استحکامِ پاکستان کی ٹھوس بنیاد

تحریک پاکستان کے محرکات و عوامل ،قیام پاکستان کے اسباب و وجوہات اور پاکستان کی اصل جڑ بنیاد کا مسئلہ فی نفسہٖ نہایت اہم ہے او رپاکستان کے کل زوال و اضمحلال اور انتشار فکر وعمل کا اصل سبب یہی ہے کہ قومی سطح پر یہ بنیادی مسئلہ ہی متنازعہ اور مختلف فیہ ہو گیا ہے. تاہم چلیے، تھوڑی دیر کے لیے فرض کیے لیتے ہیں کہ اصل اہمیت اس کی نہیں، اِس لیے کہ اس کا تعلق ماضی سے ہے اور ماضی تاریخ کے دھندلکوں میں غائب ہو چکا ہے اور ہمیں ماضی کے معاملے کو مستقبل کے مؤرخ کے حوالے کر کے اپنی ساری توجہات کو حال کی بنیاد پر مستقبل کی تعمیر پر مرکوز کر دینا چاہئے.

اِس صورت میں بھی ہمارے غور و فکر کا اصل مرکز و محوریہ سوال ہو گا کہ پاکستان کے استحکام کے لیے حقیقتاً اور واقعتا ٹھوس بنیاد کون سی ہے جسے مضبوط کرنے سے پاکستان مستحکم ہو جائے اوراپنے وجود اور سا لمیت کے خلاف جملہ داخلی اور خارجی حملوں کے مقابلے میں اپنا مؤثر دفاع کر سکے؟ یہ سوال ظاہر ہے کہ صرف دینی اور مذہبی نقطہ نگاہ ہی سے اہم نہیں ہے، بلکہ خالص مادی اور دنیوی اعتبار سے بھی نہایت اہم ہے. اس لیے کہ یہ ہمارا وطن ہے اور نہ صرف یہ کہ اس وقت ہم اس میں آباد ہیں بلکہ ہماری آئندہ نسلوں کا مستقبل بھی اسی سے وابستہ ہے. یہ باعزت ہے تو ہم بھی باعزت ہیں اور خدانخواستہ یہ ذلیل ہو جائے تو اصل ذلت ہماری ہو گی، یہ آزاد ہے تو ہم آزاد ہیں، یہ غلام ہو گیا تو اصل غلام ہم ہوں گے، یہ خوشحال ہو گا تو ہم خوشحال ہوں گے اور اس پر تنگی آئی تو اُس تنگی کا شکار ہم ہوں گے. گویا یہ کشتی تیرتی ہے تو ہم تیرتے ہیں اوریہ ڈوب گئی تو ہم غرق ہو جائیں گے. لہٰذاہر پاکستانی کے لیے لازم ہے کہ وہ 
پاکستان کے باعزت بقاء اور اس کے استحکام کے مسئلے پر پوری سنجیدگی کے ساتھ سوچ بچار کرے.

تو آیئے کہ سب سے پہلے اس بات پر غور کریں کہ بالعموم ملکوں کو کن کن جہتوں سے تقویت ملتی ہے اور کن کن عوامل کی بناء پر استحکام حاصل ہوتا ہے اور ان میں سے کون کون سے عوامل ہمیں پاکستان کے استحکام کے لیے دستیاب ہیں جنہیں مزید تقویت دے کر ہم پاکستان کو مستحکم کر سکتے ہیں. 

ڈاکٹر اسرار احمد
اپریل ۲۰۱۹
پیش نظرتالیف جن تحریروں پر مشتمل ہے وہ حیطۂ تحریر میں تو ۱۹۸۵ ءمیں آ ئیں لیکن کتابی صورت میں پہلی مرتبہ ۱۹۸۶ء اور چھٹی مرتبہ ۱۹۹۹ء میں شا ئع ہوئیں.