عصر حاضر کے دو عظیم فتنے

ان میں سے ایک فتنہ ختم نبوت کی مہر توڑنے والا‘ نئی نبوت کا دعوے دار ہے‘ جبکہ دوسرا فتنہ انکارِ حدیث کا ہے .کچھ عرصہ پہلے ایران میں بہاء اللہ اٹھاتھا جو نبوت کا مدعی تھا. بہائی آج بھی پوری دنیا میں موجود ہیں. مسلمان ممالک میں ان کے دفاتر‘ لائبریریز اور ریڈنگ رومز ہیں.مغرب میں تو بہائی بہت زیادہ ہیں. اس کے بعد اٹھنے والا بہت بڑا فتنہ قادیانیت ہے‘ جسے مسلسل فروغ حاصل ہو رہا ہے .سیٹلائٹ کے ذریعے سے پوری دنیا میں ان کے پروگرام نشر ہوتے ہیں‘جسے وہ اپنی صداقت کی دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں.پوری مغربی دنیا ان کی پشت پناہی کر رہی ہے. اس فتنے کا سرغنہ غلام احمد قادیانی ہے. اس نے انگریزوں کی خوشنودی کے لیے جہاد فی سبیل اللہ کی نفی کی. 

ہندوستان میں انگریز نے محسوس کر لیا تھاکہ مسلمانوں کے اندر بغاوت کے جراثیم موجود ہیں‘ انہوںنے ہمیں دل سے قبول نہیں کیا‘ اس لیے کہ ہم نے مسلمانوں سے حکومت چھینی تھی‘ جبکہ ہندو تو پہلے ہی غلام تھا ‘پہلے مسلمان کا غلام تھا‘ اب انگریز کا غلام ہوگیا. ان کے لیے تو معاملہ صرف آقاؤں کی تبدیلی کا تھا‘ جبکہ مسلمان حاکم سے محکوم بنائے گئے. اس لیے مسلمانوں کے اندر جذبۂ انتقام تھا‘ وہ اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنا چاہتے تھے.اس کھوئے ہوئے مقام کو حاصل کرنے کے لیے مسلمانوں نے مختلف احیائی تحریکیں برپا کیں. حضرت سید احمد بریلویؒ کی تحریک اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے‘ جو اپنی اجتہادی غلطی کی وجہ سے ناکام ہو گئی. دُنیوی اعتبار سے اگرچہ وہ ناکام ہو گئے اور بالاکوٹ کے مقام پر شہادت پائی ‘لیکن انہوں نے جہاد کا ایک صور پھونک دیاتھا . چنانچہ طویل عرصہ تک اس علاقہ میںانگریزوں کے خلاف جہاد جاری رہا. اس کے بعد کتنے ہی علماء کرام کو پھانسی دے دی گئی اور بہت سوں کو ’’کالا پانی‘‘ بھیج دیا گیا. 
علماء کرام نے ہندوستان کو’’دارالحرب‘‘ قرار دے دیا تھا اور دارالحرب کے اندر رہتے ہوئے مسلمانوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس کو دارالاسلام بنانے کی کوشش کریں. یہی وجہ ہے کہ بیسویں صدی کے آغاز میں ہمیں ہندوستان میں ریشمی رومال کی تحریک نظر آتی ہے . یہ تحریک حضرت شیخ الہندؒ کی برپا کی ہوئی تھی جو چودھویں صدی کے مجدد کی حیثیت رکھتے ہیں. یہ تحریک ایک تدبیر تھی‘ جو ناکامی سے دوچار ہو گئی. تدبیر یہ تھی کہ ایک طرف خلافت عثمانیہ سے کہا جائے کہ وہ ہندوستان پر حملہ آور ہو‘ دوسری طرف افغانستان کو آمادہ کیا جائے کہ وہ ہندوستان پر حملہ آور ہو اور اندر سے ہم بغاوت کر دیں‘تاکہ انگریز کو ہندوستان سے اٹھا کر باہر پھینک دیں. خلافت عثمانیہ سے مدد لینے کے لیے حضرت شیخ الہندؒ خود حجاز گئے اور مدینہ منورہ میں ترک گورنر سے ملے .وہ آگے بھی جانا چاہتے تھے لیکن مخبری ہونے کی بنا پر انہیں شریف حسین نے گرفتار کر کے ‘ چاندی کی طشتری میں رکھ کر انگریز کو پیش کر دیا‘ کہ یہ آپ کا باغی ہے‘ آپ کے خلاف سازشیں کر رہا ہے. اِس وقت اردن کا جو بادشاہ ہے وہ اسی شریف حسین کی نسل میں سے ہے. انگریز حضرت شیخ الہندؒ ‘کو واپس ہندوستان نہیں لائے بلکہ انہیں بحیرۂ روم (Mediterraneon Sea) کے ایک جزیرہ ’’مالٹا‘‘ میں قید میں ڈال دیا. بقول اقبال : ؎

