حدیث کا بقیہ حصہ

آگے نبی اکرم نے ارشاد فرمایا: وَاِنَّ اللّٰہَ اَمَرَ الْمُؤْمِنِیْنَ بِمَا اَمَرَ بِہِ الْمُرْسَلِیْنَ ’’اوراللہ نے اہل ایمان کو بھی وہی حکم دیا ہے جو اُس نے اپنے رسولوں کو دیا ہے‘‘. اب یہاں دیکھئے کہ حضور اکرم سورۃ المو ٔمنون کی آیت ۵۱ کا حوالہ دے رہے ہیں: یٰۤاَیُّہَا الرُّسُلُ کُلُوۡا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَ اعۡمَلُوۡا صَالِحًا ؕ ’’اے میرے رسولو! پاکیزہ چیزیں کھائو اور نیک عمل کرو‘‘. یعنی پہلے اکل حلال کا اہتمام کرو‘ پھر تمام اعمال اللہ تعالیٰ کے ہاں قابل قبول ہو ں گے. اس کے ساتھ آپ نے سورۃ البقرۃ کی آیت ۱۷۲ بھی تلاوت فرمائی : یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُلُوۡا مِنۡ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقۡنٰکُمۡ ’’اے ایمان والو! کھائو ان پاک چیزوں میں سے جو ہم نے تمہیں دی ہیں.‘‘

حدیث کا اگلا حصہ تو لرزہ طاری کر دینے والا ہے:
 ثُمَّ ذَکَرَ الرَّجُلَ یُطِیْلُ السَّفَرَ ‘ اَشْعَثَ اَغْبَرَ ’’پھر آپ نے تذکرہ فرمایا ایسے شخص کا جس نے لمبا سفر طے کیا ہے‘اس کے بال پراگندہ ہیں اور جسم غبار آلود ہے‘‘ . حدیث میں تو صراحت نہیں ہے‘ لیکن گمان یہ ہے کہ اس سفر سے حج کا سفر مراد ہے. کوئی شخص مدینہ منورہ سے حج کرنے کے لیے مکہ مکرمہ جاتا تھا تو اونٹ پر اُسے سات دن مکہ پہنچنے میں لگتے تھے. پھر حالت احرام میں احرام کی پابندیاں بھی اس پر لازم ہیں.وہ نہاتا بھی نہیںکہ مبادا کوئی بال ٹوٹ جائے اور اس پر دَم لازم آجائے. آپ غور کیجیے کہ ان سات دنوں کے مسلسل سفر میں اس کا احرام میلا اور بوسیدہ ہو گیا ہو گا‘ بال پراگندہ ہو گئے ہوں گے. اس لیے کہ بالوں میں نہ تو اس نے کوئی تیل ڈالاہوگا‘ نہ خوشبوڈالی ہوگی اور نہ ہی انہیں دھویا گیا. اُس کا اپنا حال یہ ہوگا کہ وہ مکمل طو رپر غبار آلود ہو چکا ہوگا ‘اس لیے کہ وہ تو سارے کا سارا میدانی اور صحرائی علاقہ ہے اورظاہر بات ہے کہ اونٹوں کا قافلہ جب چلتا ہے تو اگلا اونٹ جو خاک اڑاتا ہے وہ پچھلے اونٹ کی سواری پرآتی ہے. اسی طرح گھوڑے جب دوڑتے ہیں تو ان کے سموں سے اڑنے والی خاک بھی سواروں پر ہی آتی ہے.