۹/اور۱۶/نومبر ۲۰۰۷ء کے خطاباتِ جمعہ
خطبہ ٔمسنونہ کے بعد
اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
فَاِذَا انۡسَلَخَ الۡاَشۡہُرُ الۡحُرُمُ فَاقۡتُلُوا الۡمُشۡرِکِیۡنَ حَیۡثُ وَجَدۡتُّمُوۡہُمۡ وَ خُذُوۡہُمۡ وَ احۡصُرُوۡہُمۡ وَ اقۡعُدُوۡا لَہُمۡ کُلَّ مَرۡصَدٍ ۚ فَاِنۡ تَابُوۡا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَوُا الزَّکٰوۃَ فَخَلُّوۡا سَبِیۡلَہُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۵﴾ (التوبۃ)
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا قَاتِلُوا الَّذِیۡنَ یَلُوۡنَکُمۡ مِّنَ الۡکُفَّارِ وَ لۡیَجِدُوۡا فِیۡکُمۡ غِلۡظَۃً ؕ وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ مَعَ الۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۱۲۳﴾ (التوبۃ)
فَکُلًّا اَخَذۡنَا بِذَنۡۢبِہٖ ۚ فَمِنۡہُمۡ مَّنۡ اَرۡسَلۡنَا عَلَیۡہِ حَاصِبًا ۚ وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ اَخَذَتۡہُ الصَّیۡحَۃُ ۚ وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ خَسَفۡنَا بِہِ الۡاَرۡضَ ۚ وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ اَغۡرَقۡنَا ۚ وَ مَا کَانَ اللّٰہُ لِیَظۡلِمَہُمۡ وَ لٰکِنۡ کَانُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ یَظۡلِمُوۡنَ ﴿۴۰﴾ (العنکبوت)
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ :
اُمِرْتُ اَنْ اُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یَشْھَدُوْا اَنْ لاَّ اِلٰــہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، وَیُقِیْمُوا الصَّلَاۃَ، وَیُؤْتُوا الزَّکَاۃَ ، فَاِذَا فَعَلُوْا ذٰلِکَ عَصَمُوْا مِنِّیْ دِمَائَ ھُمْ وَاَمْوَالَھُمْ الِاَّ بِحَقِّ الْاِسْلَامِ ، وَحِسَابُھُمْ عَلَی اللّٰہِ (۱)
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہماسے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کرتا رہوں تاآنکہ وہ گواہی دیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور محمد (ﷺ ) اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں‘ نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں. جب وہ یہ کام کر لیں تو وہ مجھ سے اپنے خون اور اموال محفوظ کر لیں گے سوائے کسی اسلامی حق کے اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہو گا.‘‘
معزز سامعین کرام!
آج اربعین نووی کی آٹھویں حدیث ہمارے زیر مطالعہ ہے اور یہ مضمون اس حدیث میں بھی آ چکا ہے جو اگرچہ اربعین نووی کا حصہ نہیں ہے لیکن ہم نے اس کتاب کے آخر میں اس کو شامل کیا ہے وہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی بڑی طویل روایت ہے جس کا مطالعہ ہم اس سلسلہ ہائے خطابات کے تین مسلسل خطابات میں ’’حکمت دین کا ایک عظیم خزانہ‘‘ کے عنوان سے کر چکے ہیں.
حدیث کی تشریح
زیر مطالعہ حدیث حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے ‘وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: اُمِرْتُ اَنْ اُقَاتِلَ النَّاسَ ’’مجھے حکم ہوا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ جاری رکھوں‘‘ حَتّٰی یَشْھَدُوْا اَنْ لاَّ اِلٰــہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ ’’یہاں تک کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور (گواہی دیں کہ) محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں‘‘ وَیُقِیْمُوا الصَّلَاۃَ وَیُؤْتُوا الزَّکَاۃَ ’’اورنماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں ‘‘ فَاِذَا فَعَلُوْا ذٰلِکَ عَصَمُوْا مِنِّیْ دِمَائَ ھُمْ وَاَمْوَالَھُمْ الِاَّ بِحَقِّ الْاِسْلَامِ ’’تو جب وہ یہ کام کر لیں تو وہ محفوظ کر لیں گے مجھ سے اپنی جانیں (۱) صحیح البخاری‘ کتاب الایمان‘ باب فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَہُمْ. وصحیح مسلم‘ کتاب الایمان‘ باب الاَمر بقتالِ النَّاس حَتّٰی یقولوا لاَ اِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رسولُ اللّٰہ. بھی اور اپنے مال بھی ‘مگر یہ کہ اسلام کے کسی حق کے ضمن میں‘‘ یعنی شہادتین‘ اقامت صلوٰۃ اور ایتائے زکوٰۃ سے ایک مسلمان کو امان مل جائے گی‘ لیکن اگر شریعت کے کسی حکم کے ضمن میں اس حق پر کوئی آنچ آ جائے یا کوئی شرعی حد قائم ہو رہی ہو تو وہ ضرور نافذ ہو گی ‘مثلاً چوری کریں گے تو ہاتھ کٹے گا ‘ اسی طرح شادی شدہ مرد یا عورت زنا کرے گا تو اس کو رجم کیا جائے گا اور غیر شادی شدہ زانی کو سو کوڑے لگائے جائیں گے وغیرہ . اسلام کا یہ حق ہر مسلمان پر ہے اور اس پر عائد رہے گا.ایسا نہیں ہے کہ ان تین چیزوں کی وجہ سے آپ کو امان کی ضمانت دے دی گئی ہے تو بس آپ جو چاہے کریں.
آگے رسول اللہﷺ نے فرمایا: وَحِسَابُھُمْ عَلَی اللّٰہِ ’’اور باقی رہ گیا حساب تو وہ اللہ کے ذمے ہے‘‘. یعنی وہ دل سے ایمان لائے ہیں یا صرف زبان سے اقرار کر رہے ہیں اور ان کے دل ابھی بھی کافر ہیں تو اس معاملے میں میرا کوئی ذمہ نہیں ہے اور نہ اس معاملے میں مجھ سے کوئی محاسبہ کیا جائے گا. اس کا حساب اللہ لے لے گا کہ کون صرف جان بچانے کے لیے جھوٹ موٹ کا ایمان لایا ہے اور کون واقعی دل سے ایمان لایا ہے.
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی حدیث کا آخری حصہ بھی دہرا لیجیے .آپ کو یاد ہو گا کہ یہ بڑی طویل اور بہت عمدہ حدیث تھی کہ انسان کچھ دیر کے لیے اپنے آپ کو محسوس کرتا ہے کہ وہ اسی ماحول کا ایک جزو ہے. اس حدیث کے اخیر میں یہ الفاظ آئے ہیں: وَاِنَّمَا اُمِرْتُ اَنْ اُقَاتِلَ النَّاسَ ’’اورمجھے حکم ہوا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں‘‘ حَتّٰی یُقِیْمُوا الصَّلَاۃَ وَیُؤْتُوا الزَّکَاۃَ ’’یہاں تک کہ وہ (۱) نماز قائم کریں‘ (۲)زکوٰۃ ادا کریں‘‘ وَیَشْھَدُوْا اَنْ لاَّ اِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَـہٗ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُـہٗ ’’اور (۳) وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں‘ وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے‘ اور ( گواہی دیں کہ) محمد (ﷺ ) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں‘‘. فَاِذَا فَعَلُوْا ذٰلِکَ فَقَدِ اعْتَصَمُوْا وَعَصَمُوْا دِمَائَ ھُمْ وَاَمْوَالَھُمْ اِلاَّ بِحَقِّھَا ’’پھر جب وہ یہ (تینوں)کام کر گزریں گے تو وہ محفوظ ہوجائیں گے اور وہ بچا لیں گے اپنے مال بھی اور اپنی جانیں بھی سوائے اس کے کہ ان پر کوئی حق آتا ہو‘‘. وَحِسَابُھُمْ عَلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ ’’اور ان کا حساب اللہ عزوجل کے ذمے ہے.‘‘
آپ نے دیکھا ان دونوں احادیث میں ترتیب اور الفاظ کا تھوڑاسا فرق ہے. اس حوالے سے میں نے ان سلسلہ ہائے خطابات کے ابتدا میں بیان کیا تھا کہ احادیث کے معاملہ میں کسی لفظی فرق کا واقع ہونا یا الفاظ کی ترتیب کا آگے پیچھے ہونا کوئی بڑی بات نہیں ہے. مذکورہ احادیث میں بھی بات ایک ہی ہے بس الفاظ آگے پیچھے ہیں. زیر مطالعہ حدیث میں پہلے کلمہ شہادت کا ذکر ہے اور بعد میں نماز اور زکوٰۃ کا‘ جبکہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کی روایت میں پہلے نماز اور زکوٰۃ کا ذکر ہے اور بعد میں کلمہ شہادت کا. پھر کلمہ شہادت کے الفاظ بھی بعینہٖ وہ نہیں ہیں بلکہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کی روایت میں لَا اِلٰـہ الاَّ اللّٰہ کی گواہی کے ساتھ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ اور حضورﷺ کی رسالت کی گواہی کے ساتھ عَبْدُہٗ کی گواہی بھی شامل ہے. اسی طرح زیر مطالعہ حدیث میں فَاِذَا فَعَلُوْا ذٰلِکَ عَصَمُوْا مِنِّیْ دِمَائَ ھُمْ وَاَمْوَالَھُمْ کے الفاظ ہیں‘ جبکہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کی روایت میں فَاِذَا فَعَلُوْا ذٰلِکَ فَقَدِ اعْتَصَمُوْا وَعَصَمُوْا دِمَائَ ھُمْ وَاَمْوَالَھُم کے الفاظ آئے ہیں. مزید برآں زیر مطالعہ حدیث کے آخر میں الِاَّ بِحَقِّ الْاِسْلَامِ ‘جبکہ وہاں اِلاَّ بِحَقِّھَا کے الفاظ آئے ہیں.
سورۃ التوبہ کی ابتدائی آیات کا شانِ نزول
ان دونوں احادیث کے بارے میں یہ جان لیجیے کہ اگر صرف انہی پر نگاہ جما دی جائے اور ان احادیث کا پس منظر اور بقیہ احادیث سامنے نہ ہوں تو بہت بڑی گمراہی پیدا ہو جائے گی . اس لیے کہ ان احادیث کے متن سے تو صاف یہ مطلب نکلتا ہے کہ اسلام تلوار کے ذریعے بالجبر پھیلا ہے ‘حالانکہ یہ حقیقت نہیں ہے‘ بلکہ ان احادیث کا ایک خاص پس منظر ہے. اس ضمن میں اصولی طو رپر جان لیجیے کہ قرآن مجید کی بہت سی آیات کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے کہ اگر ان کا تاریخی پس منظر سامنے نہ ہو تو انسان ایک مغالطے میں پڑ سکتا ہے. اسی تاریخی پس منظر کو اصولِ تفسیر کی اصطلاح میں ’’شانِ نزول‘‘ کہتے ہیں کہ کس معاملے میں‘ کس وقت ‘ کب اور کن حالات کے اندر یہ آیات نازل ہوئی ہیں. بعینہٖ یہی معاملہ احادیث کا بھی ہے . اگر یہ پیش نظر نہ رہے کہ حضوراکرمﷺ کا یہ قول کس دور کا تھا اور کن حالات میں یہ بات کہی گئی تھی تو جیسا کہ میں نے ابھی کہا کہ پھر بہت بڑی گمراہی پیدا ہو جائے گی.
