کیفیت پیدا ہوتی ہے تو خواص و عوام سب کے ذہن ہی نہیں زبان تک پر یہ سوال آ جاتا ہے کہ ’’پاکستان باقی بھی رہے گا یا نہیں؟‘‘

لہٰذا اِس امر کا پوری حقیقت پسندی کے ساتھ جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ آیا پاکستان کا مبینہ عدم استحکام حقیقی اور واقعی ہے یا ؏ 

’’یہ ہوائی کسی دشمن نے اڑائی ہو گی!‘‘

کے مصداق محض دشمنوں کی اِس سازش کا مظہر ہے کہ اس طرح پاکستان کی مسلمان قوم کے دلوں میں بے یقینی کی کیفیت پیدا کر کے اجتماعی قوتِ ارادی 
(Collective Will) کو مضمحل کیا جائے.

راقم کے تجزیے کے مطابق پاکستان کا عدم استحکام وہمی و خیالی نہیں حقیقی اور واقعی ہےاور 
اور اس کے دلائل اور شواہد ہمارے ماضی اور حال دونوں میں جا بجا موجود ہیں. اور جہاں تک ’’پاکستان ہمیشہ قائم رہنے کے لیے وجود میں آیا ہے! ‘‘ یا اِس قسم کے دوسرے اقوال کا تعلق ہے تو یہ اگرچہ ؏ 

’’تری آواز مکے اور مدینے!‘‘

کے مصداق نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے ایک ایک مسلمان کے دِل کی تمنا اور آرزو ہے، لیکن اِس معاملے میں حقائق کا انداز بالکل قرآن حکیم کے الفاظ مبارکہ 
تِلۡکَ اَمَانِیُّہُمۡ ؕ قُلۡ ہَاتُوۡا بُرۡہَانَکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۱۱۱﴾ کا سا ہے! (سورہ بقرہ، آیت: ۱۱۱’’یہ اُن کی خواہشات ہیں، کہیے پیش کرو اپنی دلیل اگر تم سچے ہو.‘‘

تو آیئے کہ ذرا اُن حقائق کا جائزہ لیں.

ڈاکٹر اسرار احمد
اپریل ۲۰۱۹
پیش نظرتالیف جن تحریروں پر مشتمل ہے وہ حیطۂ تحریر میں تو ۱۹۸۵ ءمیں آ ئیں لیکن کتابی صورت میں پہلی مرتبہ ۱۹۸۶ء اور چھٹی مرتبہ ۱۹۹۹ء میں شا ئع ہوئیں.