حقیقت ِانسان

اب یہاں غور کیجیے کہ چودہ سو سال پہلے نبی آخر الزماں حضرت محمد نے یہ بات فرمائی اور اُس وقت اگر لوگوں نے فَـیَنْفُخُ فِیْہِ الرُّوْحَ سے مراد یہ لیا کہ فرشتہ اس بے جان گوشت کے لوتھڑے(مُضْغَۃ) میں جان ڈال دیتا ہے‘ تو اُس دور کی علمی سطح کے اعتبار سے یہ بات قابل فہم ہے. لیکن سائنس کی ترقی اور خوردبین کی ایجاد کے بعد ہماری آج کی علمی سطح اتنی ہے کہ ہم خوردبین کے ذریعے باریک سے باریک جرثومہ بھی دیکھ رہے ہیں انسان کے آغاز سے متعلق سورۃ القیامۃ میں آیا: اَلَمۡ یَکُ نُطۡفَۃً مِّنۡ مَّنِیٍّ یُّمۡنٰی ﴿ۙ۳۷﴾ ’’کیا (ابتدا میں) وہ منی کا ایک قطرہ نہ تھا جو (عورت کے رحم میں) ٹپکایاگیا؟ ‘‘ آج ہمیں معلوم ہے کہ منی کی بوند جو باپ کی طرف سے آ رہی ہے‘ اس میں بے شمار جرثومے (spermetozoa) ہوتے ہیں اور یہ جرثومے مردہ نہیں بلکہ زندہ وجود ہیں. مائیکروسکوپ کے نیچے آپ خود دیکھ لیجیے وہ آپ کو بھرپورجوش و خروش کے ساتھ دوڑتے ہوئے نظر آئیں گے .اسی طرح ماں کا بیضہ (ovum) جو fallopian tube سے ہو کر چلا آ رہا ہے وہ بھی مردہ تو نہیں ہے بلکہ زندہ خلیہ(living cell) ہے.اب مرد کے جرثومے اور عورت کے بیضہ کے ملاپ سے رحم مادر میں انسان کی تخلیق کا آغاز ہوتا ہے: اِنَّا خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ مِنۡ نُّطۡفَۃٍ اَمۡشَاجٍ ٭ۖ (الدھر:۲’’ہم نے انسان کو مخلوط نطفہ سے پیدا کیا ‘‘ مرد کا نطفہ اور عورت کا بیضہ مل کرجفتہ (zygote) بن گیا اور یہ مردہ نہیں بلکہ زندہ ہے‘ اس لیے کہ زندگی تو آغاز سے چلی آ رہی ہے. پھر یہ جفتہ بڑھ رہا ہے ‘ نشوونما پارہا ہے اور یہ نشوونما پانا ہی زندگی کا ایک ثبوت ہے. لہٰذا فَـیَنْفُخُ فِیْہِ الرُّوْحَ کا مطلب زندگی یا جان ڈالنا نہیں ہو سکتا‘ اس لیے کہ زندگی تو آغاز ہی سے موجودہے. لہٰذایہ ثابت ہو گیاکہ یہاں ’’روح ‘‘سے مراد ’’جان‘‘ نہیں کچھ اور ہے . یہ ہے وہ حقیقت جو بدقسمتی سے آج بہت سے قرآن پڑھنے والوں اور دین کا مطالعہ کرنے والوں کی نگاہوں سے اوجھل ہے. 

سمجھنے کی بات یہ ہے کہ یہاں ’’روح‘‘ سے کیا مراد ہے اور پھر اس سے’’حقیقتِ 
انسان‘‘ سمجھ میں آئے گی جسے میں نے ابتدا میں قرآن مجید کے فلسفے اور حکمت دین کے اعتبار سیذروۃ السنام سے تعبیر کیا تھا اصل میں انسان ایک مرکب وجود ہے‘ اس میں ایک مکمل حیوان بھی ہے اورایک فرشتہ یعنی ایک روحانی وجود بھی ہے.یہ بات بہت خوبصورت انداز میں شیخ سعدیؒ نے کہی تھی:

آدمی زادہ ُطرفہ معجون است
از فرشتہ سرشتہ وز حیواں

یعنی انسان کچھ چیزوں سے مل کر بنا ہے‘ اس مرکب میں فرشتہ بھی پیوست ہے اور حیوان بھی . انسان کے بارے میں یہ عظیم حقیقت ہے ‘جس کو اگر نہ سمجھا جائے تو حکمت ِقرآنی کے جو غامض اور عمیق پہلو ہیں وہ سمجھ میں نہیں آ سکتے. انسان عقیدت اور اندھے یقین کی بنیاد پر ایسے مقامات سے گزر جائے گا‘ لیکن عقل 
(logic) کا تقاضا تو یہ ہے کہ وہاں رکا جائے اور غور و فکر کا حق ادا کیا جائے .