آپ کو یاد ہوگا کہ جب حضرت معاذ بن جبلؓ کی طویل حدیث ہمارے زیر مطالعہ تھی تو اس وقت ہم نے دوسری احادیث کے حوالے سے ایک بات کو سمجھا تھا کہ درحقیقت قتال فی سبیل اللہ کی مختلف شکلیں ہیں. اس اہم بات کو سمجھانے کے لیے میں نے سورۃ التوبہ کی آیات کے حوالے سے تفصیل سے بات کی تھی. آج بھی میں نے آغاز میں سورۃ التوبہ کی دو آیات تلاوت کی ہیں.ان آیات کا پس منظر اور شانِ نزول جاننا بہت اہم ہے.
سورۃ التوبہ کی ابتدائی چھ آیات ۹ ہجری میں اُس وقت نازل ہوئیں جب حج کے لیے قافلہ مدینہ سے روانہ ہو چکا تھا .اس کے ساتھ حضور اکرمﷺ خود تشریف نہیں لے گئے تھے بلکہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی امارت میں حج کا قافلہ بھیجا تھا. وہ قافلہ کافی سفر طے کر چکا تھا جب یہ آیات نازل ہوئیں. حضور اکرمﷺ نے ان آیات میں موجود مشرکین مکہ سے متعلق قتل عام کے خصوصی حکم کو دیکھتے ہوئے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو قافلہ کے پیچھے روانہ کیا اور حکم دیا کہ میرے نمائندے کی حیثیت سے حج کے اجتماع میں ان آیات کا اعلانِ عام کر دو . اب ظاہر بات ہے جو قافلہ جا رہا تھا اس کی رفتار سست تھی جبکہ حضرت علیؓ تنہا جا رہے تھے اور تیز رفتار سواری پر تھے تو راستے ہی میں قافلے سے جا کر ملے بڑی عجیب بات ہے کہ حضرت ابوبکرؓ نے پہلا سوال یہ کیا: اَمِیْرٌ اَوْ مَاْمُوْرٌ؟ کیا حضورﷺ نے میرے بجائے آپ کو امیر الحج بنا کر بھیج دیا ہے ؟اگر ایسا ہے تو آپ اِدھر آیئے ‘امارت سنبھالیے اورمیں اُدھر بیٹھ جاتا ہوں. اور اگر ایسا نہیں ہے اور آپ میرے مامور ہیں تو پھر ٹھیک ہے. حضرت علیؓ نے فرمایا :مَاْمُوْرٌ! میں امیر نہیں مامور ہوں‘ البتہ یہ جو چھ آیات نازل ہوئی ہیں ان کو پڑھ کر سنانے کا کام حضورﷺ نے میرے ذمے لگایا ہے حضرت علیؓ کو یہ ذمہ داری سونپنے کی ایک خاص وجہ ہے کہ جس قدر اہم بات ان آیات میں کہی گئی ہے وہ جب تک حضور اکرمﷺ بنفس نفیس یا آپؐ کا کوئی قریبی عزیز اس کا اعلان نہ کرتا عام قبائلی زندگی کی رو سے وہ بات مستند نہ سمجھی جاتی. وہ اہم بات یہ تھی کہ آج کے بعد سے مشرکین کے ساتھ سارے معاہدات ختم ہیں‘ سوائے ان کے جن کا معاہدہ خاص مدت تک ہو اور انہوں نے اس ضمن میں کوئی خلاف ورزی بھی نہ کی ہو‘ تو ایسے معاہدوںکی مدت پوری کر دی جائے گی. لیکن نہ تو آج کے بعد مشرکین کے ساتھ کوئی نیا معاہدہ ہو گا اور نہ کسی معاہدہ کی تجدید ہو گی.
سورۃ التوبہ کی پہلی آیت میں فرمایا: بَرَآءَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖۤ اِلَی الَّذِیۡنَ عٰہَدۡتُّمۡ مِّنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ؕ﴿۱﴾ ’’اللہ اور اس کے رسولؐ کی طرف سے ان مشرکوں سے جن سے تم نے عہد کر رکھا تھا (اعلانِ) بیزاری ہے‘‘.یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اب کوئی عہد و پیمان نہیں‘ کوئی امن و امان کی ضمانت نہیں‘ بس اب مشرکین کے لیے ایک ہی صورت ہے کہ اگر اسلام لے آئیں تو جان بخشی ہو گی. اس کے لیے چار مہینے اَرْبَعَۃَ اَشْہُرٍ کی مہلت ہے. اور اگر ان چار ماہ میں ایمان نہیں لاتے تو مسلمانوں کو حکم دے دیا گیا: فَاقۡتُلُوا الۡمُشۡرِکِیۡنَ حَیۡثُ وَجَدۡتُّمُوۡہُمۡ وَ خُذُوۡہُمۡ وَ احۡصُرُوۡہُمۡ وَ اقۡعُدُوۡا لَہُمۡ کُلَّ مَرۡصَدٍ ۚ ’’پس قتل عام کرو ان مشرکین کا جہاں بھی پاؤ‘ اور پکڑو ان کو ‘ اور گھیراؤ کروان کا‘ اور ان کے لیے ہر گھات کی جگہ میں گھات لگا کر بیٹھو‘‘.آگے استثنائی صورت بیان کر دی: فَاِنۡ تَابُوۡا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَوُا الزَّکٰوۃَ فَخَلُّوۡا سَبِیۡلَہُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۵﴾ ’’پس اگر وہ توبہ کر لیں (یعنی شرک سے تائب ہو کر کلمہ شہادت کی گواہی دیں)اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو ان کا راستہ چھوڑ دو. یقینا اللہ غفورہے‘ رحیم ہے.‘‘
نبی اور رسول میں فرق
سورۃ التوبہ کی ابتدائی آیات میں جو حکم دیا گیا ہے‘ اس کے پیچھے ایک پورا فلسفہ ہے‘ جس کے بار ے میں جاننے کے لیے نبی اور رسول کے مابین مناسبت کو سمجھ لیجیے .نبی اور رسو ل قرآن کی دو اصطلاحات ہیں اور یہ ان تین اصطلاحات کے جوڑوں میں سے ہیں جو مترادف بھی شمار ہوتے ہیں اور مختلف بھی: (۱) مؤمن اور مسلم‘ (۲) جہاد اور قتال‘ (۳)نبی اور رسول. ان کے بارے میں علماء کے نزدیک دو اصول متفق علیہ ہیں. پہلا اصول یہ ہے : اذا اجتمعا تفرقا واذا تفرقا اجتمعا یعنی ان جوڑوں کے دونوں فرد اگر اکٹھے آجائیں یا قریب قریب ہوں تو ان کے معنی مختلف ہو ں گے اور اگر ان کا ذکر دور دور ہو رہا ہے تو یہ مترادف شمار ہوں گے . دوسرا متفقہ اصول یہ ہے کہ ان میں سے ایک عام ہے اور ایک خاص. مؤمن خاص ہے اور مسلم عام ‘یعنی ہر مؤمن تو لازماً مسلم بھی ہے لیکن ہر مسلم مؤمن نہیں ہو سکتا حدیث جبریل کی روشنی میں ایمان کی بحث کے ضمن میں ہم یہ بات تفصیل سے پڑھ چکے ہیں اسی طرح قتال خاص ہے اور جہاد عام‘ یعنی قتال تو لازماً جہاد ہے لیکن جہاد لازماً قتال نہیں ہے. اسی طرح رسول خاص ہے اور نبی عام‘ یعنی ہر رسول تو لازماً نبی بھی ہے لیکن ہر نبی رسول نہیں ہو سکتا.
اس حوالے سے یہ بھی نوٹ کر لیں کہ انبیاء کرام علیہم السلام کی تعداد بہت زیادہ ہے جبکہ رسولوں کی تعداد بہت کم ہے. ایک حدیث کی رو سے انبیاء کرام ؑسوالاکھ کے قریب آئے ہیں جبکہ رسول صرف ۳۱۳ آئے ہیں. مجھے معلوم نہیں کہ روایت کے اعتبار سے اس حدیث کا درجہ کیا ہے‘ لیکن بہرحال مشہور یہی ہے کہ نبی سوالاکھ آئے اور یہ عدد ملتا ہے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تعداد سے جو خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر حضورﷺ کے سامنے بیٹھے تھے ‘ جبکہ رسول ۳۱۳ تھے اور یہ عدد ہے اصحابِ بدر کا. واللہ اعلم!
نبی اور رسول میں فرق کیا ہے ‘اس میں مختلف لوگوں نے اپنے فہم‘ اپنے فکر اور اپنی سوچ کے مطابق رائے قائم کی ہے . بعض نے کہا کہ جو نبی کتاب لے کر آتا ہے وہ رسول ہے. یہ رائے صحیح نہیں ہے‘ اس لیے کہ حضرت داؤد علیہ السلام کو زبور دی گئی لیکن وہ رسول نہیں‘نبی تھے. بعض نے کہا کہ جو نبی نئی شریعت لے کر آئے وہ رسول ہوتا ہے. یہ بھی غلط ہے‘ اس لیے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کوئی نئی شریعت لے کر تونہیں آئے لیکن وہ رسول ہیں. الغرض کوئی تعریف (definition) پوری نہیں ہوتی.اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبوت اور رسالت میں فرق کچھ اور ہے.
نبوت مرتبہ اور رسالت عہدہ ہے: نبوت و رسالت میں فرق کے حوالے سے اللہ تعالیٰ نے جس بات کی طرف میری ہدایت اور رہنمائی کی ہے وہ یہ ہے کہ نبوت ایک خاص مرتبہ ‘ جبکہ رسالت ایک منصب ہے‘ یعنی جب کسی نبی کو کسی خاص جگہ پر تعین کر کے بھیج دیا جاتا تھا تو وہ رسول ہو جاتا ہے . مثال کے طو رپر آپ کے ہاں سول سروس کے کیڈرز (cadres) ہیں‘وفاقی سطح پر CSP اور صوبائی سطح پر PCS آفیسرز ہوتے ہیں. جو CSP افسر ہے وہ ساری عمر CSP رہے گا ‘اس لیے کہ یہ اس کا مرتبہ ہے‘ البتہ اس کے منصب بدل سکتے ہیں.منصب کی حیثیت سے کبھی یہ ڈپٹی کمشنر ‘کبھی کمشنر اور کبھی سیکرٹری ہو گا.اسی طرح ایک PCS افسر کبھی تحصیل دار‘ کبھی افسر مال اور کبھی افسر خزانہ لگ سکتا ہے ‘لیکن رہے گا PCS ‘ اس لیے کہ یہ اس کا مرتبہ ہے.
نبوت بھی ایک کیڈر اور مرتبہ ہے اور رسالت منصب ہے.جب کوئی نبی کسی خاص مقام اور خاص قوم کی طرف بھیج دیا جائے تو وہ رسول ہو جاتا ہے. اس رائے کو تقویت اس سے بھی ملتی ہے کہ نبی کالفظ بنا ہے نَـبأسے ‘بمعنی خبر دینے والا.اللہ تعالیٰ نبی کی طرف وحی بھیجتا ہے اور وہ لوگوں تک اس کا پیغام اور غیب کی خبریں پہنچاتا ہے ‘جبکہ رسول‘ رسل سے ہے ‘بمعنی بھیجا ہوا ‘تو رسول کسی قوم اور علاقے کی طرف بھیجا جاتا ہے .
