حدیث 13-14 اسلامی اخوت اور خونِ مسلم کی حرمت

۱۱/جنوری۲۰۰۸ء کا خطبہ جمعہ 
خطبہ ٔمسنونہ کے بعد


اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ 
اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ اِخۡوَۃٌ فَاَصۡلِحُوۡا بَیۡنَ اَخَوَیۡکُمۡ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ ﴿٪۱۰﴾ 
(الحجرات) 
یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقۡنٰکُمۡ مِّنۡ ذَکَرٍ وَّ اُنۡثٰی وَ جَعَلۡنٰکُمۡ شُعُوۡبًا وَّ قَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوۡا ؕ اِنَّ اَکۡرَمَکُمۡ عِنۡدَ اللّٰہِ اَتۡقٰکُمۡ ؕ 
(الحجرات:۱۳
عَنْ اَبِیْ حَمْزَۃَ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ خَادِمِ رَسُوْلِ اللّٰہِ  عَنِ النَّبِیِّ  : 

لَا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی یُحِبَّ لِاَخِیْہِ مَا یُحِبُّ لِنَفْسِہٖ 
(۱)

رسول اللہ کے خادم ابوحمزہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم سے روایت کرتے ہیںکہ آپؐ نے فرمایا: 

’’تم میں سے کوئی شخص اُس وقت تک مکمل ایمان دار نہیں ہو سکتا جب تک کہ اپنے (مسلمان) بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے.‘‘

عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ  
لَا یَحِلُّ دَمُ امْرِیئٍ مُسْلِمٍ‘ یَشْھَدُ اَنْ لاَّ اِلٰــہَ اِلاَّ اللّٰہُ‘ وَاَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‘ (۱) صحیح البخاری‘ کتاب الایمان‘ باب من الایمان ان یحب لاخیہ ما یحب لنفسہ. وصحیح مسلم‘ کتاب الایمان‘باب الدلیل علیٰ ان من خصال الایمان ان یحب لاخیہ. اِلاَّ بِاِحْدٰی ثَلَاثٍ : الثَّــیِّبُ الزَّانِیْ ‘ وَالنَّفْسُ بِالنَّفْسِ‘ وَالتَّارِکُ لِدِیْنِہِ الْمُفَارِقُ لِلْجَمَاعَۃِ (۱

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: 

’’(مندرجہ ذیل) تین صورتوں کے علاوہ کسی مسلمان کا خون حلال نہیں‘ جو یہ گواہی دیتا ہو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں (۱) شادی شدہ زانی‘ (۲)جان کے بدلے جان (قاتل) ‘اور(۳) دین کا تارک‘ جماعت سے علیحدگی اختیار کرنے والا.‘‘

معزز ّسامعین کرام! 
امام یحییٰ بن شرف النووی رحمہ اللہ علیہ کے مجموعہ احادیث ’’اربعین نووی‘‘ میں بہت سی احادیث ایسی ہیں جن کے کلمات تو نہایت مختصر ہیں مگر ان میں دین کی بڑی بڑی حکمتیں بیان کی گئی ہیں. حضوراکرم نے ان کو ’’جوامع الکلم‘‘ سے تعبیر فرمایا ہے. گزشتہ نشست میں بھی ہم نے چند جوامع الکلم احادیث کا مطالعہ کیا تھا اور آج بھی جو دو احادیث (حدیث نمبر۱۳ اور ۱۴) ہمارے زیر مطالعہ ہیں وہ بھی جوامع الکلم میں سے ہیں.پہلی حدیث کا تعلق ایمان کے اصل جوہر اور ُلب ّلباب ِسے ہے اور دوسری کا تعلق اسلام کے قانونی نظام سے ہے ‘اور پھر اس میں خاص طور پر یہ بات بیان کی گئی ہے کہ کسی مسلمان کی جان کن حالات میں لی جا سکتی ہے.یہ ایک بہت بڑا قانونی اور فقہی مسئلہ ہے. آج ہم ان شاء اللہ ان دونوں احادیث کا مطالعہ کریں گے. 

اسلامی اخوت اور عالمگیر اخوت

اپنے معمول کے مطابق میں نے ابتدا میں سورۃ الحجرات کی دو آیات تلاوت کی ہیں‘ پہلی آیت ہے: اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ اِخۡوَۃٌ (آیت ۱۰’’یقینا اہل ایمان تو بھائی بھائی ہیں‘‘ اخوتِ ایمانی کا یہ رشتہ بہت گاڑھا ‘ مضبوط اور بہت بنیادی ہے‘ لیکن اسی سورۂ مبارکہ کی دوسری آیت میں ایک اور رشتہ اخوت کا ذکر ہے او ر وہ اہل ایمان کے درمیان نہیں‘بلکہ تمام انسانوں کے مابین ہے ‘چاہے وہ مسلمان ہوں یا کافر. فرمایا: یٰۤاَیُّہَا (۱) صحیح مسلم‘ کتاب القسامۃ والمحاربین والقصاص والدیات‘ باب ما یباح بہ دم المسلم. النَّاسُ اِنَّا خَلَقۡنٰکُمۡ مِّنۡ ذَکَرٍ وَّ اُنۡثٰی (الحجرات:۱۳’’اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت (یعنی ایک انسانی جوڑے) سے پیدا کیاہے‘‘اس آیت میں بنی نوعِ انسان کی دو مشترک باتوں کو بیان کیا گیا ہے‘ان میں سے ایک ہے: ’’اِنَّا خَلَقْنٰـکُمْ‘‘ یعنی ہم سب کا خالق ایک ہے. چاہے کوئی مسلمان ہو‘ ہندو ہو‘ پارسی ہو‘ عیسائی ہو‘ الغرض جو بھی ہو‘سب کا خالق اللہ ہی ہے.جبکہ بنی نوعِ انسان میں دوسری قدرِ مشترک ’’مِّنْ ذَکَرٍ وَّاُنْثٰی‘‘ ہے‘یعنی تمام انسان حضرت آدم اور حوا علیہما السلام سے پیدا کیے گئے ہیں. اس قدرِ مشترک کی بنا پر تمام بنی نوع انسان میں بھی ایک رشتہ اخوت ہے. اگرچہ اس میں وہ پہلا دائرہ یعنی اخوتِ ایمانی کا جو رشتہ ہے اس کی افضلیت اپنی جگہ مسلم ہے‘مگراس کے ساتھ تمام انسانوں کے مابین بھی ایک رشتہ اخوت بہرحال موجود ہے. 

