حدیث 15- اسلامی آدابِ معاشرت

۲۵/جنوری۲۰۰۸ء کا خطبہ جمعہ 
خطبہ ٔمسنونہ کے بعد

اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ 

وَ عِبَادُ الرَّحۡمٰنِ الَّذِیۡنَ یَمۡشُوۡنَ عَلَی الۡاَرۡضِ ہَوۡنًا وَّ اِذَا خَاطَبَہُمُ الۡجٰہِلُوۡنَ قَالُوۡا سَلٰمًا ﴿۶۳﴾وَ الَّذِیۡنَ یَبِیۡتُوۡنَ لِرَبِّہِمۡ سُجَّدًا وَّ قِیَامًا ﴿۶۴﴾وَ الَّذِیۡنَ یَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا اصۡرِفۡ عَنَّا عَذَابَ جَہَنَّمَ ٭ۖ اِنَّ عَذَابَہَا کَانَ غَرَامًا ﴿٭ۖ۶۵﴾اِنَّہَا سَآءَتۡ مُسۡتَقَرًّا وَّ مُقَامًا ﴿۶۶﴾وَ الَّذِیۡنَ اِذَاۤ اَنۡفَقُوۡا لَمۡ یُسۡرِفُوۡا وَ لَمۡ یَقۡتُرُوۡا وَ کَانَ بَیۡنَ ذٰلِکَ قَوَامًا ﴿۶۷﴾ 
(الفرقان) 
عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ص اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ  قَالَ : 

مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَلْیَقُلْ خَیْرًا اَوْ لِیَصْمُتْ ، وَمَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَلْیُکْرِمْ جَارَہٗ ، وَمَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَلْیُکْرِمْ ضَیْفَہٗ 
(۱

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا

’’جو شخص اللہ تعالیٰ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اچھی بات کہے یا پھر خاموش رہے. اور جو شخص اللہ تعالیٰ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے ہمسائے کی عزت کرے. اور جو شخص اللہ تعالیٰ کو اوریومِ آخرت کو مانتا ہے وہ اپنے مہمان کی عزت کرے.‘‘ 
(۱) صحیح البخاری‘کتاب الرقاق‘ باب حفظ اللسان…وصحیح مسلم‘کتاب الایمان‘ باب الحث علی اکرام الجار والضیف …

معزز سامعین کرام! 
امام یحییٰ بن شرف الدین النووی رحمہ اللہ علیہ کے شہرۂ آفاق مجموعہ ٔ احادیث ’’اربعین ‘‘ کے سلسلہ وار مطالعہ کے ضمن میں آج ہمارے زیر مطالعہ حدیث نمبر چودہ ہے.اس حدیث اور آگے آنے والی چند احادیث کو ہم ایک مجموعی نام ’’اسلامی آدابِ معاشرت‘‘ دے سکتے ہیں. ان میں حسن ِمعاشرت‘ حسن ِآداب‘ شرافت و مروّت‘ تحمل وبردباری‘ تہذیب وشائستگی اوراللہ کی نگاہ میں ایک عمدہ شخصیت کے خدوخال کا بیان ہے. پھر اس شخصیت کے اوصاف ‘اس کی صفات اور علامات کا بھی تذکرہ ہے. 

عبادالرحمن(اللہ کے محبوب بندوں) کے اوصاف

زیر درس حدیث میں بیان شدہ مضمون قرآن مجید میں بھی آیاہے. سورۃ الفرقان کے آخری رکوع میں اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص بندوں کے حوالے سے کچھ اوصاف بیان کیے ہیں اور انہیں ’’عِبَادُ الرَّحْمٰنِ‘‘ (رحمن کے بندے) کا نام دیا ہے. ویسے تو تمام مسلمان بلکہ تمام انسان اللہ کے بندے ہیں‘ لیکن یہاں پر اللہ کے پسندیدہ اور محبوب بندے مراد ہیں جن سے اللہ محبت کرتا ہے ان کے چند اوصاف کا تذکرہ بایں طور کیاگیا ہے: 