نبی ولی اللہ ہوتا ہے :اس حوالے سے ایک اور بات سمجھئے کہ نبی اپنی ذات میں ولی ٔکامل ہوتا ہے جو بھی ولی اللہ ہوگا ‘چاہے وہ نبی اور رسول نہیں ہے ‘اُس کی ذات سے خیر پھیلے گا‘ وہ اللہ کی طرف ہی لوگوں کو دعوت دے گا ‘اس لیے کہ یہ تو اس کی فطرت اور نوعِ انسانی کے ساتھ خلوص و اخلاص کا تقاضا ہے .اگرچہ ولی اللہ اس کام کے لیے مامور من اللہ نہیں ہے لیکن وہ خیر خواہی تو کرتا رہے گا. مثلاً بابا فرید الدین گنج شکر اللہ کی طرف سے مامور (appointed) تو نہیں تھے ‘نہ ان پر وحی آتی تھی ‘لیکن وہ دعوت الی اللہ کا فریضہ بخوبی نبھاتے رہے. اسی طرح نبی بھی روحانیت‘ شخصیت اور کردار کے اعتبار سے اللہ کا ولی یا صدیق ہوتا ہے. اللہ کی طرف سے اگر اس پر وحی آ گئی تو وہ نبی ہو گیا. اب یا تو وہ نبی ہی رہا‘ رسول بنا ہی نہیں ‘تو بھی وہ دعوت تو دے گا‘ اللہ کے پیغام کو پھیلائے گا‘ لیکن اگر اسے کسی خاص قوم یا علاقہ کی طرف بھیج دیا جائے جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا گیا:اِذۡہَبۡ اِلٰی فِرۡعَوۡنَ اِنَّہٗ طَغٰی ﴿۫ۖ۱۷﴾ ’’جاؤ فرعون کی طرف کہ وہ سرکش ہو گیا ہے‘‘ تو اس اعتبار سے وہ مامور من اللہ ہے اور اب وہ دعوت و تبلیغ صرف اپنی طبیعت کے تقاضے سے نہیں کر رہا ہے‘ بلکہ یہ اس کا فرضِ منصبی ہے.اسی فرق کی وجہ سے نبیوں کے لیے ’’قصص النبییّن‘‘ جبکہ رسولوں کے لیے ’’انباء الرسل‘‘ کی اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں.
نبی او ررسول کی دعوت کا بنیادی فرق : نبی اور رسول کی حیثیت میں فرق کی بنا پر نبی اور رسول کی دعوت میں بھی ایک بنیادی فرق ہے. وہ یہ کہ نبی یہ نہیں کہتا کہ مجھ پر ایمان لاؤ اور میری اطاعت کرو قرآن مجید میں حضرت یوسف علیہ السلام کا قصہ بہت تفصیل سے بیان ہوا ہے ‘ لیکن انہوں نے کسی مرحلے پر بھی یہ نہیں کہا کہ پہلے مجھ پر ایمان لاؤ پھر میں تمہارا ساتھ دوں گا‘ بلکہ خدمت خلق کے جذبے سے انہوں نے کام کیا. ظاہر بات ہے کہ ان پر ان کی قوم تو ایمان نہیں لائی تھی اور نہ ہی انہوں نے مطالبہ کیا تھا ‘ البتہ دعوت انہوں نے جیل میں بھی دی. اپنے دو قیدی ساتھیوں کو دعوت دینے کا ذکر قرآن حکیم میں بھی آیا ہے. اس دعوت میں آپؑ نے یہ نہیں کہا کہ مجھ پر ایمان لاؤ اور میری اطاعت کرو‘ بلکہ ان سے کہا:
یٰصَاحِبَیِ السِّجۡنِ ءَاَرۡبَابٌ مُّتَفَرِّقُوۡنَ خَیۡرٌ اَمِ اللّٰہُ الۡوَاحِدُ الۡقَہَّارُ ﴿ؕ۳۹﴾مَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اِلَّاۤ اَسۡمَآءً سَمَّیۡتُمُوۡہَاۤ اَنۡتُمۡ وَ اٰبَآؤُکُمۡ مَّاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ بِہَا مِنۡ سُلۡطٰنٍ ؕ اِنِ الۡحُکۡمُ اِلَّا لِلّٰہِ ؕ اَمَرَ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِیَّاہُ ؕ ذٰلِکَ الدِّیۡنُ الۡقَیِّمُ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۴۰﴾ (یوسف)
’’میرے جیل خانے کے رفیقو! بھلا کئی جدا جدا آقا اچھے یا (ایک) اللہ یکتا و غالب؟ جن چیزوں کی تم اللہ کے سوا پرستش کرتے ہو وہ صرف نام ہی نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں ‘اللہ نے ان کی کوئی سند نازل نہیں کی. (سن رکھو کہ) اللہ کے سوا کسی کی حکومت نہیں ہے. اس نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو. یہی سیدھا دین ہے ‘لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے.‘‘
اس کے برعکس رسول کا معاملہ ایسا نہیں ہے ‘وہ تو اللہ کا نمائندہ بن کر آتا ہے‘ اس لیے وہ اپنی دعوت کے آغاز ہی میں کہتا ہے کہ مجھ پر ایمان لاؤ اور میرا حکم مانو.جیسا کہ حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا: قَالَ یٰقَوۡمِ اِنِّیۡ لَکُمۡ نَذِیۡرٌ مُّبِیۡنٌ ۙ﴿۲﴾اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ وَ اتَّقُوۡہُ وَ اَطِیۡعُوۡنِ ۙ﴿۳﴾(نوح) ’’اے میری قوم کے لوگو! میں تمہارے لیے ایک صاف صاف خبردار کردینے والا (رسول) ہوں. (تم کو آگاہ کرتا ہوں) کہ اللہ کی بندگی کرو اور اس کا تقویٰ اختیار کرو اور میری اطاعت کرو!‘‘
رسول کی تکذیب پر عذابِ استیصال کا نزول : نبی اور رسول کے حوالے سے ایک اور فرق ملاحظہ ہو کہ اگر کسی نبی کی بات نہیں مانی گئی تو قوم پر عذاب نہیں آتا.جو لوگ بھی نبی کی دعوت و اصلاح سے مستفید ہو جائیں گے وہ اپنی عاقبت سنوار لیں گے.لیکن ایسا نہیں ہے کہ اگر قوم نے نبی کی دعوت قبول نہ کی تو وہ قوم ہلاک کر دی جائے گی. اس کے برعکس رسول اگر اپنی دعوت‘ اپنے پیغام اور اپنے عمل کے ذریعے سے لوگوں پر اتمامِ حجت کر دے اور وہ لوگ پھر بھی نہ مانیں اور ایمان نہ لائیں تو وہ لوگ مجموعی طور پر سب کے سب عذابِ الٰہی کے ذریعے سے ختم کر دیے جاتے ہیں. آپ قرآن پڑھتے ہیں اور قرآن میں قومِ ہود‘ قومِ نوح‘ قومِ صالح‘ قومِ شعیب‘ قومِ لوط اور آلِ فرعون کا ذکر بتکرار آتا ہے کہ ان کی طرف رسول بھیجے گئے. انہوں نے انکار کیا تو ان پر ایسا عذاب آیا کہ ساری کی ساری قوم ہلاک ہو گئی ایسا عذاب جس سے پوری کی پوری قوم ہلاک ہوجائے اس کو ’’عذابِ استیصال‘‘ کہتے ہیں. استیصال‘ اصل سے ہے اور اصل کہتے ہیں جڑ کو‘جبکہ استیصال کا معنی ہے :کسی شے کو جڑ سے اکھاڑ دینا. اگر آپ نے کسی پودے کو اوپر سے کاٹ دیا تو امکان موجود ہے کہ اس میں دوبارہ پتے نکل آئیں‘ پھرشاخیں آجائیں‘ لیکن جس درخت کو جڑ سے ہی اکھیڑ دیا جائے تو اس میں کسی بھی قسم کی نشوونما کا کوئی امکان باقی نہیں رہتا.
اس کو یوں سمجھئے کہ کوئی فوجی ہمارے ہاں اگر سادہ کپڑوں میں پھر رہا ہے اور کسی نے اس کے خلاف کوئی اقدام کیا تو اس کے جرم کی نوعیت عام شہری کے خلاف اقدام کرنے جیسے ہو گی‘ لیکن اگر وہ اپنے یونیفارم میں ہے اور آپ نے اس پر حملہ کیا تو یہ حکومت کے خلاف بغاوت شمار ہو گی. اسی طرح نبی اور رسول کی تکذیب اور ان کے خلاف اقدام کی نوعیت میں فرق ہے. نبی کے برعکس رسول قتل نہیں ہو سکتا: رسول چونکہ اللہ تعالیٰ کا نمائندہ بن کر کسی علاقے میں گیا ہوتا ہے تو وہ کسی صورت قتل اور مغلوب نہیں ہو سکتا. دیکھئے قرآن میں دو ہم عصر شخصیتوں حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ علیہما السلامکی مثال موجود ہے . سورۂ آل عمران میں دونوں کا ذکر ساتھ ساتھ آیا ہے. حضرت یحییٰ علیہ السلام کی اللہ نے جو مدح کی ہے اس میں آخری جملہ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۳۹﴾ ’’(یحییٰ) نبی ہو گا صالحین میں سے‘‘ آیا ہے‘ جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مدح کے آخر میں فرمایا: رَسُوۡلًا اِلٰی بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ (آیت ۴۹) ’’(عیسیٰ کو) رسول بنا کر بھیجاگیا بنی اسرائیل کی طرف‘‘ اب یہاں نبی اور رسول کے الفاظ ایک جگہ آ گئے تو ان کا مفہوم جدا جدا ہو گا‘ بایں طور کہ حضرت یحییٰ نبی اور حضرت عیسیٰ رسول قرار پائیں گے . یہی وجہ ہے کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام کا سرقلم کر دیا گیا جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کا منصوبہ بنا تو اللہ نے انہیں زندہ اٹھا لیا.اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن مجید میں دو جگہ بڑے اہتمام سے فرمایا گیا ہے کہ رسول قتل نہیں ہو سکتا : (۱)سورۃ المجادلہ میں فرمایا: کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغۡلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِیۡ ؕ (آیت ۲۱) ’’اللہ نے طے کر لیا ہے کہ میں اور میرے رسول غالب آ کر رہیں گے‘‘. (۲)سورۃ الصافات میں فرمایا: وَ لَقَدۡ سَبَقَتۡ کَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الۡمُرۡسَلِیۡنَ ﴿۱۷۱﴾ۚۖاِنَّہُمۡ لَہُمُ الۡمَنۡصُوۡرُوۡنَ ﴿۱۷۲﴾۪وَ اِنَّ جُنۡدَنَا لَہُمُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴿۱۷۳﴾ ’’ہماری یہ بات تو رسولوں کے بارے میں طے ہو چکی ہے کہ لازماً ان کی مدد ہو گی ‘ اور ہمارا لشکر لازماً فتح مند ہو گا‘‘ اسی تناظر میں حضرت نوح علیہ السلام کی فریاد آ گئی ہے جس کا تذکرہ سورۃ القمر میں بایں الفاظ آیا: فَدَعَا رَبَّہٗۤ اَنِّیۡ مَغۡلُوۡبٌ فَانۡتَصِرۡ ﴿۱۰﴾ ’’پس ا س نے اپنے رب کو پکارا (اے رب!)میں تو مغلوب ہوا جا رہا ہوں پس تو بدلہ لے ان سے ‘‘البتہ قرآن مجید میں بعض مقامات پر قتل کا لفظ رسولوں کے ساتھ بھی آیا ہے ‘لیکن وہاں میرے نزدیک رسول کا لفظ نبی کی جگہ آیا ہے. اس حوالے سے میں نے یہ تمہید باندھی تھی کہ نبی اور رسول کا لفظ ایک دوسرے کی جگہ بھی استعمال ہوسکتا ہے.