اقبال کے نفس سے ہے لالے کی آگ تیز
ایسے غزل سرا کو چمن سے نکال دو

آپ چار سال وہاں قید رہے. جب ٹی بی اپنی آخری حد کو پہنچ گئی تو پھر انہیں رہا کر دیا گیا کہ اگر یہ قید میں انتقال کر گئے تو ایک طوفان برپا ہو جائے گا.مسلمانوں کے دلوں میں موجزن جذبۂ جہاد کو سرد کرنے کے لیے انگریزوں نے غلام احمد قادیانی کی نبوت کا فتنہ کھڑا کیا‘ جس نے جہاد و قتال کو حرام قرار دینے کا اعلان کر دیا.

عصر حاضر کا دوسرا بڑا فتنہ انکارِ حدیث کا فتنہ ہے. یہ فتنہ اپنی تأثیر کے اعتبار سے پہلے فتنہ سے بھی زیادہ خطرناک ہے ‘کیونکہ یہ زیادہ پھیل رہا ہے. ختم نبوت کا مسئلہ اتنا واضح ہے کہ ہر مسلمان اس کو بآسانی سمجھتا ہے‘ لیکن فتنۂ انکار حدیث کا زیادہ ادراک و 
احساس نہیں ہے. آپ جانتے ہیں کہ سرکاری سطح پر یہ طے ہے کہ قادیانی خواہ ربوائی (اصل قادیانی) ہوں یالاہوری احمدی ‘ دونوں دائرۂ اسلام سے خارج ہیں. اس کے مقابلہ میں انکارِ حدیث کا فتنہ اندر ہی اندر دیمک کی طرح اثر انداز ہو رہا ہے. یہ لوگ قرآن کریم کو ماننے اور سمجھنے کا دعویٰ تو کرتے ہیں لیکن حدیث نبویؐ کو مناسب مقام دینے کے لیے تیار نہیں ہیں‘ ان کے لیے صرف اخلاقی تعلیمات سے متعلق احادیث قابل قبول ہیں. حدیث شریف کو جائز مقام نہ دینے کی وجہ سے وہ قرآن حکیم کی غلط تأویلیں پیش کرتے ہیں. ان کا نظریہ ہے کہ اطاعت ِ رسولؐ دائمی شے نہیں ہے‘ محمد رسول اللہ کی ذاتِ گرامی صرف اپنے زمانے کے لیے واجب الاطاعت تھی. قرآن کریم میں آیا ہے: 

قُلۡ اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ ۚ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَاِنَّمَا عَلَیۡہِ مَا حُمِّلَ وَ عَلَیۡکُمۡ مَّا حُمِّلۡتُمۡ ؕ وَ اِنۡ تُطِیۡعُوۡہُ تَہۡتَدُوۡا ؕ وَ مَا عَلَی الرَّسُوۡلِ اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِیۡنُ ﴿۵۴﴾ 
(النور) 
’’آپ فرمایئے اطاعت کرو اللہ تعالیٰ کی اوراطاعت کرو رسول مکرم کی . پھر اگر تم نے روگردانی کی تو (جان لو) رسول کے ذمہ اتنا ہے جو ان پر لازم کیا گیا اور تمہارے ذمہ ہے جو تم پر لازم کیا گیا‘ اور اگر تم اطاعت کرو گے تو ہدایت پاجائو گے . اور نہیں ہے ہمارے رسول کے ذمہ بجز اس کے کہ وہ صاف صاف پیغام دے رہے ہیں.‘‘

اسی طرح سورۃ التغابن میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے : 

وَ اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ ۚ فَاِنۡ تَوَلَّیۡتُمۡ فَاِنَّمَا عَلٰی رَسُوۡلِنَا الۡبَلٰغُ الۡمُبِیۡنُ ﴿۱۲﴾ 

’’اور اطاعت کرو اللہ تعالیٰ کی اور اطاعت کرو رسول مکرم کی‘ پھر اگر تم نے روگردانی کی تو ہمارے رسول کے ذمہ فقط کھول کر پیغام پہنچانا ہے‘‘.