(۱) تواضع و انکساری : وَ عِبَادُ الرَّحۡمٰنِ الَّذِیۡنَ یَمۡشُوۡنَ عَلَی الۡاَرۡضِ ہَوۡنًا ’’رحمن کے (پسندیدہ)بندے وہ ہیں جو زمین میں چلتے ہیں آہستگی کے ساتھ‘‘. یعنی اُن کی چال سے تواضع وانکساری نمایاں ہوتی ہے.کسی انسان کی چال بتا دیتی ہے کہ اس کی ذہنی کیفیت کیا ہے. جیسے انگریزی میں کہتے ہیں: Face is the index of mind یعنی چہرے کا اُتار چڑھاؤ ‘ اس کے رنگ کی تبدیلی اور پیشانی پر آنے والے قطرے بتا دیتے ہیں کہ انسان کی اندرونی کیفیت اس وقت کیا ہے. اسی طرح چال سے انسانی ذہن کی کیفیت عیاں ہو جاتی ہے کہ آیا اس میں غرور وتکبر کے جذبات ہیں یا یہ انکساری اور خاکساری کے جذبات سے لبریز ہے.

چال میں تواضع کا ذکرقرآن مجید میں کئی مرتبہ آیا ہے . سورۂ بنی اسرائیل میں 
ارشاد باری تعالیٰ ہے : وَ لَا تَمۡشِ فِی الۡاَرۡضِ مَرَحًا ۚ اِنَّکَ لَنۡ تَخۡرِقَ الۡاَرۡضَ وَ لَنۡ تَبۡلُغَ الۡجِبَالَ طُوۡلًا ﴿۳۷﴾ ’’اور تم زمین پر اکڑکر(یعنی زور زو ر سے پیر مارکر) مت چلو‘ اس لیے کہ تم زمین کو ہرگز پھاڑ نہیں سکتے اور (کتنی ہی تم گردن اکڑا لو) پہاڑوں کی اونچائی تک نہیں پہنچ سکتے‘‘. اسی طرح سورۂ لقمان میں ارشاد ہے: وَ لَا تَمۡشِ فِی الۡاَرۡضِ مَرَحًا ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ کُلَّ مُخۡتَالٍ فَخُوۡرٍ ﴿ۚ۱۸﴾ ’’اور زمین میں اکڑ کر نہ چلو. یقینا اللہ کسی تکبر اور فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا.‘‘

(۲) ہٹ دھرمی کے جواب میں بہترین طرزِ عمل : عباد الرحمن کی دوسری صفت یہ بیان فرمائی : وَّ اِذَا خَاطَبَہُمُ الۡجٰہِلُوۡنَ قَالُوۡا سَلٰمًا ﴿۶۳﴾ ’’اور جب ان سے مخاطب ہوتے ہیں ’جاہل‘ تو وہ سلامتی والی بات کرتے ہیں‘‘. اردو میں جاہل اَن پڑھ کو کہتے ہیں لیکن عربی میں جاہل کے معنی ہیں: جذباتی اور مشتعل مزاج انسان. یعنی ایک انسان وہ ہے جو اپنی عقل سے رہنمائی حاصل کرتا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں ایک وہ ہے جو جذبات کی رو میں بہہ جاتا ہے‘ تو اس دوسرے مزاج کے حامل شخص کو عربی میں ’’جاہل‘‘ کہتے ہیں. آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ جب کوئی جذباتی اور اکھڑ مزاج شخص اللہ کے بندوں سے الجھنا چاہے یا بحث و تمحیص کرے تو یہ انتہائی ٹھنڈے دماغ سے اُس کا جواب دیتے ہیں.