نبی اکرمﷺ کی دو بعثتیں
نبی اور رسول کے درمیان مندرجہ بالا نسبت کو بیان کرنے کے بعد اب اصل موضوع کی طرف آتے ہیں. محمد ٌرسول اللہﷺ کواللہ تعالیٰ نے دو بعثتوں کے ساتھ بھیجا ہے. آپﷺ کی خصوصی بعثت بنی اسماعیل یعنی امیین کی طرف تھی اور حضورﷺ بھی انہی میں سے تھے. بفحوائے قرآنی: ہُوَ الَّذِیۡ بَعَثَ فِی الۡاُمِّیّٖنَ رَسُوۡلًا مِّنۡہُمۡ (الجمعۃ:۲) ’’وہی تو ہے جس نے اَن پڑھوں میں انہی میں سے ایک پیغمبر(محمدﷺ ) مبعوث فرمایا ‘‘ قریش نہ تو پڑھے لکھے لوگ تھے اور نہ ان کے پاس اس سے پہلے کوئی آسمانی کتاب تھی آپﷺ کی اصل بعثت ان کی طرف ہے اور ان کے لیے آپؐ کی حیثیت رسول کی ہے .ثانیاً آپﷺ کی بعثت پوری نوعِ انسانی کی طرف ہے. بفحوائے الفاظِ قرآنی : وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ اِلَّا کَآفَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیۡرًا وَّ نَذِیۡرًا (سبا:۲۸) ’’اور (اے محمدﷺ !) ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر تمام انسانوں کے لیے خوشخبری سنانے والا اور خبردار کرنے والا بنا کر‘‘. اس اعتبار سے نوعِ انسانی کے لیے آپؐ کی حیثیت نبی کی ہے.
نبی اکرمﷺ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام میں مشابہت
اس ضمن میں یہ بھی نوٹ کر لیں کہ حضور اکرمﷺ سے مشابہ ترین رسول حضرت موسیٰ علیہ السلام ہیں. دونوں صاحب ِکتاب‘ صاحب ِشریعت اور صاحب ِہجرت ہیں. نبی اکرمﷺ کی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بھی دو بعثتیں ہوئی ہیں. ایک بعثت تھی آلِ فرعون کی طرف ‘ لیکن آلِ فرعون نے نہیں مانا تو وہ غرق کر دیے گئے . اس لیے کہ آلِ فرعون کے لیے آپؑ بحیثیت رسول مبعوث ہوئے اور اللہ کا قانون ماقبل بیان ہوا ہے کہ رسول کی دعوت کو اگر نہ مانا جائے تو پھر نہ ماننے والوں پر عذابِ استیصال آتا ہے اور پوری قوم ہلاک ہو جاتی ہے.
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دوسری بعثت بنی اسرائیل کی طرف تھی اور ان کے لیے آپؑ کی حیثیت نبی کی تھی . یہی وجہ ہے کہ یہودی نافرمانی پر نافرمانی کرتے رہے ‘لیکن ان کو صرف سزا دی گئی اور ان پر عذابِ استیصال نہیں آیا اس سے بڑی نافرمانی کیا ہو گی کہ جب قتال کا حکم ہوا تو انہوں نے کورا جواب دے دیا : فَاذۡہَبۡ اَنۡتَ وَ رَبُّکَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا ہٰہُنَا قٰعِدُوۡنَ ﴿۲۴﴾ (المائدۃ) ’’جاؤ تم او ر تمہارا رب جنگ کرو ہم تو یہیں بیٹھے ہیں‘‘.اس جواب پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اتنی بیزاری ہوئی کہ آپؑ نے دعا مانگی: رَبِّ اِنِّیۡ لَاۤ اَمۡلِکُ اِلَّا نَفۡسِیۡ وَ اَخِیۡ فَافۡرُقۡ بَیۡنَنَا وَ بَیۡنَ الۡقَوۡمِ الۡفٰسِقِیۡنَ ﴿۲۵﴾(المائدۃ) ’’پروردگار! مجھے اختیار ہے تو بس اپنی جان کا یا اپنے بھائی (ہارون) کی جان کا‘ پس تو ہمارے اور اس ناہنجار قوم کے درمیان تفریق پیدا کر دے‘‘. حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اس بیزاری کی وجہ صاف ظاہر ہے کہ چھ لاکھ کے مجمع میںسے صرف دو افراد یوشع بن نون اور کالب بن یوفنا قتال کے لیے تیار ہوئے. اس طرح حضرت موسیٰ اور ہارون علیہما السلام کو ملا کر یہ چار ہو گئے. اب چار آدمی تو جنگ نہیں کر سکتے اتنے بڑے جرم پر بھی عذابِ استیصال نہیں آیا ‘اس لیے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی حیثیت ان کے لیے رسول کی نہیں‘ بلکہ نبی کی تھی. البتہ اس جرم پر ان کو سزا دی گئی کہ چالیس سال تک ارضِ مقدس سے محروم رہے اور اسی صحرا میں بھٹکتے پھرے . ان چالیس سالوں کے دوران حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہما السلام کا انتقال ہو گیااور وہ نسل ختم ہو گئی جس نے اس جرم کا ارتکاب کیا تھا اور اس کی جگہ ایک نئی نسل نے لے لی جویہاں صحرا میں پیدا ہوئی‘ یہیں پلی بڑھی‘ اس نے مختلف قسم کی سختیاں جھیلیں‘ تب ان کے اندر جہاد کا ولولہ پیدا ہوا اور پھر انہوں نے حضرت یوشع بن نون کی زیر قیادت جہاد اور قتال کیا.
بنی اسماعیل اور اُمیین کے لیے عذابِ استیصال کا حکم
اسی طرح محمد ٌرسول اللہﷺ کی بعثت بحیثیت رسول امیین کی طرف تھی ‘لہٰذا امیین پر ان کی زبان میں کتاب نازل ہو گئی‘ جبکہ باقی بنی نوع انسان کی زبان میں تو قرآن نازل نہیں ہوا. اسی طرح حضور اکرمﷺ کی ذات امیین کے لیے کوئی اجنبی نہ تھی‘ اس لیے کہ آپؐ انہی میں سے تھے. دوسری قوموں کے لیے ظاہر بات ہے کہ حضورﷺ اجنبی تھے.تواتمامِ حجت اصلاً امیین پر ہوا ہے. اب اگر امیین نے نہیں مانا تو وہ عذابِ استیصال کے مستحق ہو گئے تھے کہ ان کو جڑ سے اکھیڑ دیا جائے ‘لیکن اللہ تعالیٰ کی حکمت یہ ہوئی کہ انہیں دو قسطوں میں عذاب دیا گیا. پہلے تو جیسے بین بجا کر بل میں سے سانپ نکالتے ہیں اس طرح قریش کو مکہ سے نکالا گیا اور میدانِ بدر میں ان کی پیٹھ پر عذاب کا کوڑا برسایا گیا‘بایں طور کہ سارے بڑے بڑے سردار ختم ہو گئے. اس جنگ میں فرشتے بھی مسلمانوں کی طرف سے لڑ رہے تھے. ایک صحابی کہتے ہیں کہ میں کسی کافر کی طرف اسے مارنے کے لیے آگے بڑھا تومیں نے دیکھا کہ میرے تلوار چلانے سے پہلے ہی اس کی گردن اڑ گئی .یہ دراصل عذابِ الٰہی کی ایک شکل تھی.عذاب کی آخری قسط نبی اکرمﷺ کے آخری دور میں نازل ہوئی جب سورۃ التوبہ کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں‘ جن میں مشرکین مکہ کو آخری وارننگ دے دی گئی کہ ایمان لے آؤ ورنہ قتل کر دیے جاؤ گے. لہٰذا سورۃ التوبہ کی ابتدائی آیات عام نہیں ہیں‘ بلکہ اس پس منظر میں ان کا حکم خاص اُمیین اور بنی اسماعیل کے لیے ہے.
اسی طرح زیرمطالعہ حدیث اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی حدیث کا وہ حصہ جو قبل ازیں میں نے آپ کے سامنے بیان کیا ہے‘ یہ دونوں اس پس منظر کے ساتھ خاص ہیں. اگر یہ پورا پس منظر سامنے نہ ہو اور ان احادیث کو عام سمجھ لیا جائے تو بہت بڑی غلط فہمی اور بہت بڑی گمراہی پیدا ہو سکتی ہے کہ اسلام بالجبر تلوار کے ذریعے پھیلا ہے.
سورۃ التوبہ کے اندر ہی اہل کتاب کے لیے اس حوالے سے ایک علیحدہ قانون آیاہے کہ اگر یہ ایمان نہیں لاتے تو چھوٹے بن کر رہیں اور ہاتھ سے جزیہ دیں . لیکن یہ امیین اگر نہیں مانیں گے تو ان کا قتل عام ہو گا. اگرچہ معاملے کی نوعیت بالفعل یہ رہی کہ قتل عام کی نوبت نہیں آئی‘ بلکہ ایک شخص کے قتل کی بھی نوبت نہیں آئی اور سب کے سب ایمان لے آئے اور جو لوگ ایمان نہیں لائے وہ جزیرہ نمائے عرب کو خیرباد کہہ کرچلے گئے.
پاکستان کا ’’کافرستان‘‘ اور افغانستان کا ’’نورستان‘‘
اس ضمن میں ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمارے ملک پاکستان میں چترال کے ساتھ ایک چھوٹا سا علاقہ ’’کافرستان‘‘ ہے اور اس سے بالکل ملحق افغانستان میں ایک علاقہ ’’نورستان‘‘ ہے .یہ دونوں اصل میں مل کر ایک قوم ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ہم قریشی ہیں. ہمارے آباء و اَجداد سورۃ التوبہ کی ابتدائی آیات نازل ہونے اور قتل عام کے اس آخری حکم کے آجانے کے بعد جزیرہ نمائے عرب چھوڑ کر بھاگے تھے اور عراق میں آبسے تھے.لیکن جیسے جیسے اسلامی فتوحات کا دائرہ کار بڑھتا گیا تو یہ لوگ بھی آگے بڑھتے گئے اور عراق‘ ایران‘ افغانستان سے ہوتے ہوئے چترال سے ملحقہ ان پہاڑی علاقوں تک پہنچ گئے . اس طرح یہ سارا علاقہ ’کافرستان‘ کہلانے لگا.لیکن جب احمد شاہ ابدالی کا انگریزوں کے ساتھ ایک معاہدہ ہوا اورافغانستان وجود میں آیا تو اس علاقے کا ایک ٹکڑا افغانستان میں چلا گیا اور ایک ٹکڑا ہندوستان میں آ گیا جو اَب پاکستان میں ہے. افغانستان میں والی ٔکابل امیر دوست محمد خان نے ان لوگوں کے ساتھ وہی معاملہ کیا جو سورۃ التوبہ کی ابتدائی آیات میں بیان ہوا ہے ‘ یعنی ان کو الٹی میٹم دے دیا کہ ایمان لاؤ ورنہ قتل کر دیے جاؤ گے تو وہ ایمان لے آئے اور اس کے بعد سے یہ علاقہ ’نورستان‘ کہلاتا ہے ان کے ایک عالم دین کہتے تھے کہ چونکہ ہم قریشی ہیں لہٰذا مہدی ہم میں سے ہو گا. وہ ایک بار یہاں آئے تھے اور ان سے میری ملاقات ہوئی تھی . یہ لوگ مسلک کے اعتبار سے سلفی یعنی اہل حدیث ہیں اور شریعت کے بڑے پابند اور پختہ عقائد کے حامل ہیں.
دوسری طرف اس علاقے کا جوٹکڑا پاکستان میں ہے وہ آج بھی ’کافرستان‘ کہلاتا ہے اور وہ اپنے پرانے کفر پر قائم ہیں. پاکستانی حکومت نے اس علاقہ کو سیاحت کے لیے محفوظ (preserve) کر رکھا ہے کہ لوگ آئیں اور دیکھیں کہ ان کی روایات (customs) کیا ہیں‘ ان کی عورتیں ناچتی کیسی ہیں ‘ ان کے لباس کیسے ہوتے ہیں‘ وغیرہ.
