ترکِ حرام‘ قبولیت ِاعمال کے لیے شرطِ لازم

جیسے میں نے پہلے بیان کیا کہ تقویٰ کا معیار اور اس کی کسوٹی اکل حلال ہے اور اگر یہ نہیں ہے تو پھر کوئی عبادت ‘کوئی نیکی ‘کوئی خدمت اللہ تعالیٰ کے ہاں قابل قبول نہیں ہے.اس تناظر میں روزے کے ضمن میں بیان کردہ نبی اکرم کا یہ فرمان یاد رکھیں: 

مَنْ لَمْ یَدَعْ قَوْلَ الزُّوْرِ وَالْعَمَلَ بِہٖ فَلَیْسَ لِلّٰہِ حَاجَۃٌ فِیْ اَنْ یَدَعَ طَعَامَہٗ وَشَرَابَہٗ 
(۱
’’جس شخص نے (روزے کی حالت میں)جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا نہیں چھوڑا تو اللہ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے .‘‘

اگر ایک شخص روزے کی حالت میں سودی کاروبار کر رہا ہے‘ رشوت لے رہا ہے‘ جھوٹ بول رہا ہے یا لوگوں کو دھوکہ دے رہا ہے تو یہ روزہ نہیں ‘ صرف فاقہ کشی ہے. اسی لیے نبی اکرمنے فرمایا: 
کَمْ مِنْ صَائِمٍ لَیْسَ لَہٗ مِنْ صِیَامِہٖ اِلاَّ الْجُوْعُ ’’کتنے ہی روزہ رکھنے والے ایسے ہیں جنہیں ان کے روزے سے سوائے بھوک اور پیاس کے کچھ حاصل نہیں ہوتا‘‘.یعنی ان کے لیے کوئی اجر و ثواب ہے ہی نہیں. اس لیے کہ روزے میں تو اصلاًحلال چیزیں بھی حرام ہو جاتی ہیں ‘جبکہ ایسے لوگ تو مستقلاً حرام چیزوں مثلاً جھوٹ بولنا‘ رشوت لینا‘ دھوکہ دہی‘ سودی لین دین اور اس طرح کے باقی (۱) صحیح البخاری‘ کتاب الصوم‘ باب من لم یدع قول الزور والعمل بہ فی الصوم. کاموں کو عین روزے کی حالت میں بھی جاری رکھے ہوئے ہوں تو ظاہر بات ہے کہ یہ روزہ نہیں ہے‘صرف فاقہ کشی ہے روزے کے ایک لازمی جزو ’’قیام اللیل‘‘ کے حوالے سے مندرجہ بالا حدیث کے اگلے حصہ میں آپ نے فرمایا: وَکَمْ مِنْ قَائِمٍ لَیْسَ لَہٗ مِنْ قِیَامِہٖ اِلاَّ السَّھَرُ (۱’’اورکتنے ہی راتوں کو قیام کرنے والے ایسے ہیں جن کو رات کے قیام سے سوائے رت جگے کے کچھ حاصل نہیں ہوتا‘‘ اس اعتبار سے تقویٰ درحقیقت مالی معاملات ‘مثلاًبیع و شراء کاروبار اورآمدنی وغیرہ میں ہوتا ہے. جب تک یہ معاملات حلال و جائز طریقے سے نہ ہوں گے اس وقت تک ظاہر بات ہے تقویٰ نہیں ہوگا.