راوی اور روایت کا تعارف

اس تمہید کے بعد اب ہم پہلی حدیث کا مطالعہ کرتے ہیں. اس کے راوی حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ ہیں جن کی کنیت ابوحمزہ ہے‘ اور یہ حضور کے خادم اور انصاری صحابی ہیں حضور اکرم جب مدینہ تشریف لائے تو حضرت انسؓ کی والدہ تقریباً نو(۹) برس کی عمر میں ان کو حضور کی خدمت میں چھوڑ گئیں اور کہا:یارسول اللہ ! یہ آپ کے پاس رہے گا اور آپ کی خدمت کرے گا.اس کے بعد حضرت انسؓ حضور کی حیاتِ دنیوی کے پورے مدنی دور میں آپؐ کے خادم کی حیثیت سے آپ کے ساتھ جڑے رہے ہیں.یہی وجہ ہے کہ یہ ’’خادمِ رسول‘‘ کے لقب سے مشہور ہیں اور بہت سی احادیث بھی ان سے مروی ہیں . انہی میں سے ایک حدیث آج ہمارے زیر مطالعہ ہے .
یہ حدیث اپنی سند کے اعتبار سے متفق علیہ ہے ‘یعنی صحیح بخاری اور صحیح مسلم دونوں میں موجود ہے ‘اور یہ میں آپ کو بتا چکا ہوں کہ سند کے اعتبار سے کسی حدیث کا اس سے اونچا درجہ اور کوئی نہیں ہے. سند کے اعتبار سے جو حدیث متفق علیہ ہے وہ صحت کے اعتبار سے قرآن مجید کے بہت قریب پہنچ جاتی ہے ‘البتہ یہ ذہن نشین رہے کہ قرآن مجید کا ہر ہر حرف محفوظ ہے ‘ لیکن حدیث کا یہ معاملہ نہیں ہے. حدیث کے اند ر ایک ہی بات 
مختلف صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بیان کریں گے تو الفاظ کاتھوڑا بہت فرق واقع ہو جائے گا حدیث جبریل ؑکے مطالعہ کے دوران میں نے بہت واضح طو رپر آپ کو بتایاتھا کہ یہ ایک ہی واقعہ ہے جو مختلف صحابہ کرامؓ سے مروی ہے.اس میں کوئی اختلاف بھی نہیں ہو سکتا‘ اس لیے کہ اس واقعہ کو روایت کرنے والے سب صحابہ وہاں موجود ہیں جو سب کچھ دیکھ رہے ہیں اورسن رہے ہیں‘ لیکن پھر بھی بیان کرنے میں الفاظ اور ترتیب کا تھوڑا سا فرق ہو گیاہے لہٰذا قرآن مجید تو لفظاً بھی محفوظ ہے جبکہ حدیث کا معاملہ ایسا نہیں ہے .

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم نے فرمایا: 

لَا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی یُحِبَّ لِاَخِیْہِ مَا یُحِبُّ لِنَفْسِہٖ 

’’تم میں سے کوئی شخص مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے.‘‘ 

’’لَا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی…‘‘کا مفہوم

اس قسم کی احادیث کے ضمن میں پہلی بات تو یہ ذہن میں رکھیے کہ اس کا یہ نتیجہ نکال لینا کہ وہ مؤمن نہیں ہے توکافر ہے‘درست نہیں ہے. حدیث جبریل ؑکے ضمن میں تفصیل سے ایمان اور اسلام کا فرق واضح کیا جا چکاہے کہ ایمان اصل میں بعض حقائق کے قلب میں جاگزیں ہوجانے کا نام ہے اور پھر اس کے مختلف مراتب ہیں اسی کا ایک مرتبہ وہ بھی ہے : اَنْ تَعْبُدَ اللّٰہَ کَاَنَّکَ تَرَاہُ ‘ فَاِنْ لَمْ تَــکُنْ تَرَاہُ فَاِنَّہٗ یَرَاکَ یہ بھی درحقیقت اسی ایمان کی گہرائی کا ایک درجہ ہے‘ لہٰذا ایمان کی گہرائی کے پہلو سے ایمان کے مختلف تقاضے اور مختلف مظاہر ہیں‘اور پھر اسی ترتیب سے ایمان کے مختلف ثمرات اورنتائج ہیں اگر دل میں فی الواقع ایمان موجود ہے تو اس کے ثمرات بھی حاصل ہوں گے جنہیں مختلف احادیث اور قرآن مجید کی مختلف آیات ‘ مثلاً سورۃ التغابن کے دوسرے رکوع میں کھول کر بیان کر دیا گیا ہے.

زیر مطالعہ حدیث کے آغاز میں 
لَا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی… کے جو الفاظ آئے ہیں‘ یہ الفاظ کئی اور احادیث میں بھی آئے ہیں. مثلاً دو احادیث بہت ہی معروف و مشہور ہیں جو تقریباً اسی اندازکی ہیں.پہلی حدیث یوں ہے : لَا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی یَـکُوْنَ ھَوَاہُ تَـبِعًا لِّمَا جِئْتُ بِہٖ (۱’’تم میں سے کوئی شخص مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اُس کی خواہش نفس اس (دین)کے تابع نہ ہو جائے جو میں لے کر آیا ہوں‘‘.میں شریعت ‘ اللہ کے احکام اور اوامر و نواہی لایا ہوں‘ اب اگر تمہاری خواہش نفس اس کے خلاف سرکشی کرتی ہے تو پھر تمہارے قلب میں حقیقی ایمان موجود نہیں ہے اور تم مؤمن نہیں ہو. البتہ ایسا شخص مسلم تو ہو سکتا ہے‘ اس لیے کہ جو شخص کسی وقت اللہ کے کسی حکم پر اپنے نفس کے کسی تقاضے کو ترجیح دے دے تو اس سے وہ گناہگار‘ فاسق اور فاجر تو ہو گا لیکن وہ کافر نہیں ہوجائے گا .البتہ اسے ایمان کی حقیقت اُس وقت تک حاصل نہیں ہو گی جب تک کہ اُس کی خواہش نفس تابع نہیں ہو گی اس کے جو نبی اکرم لے کر آئے ہیں.

اسی طرح دوسری حدیث یوں ہے :
 لَا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَـیْہِ مِنْ وَّالِدِہٖ وَوَلِدِہٖ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ (۲’’تم میں سے کوئی شخص مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اُسے اُس کے والد ‘ اُس کے بیٹے اور تمام انسانوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہو جاؤں‘‘. یہ بھی ایمان کا ایک تقاضا ہے .ایمان کے مختلف تقاضے اور درجات ہیں اور احادیث میں ان کے حوالے سے بات ہوتی ہے‘ جبکہ اس کو اس لغوی مفہوم میں لے لینا کہ جب مؤمن نہیں ہے تو مسلم بھی نہیں ہے اور گویا پھر کافر ہے‘ یہ سارا معاملہ غلط ہے اور اس پر حدیث جبریل ؑکے ضمن میں ہم بڑی تفصیل سے بحث کر چکے ہیں. 

اخوت کا تقاضا

اس لحاظ سے زیر مطالعہ حدیث کا مفہوم یوں ہو گا کہ کسی شخص کی شرافت و مروّت کا تقاضا یہ ہوگا کہ جو چیز اپنے لیے پسند کررہا ہے وہ اپنے بھائی کے لیے بھی پسند کرے. دیکھئے ایک بھائی وہ ہے جو ماں جایا ہے ‘یعنی آپ کا حقیقی بھائی ہے‘ ظاہر بات ہے کہ اس اعتبار سے سب سے اَقرب وہی رہے گا .اس کے بعد کزنز ہیں جو آپ کے دادا دادی کی (۱) رواہ فی شرح السنۃ‘بحوالہ مشکاۃ المصابیح.

(۲) صحیح البخاری‘ کتاب الایمان‘ باب حب الرسول من الایمان. وصحیح مسلم‘ کتاب الایمان‘ باب وجوب محبۃ رسول اللہ اکثر من الاھل والولد والوالد. 
اولاد ہیں. وہ بھی پھر بھائیوں میں آ جائیں گے اور اس طرح یہ دائرہ وسیع ہوتا چلا جائے گا ‘یہاں تک کہ پوری نوعِ انسانی کو اپنے احاطے میں لے لے گا میں ابھی بتا چکا ہوں کہ اخوت کا ایک دائرہ تمام مسلمان بھائیوں کو محیط ہے‘ جبکہ ایک وسیع تر دائرہ میں تمام بنی نوع انسان آ جاتے ہیں. اس لیے کہ تمام بنی نوع انسان کا خالق ایک اللہ ہے اور تمام کے تمام آدم و حوا رضی اللہ عنہماکی اولاد ہیں تو اس اعتبار سے ان سے بھی ہمارا ایک رشتہ اخوت تو بہرحال ہے‘ لہٰذا اگر ہمیں کوئی خیر ملا ہے تو ہمارے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ ہم پسند کریں کہ وہ خیر ’’الاقرب فالاقرب‘‘ کے حساب سے ہر بھائی کو ملے‘اور پھردرجہ بدرجہ یہ بات پھیلتی چلی جائے گی.