نوٹ کیجیے کہ جو اللہ کا بندہ ہوگا وہ یقینا اللہ کا داعی بھی ہو گا‘ لیکن اس کی دعوت کا اسلوب بڑا حکیمانہ ہوگا.دعوت کا ایک انداز تو یہ ہے کہ آپ جا کر کسی کے سر پر سوار ہو جائیں اور اس سے بحث و تمحیص میں اُلجھتے رہیں. وہ بات کرنے کے موڈ میں نہیں ہے تب بھی آپ زبردستی اس سے گفتگو کریں. یہ انداز صحیح نہیں ہے ‘اس لیے کہ اس طریقے سے وہ شخص آپ سے اور آپ کی دعوت سے متنفر ہوجائے گا.حکیمانہ انداز تو یہ ہے کہ آپ موقع محل دیکھیں‘ اپنے مخاطب کی ذہنی کیفیت کو جانچیں. اگر آپ دیکھیں کہ اس وقت یہ سمجھنے کے موڈ میں نہیں ہے تو خواہ مخواہ اس کے ساتھ الجھیں نہیں‘ بلکہ اگر وہ الجھنا بھی چاہے تب بھی آپ اچھے طریقے سے اُس سے الگ ہوجائیں.آپ اُس سے کہیں کہ اس وقت آپ کی بات میری سمجھ میں نہیں آ رہی اور میری بات آپ کی سمجھ میں نہیں 
آرہی‘ لہٰذا پھر کسی وقت گفتگو کریں گے ‘ان شاء اللہ. یعنی سلام کہہ کر اور اچھے طریقے سے رخصت ہو جائیں. لٹھ مار کر رخصت نہ ہوں کہ پھر دوبارہ گفتگو کا موقع ہی نہ رہے‘ بلکہ رخصتی اور علیحدگی بھی سنجیدگی اور بہترین طریقے سے ہونی چاہیے . 

(۳) قیام اللیل کا اہتمام : 
عباد الرحمن کی تیسری صفت یہ ہے : وَ الَّذِیۡنَ یَبِیۡتُوۡنَ لِرَبِّہِمۡ سُجَّدًا وَّ قِیَامًا ﴿۶۴﴾ ’’وہ لوگ راتیں بسر کرتے ہیں اپنے رب کے لیے سجدہ کرتے ہوئے اورقیام کرتے ہوئے‘‘ .یعنی وہ قیام اللیل اورتہجد کا اہتمام کرتے ہیںیہاں رات کی نماز کا ذکر آیا ہے‘ فرض نمازوں کا نہیں. اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ اصل میں ایک پختہ اور تعمیر شدہ شخصیت کے نقوش اورخدوخال کا بیان ہے‘ جس میں فرض نمازوں کی کوتاہی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا‘بلکہ وہ تو نوافل کا بھی تسلسل کے ساتھ اہتمام کرتے ہیں.

دیکھئے ایک ہے عام مسلمانوں کی سطح.اس کے اعتبار سے تو اصل اہمیت نماز پنجگانہ کی ہے‘ اور یہ بھی یاد رکھیے کہ نفل کسی طور پر بھی فرض نمازوں کا مداوا اور تلافی نہیں کر سکتے. آپ ساری رات جاگتے رہیں‘ لیکن فرض نماز نہ پڑھیں اورفجر کے وقت سو جائیں توآپ کا ساری رات کاجاگنا زیرو ہو جائے گا. اس ضمن میں رسول اللہ کا یہ فرمان بھی ذہن نشین رہے کہ ایک موقع پرآپ نے فرمایا: 

مَنْ صَلَّی الْعِشَائَ وَالْفَجْرَ فِیْ جَمَاعَۃٍ کَانَ کَقِیَامِ لَیْلَۃٍ 
(۱
’’جس شخص نے عشاء اور فجر کی نماز باجماعت پڑھی اُس نے گویا پوری رات کاقیام کیا.‘‘