عکرمہ بن ابوجہل کا واقعہ
سورۃ التوبہ میں قتل عام کے اس آخری حکم کے آجانے کے بعد جزیرہ نمائے عرب سے بھاگنے والوں میں ابوجہل کا بیٹا عکرمہ بھی تھا . ابوجہل کی طرح وہ بھی اپنی ہٹ کا پکا تھا. وہ ایمان نہ لایا اور کشتی میں سوار ہو کر حبشہ کی طرف فرار ہونے لگا جیسے کبھی مسلمانوں نے اہل مکہ کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر مکہ سے حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی بحیرۂ قلزم (Red Sea) میں طوفان آنے کی وجہ سے کشتی ہچکولے لینے لگی. اس پر سب کشتی والوں نے مل کر اللہ کو پکارا :یا اللہ! ہمیں اس مصیبت سے نکال لے. عکرمہ نے سوچا کہ مصیبت کی اس گھڑی میں ہم ہبل‘ لات ‘عزیٰ اور منات کوپکارنے کے بجائے ایک اللہ کو مدد کے لیے پکار رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری فطرت میں اور دلوں میں لات‘ منات‘ُ عزیٰ ہبل وغیرہ نہیں بلکہ اللہ ہی اللہ ہے. اسی اللہ کی طرف تو محمدﷺ بلا رہے ہیں .چنانچہ وہ واپس لوٹے‘ ایمان لے آئے اور صادق الایمان ثابت ہوئے. پھر انہوں نے جہاد کے کئی معرکوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میںمسیلمہ کذاب کے خلاف جہاد کرتے ہوئے شہادت کا بلند درجہ حاصل کیا. رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ.
قتال کی تین صورتیں
قرآن حکیم اور سیرت النبیﷺ میں ہمیں قتال کا معاملہ تین سطحوں پر ملتا ہے.
قتال کی پہلی صورت : یہ قتال حضورﷺ کا بنیادی فریضہ تھا کہ اللہ کے دین کو غالب کرنے کے لیے قتال کرناجبکہ دعوت و تبلیغ کے ذریعے سے اتمام حجت ہو چکا ہو‘ اور دوسری طرف ایک معتدبہ تعداد میں لوگ تیارہو چکے ہیں جو دین پر عمل پیرا ہوں ‘منظم بھی ہوں‘ اور جان دینے کو تیار ہوں. یہ دو شرطیں جب پوری ہو جائیں تو پھر جو بھی راستے میں مزاحم ہے اس سے قتال ہو گا.اسے ’’قتال فی سبیل اللہ‘‘ کہا جاتا ہیجو جہاد فی سبیل اللہ کی چوٹی (top) ہے. دیکھئے‘ حضور اکرمﷺ نے اپنی بعثت کے پہلے پندرہ برس تک دعوت و تبلیغ‘ وعظ و تلقین‘ نصیحت‘ تربیت‘ تزکیہ اور تعلیم پر زور دیا. یہ سب کچھ بھی جہاد فی سبیل اللہ تھا. پھر اس کے بعد قتال شروع ہو گیا اور واضح کر دیا گیا کہ جب تک دین غالب نہ ہو جائے اور فتنہ ختم نہ ہوجائے یہ قتال جاری رہے گا . یہ قتال گویا آخری مرحلہ ہے جہاد فی سبیل اللہ کا ‘ لیکن اس کے لیے کچھ شرائط و لوازم ہیں. پہلے حقیقی ایمان دلوں میں راسخ کیا جائے‘ شریعت کو اپنی ذات اور اپنے گھر پر نافذ کیا جائے. پھر ایسے لوگوں کی تربیت اور تزکیہ کیا جائے‘ ان کو نظم و ضبط کا خوگر بنایا جائے اور ایک جماعت کی صورت میں ایک امیر کے پیچھے چلنے والا بنایا جائے. یہ سب پاپڑپیلنے پڑتے ہیں تب جا کر قتال کی منزل آتی ہے.
یہ قتال آج بھی ہو سکتا ہے کہ کسی غیر مسلم اکثریت والے ملک میں چند مسلمان اٹھ کھڑے ہوں.وہ دعوت دیں اور ان کی دعوت کے نتیجے میں اگر وہاں معتدبہ تعداد میں لوگ ایمان لے آئیں تو وہ اپنی جماعت بنائیں‘ اور اگر ضرورت پڑے تو قتال کریں. اس کے نتیجے میںوہاں پر زمین کا جو حصہ بھی ان کو مل جائے اس میں اللہ کا دین قائم کرلیں. اس طرح کی صورتِ حال کسی مسلمان ملک میں بھی پیش آ سکتی ہے .یعنی اگر کہیں مسلمان حکمران ہی شریعت کے نفاذ اور اسلام کے نظام کے قیام کی راہ میں رکاوٹ بنے بیٹھے ہوں تو ان کے خلاف بھی قتال ہو سکتا ہے. یہ امام ابوحنیفہ کا فتویٰ ہے اور میں اس کا قائل ہوں. اہل حدیث حضرات اس معاملے میں بہت نرم ہیں اور ان کا موقف ہے کہ مسلمان حکمران خواہ کیسے بھی ہوں ان کے خلاف خروج‘ بغاوت اور قتال نہیں ہو سکتا. یہی وجہ ہے کہ عرب ممالک میں آمر اور بادشاہ آرام سے بیٹھے ہوئے ہیں اور انہیں کوئی خطرہ نہیں‘ جبکہ ایرانیوں نے ہمت کر کے بادشاہ کو بھگا دیا اور اس کے لیے جان بچانی مشکل ہو گئی. میرے نزدیک ایک قتال تو یہ ہے اور قرآن مجید میں اکثر و بیشتر جو قتال کا حکم آیا ہے وہ اسی قتال سے متعلق ہے.
اس وقت دنیا میں ڈیڑھ ارب مسلمان ہیں اور وہ بس نام کے مسلمان ہیں. اگر ہم واقعی مسلمان ہوتے تو کیا دنیا میں یوں ذلیل و خوار ہوتے ؟ ؎
ہیں آج کیوں ذلیل کہ کل تک نہ تھی پسند
گستاخی فرشتہ ہماری جناب میں!
ظاہر بات ہے کہ مسلمانوں کے کسی ملک میں حکومت بھی اسی طرح کے نام نہاد مسلمانوں کی ہو گی. اگر کوئی تحریک ِاسلامی اس حد تک پہنچ جائے کہ دعوت و تبلیغ کے ذریعے سے اس کی جانب سے لوگوں پر اتمامِ حجت بھی ہو گیا ہو اور ایک جماعت ’’حزب اللہ‘‘ بھی ایسی تیار ہو چکی ہو جو خود بھی اللہ کے احکام پر کاربند ہو اور وہ منظم ہو کر ایک امیر کی اطاعت کو اپنے اوپر لازم بھی کر لے تو پھر چاہے وہ حکومت نام کے مسلمانوں کی ہو ان کے خلاف بھی قتال جائز ہے. اس قتال کو کوئی حرام قرار نہیں دے سکتا. یہ کام صرف جھوٹے مدعی ٔنبوت غلام احمد قادیانی نے کیا کہ قتال کو حرام قرار دے دیا. ؏ ’’دیں کے لیے حرام ہے اب دوستو قتال‘‘! اس اعتبار سے بہت گمراہ کن بات ہے اس لیے کہ قتال تو قیامت تک جاری رہے گا . رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے : اَلْجِھَادُ مَاضٍ مُنْذُ بَعَثَنِیَ اللّٰہُ اِلٰی اَنْ یُقَاتِلَ آخِرُ اُمَّتِی الدَّجَّالَ (۱) ’’جہاد اس وقت سے جاری ہے جب سے اللہ تعالیٰ نے مجھے مبعوث کیا اور (جاری رہے گا) یہاں تک کہ میری امت کاآخری حصہ دجال سے جنگ کرے گا.‘‘
البتہ یہ ضرورہے کہ آج کے حالات میں اس کا ایک متبادل بھی موجود ہے. اس کی وجہ یہ ہے کہ حکومتیں آج کل بہت طاقتور ہیں اور ان کے پاس لاکھوں کی تعداد میں مسلح افواج ہیں‘ بری بحری اور فضائی فورسز ہیں‘ ہوائی جہاز‘ گن شپ ہیلی کاپٹرز اور ٹینک ہیں‘ جبکہ عوام بالکل نہتے ہیں ‘اس لیے مقابلہ بالکل غیر مساوی (unequal) ہے .تواس کا بدل یہ ہے کہ ایک منظم‘ پرامن عوامی تحریک برپا کی جائے جو حکومت کو بہا لے جائے. اس میں قربانیاں دینی پڑیں گی .جو لوگ بھی یہ کام کریں گے ان پر ملک کی فوج گولیاں چلائے گی ‘ راکٹ برسائے گی‘لیکن بالآخر کچھ عرصے کے بعد فوج ہاتھ اٹھا دے گی کہ ہم اپنے ہم وطنوں کو مزید قتل نہیں کر سکتے. ہمارے ہاں ۱۹۷۷ء کی تحریک میں ایسا ہو چکا ہے اور ایران میں بھی یہی ہوا تھا.
قتال کی دوسری شکل: دوسری نوعیت کے قتال کا بس حکم آیا ہے اور وہ بالفعل ہوا نہیں ہے. اس کا ذکر سورۃ التوبہ کی ابتدائی آیات اور ہمارے زیر مطالعہ احادیث میں ہوا ہے. اس کو قتال نہیں‘ بلکہ قتل عام کہنا چاہیے ‘اس لیے کہ یہاں لفظ قتال نہیں آیا بلکہ کہا گیا ہے: فَاقْتُلُوْھُمْ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْھُمْ’’قتل کرو انہیں جہاں بھی تم انہیں پاؤ‘‘ . دوسری وجہ یہ ہے کہ قتال تو دو گروہوں کے درمیان ہوتا ہے جبکہ وہ تو مقابلے میں تھے ہی نہیں‘ ان کی جڑ تو بدر میں ہی کٹ گئی تھی. ان کی قوت ختم اور ان کی کمر ٹوٹ چکی تھی. درحقیقت یہ ان کے قتل عام کا حکم تھا‘ اگرچہ اس کی نوبت نہیں آئی ‘بایں طور کہ ان کی اکثریت ایمان لے آئی اور باقی عرب سے بھاگ گئے . (۱) سنن ابی داؤد‘ کتاب الجہاد‘ باب فی الغزو مع ائمۃ الجور. قتال کی تیسری شکل : قتال کی تیسری شکل جو ہمیں قرآن حکیم اور سیرت النبیﷺ سے ملتی ہے وہ یہ ہے کہ ایک ملک میں اسلامی انقلاب آ جائے اور اسلام بطورِ دین غالب آجائے تو اسے آگے پھیلانے کے لیے قتال کرنا. اس قتال کا ذکر سورۃ التوبہ ہی کی آیت ۱۲۳ میں ہوا ہے. فرمایا:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا قَاتِلُوا الَّذِیۡنَ یَلُوۡنَکُمۡ مِّنَ الۡکُفَّارِ وَ لۡیَجِدُوۡا فِیۡکُمۡ غِلۡظَۃً ؕ وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ مَعَ الۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۱۲۳﴾ (التوبۃ)
’’اے اہل ایمان! قتال کرو ان کفار سے جو تم سے متصل ہیں (یعنی تمہاری سرحدوں کے ساتھ ساتھ ہیں) اور چاہیے کہ وہ تمہارے اندر سختی محسوس کریں. اور جان لو کہ اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے.‘‘
حضور اکرمﷺ کے دور میں دو بڑی جنگوں کا معاملہ شروع ہو گیا تھا ‘ایک شام سے ہو کر سلطنت ِروم تک اور دوسری عراق سے ہو کر سلطنت ِایران تک. شام کے خلاف جو فوج کشی ہوئی اس کا ایک سبب بظاہر موجود تھا کہ وہاں کے حکمران نے حضورﷺ کے ایک ایلچی کو شہید کر دیا تھا .ایلچی کا قتل یقینی طور پر اعلانِ بغاوت ہوتا ہے ‘چنانچہ ان پر فوج کشی کی گئی‘ لیکن اس کا اصل سبب دین اسلام کو آگے سے آگے پھیلانا تھا. اس بات کو تقویت اس سے ملتی ہے کہ ایران نے تو کچھ نہیں کیا تھا ‘پھر بھی اس کے خلاف قتال اس لیے کیا گیا کہ اس دین کو پوری دنیا میں پھیلانا ہے. یہ دین صرف عرب کے لیے نہیں بلکہ یہ پوری دنیا کے لیے آیا ہے .اس مقصد کے لیے ایران میں فوج کشی کی گئی.لہٰذا سورۃ التوبہ کی یہ آیت ۱۲۳ بہت اہم ہے . اصل میں سورۃ التوبہ تقریباً آخری زمانے کی سورت ہے اور اس میں جو احکام آئے ہیں وہ حتمی ہیں.