فرض کیجیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو صحت دی ہے‘ آپ چاہیں گے کہ آپ کے بھائیوں کے اندر بھی صحت ہو‘ اگر ان میں کوئی مرض ہے تو دعا کیجیے کہ اللہ تعالیٰ انہیں شفا دے دے. اسی طرح اللہ نے آپ کو دولت دی ہے تو آپ کو یہ پسند کرنا چاہیے کہ آپ کے بھائیوں کے پاس بھی مال و دولت ہو‘ اگر ان کے پاس نہیں ہے تو آپ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ انہیں بھی دولت سے سرفراز فرمائے. 

اس حوالے سے اہم ترین بات یہ ہے کہ سب سے بڑی اور اہم ترین دولت ’’ہدایت‘‘ ہے. اگراللہ عزوجل نے آپ کو ہدایت سے سرفراز فرمایا ہے تو اب اس کا تقاضا یہ ہے کہ آپ اپنے بھائی کے لیے بھی پسند کریں کہ اللہ تعالیٰ اسے بھی ہدایت دے دے. لہٰذا پھر اس کے لیے دل وجان سے کوشش اور محنت کریں. جیسے سورۃ التحریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے : 
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا قُوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ وَ اَہۡلِیۡکُمۡ نَارًا ’’اے اہل ایمان! بچائو اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو آگ سے‘‘. یہ دراصل خیر خواہی ہے جس کے بارے میں نبی اکرم نے فرمایا: اَلدِّیْنُ النَّصِیْحَۃَ ’’دین تو نام ہی خیر خواہی کا ہے‘‘ لہٰذا ہدایت کو عام کرنا‘ لوگوں تک پہنچانا‘ پھیلانا‘ یہ بھی اسی حدیث کا لازمہ ہو جائے گا .پھر جیسے جیسے آپ کے قلب کے اندر وسعت پیدا ہو گی ‘آپ کے سینے میں فراخی ہو گی تو رشتہ اخوت کا دائرہ بڑھتا چلا جائے گا.

تبلیغ ِہدایت : حیاتِ دنیا کا سب سے قیمتی مصرف

اس ضمن میں یہ بھی ذہن نشین رہے کہ خلق کی ہدایت اور نوع انسانی کو سیدھے راستے پر لانے کی جدوجہد میں ایک وقت ایسا آجاتا ہے کہ انسان کے لیے اس کے سوا کوئی اور کام کرنے کوجی چاہتا ہی نہیں. رسول اللہ نے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے یہاں تک فرما دیا : فَوَا اللّٰہِ لَا َنْ یَھْدِیَ اللّٰہُ بِکَ رَجُلًا وَاحِدًا خَیْرٌ لَـکَ مِنْ اَنْ یَکُوْنَ لَکَ حُمْرُ النَّعَمِ (۱’’اللہ کی قسم!اگر تمہارے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کسی ایک شخص کو بھی ہدایت دے دے تو یہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں کے مل جانے سے بھی بڑی دولت ہے‘‘ یہ روایت بھی جوامع الکلم میں سے ہے. دیکھئے کیسے بات کو جمع کیا گیا: اَنْ یَھْدِیَ اللّٰہُ بِکَ رَجُلاً وَاحِدًا یعنی ہدایت تم نہیں دے سکتے‘ ہدایت تو اللہ ہی دے گا‘ لیکن اگر اللہ کسی کو ہدایت دے رہا ہے اور وہ اس کا ذریعہ تمہیں بنا دے یعنی تمہارے ذریعے سے اس کو ہدایت پہنچے‘ تو یہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بڑھ کر دولت ہے. اسی طرح حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ نے فرمایا: یَا مُعَاذُ! اَنْ یَھْدِیَ اللّٰہُ عَلٰی یَدَیْکَ رَجُلًا مِنْ اَھْلِ الشِّرْکِ خَیْرٌ لَکَ مِنْ اَنْ یَکُوْنَ لَکَ حُمْرُ النَّعَمِ (۲’’اے معاذ! اگر کسی مشرک آدمی کو اللہ تعالیٰ تمہارے ہاتھوں ہدایت عطا فرما دے تو یہ تمہارے حق میں سرخ اونٹوں سے بھی بہتر ہے.‘‘

ہم صوفیاء اور اولیاء اللہ کے بارے میں پڑھتے ہیں کہ انہیں تو بس اسی چیز کی غرض تھی کہ لوگوں تک ہدایت کا کلمہ پہنچ جائے . انہوں نے کوئی جائیدادیں تو نہیں بنائیں. یہ دوسری بات ہے کہ آج ان کے مقبروں پر مشرکانہ حرکات ہو رہی ہیں‘ بدعات ہیں‘ شریعت کے خلاف افعال سرانجام پا رہے ہیں. عرس اور میلے منعقد ہوتے ہیں اور ان میں عصمت فروشی کا دھندا بھی ہوتا ہے. یہ سارا کچھ ان کے نام پر ہو رہا ہے اور جو گدی 
(۱) صحیح البخاری‘ کتاب الجھاد والسیر‘ باب دعاء النبی الناس الی الاسلام والنبوۃ… ومسند احمد‘ ح ۲۱۷۵۵. واللفظ لہ.

(۲) مسند احمد‘ کتاب مسند الانصار‘ باب حدیث معاذ بن جبلؓ ‘ ح ۲۱۰۵۹
نشین ہیں وہ تو عیاشیاں کر تے ہیں . دوسری طرف ان صوفیاء اور اولیاء اللہ نے تو عسرت کی زندگی گزاری ہے. بابافرید گنج شکرؒ کے بارے میں آتا ہے کہ بسا اوقات ان کے پاس اس کے سوا کچھ نہیں ہوتا تھا کہ پانی میں تھوڑا سا نمک ڈال کر اس سے سوکھی روٹی ذرا گیلی کر کے کھاتے تھے. انہوں نے زندگی اس طور سے گزاری اور انہوں نے کوئی کاروبار نہیں کیا. حالانکہ کاروبار کرنا کوئی حرام تو نہیں ہے‘ لیکن ان کے ذہن میں چیزوں کی قدر و قیمت کا ایک معیار (sense of values) تھا کہ کاروبار سے مجھے سوائے معاش کے اور کیا حاصل ہو گا !اور اگر میرے ذریعے سے اللہ ہدایت پھیلا دے تو اس کے بدلے جو کچھ مجھے آخرت میں حاصل ہو گا اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا. 

اپنی توانائیوں کو کم قیمت پر ہرگزفروخت متکریں!