تو فرض اور نفل کے اندر یہ فرق ضرور پیش نظر رہنا چاہیے‘ جبکہ سورۃ الفرقان کی مذکورہ بالا آیت میں فرض کا ذکر اس لیے نہیں ہے کہ یہاں رحمن کے ان برگزیدہ بندوںکا تذکرہ ہے جو فرض میں کبھی کوتاہی نہیں کرتے.ایسی ہی شخصیت کے بارے میں ہم پڑھ چکے ہیں: 
مِنْ حُسْنِ اِسْلَامِ الْمَرْئِ تَرْکُہٗ مَالَا یَعْنِیْہِ’’کسی انسان کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ اس چیز کو چھوڑ دے جس کا کوئی فائدہ نہیں‘‘.اسی طرح حدیث جبریل میں ہم (۱) سنن ابی داوٗد‘ کتاب الصلاۃ‘ باب فی فضل صلاۃ الجماعۃ. نے پڑھا تھا کہ پہلا درجہ اسلام ہے‘ پھر ایمان ہے اور پھر بلندترین درجہ احسان ہے. یعنی ایسا شخص جس نے اپنے دین کو اتنا خوبصورت بنا دیا کہ اُس کا اسلام اب دلربا اور دل میں کھب جانے والا ہے تووہ بلند ترین درجے پر فائز ہے. درحقیقت زیر مطالعہ قرآنی آیات اور زیردرس حدیث کا موضوع ایسا ہی شخص ہے. 

(۴) نیکیوں پر کوئی غرا نہیں : 
اللہ کے محبوب اور چنیدہ بندوں کا ایک وصف یہ ہے: وَ الَّذِیۡنَ یَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا اصۡرِفۡ عَنَّا عَذَابَ جَہَنَّمَ ٭ۖ اِنَّ عَذَابَہَا کَانَ غَرَامًا ﴿٭ۖ۶۵﴾ ’’اور وہ دعا مانگتے رہتے ہیں: اے ہمارے رب! ہم سے جہنم کے عذاب کو پھیر دے ‘ کہ اس کا عذاب چمٹ جانے والی چیز ہے‘‘. اِنَّہَا سَآءَتۡ مُسۡتَقَرًّا وَّ مُقَامًا ﴿۶۶﴾ ’’یقینا وہ بہت بری جگہ ہے مستقل جائے قرار کے اعتبار سے بھی اور عارضی قیام گاہ کے اعتبار سے بھی‘‘.یعنی وہ یہ نہیں سمجھتے کہ ہم تو دین پر چل رہے ہیں‘ دین کے اعمال سرانجام دے رہے ہیں تو ہمیں جنت ملنی ہی ملنی ہے اور جہنم سے ہمارا چھٹکارا تو لازماً ہو جائے گا نہیں‘ اللہ کے بندوں کایہ رویہ ہرگز نہیں ہوتا. اُنہیں اپنی نیکیوں پر کوئی غرور نہیں ہوتا‘ بلکہ وہ تو ہر وقت عذابِ الٰہی سے اور اپنے اعمال کے ضائع ہونے سے ڈرتے رہتے ہیں . وہ اپنی عبادت ‘ خدمت دین اور اللہ کے دین کے لیے کیے گئے کاموں کو حقیر سمجھتے ہیں. وہ سمجھتے ہیں کہ ؎

جان دی‘ دی ہوئی اسی کی تھی
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا!

یعنی اگر اللہ کی راہ میں گردن کٹوا بھی دی تو کیا کارنامہ سرانجام دیا! یہ جان تو اللہ نے دی تھی اور اب ہم نے اس کو واپس سونپ دی‘ اس کے علاوہ مزید تواُسے کچھ نہیں دیا‘جبکہ شرافت و مروّت کا تقاضا تو یہ ہے کہ آپ کو کوئی ہدیہ پیش کرے تو آپ اس سے بہترہدیہ دینے کی کوشش کریں ‘جیسے فرمایا گیا ہے کہ آپ کو کوئی سلام کرے تو آپ اُس سے بہتر اس کو جواب دیں. اس نے السلام علیکم کہا ہے تو آپ جواب میں وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ کہیں اور اللہ مزید توفیق دے تو وبرکاتہ کا بھی اضافہ کیجیے. (۵) میانہ روی کی روش پر گامزن : اللہ کے محبوب بندوں کی ایک صفت یہ ہے : وَ الَّذِیۡنَ اِذَاۤ اَنۡفَقُوۡا لَمۡ یُسۡرِفُوۡا وَ لَمۡ یَقۡتُرُوۡا وَ کَانَ بَیۡنَ ذٰلِکَ قَوَامًا ﴿۶۷﴾ ’’اور وہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ اسراف سے کام لیتے ہیں (خواہ ان کے پاس زیادہ مال ہو) اور نہ ہی بخل سے کام لیتے ہیں ‘ بلکہ اُن کا خرچ ان (دونوں انتہاؤں) کے درمیان اعتدال پر قائم رہتا ہے‘‘.آدمی کو اپنی چادر کے مطابق ہی پاؤں پھیلانے چاہئیں. لیکن کبھی انسان نے کوئی ضروری خرچ کرنا ہوتا ہے اور اس طرح کی صورتِ حال میں اگر اپنے پاس کچھ نہیں ہے تو قرض لے کر خرچ کرنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں. قرض لینا فی نفسہٖ کوئی بری بات نہیں ہے‘ حضور اکرم بھی قرض لے لیا کرتے تھے ‘لیکن قرض لوٹانے کی پختہ نیت بہرحال ضروری ہے.