ہمارے ہاں ڈاکٹر حمید اللہ مرحوم نے ’’میثاقِ مدینہ‘‘ کو اسلام کا دستور قرار دے کر ایک بہت بڑا مغالطہ پیدا کر دیا ہے . یہ صحیح نہیں ہے‘ اس لیے کہ میثاقِ مدینہ تو مدینہ کے مشترکہ دفاع (Joint defence) کا ایک معاہدہ تھا. رسول اللہﷺ نے انتہائی بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہودیوں کے ساتھ معاہدہ کر کے انہیں جکڑ لیا کہ اب اگر مدینہ پر حملہ ہو گا تو ہم سب مل کر حملہ آور سے جنگ کریں گے اور مدینہ کا دفاع کریں گے. یہ تو ان کی اپنی بدعہدی تھی جس کی وجہ سے انہیں مدینہ سے نکال باہر کیا گیا. جزیرہ نمائے عرب میں اسلام کی بالادستی قائم ہونے کے بعد وہاں پر آباد یہود و نصاریٰ کو اختیار دے دیا گیا کہ یا تو اسلام لے آئیں یا جزیہ دیں ‘ یعنی اسلام کی بالادستی تسلیم کریں. اگر یہ دونوں منظور نہیں تو پھر جنگ کے لیے تیار ہو جائیں.
اس کے بعد مسلمان فوج جہاں بھی گئی وہاں انہوں نے یہی تین متبادل مطالبات (alternatives) پیش کیے: پہلی صورت یہ کہ اسلام لے آئو ‘ ہمارے برابر کے ہوجائو گے. ہم یہ بھی نہیں کہیں گے کہ ہم سینئر مسلمان ہیں تم جونیئر مسلمان اور ہمارے حق زیادہ ہیں تمہارے کم ہیں. بلکہ ’’المُسلم کفوٌ لکل مُسلم‘‘ کا اصول لاگو ہو گا. اگر ایمان نہیں لاتے تو دوسری صورت یہ ہے کہ اللہ کے دین کی بالادستی قبول کرو‘ نیچے ہو کر رہو اور اپنے ہاتھوں سے جزیہ دو. اگر یہ بھی قبول نہیں تو تیسری صورت یہ ہے کہ آؤ میدان میں. پھر تلوار ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ کرے گی. اسی کے ضمن میں یہ آیت ہے جس پر توجہ بہت کم ہوتی ہے: یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا قَاتِلُوا الَّذِیۡنَ یَلُوۡنَکُمۡ مِّنَ الۡکُفَّارِ. ظاہر بات ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین فوری طور پر چین سے تو جنگ نہیں کر سکتے تھے‘ صرف انہی سے کر سکتے تھے جن کی سرحدیں عرب کے ساتھ ملتی ہیں دیکھئے جزیرہ نمائے عرب کے ایک طرف خلیج ‘دوسری طرف بحیرۂ قلزم اور نیچے بحیرۂ عرب ہے. اب دو ہی ملک تھے ‘ ایک عراق جو ایران کے تابع تھا‘ لہٰذا عراق سے ہو کر ایران‘ جبکہ دوسری طرف شام‘ جو تابع تھا روم کے . لہٰذا صحابہ کرام ؓ نے ان سے جہاد کیا اور ان کو فتح کر کے اسلامی ریاست کا حصہ بنایا.
میں نے کئی مرتبہ یہ بات واضح کی ہے کہ آج کے دور میں اللہ کے دین کا قیام قتال کے بغیر بھی ممکن ہے اور اس کے لیے غیر مسلح بغاوت اور پرامن عوامی تحریک‘ ان شاء اللہ‘ کفایت کر جائے گی. اسی طرح ایک دفعہ دنیا میں کہیں اسلام قائم ہو جائے تو پھر اس کو پھیلانے کے لیے فوج کشی کی بھی ضرورت نہیں پڑے گی .اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کا نظام پوری دنیا کی نگاہوں کے سامنے ہو گا. ٹیلی ویژن‘ اخبارات اور انٹرنیٹ کے ذریعے پوری دنیا کے لوگ دیکھ رہے ہوں گے کہ انہوں نے کس قدر عمدہ نظام بنا دیا ہے تو کون نہیں چاہے گا کہ اچھی چیز کو اختیار کرے . ان شاء اللہ اسی کے ذریعے سے بات پھیل جائے گی .لیکن یہ یادرہے کہ آج کے دور میں بھی قتال حرام نہیں ہے اور آیاتِ قتال کا حکم آج کے لیے بھی ہے. اگر کہیں اس کا موقع ہو تو پھر فوج کشی کر کے پڑوسی ملک کو دین اسلام کے تابع لایا جا سکتاہے.
ربّ العالمین کا قانونِ عذابِ استیصال
جیسا کہ قبل ازیں بیان ہو چکا‘ سورۃ التوبہ کی ابتدائی آیات کے نزول کے بعد بنی اسماعیل کے لیے کوئی اختیار نہیں تھا‘ ان کے لیے بس یہی ایک آپشن تھا کہ اسلام لے آؤ ‘ ورنہ قتل کر دیے جاؤ گے.ایسا کیوں ہوا‘ اس بارے میں نوٹ کر لیں کہ یہ سنت اللہ کے تحت ہوا ہے. سابقہ اقوام کے بارے میں بھی اللہ کا یہی طریقہ رہا ہے کہ جس قوم کی طرف کسی رسول کو بھیجا گیا اور اس نے اپنی دعوت و تبلیغ کے ذریعے سے اتمامِ حجت کر دیا‘ لیکن پھر بھی وہ قوم کفر پر اَڑی رہی اور ان میں سے اتنے لوگ بھی ایمان نہیں لائے کہ وہ اپنی قوم کے خلاف جنگ کر سکتے تو اس کے بعد یہ شکل ہوتی تھی کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذابِ استیصال آتا اور اس قوم کو نسیاً منسیاً کر دیا جاتا.
اس حوالے سے چھ قوموں قومِ نوح‘ قومِ ہود‘ قومِ صالح‘ قومِ لوط‘ قومِ شعیب اور آلِ فرعون کا ذکر قرآن مجید میں بار بار آتا ہے کہ جو اس قانونِ الٰہی کے تحت ہلاک کر دی گئیں. اس ضمن میں سورۃ العنکبوت کی آیت ۴۰ خصوصی اہمیت کی حامل ہے‘ جس میں اس عذابِ استیصال کی مختلف صورتیں بیان کی گئی ہیں. فرمایا: فَکُلًّا اَخَذۡنَا بِذَنۡۢبِہٖ ۚ ’’چنانچہ ہم نے ان میں سے ہر ایک کو اُس کے گناہ کی پاداش میں پکڑا‘‘. فَمِنۡہُمۡ مَّنۡ اَرۡسَلۡنَا عَلَیۡہِ حَاصِبًا ۚ ’’تو ان میں وہ بھی تھے جن پر ہم نے زور دار آندھی بھیجی‘‘یہ آندھی قومِ لوطؑ پر بھی آئی تھی جو زلزلے سے تلپٹ ہو جانے والی بستیوں پر پتھراؤ کرنے کے لیے بھیجی گئی تھی. اس سے پہلے قومِ عاد پر بھی آندھی کا عذاب آیا تھا‘ جس کا ذکر سورۃ الحاقہ میں اس طرح آیا ہے: وَ اَمَّا عَادٌ فَاُہۡلِکُوۡا بِرِیۡحٍ صَرۡصَرٍ ٍ عَاتِیَۃٍ ۙ﴿۶﴾سَخَّرَہَا عَلَیۡہِمۡ سَبۡعَ لَیَالٍ وَّ ثَمٰنِیَۃَ اَیَّامٍ ۙ حُسُوۡمًا ۙ فَتَرَی الۡقَوۡمَ فِیۡہَا صَرۡعٰی ۙ کَاَنَّہُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِیَۃٍ ۚ﴿۷﴾ ’’ اور قومِ عاد کے لوگ ہلاک کیے گئے تیز آندھی سے ‘جو ان پر مسلط کر دی گئی سات راتیں اور آٹھ دن تک‘ برباد کر دینے کے لیے‘ پس تودیکھتا ان لوگوںکو جو گری ہوئی کھجوروں کے تنوں کی طرح پچھڑے پڑے تھے‘‘. روایات میں آتا ہے کہ اس ہوا میں کنکر اور پتھر بھی تھے جو گولیوں اور میزائلوں کی طرح انہیں نشانہ بناتے تھے اور وہ آندھی اتنی زور دار تھی کہ انسانوں کو زمین پر پٹخ پٹخ کر پھینکتی تھی.
وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ اَخَذَتۡہُ الصَّیۡحَۃُ ۚ ’’اور ان میں وہ بھی تھے جنہیں چنگھاڑ نے آپکڑا‘‘.اس سے قومِ ثمود کے لوگ اور اہل مدین مراد ہیں جن پر ایک زور دار آواز آئی جس کے نتیجے میں سب ہلاک ہوگئےواضح رہے کہ قیامت والی عظیم ہلاکت بھی ایک آواز ہی سے ہوگی. آپ نے مسجدوں میں دیکھا ہوگا کہ نماز کے دوران کسی وقت لاؤڈسپیکر اَپ سیٹ ہوکر چیخ مارنی شروع کردے تو واقعہ یہ ہے کہ نمازیوں کی جان پر بن جاتی ہے.اس اعتبار سے تیز آواز میں بھی ہلاکت خیزی موجودہے.
آگے فرمایا: وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ خَسَفۡنَا بِہِ الۡاَرۡضَ ۚ ’’اور ان میں ان میں وہ بھی تھے جنہیں ہم نے زمین میں دھنسا دیا‘‘.اس ضمن میں قارون کا ذکر سورۃ القصص ‘آیت ۸۱میں ہوا ہے‘ جہاں فرمایا گیا: فَخَسَفْنَا بِہٖ وَبِدَارِہِ الْاَرْضَقف ’’تو ہم نے اُسے اور اُ س کے محل کو زمین میں دھنسا دیا‘‘.چنانچہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قارون ’’خسف فی الارض‘‘ کے عذاب کا شکار ہو گیا.
وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ اَغۡرَقۡنَا ۚ ’’اور ان میں وہ بھی تھے جن کو ہم نے غرق کر دیا ‘‘.غرق کیے جانے کا عذاب دو قوموں پر علیحدہ علیحدہ طریقے سے آیا تھا.قومِ نوحؑ کو تو ان کے گھروں اور شہروں میں ہی غرق کر دیا گیا تھا ‘جبکہ فرعون اور اس کے لائو لشکر کو محلوں اور آبادیوں سے نکال کر سمندر میں لے جاکر غرق کیا گیا.آخر میں فرمایا: وَ مَا کَانَ اللّٰہُ لِیَظۡلِمَہُمۡ وَ لٰکِنۡ کَانُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ یَظۡلِمُوۡنَ ﴿۴۰﴾ ’’اور اللہ ایسا نہیں تھا کہ ان پر ظلم کرتا‘ بلکہ وہ لوگ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے.‘‘
عذاب استیصال کے قانون میں یہود کا استثناء
اللہ تعالیٰ کے قانونِ عذابِ استیصال کے ضمن میں یہ نوٹ کرلیں کہ اس میں ایک استثناء موجود ہے اور وہ یہودیوں کا استثناء ہے یہود کی طرف اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو رسول بنا کر بھیجا: وَ اِذۡ قَالَ عِیۡسَی ابۡنُ مَرۡیَمَ یٰبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اِنِّیۡ رَسُوۡلُ اللّٰہِ اِلَیۡکُمۡ (الصف:۶) ’’اور جب کہا عیسیٰ ابن مریم نے : اے بنی اسرائیل! میں تمہاری طرف اللہ کا رسول (بنا کر بھیجا گیا) ہوں‘‘ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بعثت پوری دنیا کے لیے نہیں تھی.پوری دنیا کے لیے تو صرف ایک ہی رسول بھیجے گئے اور وہ محمدﷺ ہیں. آپؐ سے پہلے سارے رسول اپنی اپنی قوم کی طرف بھیجے گئے. حضرت عیسیٰ ؑ بھی بنی اسرائیل کی طرف بھیجے گئے بنی اسرائیل نے نہ صرف ان کا انکار کیا بلکہ ان پر بے ہودہ الزام لگایا‘ انہیں جادوگر‘ کافر اور مرتد قرار دیا (معاذ اللہ‘ ثم معاذ اللہ!) اور بالآخر اس قوم نے حضرت مسیحؑ کو اپنے بس پڑتے سولی پر چڑھوا کے دم لیا. اس نافرمانی پر وہ عذابِ استیصال کے مستحق ہو چکے تھے لیکن ان پر عذاب نہیں آیا. کیوں نہیں آیا؟اس کا جواب بہت مشکل ہے. یہ توا للہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کی مشیت ہے‘ البتہ اس کی ایک توجیہہ میرے سامنے ہے.
اللہ تعالیٰ نے اس سارے معاملے کو اشتباہ میں ڈال دیا ہے. عیسیٰ علیہ السلام کو اوپر آسمانوں پر اٹھا لیا گیا اورسولی پر نہیں چڑھنے دیا گیا. پھر سولی پر کون چڑھا‘ اس کے بارے میں خود انجیل برنباس یہ بتاتی ہے کہ یہوداسکریوتی جو بارہ حواریوں میں سے ایک تھا اور جس نے غداری کر کے حضرت مسیحؑ کو گرفتار کروایا‘ اس کی شکل بدل کر حضرت مسیحؑ کی سی کر دی گئی اور وہ پکڑاگیا اور سولی چڑھا وہ اس کا مستحق تھا کہ غداری کی سزا اسے ملنی چاہیے تھی. یہ نہیں کہ کسی بے قصو ر انسان کو پکڑ کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شکل بنا دی جاتی اور اسے سولی پر چڑھا دیا جاتا بہرحال اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اٹھا لیا اور قوم کو مہلت دے دی. وہ مہلت ابھی تک جاری ہے‘ چل رہی ہے ‘لیکن قانونِ خداوندی نافذ ہو کر رہے گا. حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ آئیں گے اور انہی کے ذریعے سے ان کی قوم (بنی اسرائیل) پر عذابِ استیصال نافذ ہو گا. اس کا ہونا یقینی ہے اور اس کی خبریں صحیح اور متفق علیہ احادیث میں موجود ہیں‘ جن میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں. رفع مسیحؑ اور نزولِ مسیحؑ یہ دونوں چیزیں ہمارے ایمان و یقین میں شامل ہیں‘ اس لیے کہ یہ باتیں اتنی واضح اور تواتر سے ثابت ہیں کہ ان کا انکار گویا قرآن و حدیث کا انکار ہو جائے گا اس کے باوجود ایسے بدبخت لوگ موجود ہیں جو اتنی پختہ بات کا انکار کرتے ہیں بہرحال یہ ہونا ہے اور حضرت مسیح علیہ السلام ہی کے ہاتھوں ان کا آخری انجام ہو گا .ان میں سے ایک شخص ’’مسیح‘‘ ہونے کا دعویٰ کرے گا اور وہ دراصل مسیح الدجال (Anti Christ) ہو گا جسے حضرت مسیح علیہ السلام اپنے ہاتھوں سے ختم کریں گے. اس کے بعد یہودیوں کا قتل عام ہو گا اور کوئی یہودی نہیں بچے گا.البتہ عیسائیوں کے پروٹسٹنٹس فرقہ میں سے Evengelists جو آج کل بہت زیادہ فعال ہیں‘ ان کا ایک رسالہ ’’The Phila علیہ السلام elphia Trumpt‘‘ امریکہ کے شہر فلاڈلفیا سے نکلتا ہے. اس کے ایڈیٹر نے لکھا ہے کہ اسی (۸۰) فیصد یہودی قتل ہو جائیں گے‘ صرف بیس فیصد باقی بچیں گے. یہ بات اس طرح درست ہو سکتی ہے کہ یہودیوں میں سے بیس فیصد حضرت مسیحؑ کی آمد ثانی کے بعد ایمان لے آئیں او راس طرح وہ بچ جائیں‘ لیکن جو بھی کفر پر اڑارہے گا وہ لازماً قتل ہو گا . احادیث میں یہاں تک آتا ہے کہ اگر کوئی یہودی کسی پتھر کے پیچھے چھپے گا تو پتھر بولے گا : اے مسلمان بھائی! میرے پیچھے یہودی چھپا ہوا ہے اسے قتل کرو. کسی درخت کے پیچھے چھپے گا تو وہ درخت بھی بولے گا ‘سوائے ایک درخت ’’غرقد‘‘ کے ‘جس کی انہوں نے اسرائیل میں بڑے پیمانے پر کاشت کی ہے. اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہماری احادیث کو جانتے ہیں.
اس حوالے سے سمجھ لیجیے کہ قانونِ خداوندی ختم نہیں ہوا ‘ بس تھوڑا سا وقفہ ڈال دیا گیا ہے .فیصلہ تو سنا دیا گیا ہے‘ لیکن اس کی تنفیذ (execution) مؤخر کر دی گئی ہے. عمل درآمد لازماً ہو گا‘ لیکن ہو گا حضرت مسیحؑ کے نزول کے بعد جو ان کے رسول تھے. دوسری طرف حضرت مسیحؑ جب آئیں گے‘ رسول اللہﷺ کے فرمان : یُکَسِّرُ الصَّلِیْبَ وَیَقْتُلُ الْخِنْزِیْرَ کے مطابق ‘صلیب کو توڑ دیں گے اور خنزیر کو قتل کر دیں گے. یہ دو چیزیں عیسائیوں نے خود گھڑ لی ہیں. ایک یہ کہ حضرت عیسیٰ صلیب پر مصلوب ہوئے اور انہوں نے صلیب کو اپناقومی نشان بنا لیا. حضرت مسیحؑ کہیں گے کہ میں تو صلیب ہوا ہی نہیں ‘ تم نے کیاکہانی بنا رکھی ہے ؟لہٰذا صلیب اور عقیدئہ صلیب ختم ‘چنانچہ عیسائیت بھی ختم. اس لیے کہ موجودہ عیسائیت تو قائم ہی عقیدۂ صلیب پر ہے.دوسرے یہ کہ ان سے پہلے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت چلی آ رہی تھی جس میں خنزیر کا گوشت حرام تھا‘ لیکن انہوں نے حلال قرار دے لیا. حضر ت مسیحؑ آکر کہیں گے کہ تم نے غلط کام کیا اور پھر اپنے ہاتھ سے خنزیر کو قتل کر دیں گے. اس طرح عیسائیت بحیثیت مذہب ختم ہو جائے گی اورسب کے سب عیسائی مسلمان ہو جائیں گے . اس طرح عیسائی اور مسلمان مل کر ایک‘اُمت واحدہ بنیں گے اور یہودی سب کے سب قتل ہو جائیں گے. ان میں سے اگر کسی کے بچنے کا امکان ہے تو صرف ان کا جو حضرت مسیحؑ کی آمد ثانی کے بعد ایمان لے آئیں گے.
اُمت ِمسلمہ اور بنی اسرائیل میں مشابہت
اب میں ڈرتے ڈرتے اپنا خیال عرض کر رہا ہوں کہ دو ہزار برس پہلے انہوں نے حضرت مسیحؑ کو اپنے بس پڑتے گویا سولی پر چڑھا دیا تو یہ اسی وقت عذابِ استیصال کے مستحق ہو چکے تھے‘پھر ان کو سزا میں دو ہزار سال کا وقفہ کیوں دیا گیا. میرے نزدیک اس کی جو توجیہہ ہے (اور ظاہر ہے یہ حتمی اور یقینی بات نہیں ہے) وہ میں بیان کر رہا ہوں. ایک حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جو عذاب بنی اسرائیل پر آئے ہیں وہ سب کے سب امت مسلمہ پر بھی آئیں گے .رسول اللہﷺ نے فرمایا:
لَـیَاْتِیَنَّ عَلٰی اُمَّتِیْ مَا اَتٰی عَلٰی بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ حَذْوَ النَّعْلَ بِالنَّعْلِ
’’میری اُمت پر بھی وہ سب احوال آ کر رہیں گے جو بنی اسرائیل پر آئے تھے بالکل ایسے جیسے ایک جوتی دوسری جوتی کے مشابہ ہوتی ہے.‘‘
یہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہماسے مروی حدیث ہے اور ترمذی شریف کی روایت ہے. اس حوالے سے میں نے اپنی کتاب ’’سابقہ اور موجودہ مسلمان امتوں کا ماضی حال اور مستقبل‘‘ میں اُمت مسلمہ اور بنی اسرائیل پر آنے والے عذابوں کا موازنہ (compair) کر کے دکھا دیا ہے .اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو ہماری اور سابقہ اُمت مسلمہ یعنی بنی اسرائیل کی تاریخ میں حد درجہ حیرت انگیز مشابہت موجود ہے ‘اس پہلو سے کہ یہود پر بھی اللہ تعالیٰ کے عذاب کے دو دَور آئے اور ہم پر بھی دو ہی دَور آئے‘اور جس طرح بنی اسرائیل کی تولیت کے زمانے میں بیت المقدس کے ناموس کا پردہ ؎
اِسکندر و چنگیز کے ہاتھوں سے جہاں میں
سو بار ہوئی حضرتِ انساں کی قبا چاک!
کے مصداق دو بار چاک ہوا اسی طرح ہمارے عہد تولیت میں بھی مسجد اقصیٰ کی حرمت دو ہی مرتبہ پامال ہوئی.