الغرض جب انسان اس سطح تک پہنچ جاتا ہے تو وہ سوچتا ہے کہ میں اپنی قدر و قیمت تھوڑی کیوں قبول کروں؟ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو بھی توانائی ‘قوت‘ مہلت عمر‘ صحت‘ اظہار مافی الضمیر اور تقریر و تحریر کی صلاحیتیں دی ہیں ‘ان کو آپ بازار میں لا کر گھٹیا قیمت پر فروخت نہیں کریں گے‘ اس لیے کہ ان کی سب سے بڑی قیمت یہ ہے کہ ان صلاحیتوں کو لوگوں کی ہدایت اور بھلائی کے لیے‘ ان کی عاقبت سنوارنے اور ان کو جہنم کی آگ سے بچانے کے لیے صرف کریں.تو درحقیقت یہ شرافت و مروّت کا وہ تقاضا ہے جس سے دین کی دعوت پھیلتی ہے . یہ جذبہ اگر لوگوں کے اندر ہو گا تو وہ اپنے وقت کا اصل مصرف اسی کو قرار دیں گے اور زندگی کے اندر اپنے وقت اور اپنی صلاحیتوں کی سب سے اہم قیمت اسی کو سمجھیں گے کہ اس کو لوگوں کے لیے ذریعہ ہدایت بنایا جائے . بہرحال زیر مطالعہ حدیث میں اس کی تاکید کے لیے انداز یہ اختیار کیا گیا ہے کہ اگر ایسا جذبہ انسان میں نہیں ہے تو پھر گویا حقیقی ایمان‘ ایمان کا اصل جوہر اور اصل ُلب ّلباب ِنہیں ہے‘ اس لیے کہ جب ایمانِ حقیقی ہو گا تو آپ کا آخرت پر یقینہو گا اور پھر دنیا میں آپ ہر چیز کی قیمت کا تعین آخرت کے حوالے سے کریں گے کہ آخرت میں اس کی کیا قد ر و قیمت اور اجر و ثواب ہے .جیسے کہ ہم پچھلی حدیث میں پڑھ چکے ہیں : مِنْ حُسْنِ اِسْلَامِ الْمَرْئِ تَرْکُہُ مَا لَا یَعْنِیْہِ ’’کسی آدمی (مسلمان) کے اسلام کی خوبی یہ بھی ہے کہ وہ ہر اس کام کو چھوڑ دے جس کا اس کو کوئی فائدہ نہیں‘‘ .یعنی دنیا کا وقت یا تو دنیوی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے لگے ظاہر بات ہے زندگی کے تقاضے پور ے کرنے کے لیے یہ ایک جائزاور صحیح مصرف ہے یا پھر اس کے ذریعے سے آخرت کمائی جائے.یوں سمجھنا کہ وقت کوئی بے کار اور فضول چیز ہے ‘یہ رویہ قابل مذمت ہے. 

جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ اس حوالے سے ہمارے ہاں ’’وقت گزاری‘‘ کا لفظ استعمال ہوتا ہے‘ اگر آخرت کا یقین ہو تو اس کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا. اسی طرح کون چاہے گا کہ میری اولاد‘ میرا بھائی جہنم میں ڈالا جائے؟لہٰذااس جذبہ کے پیدا ہونے کے بعد انسان کی ساری صلاحیتیں‘ ساری قوتیں‘ ساری توانائیاں اس فکر میں صرف ہوں گی کہ جتنوں کو بچا سکوں بچا لوں. جیسے کہ حضوراکرم نے ایک موقع پر فرمایا:’’ میری اور تمہاری مثال ایسی ہے کہ آگ کا ایک الاؤ ہے جو تمہیں نظر نہیں آ رہا اور تم اس میں گر پڑنا چاہتے ہو اور میں تمہارے کپڑے پکڑ پکڑ کر اس سے دور گھسیٹ رہا ہوں‘‘. سمجھانے کی غرض سے اس کی ایک عام سی مثال میں یوں دیا کرتا ہوں کہ آپ ایک سڑک کے کنارے بیٹھے ہوئے ہیں اور آپ کو معلوم ہے کہ آگے سڑک کھدی پڑی ہے. آپ دیکھتے ہیں کہ ایک نابینا آدمی اپنے معمول کے مطابق اس راستے سے گزررہا ہے‘ اسے کیا پتا ہے کہ آگے سڑک کھدی ہوئی ہے. وہ ذرا آگے بڑھے گا تو آپ چلا کر کہیں گے: او خدا کے بندے! آگے مت بڑھو‘ ذرا بچو‘ آگے گڑھا ہے. اب فرض کیجیے کہ وہ بہرا بھی ہے اور اس نے آپ کی بات سنی ہی نہیںاور چلتے چلتے وہ گڑھے کے کنارے پرپہنچ گیا ہے تو آپ دوڑ کر اس کے کپڑے پکڑیں گے اور کھینچ کر اس کوبچائیں گے. یہی لفظ استعمال کیا حضور نے کہ میں تمہارے کپڑے پکڑ پکڑ کر تمہیں بچا رہا ہوں. 

اس حوالے سے آپ کی زندگی میں یہ چیز بہت اہمیت کی حامل ہے کہ آپ کی اقدار کیا ہیں؟ آپ نے کس چیز کو کتنی اہمیت دی ہے؟ آپ کے نزدیک کس چیز کی کتنی قدر و قیمت ہے؟ پھر جو چیز آپ نے اپنے لیے پسند کی ہے وہی اپنے بھائی کے لیے پسند 
کیجیے. مثلاً اگر آپ اپنے لیے جنت پسند کرتے ہیں تو آپ اپنے بھائی کے لیے بھی جنت پسند کیجیے. بھائی سے آگے کزنز اور پھر اس کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہو کر پوری اُمت مسلمہ اور پھر پوری نوعِ انسانی تک پھیل جانا چاہیے. چنانچہ یہی بات قرآن مجید میں حضور کے بارے میں کہی گئی ہے: وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ اِلَّا رَحۡمَۃً لِّلۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۰۷(الانبیائ) ’’(اے نبی !) ہم نے آپ کو تمام جہان والوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے‘‘ . یعنی حضور اکرم کا دائرۂ رحمت تمام اہل ِعالم تک پھیلا ہوا ہے .اگرچہ لفظی ترجمہ ہے’’ تمام جہانوں کے لیے ‘‘لیکن بعض اوقات عربی زبان میں ظرف کی جمع بول کر مظروف کی جمع مراد ہوتی ہے ‘تو یہاں بھی ایسا ہی ہے ‘لہٰذامفہوم یہ ہو گا کہ اس عالم میں رہنے والے تمام لوگ‘ تمام قومیں‘ تمام نسلیں‘ ان سب کے لیے آپؐ کو رحمت بنا کر بھیجا گیاہے. اب اس رحمت کا کوئی عکس صاحب ایمان شخص کی شخصیت کے اندر بھی پیدا ہوجانا چاہیے‘ اگر حقیقی‘ واقعی اور اصلی اور قلبی یقین والا ایمان حاصل ہے. 