اس حوالے سے ہمارے ہاں ایک بہت بڑی بیماری ہمارے مذہبی طبقے میں پیدا ہو گئی ہے کہ وہ قرض کے نام پر بھیک مانگتے ہیں. جب معلوم ہے کہ ہم یہ قرض واپس کر نہیں سکتے اور ہمارے وسائل ہیں ہی نہیں تو یہ گویا بھیک کی ایک صورت ہے . آدمی کو اپنے وسائل کے حساب سے قرض لینا چاہیے ‘جس کے بارے میں اسے اندازہ ہو کہ میں یہ قرض لوٹا دوں گا. ورنہ یہی ہو گا کہ قرض دینے والے صاحب ایک دو مرتبہ یاد دلائیں گے‘ پھر خاموش ہو جائیں گے. سوچیں گے کہ یہ ایک دینی شخصیت ہے لہٰذا معاف کردو. یوں قرض کے نام پر بھیک مانگنا بہت غلط ہے‘ البتہ قرض لیا جا سکتا ہے قرضِ حسنہ دینے کی ترغیب بھی ہے لیکن اس میں ادائیگی کی پختہ نیت ہونی چاہیے اور اسی درجے میں قرض لیا جانا چاہیے جسے آپ کم از کم ظاہری حالات کے مطابق واپس کرنے کی طاقت رکھتے ہوں. 

اچھی بات کہویا پھر خاموش رہو!

اب ہم زیر مطالعہ حدیث کی طرف آتے ہیں.یہ حدیث متفق علیہ ہے ‘یعنی صحیح بخاری اور صحیح مسلم دونوں میں موجود ہے اور اس کے راوی حضرت ابوہریرہhہیں. اس میں حضوراکرم نے پختہ (mature) شخصیت کے اوصاف بیان فرمائے ہیں جس کے اندر حسن ادب بھی پیدا ہو چکا ہے اور تہذیب و شائستگی بھی . آپ نے فرمایا: مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ فَلْیَقُلْ خَیْرًا اَوْ لِیَصْمُتْ ’’جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو اسے یا تو کوئی اچھی بات زبان سے نکالنی چاہیے یا خاموش رہنا چاہیے‘‘.کہیں بے تکی باتیں ہو رہی ہیں ‘ خواہ مخوا کا استہزاء اور مذاق ہو رہا ہے ‘ قہقہے لگ رہے ہیں‘ گپ بازی ہو رہی ہے‘ طعن و تشنیع ہو رہی ہے‘ جھوٹ بولا جا رہا ہے‘ تو ایسی چیزیں اس سطح کی شخصیت کو زیب نہیں دیتیں. اُسے چاہیے کہ یا تو کوئی بھلائی اور خیرخواہی کی بات کرے یا پھر خاموشی اختیار کرے ‘اس لیے کہ خاموشی کے اندر خود ایک بہت بڑا تکلم ہے‘ یعنی خاموشی بولتی ہے. بسا اوقات انسان تکلم کی نسبت خاموشی کے ذریعے اپنے جذبات و احساسات کا زیادہ اظہار کرتا ہے اوراس کی خاموشی ہی اس کی ترجمان بن جاتی ہے. لہٰذا بولو تو اچھی بات کہو‘ نصیحت وتذکیرکی بات کرو‘ لوگوں کی خیر خواہی کی بات کرو‘ لوگوں کو اچھائی کی دعوت دو‘ اللہ کا ذکر کرو‘ورنہ خاموش رہو!

