نیک عیسائی راہب اور عالم عہد نبوی تک موجود تھے

یہ ایک حقیقت واقعی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پیروکاروں میں نیک راہب آخری وقت تک موجود رہے ہیں. چنانچہ آپ کو معلوم ہے کہ بحیرہ راہب نے حضور کو بچپن میں پہچان لیا تھا. نبی اکرم بچپن میں جب اپنے چچا ابوطالب کے ساتھ تجارتی قافلے کے ساتھ شام گئے تھے تو راستے میں بحیرہ راہب نے آپ کو پہچان کر آپ کے چچا ابوطالب سے کہا تھاکہ اس بچے کی حفاظت کرنا‘ یہودی اس کو نقصان پہنچا سکتے ہیں. اسی طرح حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ ‘جن کا مقام اس درجے میں ہے کہ حضور فرمایا کرتے تھے کہ سلمان تو ہمارے اہل بیت میں شامل ہے‘ ان کی راہنمائی کرنے والے دو عیسائی راہب ہی تھے. آپؓ تو ایران میں پیدا ہوئے تھے جہاں آگ کی پرستش ہوتی تھی ‘لیکن ان کی فطرت نے انہیں تلاشِ حق پر آمادہ کیاتو آپؓ نے اپنے دین کو اور اپنے وطن کوچھوڑا. ہو سکتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح ان کو بھی ان کے باپ نے اپنے آباء و اَجداد کا دین چھوڑنے کی پاداش میں گھر سے نکال دیا ہو . آپؓ نے شام آ کر عیسائیت اختیار کی ‘اس علاقے میں ایک نیک عیسائی راہب تھا‘جس سے آپ نے علم حاصل کیا.جب اس راہب کا انتقال ہو رہا تھا تو آپؓ نے اس سے کہا کہ میرے علم کی پیاس کی ابھی تسکین نہیں ہوئی ‘ میں اب کہاں جائوں؟ اس نے ایک اور راہب کا پتا دیا. آپؓ وہاں پہنچ گئے اور اس سے علم حاصل کرنے لگے. جب اس کے انتقال کا وقت آیا تو آپ کے پوچھنے پر راہب نے بتایا کہ میرا علم بتا رہا ہے کہ جنوب کی جانب کھجوروں والی سرزمین میں نبی آخر الزماں کا ظہور ہونے والا ہے. تم وہاں جاؤ‘ کیا عجب کہ اللہ تمہیں ان کے قدموں میں پہنچا دے. اس طرح ان دو نیک راہبوں کی بدولت حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کو اپنی منزل ملی اور پھر آپ صحابی ٔ رسول کے درجے پر فائز ہوئے.

اسی طرح حضور کے دور تک بہت سے عیسائیوں کے پاس علم کا وسیع ذخیرہ موجودتھا. شاہِ حبشہ نجاشی نے جب سورئہ مریم کی آیات سنی تھیں تو اس نے کہا تھاکہ جوکچھ ان آیات میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں بیان کیا گیا ہے‘حقیقت میں عیسیٰ( علیہ السلام ) اس سے ایک تنکابرابر بھی زیادہ نہیں ہیں. اس سے نجاشی نے حضور کو پہچانا. اسی طرح ہرقل نے بھی اپنے علم سے محمد کو پہچانا. ابوسفیان جو ابھی مسلمان نہ 
ہوئے تھے‘ تجارتی قافلہ لے کر گئے تو ہرقل ‘ جس نے یہ سن رکھا تھا کہ عرب میں کسی نبی کا ظہور ہوا ہے اور وہ نبوت کا دعویٰ کر رہا ہے‘ کوجب اس تجارتی قافلہ کا معلوم ہوا تو وہ یروشلم پہنچا اور وہاں جا کر ابوسفیان سے ایک طویل مکالمہ کیا . اس مکالمہ کے دوران اس نے ایک ایک کر کے ایسے سوالات کیے جیسے کوئی وکیل جرح کر کے حقیقت اندر سے برآمد کر لیتا ہے. یہ ایک طویل مکالمہ ہے جو سیرت کی کتابوں میں موجود ہے. ابوسفیان کہتے ہیں کہ دورانِ مکالمہ بار بار میرا جی چاہا کہ میں جھوٹ بول کر محمد( ) کے خلاف بات کروں‘ لیکن مجھے خیال آیا کہ میرے ساتھ جو باقی عرب لوگ ہیں وہ کہیں گے کہ اتنا بڑا سردار جھوٹ بول رہاہے! تو میں نے جھوٹ نہیں بولا اور ساری باتیں صحیح کہیں. مکالمہ کے اختتام پر ہرقل نے کہا کہ جو کچھ تم نے محمد( ) کے بارے میں کہا ہے اگر وہ صحیح ہے تو میرے قدموں کی زمین یعنی فلسطین اور شام پر اس نبی کا قبضہ ہو گا.الغرض حضور کی بعثت تک چند نیک راہب بھی موجود تھے اور عیسائی عالمین بھی موجود تھے جنہوں نے نبی اکرم کو نشانیوں کے ذریعے پہچانا . یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ کے عہد میں اکثر و بیشتر نصاریٰ حضور اور صحابہ کرامؓ سے محبت کرتے تھے اور ان کا اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں معاندانہ اورمخالفانہ ردعمل نہیں تھا. لیکن یہودی مسلمانوں کے سخت دشمن تھے اور اُس وقت یہودیوں اور عیسائیوں میں بھی بڑی سخت دشمنی تھی. واضح رہے کہ سورۃ المائدۃ کی آیت ۵۱ میں جو یہود و نصاریٰ کی آپس کی دوستی کی بات کی گئی ہے وہ ا یک پیشین گوئی ہے جو آج کے دور کے بارے میں ہے. فرمایا: 

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوا الۡیَہُوۡدَ وَ النَّصٰرٰۤی اَوۡلِیَآءَ ۘؔ بَعۡضُہُمۡ اَوۡلِیَآءُ بَعۡضٍ ؕ 

’’اے اہل ایمان! تم یہود و نصاریٰ کو اپنا دوست مت بنائو . وہ تو ایک دوسرے کے دوست ہیں.‘‘