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں تقسیم ِمراتب

اب آیئے اگلی حدیث کی طرف ‘ اس حدیث کے راوی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں اور آپ کو معلوم ہے کہ یہ کبارِ صحابہؓ اور فقہائے صحابہ ؓ میں سے ہیں صحابہ میں ایک تقسیم (classification) ہے کبارِ صحابہ( بڑی عمر کے صحابی) اور صغارِ صحابہ (چھوٹی عمر کے صحابہ) کی. حضرات حسن و حسین رضی اللہ عنہما بھی صحابی ہیں لیکن بچے ہی تھے جب حضور کا انتقال ہو گیا‘ تو ان کا شمارصغارِ صحابہ میں ہوتا ہے‘ جبکہ حضرات ابوبکر‘عمر‘عثمان اور علی رضوان اللہ علیہم اجمعین کا شمار کبارِ صحابہ میں ہوتا ہے. اسی طرح صحابہ کی ایک تقسیم فقرائے صحابہ اور اغنیاِء صحابہ کی ہے. صحابہ میں سے بعض فقیر منش لوگ تھے. فقراء اس معنی میں کہ وہ بھی دنیا کما سکتے تھے ‘لیکن انہوں نے دنیا کمانے کا معاملہ بالکل ترک کر دیا. گویا اپنے آپ کو صد فیصد حضور کے نقش قدم پر چلایا. اس لیے کہ وحی کے آغاز کے بعد حضور نے کسب ِمعاش کا کوئی کام نہیں کیا. چالیس برس کی عمر میں وحی کا آغاز ہو گیا اور ایک مشن آپ کے حوالے کر دیا گیا: یٰۤاَیُّہَا الۡمُدَّثِّرُ ۙ﴿۱﴾قُمۡ فَاَنۡذِرۡ ۪ۙ﴿۲﴾وَ رَبَّکَ فَکَبِّرۡ ۪﴿ۙ۳﴾ (المدثر) ’’اے (محمد !) جو کپڑا لپیٹے پڑے ہو‘ اٹھو اور لوگوں کو خبردارکرو‘ اور اپنے پروردگار کی بڑائی کرو!‘‘ اس کے بعد آپ کے دن رات کا ایک ایک لمحہ اسی کام میں صرف ہوا. آپ کے نقش قدم پر بہت سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی یہی کیا کہ نہ کوئی مکان بنایااورنہ کوئی معاش کا ذریعہ اختیار کیا. اصحابِ صفہ کی تو گھر گرہستی کی زندگی ہی نہیں تھی. وہ تو مسجد کے اندر پڑے رہتے تھے ‘ کہیں سے کسی نے کچھ بھجوا دیا تو کھا لیا‘ ورنہ بھوکے ہی ہیں اور فاقے پر فاقے آ رہے ہیں. اصحابِ صفہ میں سے مشہور فقیر منش صحابی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں. اصحاب صفہ کے علاوہ بھی چند صحابہ کرامؓ کا شمار فقراءِ صحابہ میں ہوتاتھا ‘جن میں نمایاں حضرت ابوذر غفاری‘ حضرت سلمان فارسی‘ اور حضرت ابودرداء رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں. 
پھر صحابہ کی ایک اور تقسیم ہے ’’فقہائے صحابہ‘‘ کی‘ یعنی وہ صحابہ جنہیں دین کا فہم اور دین کا تفقہ گہرائی کے ساتھ حاصل تھا. ظاہر بات ہے کہ اس اعتبار سے بھی سب صحابہ برابر تو نہیں تھے‘ سب کی ذہنی سطح 
(level of consciousness) ایک طرح کی تو نہیں تھی. کسی کے اندر اللہ نے ذہانت زیادہ رکھی تھی اور کسی میں کم.تو اس اعتبار سے بھی سب برابر نہیں تھے. ؏ ’’خدا پنج انگشت یکساں نہ کرد!‘‘ تو وہ صحابہ جن کے اندر دین کا فہم بہت گہرا تھا ان کو فقہائے صحابہ کہتے ہیں اور ان میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو اونچا مقام حاصل ہے.حضرات ابوبکر صدیق‘ عمر فاروق‘ معاذ بن جبل اور عبداللہ بن عباس رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی فقہائے صحابہ میں شمار ہوتے ہیں. خواتین میں سے حضرت عائشہ صدیقہ اور حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہماکا شمار فقہائے صحابہ میں ہوتا ہے. 

خونِ مسلم کی حرمت

بہرحال زیر مطالعہ حدیث حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے . وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: لَا یَحِلُّ دَمُ امْرِیئٍ مُسْلِمٍ ’’حلال نہیں ہے کسی مسلمان کا خون‘‘ یعنی کسی مسلمان کا خون کر دینا‘ کسی مسلمان کی جان لے لینا‘ کسی مسلمان کو قتل کر دینا جائز نہیں ہے. آگے مسلمان کی تعریف بھی کر دی : یَشْھَدُ اَنْ لاَّ اِلٰــہَ اِلاَّ اللّٰہُ‘ وَاَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ’’جوگواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں‘ اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں‘‘. یہ مسلمان ہونے کی ناگزیر اور واحد شرط ہے. اس کے علاوہ اور کوئی شرط نہیں ہے. اگر ایک شخص توحید و رسالت کی گواہی دے رہا ہے اور نماز نہیں پڑھ رہا ہے تو بعض فقہاء کے مطابق ایسے شخص کو بڑی سخت سزا دی جائے گی‘ اس کو قید میں ڈالا جا ئے گا‘یہاں تک کہ توبہ کرے اور نماز پڑھے‘ لیکن اسے کافر نہیں قرار دیا جائے گا . بعض حضرات کے نزدیک اس کا قتل بھی جائز ہے‘لیکن یہ ایک شاذ رائے ہے. البتہ اسے سزا دی جائے گی ‘جیسے چور ی پر ہاتھ کاٹا جاتا ہے‘جبکہ قانونی طور پر وہ شخص دائرۂ اسلام سے نہیں نکلے گا. 

ہم نے حدیث جبریل ؑاور ارکانِ اسلام والی حدیث میں پڑھا ہے کہ اسلام میں کلمہ شہادت کے بعد نماز بھی ہے ‘ روزہ بھی ہے ‘ زکوٰۃ بھی ہے اور حج بھی ہے ‘لیکن یہ سب اضافی چیزیں ہیں. اس پر فقہاء کا اتفاق ہے ‘خاص طو رپر امام ابوحنیفہؒ کی طرف سے وضاحت موجود ہے کہ نماز کا تارک کافر نہیں ہے .البتہ نماز کا منکر کافر ہو جائے گا‘اس لیے کہ جو مانتا ہی نہیں کہ نماز فرض ہے گویا وہ قرآن کا انکار کر رہا ہے اور جو قرآن کا انکار کر رہا ہے تووہ اسلام کے دائرے سے نکل گیا.اسی طرح تارکِ صوم یعنی روزہ نہ رکھنے والا بھی کافر نہیں ہے ‘البتہ جو منکر صوم ہو گا وہ کافر ہو جائے گا. الغرض جو ضروریاتِ دین میں سے کسی کا بھی انکار کرے گا تو وہ کافر ہو جائے گا ‘لیکن یہ ایک علیحدہ بات ہے‘جبکہ یہاں ایک بنیادی شرط 
(base line) مقرر کر دی گئی ہے کہ جو گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں تو اس کی جان لینا‘ اس کا قتل کرنا ‘اس کا خون بہانا جائز نہیں ہے.
 

جوازِ قتل کی پہلی صورت:رجم

آگے جوازِ قتل کی صورتوں کا بیان ہے. آپ نے فرمایا: اِلاَّ بِاِحْدٰی ثَلَاثٍ ’’مگر تین میں سے ایک شکل (میں قتل کا جواز ہے)‘‘.(۱الثَّــیِّبُ الزَّانِیْ ’’شادی شدہ زانی‘‘. یعنی کوئی شادی شدہ شخص اگر زنا کا مرتکب ہوا تو اسے رجم کیا جائے گا اور رجم بھی قتل ہی کی ایک شکل ہے. الہامی شریعتوں میں رجم کی یہ سزا ہمیشہ سے رہی ہے اور تورات میں اس کا ذکر موجود ہے . قرآن مجید میں اگرچہ اس کا ذکر نہیں ہے‘ لیکن نبی اکرم نے اپنے دور میں رجم کیا اور رجم کرنے کے بعد آپ نے فرمایا: ’’اے اللہ! میں نے تیری سنت کو زندہ کر دیا.‘‘آپ کے بعد خلفائے راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی شادی شدہ زانیوں کو رجم کیا.