یاد رکھیے کہ یہ جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو بولنے کی صلاحیت دی ہے یہ انسان کی چوٹی کی صلاحیت ہے. آپ کو معلوم ہے کہ بہت سی ایسی صلاحیتیں ہیں جن میں حیوان ہم سے آگے ہیں. سماعت اور بصارت فی نفسہٖ بہت بڑی صلاحیتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں دی ہیں‘ لیکن بہت سے حیوانات ایسے ہیں جن کی سماعت یا بصارت ہم سے بہت بڑھ کر ہے. خاص طور پر گھوڑا سماعت کے معاملے میں بہت حساس ہے. گھوڑا سوار کو لے کر جا رہا ہے ‘ اچانک گھوڑے کی کنوتیاں کھڑی ہوجاتی ہیں. گویا کوئی انٹینا ہے جو خطرے کی آہٹ سن کر کھڑا ہوگیا ہے. سوار گھوڑے کے کانوں کو دیکھ کر اندازہ کر لے گا کہ آس پاس کوئی خطرہ موجودہے. اسی طرح بصارت میں بھی بہت سے حیوانات ہم سے آگے ہیں.بہت سے شکاری پرندے (مثلاً عقاب) بہت بلندی سے زمین پر پڑی ہوئی چھوٹی سی چیز کو دیکھ لیتے ہیں اور بہت سے جانور ایسے ہیں جو بغیر روشنی کے دیکھتے ہیں‘ جبکہ ہم تو روشنی کے محتاج ہیں کہ روشنی ہو گی تو دیکھیں گے ورنہ نہیں دیکھ سکتے. چنانچہ سمع و بصر بھی اللہ ربّ العالمین کی طرف سے دی ہوئی بڑی چوٹی کی صلاحیتیں ہیںارشادِ باری 
تعالیٰ ہے: اِنَّ السَّمۡعَ وَ الۡبَصَرَ وَ الۡفُؤَادَ کُلُّ اُولٰٓئِکَ کَانَ عَنۡہُ مَسۡـُٔوۡلًا ﴿۳۶﴾ ’’یقینا سماعت‘بصارت اور عقل کے بارے میں ضرور باز پرس ہوگی‘‘لیکن سماعت وبصارت کی صلاحیتیں حیوانات میں بھی ہیں اور حیوانات میں سے بعض میں ہم سے زیادہ ہیں‘ لیکن انسان میں ’’نطق‘‘ کی جو صلاحیت ہے وہ کسی اور حیوان میں نہیں ہے.اس لیے یہ انسان کی چوٹی کی صلاحیت شمار ہوتی ہے اور انسان کو ’’حیوانِ ناطق‘‘ یعنی بولنے والا اور اظہار مافی الضمیرکرنے والا حیوان کہا جاتا ہے.پھراظہار مافی الضمیرکے دو پہلو ہیں: (۱) دوسرے کے کلام کو سمجھنا‘ اور (۲) اپنے مافی الضمیر کو ظاہر کرنا. یہ دونوں پہلو speech کے ہیں اور ایک ہی پراسس کے دو حصے ہیں.