دیکھئے!بنی اسرائیل پر پہلا عذاب آیا شمال سے آشوریوں اور اہل بابل کے ہاتھوں‘ جس کا ذکرسورۂ بنی اسرائیل میں ہے:
فَاِذَا جَآءَ وَعۡدُ اُوۡلٰىہُمَا بَعَثۡنَا عَلَیۡکُمۡ عِبَادًا لَّنَاۤ اُولِیۡ بَاۡسٍ شَدِیۡدٍ فَجَاسُوۡا خِلٰلَ الدِّیَارِ ؕ وَ کَانَ وَعۡدًا مَّفۡعُوۡلًا ﴿۵﴾
’’پس جب ان دونوں میں سے پہلے وعدے کا وقت آیا تو ہم نے اپنے سخت جنگجو بندے تم پر مسلط کر دیے جو شہروں کے اندر پھیل گئے .اور وہ وعدہ پورا ہو کر رہا.‘‘
بعینہٖ ایسا ہی حال مسلمانوں کا بھی ہوا ہے شمال سے آنے والے عیسائیوں کے ہاتھوں. اس صلیبی جنگ میں نہ صرف مسجد اقصیٰ کے ناموس کا پردہ چاک ہوا‘ بلکہ بیت المقدس میں وہ قتل عام ہوا جس کا تذکرہ کرتے ہوئے مغربی مؤرخین بھی کانپ جاتے ہیں.اس کے بعد یہودپر دوسرا عذاب مشرق کی جانب سے بخت نصر کے ہاتھوں آیا ‘جبکہ مسلمانوں پر بھی دوسرا عذاب مشرق کی جانب سے تاتاریوں کے ہاتھوں آیا اور اس فتنۂ تاتار نے پہلے افغانستان اور ایران کو پامال کیا اور ہر جگہ کشتوں کے پشتے لگا دیے اور بالآخر بغداد میں وہ تباہی مچائی کہ رہے نام اللہ کا. لاکھوں مسلمان تہ تیغ ہوئے‘ بغداد کی گلیاں خون کی ندیاں بن گئیں اور الف لیلہ کے اس رومانوی شہر کی اینٹ سے اینٹ بج گئی ‘اور بعینہٖ وہ کیفیت پیدا ہو گئی جو کم و بیش دو ہزار سال قبل بخت نصر کے حملے سے بیت المقدس کی ہوئی تھی.اس کے بعد یہودیوں پر عذاب آیا سکندراعظم اور سلوکس‘جو بعد میں سکندر کا سپہ سالار بنا تھا‘کے ہاتھوں اور پھر اس کے بعد رومیوں کے ہاتھوں.اسی طرح اس اُمت پر بھی عذاب آیا ہے مغربی یورپی ممالک(برطانیہ‘ فرانس‘اٹلی‘سپین) کے ہاتھوں. اس کے بعد پچھلی صدی میں یہودیوں پر آخری عذاب’’ہولوکاسٹ‘‘ آیا جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس میں ساٹھ لاکھ یہودیوں کو جرمنوں نے قتل کیا.اگر یہ تعدادساٹھ لاکھ کے بجائے چھ لاکھ بھی ہو تو بھی بہت بڑا عذاب ہے.یہ عذاب ابھی اس اُمت پر آنا ہے او ر میں ڈرتے ڈرتے کہہ رہاہوں کہ یہ عذاب اُمت کے بہترین حصہ پر آئے گا اور وہ اہل عرب‘اُمیین اور بنی اسماعیل ہیں.
اس وقت پوری اُمت مسلمہ مجرم ہے ‘اس لیے کہ دنیا کے کسی ایک کونے میں بھی ہم نے اسلام کو بطورِ نظام نافذ نہیں کیا. ہم دنیا والوں کو کیسے کہہ سکتے ہیں کہ اسلام کا نظامِ عدلِ اجتماعی یہاں موجود ہے‘ اپنی آنکھوں سے آ کر مشاہدہ کر لو‘ اس کی برکات آ کر دیکھ لو . اس روئے ارضی کے ایک انچ پر بھی ہم اسلام کو نافذ نہیں کر سکے. تو پوری امت مسلمہ بحیثیت مجموعی مجرم ہے‘ لیکن عربوں کی حیثیت سب سے بڑے مجرموں کی ہے. اس کی وجہ یہ ہے کہ غیر عربوں کے لیے تو قرآن اجنبی زبان میں ہے ‘جبکہ عربوں کی تو اپنی زبان میں قرآن ہے. اس کے ساتھ ان کو ایک رتبہ بھی ملا تھا کہ نبی آخر الزماںﷺ ان میں سے تھے. ع ’’جن کے رتبے ہیں سوا ان کی سوا مشکل ہے‘‘ کے مصداق جن کا مقام اونچا ہوتا ہے ان کا محاسبہ بھی سخت ہوتا ہے.اس لیے وہ بڑے مجرم ہیں او ر زیادہ عذاب کے مستحق ہیں. یہ عذاب تیسری جنگ عظیم کی صورت میں عربوں پر یہودیوںکے ہاتھوں آنا ہے. اس جنگ کو احادیث مبارکہ میں ’’المَلحَمۃ العُظمٰی‘‘ ا ور بائبل میں ہرمجدون (Armageddon) کہا گیا ہے.آپ اخباروں میں پڑھتے رہتے ہیں کہ اس کے لیے فضا تیار ہو رہی ہے . جنگ کا میدان مشرقِ وسطیٰ کے عرب ممالک بنیں گے. یورپ تو پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں اپنا حصہ ادا کر چکا ‘بایں طور کہ ان جنگوں میں کروڑوں یورپین قتل ہوئے . وہ کہتے ہیں کہ اب جو تیسری جنگ ہو گی وہ ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں ہو گی اوراس جنگ میں پہلی دو جنگوں سے زیادہ لوگ قتل ہوں گے. احادیث میں تو یہاں تک الفاظ آئے ہیں کہ اگر ایک شخص کے سو بیٹے ہوں گے تو ننانوے قتل ہو جائیں گے‘ صرف ایک بچے گا .اسی طرح حدیث میں یہ بھی آتا ہے کہ زمین پر اتنی لاشیں پڑی ہوں گی کہ ایک پرندہ اڑتا چلا جائے گا ‘اڑتا چلا جائے گا‘ مگر اسے اتنی جگہ بھی نہیں ملے گی کہ زمین پر اُتر سکے .ہر طرف لاشیں ہی لاشیں ہوں گی‘ یہاں تک کہ تھک ہار کر اس کے بازو شل ہو جائیں گے تو وہ لاشوںپر ہی گرے گا. ایک تو مردار خور پرندے ہوتے ہیں جو لاشوں پر جھپٹتے ہیں اور مردار کھاتے ہیں ‘وہ چاہے کوے ہوں یا گدھ ہوں‘ لیکن جو نفاست پسند پرندہ ہے وہ کبھی بھی گندگی پر نہیں اترتا.
ایسا کیوں ہو گا؟ اس کے لیے میری توجیہہ یہ ہے کہ اس اُمت کو تمام امتوں پر فضیلت دی گئی ہے اور امت کا بہترین حصہ اہل عرب ہیں . آج عرب ممالک میں ارب ہا ارب ڈالر کے محل بنائے جا رہے ہیں. سیون سٹار ہوٹل عرب ممالک میں بن رہے ہیں جہاں پر داخلہ کئی سو ڈالر دے کر ہوتا ہے. اس طرح انہوں نے اپنی ساحلی سڑکیں اس خوبصورتی سے سجائی ہیں کہ اس قدر حسین مناظر میں نے پورے امریکہ میں کہیں نہیں دیکھے.یہ سب نبی اکرمﷺ کی پیشین گوئی کے عین مطابق ہے. آپﷺ نے اہل ِعرب کے حوالے سے فرمایا تھا: یَتَطَاوَلُوْنَ فِی الْبُنْیَانِ ’’یہ اونچی عمارتیں بنانے میں ایک دوسرے کا مقابلہ کریں گے.‘‘
اس اُمت کے افضل حصہ پر جو اللہ کا عذاب آنا ہے وہ ان یہودیوںکے ہاتھوں آئے گا. عربوں کی پیٹھ پر عذاب کا کوڑے پڑے گا اور عرب میں لاشیں ہی لاشیں ہوں گی. اس حوالے سے مولانا اصلاحی صاحب ایک کہاوت بیان کیا کرتے تھے . ان کے علاقے میں ایک رواج تھا کہ اگر کوئی راجپورت نوجوان بڑی گری ہوئی حرکت کرتا تھا تو اس کے سر پر چمار کے ہاتھوں جوتے لگوائے جاتے تھے .اس کی وجہ یہ تھی کہ راجپوت کے سر پر اگر راجپوت کا جوتا پڑے تو تکلیف تو ہوتی ہے لیکن اتنی بے عزتی محسوس نہیں ہوتی‘جبکہ جب چمار کا جوتا پڑے گا تو اس کو انگریزی میں کہتے ہیں to add insult to injury یعنی جوتے لگنے کی جو تکلیف ہونی ہے وہ تو ہونی ہے لیکن اس تکلیف کے ساتھ ساتھ بے عزتی (insult) بھی ہے. اسی طرح یہودی دین الٰہی کے اعتبار سے چمار ہیں‘ مغضوب علیہم قوم ہیں.دوسری طرف اہل عرب انسانوں میں سے افضل ترین ہیں‘ اس لیے کہ ان ہی میں سے ٌمحمدرسول اللہﷺ ہیں جو تمام انبیاء و رسل میں افضل ترین ہیں. الغرض افضل ترین انسانوں کو ان چماروں کے ہاتھوں سزا دی جائے گی. اس میں تکلیف تو ہو گی ہی‘ لیکن ایک طرح کی ہتک (insult) بھی ہو گی. میری رائے کے مطابق اللہ نے یہودیوں کو جو تھوڑی سی مہلت دی ہے تو یہ مسلمانوں کی آزمائش کے لیے ہے.
عظیم تر اسرائیل ہی یہود کا عظیم تر قبرستان بنے گا
اس کے بعد یہود عرب اور مشرق وسطیٰ پر چھا جائیں گے اور ’’عظیم تر اسرائیل‘‘ وجود میں آئے گا اس کی وجہ یہ ہے کہ اسرائیل ابھی بہت چھوٹا سا ملک ہے اوروہاں پر صرف تیس پینتیس لاکھ یہودی ہیں‘ جبکہ پوری دنیا میں ان کی تعداد سوا کروڑ ہے‘اور ظاہر بات ہے کہ سوا کروڑ اس چھوٹے سے ملک میں تو نہیں سما سکتے‘ ان کو ایک گریٹر اسرائیل چاہیے .پہلے تو ان کا کہنا تھا کہ دریائے نیل سے دریائے فرات تک کا علاقہ اسرائیل بنے گا ‘ لیکن عراق جنگ کے بعد شیرون نے کہا ہے کہ اب ہمارا مطالبہ دریائے نیل سے دجلہ تک کا ہے. عظیم تر اسرائیل کا نقشہ اسرائیل کی پارلیمنٹ کی پیشانی پر آویزاں ہے. اس نقشے کے مطابق پورا فلسطین‘ پورا شام‘ عراق (کم از کم دجلہ تک) ‘ مصر کا انتہائی زرخیز دریائے نیل کے ڈیلٹا کا علاقہ ‘ ترکی کا جنوبی حصہ اورسعودی عرب کا بھی شمالی حصہ بشمول مدینہ‘یہ سب گریٹر اسرائیل کا حصہ بنیں گے.یہ لوگ مکہ کواس میں شامل نہیں کرتے مگر مدینہ کو کرتے ہیں‘جبکہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے کہ یہ لوگ مدینہ میں داخلے کی کوشش ضرور کریں گے مگر اللہ تعالیٰ حفاظت فرمائے گا اور یہ اس میں داخل نہیں ہو سکیں گے.
اس طرح ایک گریٹر اسرائیل وجود میں آئے گا اور پھر ساری دنیا سے تمام یہودیوں کو جھاڑو پھیڑ کر یہاں جمع کر لیا جائے گا.اس کا ذکر بھی سورئہ بنی اسرائیل میں موجود ہے: فَاِذَا جَآءَ وَعۡدُ الۡاٰخِرَۃِ جِئۡنَا بِکُمۡ لَفِیۡفًا ﴿۱۰۴﴾ؕ ’’پس جب آخرت کا وعدہ آ جائے گا تو ہم تمہیں لپیٹ کر لے آئیں گے‘‘. اس کے بعد یہودیوں پر عذابِ استیصال آئے گا اور ’’عظیم تر اسرائیل‘‘ ہی یہودیوں کا ’’عظیم تر قبرستان‘‘ بنے گا.
اقول قولی ھذا واستغفر اللّٰہ لی ولکم ولسائر المسلمین والمسلمات