دراصل یہ دو سزائیں (۱)رجم اور (۲) قتل مرتد ‘اسلام میں ہیں‘ لیکن ان دونوں کا ذکر قرآن میں نہیں ہے. یہ دونوں سزائیں سابق الٰہی قانون ’’شریعت موسوی‘‘ میں موجود تھیں اور ان کا ذکرسابقہ آسمانی کتاب تورات میں بھی موجودہے. ظاہر بات ہے کہ موسیٰ علیہ السلام ‘ عیسیٰ علیہ السلام اور محمدایک ہی سلسلۃ الذہب (سنہری زنجیر) کی کڑیاں ہیں‘ اور بنیادی طور پر دین توایک ہی ہے. چنانچہ ہماری شریعت میں یہ جو دو قتل ہیں: (۱) قتل مرتد‘ یعنی کوئی مسلمان مرتدہو جائے تواس کو قتل کردیا جائے گا ‘اور (۲) رجم‘ یعنی جو زانی ہو اور ہو شادی شدہ‘ تو ان دونوں سزاؤں کی اصل شریعت موسوی ہے اور شریعت محمدی میں بھی اسے برقرار رکھا گیا ہے.

غیر شادی شدہ کے لیے زنا کی سزا سورۃ النور کی ابتدائی آیات میں مذکور ہے کہ زانی اور زانیہ دونوں کو سو سو کوڑے مارو‘ اور وہ کوڑے بھی برسرعام لگائے جائیں تاکہ مسلمانوں کی ایک جماعت انہیں دیکھے. اسی طریقے سے رجم بھی سرعام ہوتا ہے. 

اسلامی سزاؤں کی غرض وغایت:استیصالِ جرم

اسلام میں جو سزاؤں کا تصور ہے وہ درحقیقت جرم کے استیصال کے لیے ہے کہ معاشرے کے اندر دہشت بیٹھ جائے اور لوگوں کو عبرت ہو جائے کہ اگر یہ جرم ہم کریں گے تو ہمیں بھی یہ سزا ملے گی. یاد رکھیے کہ جرم اس کے بغیر کبھی ختم نہیں ہوتا. آج کی دنیا میں مہذب ترین اور تعلیم یافتہ ملک امریکہ سے بڑھ کر تو کوئی نہیں ‘لیکن وہاں کس قدر گھناؤنے جرائم ہوتے ہیں آپ اس کا اندازہ بھی نہیں کر سکتے. اس لیے کہ وہاں تصور یہ ہو گیا ہے کہ جو شخص جرم کرتا ہے وہ نفسیاتی مریض ہے. ظاہر بات ہے کہ مریض سے دشمنی تو نہیں ہمدردی ہونی چاہیے‘ اس کی اصلاح ہونی چاہیے اور اس کا علاج کیا جانا چاہیے. اسی لیے امریکہ کی جیلوں کو اصلاحی مراکز (corrective centers) کہا جاتا ہے . پھر زندگی کی جو بھی ضروریات ہیں وہ بھی انہیں بہم پہنچائی جا تی ہیں. اب اس کے نتیجے میں لامحالہ جرم کبھی ختم نہیں ہو گا.

عام طور پر وہاں زیادہ جرائم پیشہ افراد ایفرو امریکنز ہیں اور میں کہا کرتا ہوں کہ یہ ایفرو امریکنز آج کے امریکیوں سے بدلہ لے رہے ہیں کہ تم ہمارے آباء و اَجداد کو آہنی زنجیروں میں جکڑ کر افریقہ سے جانوروں کی طرح جہازوں میں بھر بھر کر لائے تھے اور پھر تم نے انہیں غلام بنایا تھا‘ ان پر ظلم و تعدی کے پہاڑ توڑے تھے‘ اور ان سے وہ کام لیے تھے جو ان کی بساط سے بڑھ کر تھے‘ تو آج ہم اس کا بدلہ لے رہے ہیں بہرحال وہاں ہوتا یہ ہے کہ ایک مجرم نے جرم کیا اور اس کے بعد اس کو’’سزا‘‘ یہ ملی کہ اسے 
corrective center میں ایک سال رہنا ہے. وہ مجرم ایک سال وہاں مزے سے رہا‘ واپس آیا‘ پھر جرم کیا اور دوبارہ وہاں پہنچ گیا.کیونکہ باہر رہ کر تو محنت مزدوری کرنا پڑتی ہے اور وہاں بلامشقت تمام سہولیات حاصل ہوتی ہیں. اس طرح کی سزا سے تو جرم کے خاتمے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا.

وہاں یہ چیز بھی دیکھنے میں آئی ہے کہ ان میں سے جو مسلمان ہو جاتے ہیں وہ پھر جرم کا راستہ ترک کر دیتے ہیں اس لیے مسلمان تارکین وطن میں سے بہت سے مبلغین بہت عرصے سے وہاں کی جیلوں میں جا کر تبلیغ کرتے ہیں. وہ قیدیوںکی دلجوئی کے لیے کچھ کھانے پینے کا سامان اور کچھ تحائف ساتھ لے جاتے ہیں اور انہیں اصلاح کی دعوت دیتے ہیں.اس تبلیغ سے ان میں سے جومسلمان ہو جاتا ہے وہ دوبارہ وہاں نہیں آتااور معاشرے میں جا کر ایک امن پسند شہری کی طرح اپنی باقی ماندہ زندگی گزارتا ہے.وہاں کی انتظامیہ کے علم میں جب یہ بات آئی تو اس کے بعد اب وہاں پر مسلمان مبلغین اچھی بھلی تنخواہ پر رکھے جاتے ہیں جو جیلوں میں موجود جرائم پیشہ افراد کی اصلاح کرتے ہیں اور اس کے بہت اچھے نتائج بھی نکلتے ہیں . میں نے بہت سے لوگوں کو دیکھا ہے جنہوں نے باقاعدہ اسی پیشے کو اختیار کیا ہے.

اسلامی سزاؤں کی بدولت سعودی عرب جرائم سے پاک

میں یہ بتا رہا تھا کہ جرم کا خاتمہ سخت سزا ہی سے ممکن ہے‘ یعنی ایک آدمی کو سزا دینے سے ہزار کے ہوش ٹھکانے آ جائیں اور ہر کوئی سوچے کہ اگر میں نے یہ کام کیا تو یہی میرا معاملہ ہو گا. سعودی عرب کے معاملے میں پوری دنیا میں مانا جاتا ہیکہ وہاں جرائم کی شرح بہت کم‘ بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے ‘حالانکہ آلِ سعود کے آنے سے پہلے وہاں بے تحاشا جرم تھے ‘ لوٹ مار اور غارت گری عروج پر تھی. ایک زمانے میں وہاں حاجیوں کو لوٹا اور قتل کیا جاتا تھا .مجھے یاد ہے جب میرے دادا حج کے لیے گئے تھے تو اُس وقت سمجھا جاتا تھا کہ جو جا رہا ہے اس کی زندگی کا بس خاتمہ ہے. اگر وہ واپس آ گیا تو ایک بونس ہے‘ یعنی ایک طرح سے اسے مزید مہلت عمر مل جائے گی. اُس دور میں عام طور پر صرف بڑی عمر کے لوگ حج پر جایا کرتے تھے. حاجیوں کو جان و مال کا کوئی تحفظ حاصل نہیں تھا. لیکن جب سے آل سعود کی حکومت قائم ہوئی ہے تو جرم ختم ہو گیا ہے.