اس کو ایک مثال سے یوں سمجھئے کہ آپ کہیں بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے پاؤں یا جسم کے کسی حصے میں چیونٹی نے کاٹا تو ایک دم آپ کے جسم میں جنبش ہوگی اور آپ کا ہاتھ فوراً متاثرہ حصے تک پہنچے گا. اس میں آپ کے ارادے کا کوئی دخل نہیں ہے. یہ اضطراری حرکت 
(reflex action) ہے کہ وہاں سے ایک سنسنی (sensation) گزر کر دماغ میں پہنچی ‘ دماغ میں اسے تعبیر کیا گیا کہ کوئی موذی شے اس وقت آپ کے جسم کے فلاں حصے سے چمٹی ہوئی ہے‘پھر وہاں سے حکم (order) آیا تو جسم کے اُس حصے کے عضلات (muscles) نے حرکت کی‘ ورنہ عضلات خودبخود حرکت نہیں کر سکتے. اس عمل میں ہمارا سنٹرل نروس سسٹم درمیان میں آتا ہے کہ پہلے اس کا احساس سے متعلق (sensory) حصہ ادراک کرتا ہے اور پھر عمل حرکت (motor function) وقوع پذیر ہوتا ہے. اسی طرح اظہار ما فی الضمیر کے دوپہلوؤں کا آپس میں گہرا تعلق ہے.آپ نے ایک کلام سنا‘ اس کو تعبیر (interpret) کیا‘ پھر اپنے دل میں موجود احساس کو آپ نے بیان کیا. یہ دونوں چیزیں سپیچ سنٹر سے متعلق ہیں اور اعلیٰ ترین سطح پر دماغ (brain) کے اندر سب سے بڑا ایریا بھی سپیچ سنٹر ہی کا ہوتاہے. 

زبان کے استعمال میں احتیاط لازم

’’نطق‘‘انسان کی سب سے اہم صلاحیت ہے‘ اس لیے زبان کے صحیح استعمال پر قرآن وحدیث میں بہت زور دیا گیا ہے . سورۃ الاحزاب میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ قُوۡلُوۡا قَوۡلًا سَدِیۡدًا ﴿ۙ۷۰﴾ ’’اے ایمان والو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور بات وہ کرو جو بالکل سیدھی اور درست ہو‘‘.جسے ہم اپنے محاورے میں یوں کہتے ہیں: پہلے تولو‘ پھر بولو !یعنی ایک بات تمہاری زبان پر آ گئی ہے اور تمہاری طبیعت اس کے بولنے پر آمادہ ہے‘لیکن بولنے سے پہلے تم اچھی طرح تول لوکہ تمہیں یہ بات کہنے کا حق حاصل بھی ہے؟ اور جب قیامت کے دن تم اللہ کے حضور کھڑے ہو گے تو کیا تم اس کو حق بجانب ثابت (justify) کر سکو گے کہ اے اللہ! مجھے یہ بات کہنے کا حق تھا. یہ سارا حساب کرنے کے بعد زبان کھولو. یہی مفہوم ہے : ’’قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًا‘‘ کا.

اس سے اگلی آیت میں اس کا نتیجہ بھی بیان کر دیا گیا ہے کہ اگر تم دو شرطیں پوری کردو ‘یعنی (۱) دل میں تقویٰ ہو‘ اور (۲) زبان پر کنٹرول ہو تواس کا بدلہ یہ ہے کہ: 
یُّصۡلِحۡ لَکُمۡ اَعۡمَالَکُمۡ وَ یَغۡفِرۡ لَکُمۡ ذُنُوۡبَکُمۡ ؕ ’’اللہ تمہارے سارے اعمال درست کر دے گا اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا‘‘. اس لیے کہ زبان کے اوپر کنٹرول بہت مشکل ہے‘ بولنے میں کوئی طاقت تولگتی نہیں ہے. ذرا سا اپنے احساسات کو ڈھیلا چھوڑ دیا اور اب جو منہ میں آ گیا بک دیا. وہ جو کہاجاتا ہے کہ ؏ ’’بے حیا باش و ہرچہ خواہی کن! ‘‘کہ ایک دفعہ حیا کا پردہ اُٹھ جائے توپھر آدمی جو چاہے کرتا پھرے.
اس حوالے سے نبی اکرم کا ایک اور فرمان ملاحظہ ہویہ ایک طویل حدیث کا آخری حصہ ہے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نبی اکرم کے ساتھ سفر میں تھا تو میں نے آپ سے چند چیزوں کے متعلق سوال کیا . آخر میں رسول اللہ نے مجھ سے فرمایا: 
اَلَا اُخْبِرُکَ بِمَلَاکِ ذٰلِکَ کُلِّہٖ ’’کیا میں تمہیں ان سب کی جڑ کے بارے میں نہ بتاؤں؟‘‘ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں یارسول اللہ ! آپ نے اپنی زبان مبارک پکڑی اور فرمایا: کُفَّ عَلَیْکَ ھٰذَا ’’اسے اپنے اوپر روک کر رکھو‘‘. میں نے عرض کیا: یارسول اللہ ! کیا گفتگو کے بارے میں بھی ہمارا مواخذہ ہو گا؟ آپ نے فرمایا: 

