بندگی ٔ ربّ‘ خطا اور توبہ

یہ ارکانِ خمسہ بنیاد ہیں اور اس بنیادپر استوار ہونے والی عمارت اسلام ہے‘ جس کا ماقبل تفصیل سے تذکرہ ہوا ہے ‘جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہمہ وقت‘ ہمہ تن‘ ہمہ جہت اللہ کی اطاعت‘ محبت کے انتہائی جذبے سے سرشار ہو کر کی جائے. ہاں کبھی غلطی ہو سکتی ہے‘ خطا ہو سکتی ہے تو خالص توبہ کرو‘اللہ معاف کردے گا خالص توبہ کی تین شرائط ہیں جن کے بغیر توبہ ‘توبہ نہیں.ایک شرط یہ ہے کہ انسان اس فعل کو عملاً چھوڑ کر عملِ صالح کی روش اختیار کرے.دوسری یہ کہ دل میں پکا ارادہ کر لے کہ آئندہ یہ کام نہیں کروں گا.تیسری اور لازمی شرط یہ ہے کہ انسان کواپنے کیے پر حقیقی پچھتاوا اور شرمندگی ہوکہ میں یہ کیا کر بیٹھا ہوں‘یہ مجھ سے کیا ہوگیا ہے.توبہ کی اصل حقیقت یہی ہے کہ انسان کے دل میں اپنی غلطی پر ندامت پیدا ہوجائے.اس بات کو علامہ اقبال نے اپنے عنفوانِ شباب میں ایک شعر میں نہایت خوبصورتی سے بیان کیا جسے داغ دہلوی نے بہت پسند کیا اور اس پر داد دی کہ میاں اس عمر میں یہ شعر! ؎

موتی سمجھ کے شانِ کریمی نے چن لیے
قطرے جو تھے میرے عرقِ انفعال کے!

(۱) صحیح البخاری‘ کتاب الحج‘ باب فضل الحج المبرور. وصحیح مسلم‘ کتاب الحج‘ باب فی فضل الحج والعمرۃ ویوم عرفۃ. واللفظ للبخاری. انفعال کہتے ہیں پشیمانی اور شرمندگی کو .عام طور پر جب کسی انسان پر پشیمانی اور شرمندگی طاری ہوتی ہے تو پیشانی پر پسینہ آجاتا ہے.علامہ اقبال ان قطروں کی اہمیت اُجاگر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ کی نگاہ میں ان قطروں کی اتنی وقعت ہے کہ اللہ نے ان کو موتیوں کی طرح چن لیا ہے.

واقعہ یہ ہے کہ انسان فطری طور پر خطاکار ہے .حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم نے فرمایا: 

کُلُّ بَنِیْ آدَمَ خَطَّائٌ وَخَیْرُ الْخَطَّائِیْنَ التَّوَّابُوْنَ 
(۱
’’تمام بنی آدم بہت خطاکار ہیں ‘لیکن ان خطاکاروں میں بہتر وہ ہیں جوبار بار توبہ کرنے والے ہیں.‘‘

یعنی اگر وقتی جذبات سے مغلوب ہو کریا کسی جذباتی سیلاب کی رو میں بہہ کر یا ماحول کے اثرات کی وجہ سے آپ سے کوئی غلطی سرزد ہوگئی ہے تو فوراًواپس لوٹیں اور بارگاہِ الٰہی میں توبہ کریں تو اللہ یقینا معاف فرما دے گا .سورۃ النساء میں تو یہاں تک فرمادیا گیا کہ اللہ پر توبہ قبول کرنا واجب ہے.فرمایا: 

اِنَّمَا التَّوۡبَۃُ عَلَی اللّٰہِ لِلَّذِیۡنَ یَعۡمَلُوۡنَ السُّوۡٓءَ بِجَہَالَۃٍ ثُمَّ یَتُوۡبُوۡنَ مِنۡ قَرِیۡبٍ فَاُولٰٓئِکَ یَتُوۡبُ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ ؕ 
(النسائ:۱۷
’’اللہ کے ذمے ہے توبہ قبول کرنا ایسے لوگوں کی جو جہالت اور نادانی میں کوئی غلط حرکت کر بیٹھتے ہیں اور پھر جلد ہی توبہ کرلیتے ہیں‘ پس یہی ہیں جن کی توبہ اللہ قبول فرمائے گا.‘‘