آلِ سعود کی حکومت اصل میں ایک مشترک حکومت تھی. شیخ محمدبن عبدالوہاب کی اولاد جو آلِ شیخ کہلاتے ہیں اور آلِ سعود کے درمیان یہ معاہدہ ہوا کہ ہم مل جل کرجدوجہد کرتے ہیں اور ایک حکومت قائم کرتے ہیں. حکومت کا انتظام آلِ سعود کے پاس رہے گا جبکہ دینی معاملات آلِ شیخ کے پاس رہیں گے (اب بھی وہاں جو عالم دین اکثر خطبہ ٔحج دیتے ہیں ان کے نام کے ساتھ آلِ شیخ موجود ہے‘ یعنی وہ محمد بن عبدالوہاب کی اولاد میں سے ہیں) جب آلِ سعود کی حکومت قائم ہوئی تو آلِ شیخ نے وہاں شریعت کے مطابق اسلامی سزاؤں کو نافذ کیا .اس سے یہ ہوا کہ جب چوری پر کسی ایک کا ہاتھ کٹا تو چوری ختم ہو گئی. اگر کسی علاقے کے اندر کوئی قافلہ لوٹا گیا تو اس علاقے کے لوگوں کو جمع کر لیا گیا کہ تم سب کو سزا ملے گی ورنہ مجرموں کو حاضر کر دو اور مجرم حاضر کر دیے جاتے تھے . اسی طرح سے قتل کی سزا قتل ہے اور آپ کو معلوم ہے کہ ریاض کی جامع مسجد کے باہر میدان میں نمازِ جمعہ کے بعد ہجوم کے سامنے جلاد مجرم کی گردن اڑاتا ہے. سب کے سامنے گردن اڑانے کا مقصد یہ ہے کہ عبرت حاصل ہو اور انسان جرم سے دور 
بھاگے. تو وہاں پر درحقیقت جرم کا خاتمہ اسی سے ہوا تھا. اس کے علاوہ جرم کو ختم کرنے کا کوئی اور ذریعہ موجود نہیں ہے. اگر آپ سمجھیں کہ تعلیم اور تہذیب سے جرم ختم ہو جائے گا تو تعلیم کا معیار امریکی قوم کے معیارِ تعلیم سے اوپر نہیں جاسکتا اور وہ آج دنیا کی مہذب ترین قوم مانی جاتی ہے ‘لیکن وہاں بھی بدترین جرائم موجود ہیں. 

جوازِ قتل کی دوسری صورت :جان کے بدلے جان

زیر مطالعہ حدیث میں نبی اکرم نے فرمایا کہ کسی مسلمان کا خون حلال نہیں ہے مگر تین صورتوں میں. جوازِ قتل کی ایک صورت تو یہ ہے کہ شادی شدہ ہو کر زنا کرے. جبکہ دوسری صورت یہ ہے کہ اَلنَّفْسُ بِالنَّفْسِ ’’جان کے بدلے جان‘‘ یعنی جس نے قتل عمد کیا ہے تو اس کے جواب میں اسے قتل کیا جائے گا‘ اِلا یہ کہ مقتول کے ورثاء خون بہا لینے پر آمادہ ہو جائیں یا اسے معاف کر دیں. یہ اختیار مقتول کے ورثاء کو ہے کسی اور کو نہیں.ہمارے ہاں جو یہ قانون ہے کہ صدرِ مملکت کو معاف کرنے کا حق حاصل ہے یہ خلافِ اسلام اور سراسر غلط ہے دیکھئے ایک شخص پر قتل کا مقدمہ ہے‘سیشن کورٹ نے اسے پھانسی کی سزا دی‘ ہائی کورٹ میں اپیل ہوئی تو ہائی کورٹ نے بھی وہ سزا بحال رکھی ‘پھر سپریم کورٹ میں اپیل ہوئی تو اس نے بھی وہ سزا بحال رکھی‘ اب وہ صدر کے سامنے رحم کی اپیل (merci petition) دائر کرے گااور چاہے گا کہ صدر معاف کر دے یہ قطعاً غلط اور خلافِ اسلام ہے. کسی کے پاس قاتل کو معاف کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے. ہاں مقتول کے ورثاء کے پاس یہ حق موجود ہے اور اس میں بہت بڑی حکمت ہے. آپ سوچئے! جیساکہ ہمارے ہاں‘ خاص طو رپر دیہات میں‘ اب بھی ہوتا ہے کہ قتل کے بدلے قتل‘ پھر قتل‘ پھر قتل اور اس طرح قتل در قتل کا ایک سلسلہ چل نکلتا ہے جو کئی نسلوں تک چلتا ہے. اور اگر کبھی ایسا ہو جائے کہ ایک قاتل کو مقتول کے ورثاء معاف کر دیں تو یہ سلسلہ ختم ہوجائے گا کہ نہیں؟یعنی مقتول کے ورثاء نے قاتل کے اوپر اتنا بڑا کرم اور احسان کیا کہ اس کی جان بخشی کردی‘ لہٰذا اب اس کے جواب میں کوئی قتل نہیں ہو گااور اس طرح قتل کا یہ سلسلہ ختم ہو جائے گا . واضح رہے کہ یہ قتل عمد کی صورت میں ہے ‘جبکہ قتل خطا میں جان کے بدلے جان نہیں بلکہ دیت ہوتی ہے اور اگر اس ضمن میں کسی سرکاری یا حکومتی قانون کی خلاف ورزی کی گئی ہے تو اس کی سزا الگ ہو گی.چنانچہ سعودی عرب میں کسی کی گاڑی کے نیچے آ کر کوئی شخص مر جائے تو دیت تو دینی پڑتی ہے ‘چاہے ڈرائیور کا ارادہ قتل کا نہیں بھی تھا. اس کا نتیجہ یہ ہے کہ لوگ وہاں بہت محتاط ہو کر ڈرائیونگ کرتے ہیں. میں نے اپنی آنکھوں سے مدینہ منورہ میں دیکھا کہ ایک بڑی عمر کی عورت کو ایک گاڑی نے ذرا ٹچ کیا تو ڈرائیور فوراً اتر کر منت سماجت اور خوشامدیں کرنے لگ گیا کہ ’’اے میری ماں‘ مجھے معاف کر دے!‘‘ اس لیے کہ اسے معلوم ہے کہ اس پر مقدمہ قائم ہوسکتا ہے اور سخت سزا مل سکتی ہے‘ جبکہ یہاں کون پروا کرتا ہے‘ اس لیے کہ یہاں دیت کا معاملہ ہی نہیں ہے. وہاں مزید یہ بھی ہے کہ آپ لائسنس کے بغیر ڈرائیونگ کر رہے ہیں تو یہ حکومتی جرم ہو گیااور اس کا جرمانہ آپ کو الگ سے ادا کرنا ہو گا.