لیکن منکرین سنت کے نزدیک رسول اللہ  صرف اپنے دور کی حد تک ’’مرکزملت‘‘ ہونے کی حیثیت سے مطاع تھے اور ان کا حکم مانا جانا ضروری تھا . آئندہ مسلمانوں کا جو امیر یا حاکم ہو گا‘ وہ مرکزِ ملت ہو گا اور اس حیثیت سے اس کی اطاعت 
فرض ہو گی. یہ فتنہ بڑی تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے . شریعت کی بہت ساری پابندیاں انہوں نے حدیث کو مناسب مقام نہ دینے کی وجہ سے نظر انداز کر دی ہیں. جیسے ان کے نزدیک پردے کی کوئی اہمیت نہیں ہے. وہ کہتے ہیں کہ یہ تو ایک خاص دور کا کلچر تھا. اسی طرح قرآن کریم کی اور بہت ساری غلط تشریحات کر رہے ہیں‘ترجمہ غلط کر رہے ہیں.عام آدمی اور جدید تعلیم یافتہ لوگ عربی سے ناواقف ہوتے ہیں‘ لہٰذا وہ نہیں محسوس کرسکتے کہ ترجمہ غلط کیا جا رہا ہے. قادیانیوں نے بھی قرآن کریم کے ترجمہ میں تحریف کی. آخر وہی آیتیں ہیں جنہیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے لے کر ہمارے دور کے علماء کرام تک تمام لوگ پڑھتے آئے ہیں‘ لیکن یہ لوگ ایسی غلط تأویلیں پیش کرتے ہیں کہ عقل کو بھی اپیل نہیں کرتیں. انسان کی یہ کمزوری ہے کہ جب وہ کسی مسئلہ میں کسی شخص سے متأثر ہو جاتاہے تو اس کی ہر بات کو صحیح سمجھنا شروع کر دیتا ہے.

ان لوگوں کی چند تأویلیں ملاحظہ ہوں. قرآن کریم میں آیاہے کہ چور مرد ہو یا عورت ‘ ان کے ہاتھ کاٹ دو. یہ کہتے ہیں کہ بالفعل ہاتھ کاٹنا مراد نہیں ہے‘ یہ تو مولویوں نے خواہ مخواہ غلط بات سمجھی ہے‘ یہ تو بڑا وحشیانہ فعل ہے‘ ہاتھ کاٹ دینا تو ایک محاورہ ہے. جیسے کبھی والدین اپنے بیٹے سے کہتے ہیں کہ تم نے تو ہمارے ہاتھ کاٹ دیے. یعنی کسی معاملہ میں تم نے کوئی ایسی بات کر دی ہے کہ اب ہمارے پاس کچھ نہیں رہا‘ کوئی چارۂ کار نہیں‘ تم نے ہمیں بے بس کر دیا ہے. گویا تم نے ہمارے ہاتھ کاٹ دیے ہیں. ان لوگوں کا کہنا ہے کہ ایسا خوشحال معاشرہ پیدا کردو کہ کسی کو چوری کی ضرورت ہی نہ ہو‘ بس یہ ہے ہاتھ کاٹ دینا. حالانکہ قرآن مجید اس کے بعد کہتا ہے : 
جَزَآءًۢ بِمَا کَسَبَا نَکَالًا مِّنَ اللّٰہِ ؕ (المائدۃ:۳۸’’بدلہ دینے کے لیے جو انہوں نے کیا (اور) عبرت ناک سزااللہ کی طرف سے ‘‘. اب آپ سوچیں کہ مثالی نظام قائم کر دینا کوئی سزا ہے یا کوئی عبرت کی بات ہے؟

عجیب بات ہے کہ پنجاب نے دو غلام احمد پیدا کیے. ایک غلام احمد قادیانی‘ دوسرا غلام احمد پرویز. پہلے نے مہر ختم نبوت کو توڑا اور دوسرے نے حدیث اور سنتِ 
رسول کو شریعت کی مستقل بنیاد ہونے کی حیثیت سے چیلنج کردیا. جیسے قادیانیوں کو مغرب کی آشیر باد حاصل ہے ایسے ہی حدیث کی قدر و قیمت کو گھٹانے والے لوگوں کو بھی ان کی پشت پناہی حاصل ہے. کیونکہ تہذیبوں کے تصادم کے حوالے وہ اسلامی تہذیب کو ختم کرنے کے درپے ہیں اور اسلامی تہذیب و ثقافت کا انحصار اکثر و بیشتر حدیث وسنت پر ہے .رینڈ کارپوریشن کی سفارشات میں شامل تھا کہ ایسے جدید تعلیم یافتہ لوگ جو اسلام کی ایسی تعبیریں کریں جو ہماری تہذیب کے ساتھ مماثل ہوں ان کی پشت پناہی کی جائے اور خاص طور پر انہیں الیکٹرانک میڈیا پر آنے کا بھرپور موقع دیا جائے. اور آج پاکستان میں بڑے پیمانے پر یہی ہو رہا ہے. اس اعتبار سے آج زیادہ ضرورت ہے کہ آپ حدیث نبویؐ کا مطالعہ کریں‘ تاکہ اس کی عظمت ہمارے دلوں میں جاگزیں ہوجائے اور رسول اللہ کے ساتھ محبت کا ایک رشتہ مضبوط ہو جائے. 

أقول قولی ھذا واستغفر اللّٰہ لی ولکم ولسائر المسلمین والمسلمات