مجھے ایک واقعہ معلوم ہوا تھا کہ مدینہ یونیورسٹی کے ایک مصری پروفیسر کی کار کے ذریعے ایکسیڈنٹ ہوا اور ایک شخص مر گیا .جب مدینہ کے گورنر کے پاس یہ معاملہ گیا تو اس نے کہا: دیکھئے جناب! دیت تو اللہ کی طرف سے ہے ‘وہ ہم معاف کرنے والے کون ہیں؟ البتہ آپ کا جو دوسرا جرم تھا ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کا تو وہ ہم معاف کرسکتے ہیں‘ اس لیے کہ وہ ہمارے قانون کی خلاف ورزی ہے. 

جوازِ قتل کی تیسری صورت:قتل ِ مرتد

جوازِ قتل کی تیسری صورت یہ ہے : وَالتَّارِکُ لِدِیْنِہِ الْمُفَارِقُ لِلْجَمَاعَۃِ ’’جو اپنے دین کو چھوڑ دے اور مسلمانوں کی جماعت سے نکل جائے‘‘. اس سے مراد مرتد ہے اورمرتد کی سزا بھی قتل ہے ‘مگر اس دور میں بعض جدید دانشوروں اور اس وقت دنیا کے اندر رائج جدید فکر کے مطابق ہر انسان کو مذہب بدلنے کی اجازت ہونی چاہیے. اہل مغرب جو ہماری بہت سی چیزوں پر اعتراض کرتے ہیں‘ ان کا ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ اگر کوئی عیسائی مسلمان ہو جائے تو آپ اسے سینے سے لگاتے ہیں اور اگر کوئی مسلمان عیسائی ہو جائے تو آپ اس کے قتل کے درپے ہو جاتے ہیں. اسی طرح آزادی ٔخیال اور آزادی ٔاظہارِ رائے جدید تہذیب کے د ونمایاں مندرجات ہیں اور جن کی گھٹی میں اس جدید تہذیب کے جراثیم پڑ گئے ہیں تو اسلام کے یہ احکام ان کی سمجھ میں آنے والے نہیں ہیں‘ لیکن بہرحال اسلام کا قانون یہی ہے.

میں عرض کر رہا تھا کہ جدید تہذیب سے متاثر ہو کر ہمارے جدید دانشوروں نے بھی یہ کہنا شروع کیا ہے کہ محض مرتد واجب القتل نہیں ہے ‘ البتہ مرتد ہونے کے بعد اگر وہ اسلامی ریاست کے خلاف کوئی سازش بھی کر رہا ہو تو واجب القتل ہے. انہوں نے یہ رائے جدید اثرات کے دباؤ کے تحت قائم کی ہے ‘ورنہ سیدھی سیدھی بات یہ ہے کہ مرتد کو قتل کیا جائے گا. اس کا اصل حکم بھی تورات میں ہے. جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے چالیس دن کے لیے کوہِ طو رپر بلایا اور تورات عطا کی توپیچھے سامری نے ایک بچھڑا بنا دیا وہ بچھڑا بنی اسرائیل کے پاس موجود سونا‘ چاندی اور دوسرے زیورات کو پگھلا کر بنایاگیا تھا اور اس کی ساخت ایسی تھی کہ جب اس میں سے ہوا گزرتی تھی تو اس میں سے بچھڑے جیسی آواز نکلتی تھی .سامری نے کہا کہ یہ ہے تمہارا خدا! موسیٰ تو خواہ مخواہ بھٹک کر غلط راستے پر پڑ گیا ہے. خدا تو یہاں موجود ہے اور وہ کوہِ طور پر خدا سے ملنے کے لیے گیا ہے. تو بنی اسرائیل میں سے بہت سے لوگ بچھڑے کی پرستش کے اندر مبتلا ہوگئے .اب یہ کھلا کفر اور شرکِ جلی یعنی بالکل واضح شرک تھا.

ایک شرک تو وہ ہوتا ہے جو چھپا ہوا ہو ‘جیسے ریاکاری شرکِ خفی ہے.مثلاً اگر آپ نماز پڑھ رہے ہیں اور آپ دیکھیں کہ کوئی شخص آپ کو دیکھ رہا ہے تو آپ اپنی نماز اور سجدوں کو زیادہ طویل کر دیں تو یہ بھی شرک ہے. فرض کریں کہ پہلے آپ کا سجدہ تین سیکنڈ کاہو رہا تھا اور اب پانچ سیکنڈ کا ہو گیا تو یہ دو اضافی سیکنڈ آپ نے صرف اُس شخص کو دکھانے کے لیے لگائے ہیں‘ تو یہ بھی شر ک ہے‘لیکن یہ شرک خفی ہے. اس پر کوئی حکم اور فتویٰ نہیں لگایا جا سکتا اوراس پر کوئی گرفت نہیں ہو سکتی‘ اس لیے کہ یہ تو آپ کا اندرونی معاملہ ہے. ہمیں اپنا جائزہ لیتے رہنا چاہیے کہ یہ ریاکاری کہیں ہمارے اندر پیدا نہ 
ہوجائے. اس کے بارے میں ‘میں نے آپ کو وہ حدیث بھی سنائی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: مَنْ صَلّٰی یُرَائِیْ فَقَدْ اَشْرَکَ‘ وَمَنْ صَامَ یُرَائِیْ فَقَدْ اَشْرَکَ‘وَمَنْ تَصَدَّقَ یُرَائِیْ فَقَدْ اَشْرَکَ (۱’’جس نے دکھاوے کے لیے نماز پڑھی تو اُس نے شرک کیا‘ جس نے دکھاوے کے لیے روزہ رکھا تواُس نے شرک کیا‘اور جس نے دکھاوے کے لیے صدقہ وخیرات کیا تو اُس نے شرک کیا ‘‘.تو یہ شرکِ خفی ہے‘ لیکن ظاہر بات ہے کہ بچھڑے کی پرستش شرک جلی تھی اور وہ گویا مرتد ہو گئے. لہٰذا جب حضرت موسیٰ علیہ السلام واپس آئے اور انہوں نے سارا معاملہ دیکھا تو اللہ کا یہ حکم نافذ کیا کہ ہر قبیلے کے وہ لوگ جنہوں نے یہ شرک کیا ہے انہیں اسی قبیلے کے وہ لوگ اپنے ہاتھوں سے ذبح کریں جو شرک سے محفوظ رہے .اور تورات بتاتی ہے کہ اس جرم میں ستر ہزار لوگ قتل ہوئے تھے. یہ لوگ جب مصر سے نکلے تھے تو چھ لاکھ تھے ‘ان میں سے ستر ہزار نے وہ جرم کیا اور وہ مرتد ہو کر قتل ہوئے. لہٰذا تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ مرتد کی سزا قتل ہے.

الغرض تین صورتوں کے سوا کسی صورت میں بھی کسی مسلمان کی جان نہیں لی جا سکتی اور وہ تین صورتیں یہ ہیں: (۱) شادی شدہ زانی کو رجم کیا جائے گا‘ (۲) کسی نے قتل کیا ہے جان بوجھ کر تو جواباً قصاص میں اُسے قتل کیا جائے گا ‘ اِلا یہ کہ مقتول کے ورثاء اسے معاف کر دیں‘اور (۳) اگر کسی مسلمان نے اپنادین ترک کر دیا‘ بدل دیا تو اسے بھی قتل کر دیا جائے گا‘ اِلا یہ کہ وہ اس ملک کو چھوڑ کر کہیں چلا جائے. 

اقول قولی ھذا واستغفر اللّٰہ لی ولکم ولسائر المُسلمین والمُسلماتoo 
(۱) مسند احمد‘ مسند الشامیین‘ باب حدیث شداد بن اوسص‘ح ۱۶۵۱۷.