ثَـکِلَتْکَ اُمُّکَ یَا مُعَاذُ! وَھَلْ یَکُبُّ النَّاسُ فِی النَّارِ عَلٰی وُجُوْھِھِمْ اَوْ عَلٰی مَنَاخِرِھِمْ اِلاَّ حَصَائِدُ اَلْسِنَتِھِمْ 
(۱
’’تمہاری ماں تم پر روئے اے معاذ!(یہ ایک محاورہ ہے جو اپنائیت اور ملامت کے ملے جلے جذبات کے لیے استعمال ہوتا ہے) لوگوں کو دوزخ میں ان کے منہ یا نتھنوں کے بل گرانے والی سب سے زیادہ زبان کی کھیتیاں ہی تو ہیں.‘‘

زبان سے جو لفظ نکلتا ہے وہ ایک بیج بن کر آخرت کی سرزمین میں بویا جاتاہے. اب اگر یہ لفظ برا ہے تو اس سے کانٹے دار پودا اور جھاڑ جھنکاڑ اُگے گا اور قیامت کے دن آپ کو اسے کاٹنا ہو گا 
’’حصائد‘‘ کے معنی ہیں کھیتیاں جو کاٹی جاتی ہیں زمین پر دو قسم کی نباتات ہیں‘ ایک تو وہ پودا ہے جو موجود رہتا ہے . ایک سال آپ اس سے پھل اتار لیتے ہیں تو اگلے سال پھر پھل آ جاتا اورپودا وہی کا وہی رہتاہے‘جبکہ اس کے برعکس ایک فصل ہوتی ہے‘ مثلاً گندم ‘ چاول یا گنے کی فصل جو ایک بار کاٹنے سے ختم ہوجاتی ہے. اس کو کہتے ہیں حَصِید. آپ نے یہی لفظ استعمال فرمایا: ’’حَصَائِدُ اَلْسِنَتِھِمْ‘‘یعنی لوگوں کی زبانوں کی بوئی ہوئی کھیتیاں ہی ان کو سب سے بڑھ کر جہنم میں گرانے والی شے ہیں. 

زبان کے صحیح استعمال پر جنت کی ضمانت

اس سے ملتی جلتی ایک اور حدیث بھی ہے ‘جس کو بیان کرنے میں حیا کا پہلو ذرا مانع ہوتا ہے‘ لیکن رسول اللہ  کا ہر فرمان حکمت کا بہت بڑا خزانہ ہے .رسول اللہ نے ارشاد فرمایا: 

مَنْ یَتَـکَفَّلُ لِیْ مَابَیْنَ لَحْیَیِْہِ وَمَابَیْنَ رِجْلَیْہِ اَتَکَفَّلُ لَہٗ بِالْجَنَّۃِ 
(۲
’’جوشخص مجھے اپنے دو نوں جبڑوں کے درمیان (یعنی زبان) اوردونوں ٹانگوں کے درمیان(یعنی شرم گاہ) کی ضمانت دیتا ہے(کہ اُس کاغلط استعمال نہیں ہو گا

(۱) سنن الترمذی‘ابواب الایمان‘باب ماجاء فی حرمۃ الصلاۃ.
(۲) سنن الترمذی‘ابواب الزہد‘باب ماجاء فی حفظ اللسان. 
تو) میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں.‘‘

آپ نے مسلمانو ں سے فرمایا کہ اگرتم مجھے اس بات کی ضمانت دے دو کہ تم اپنے جسم کے دوبہت ہی چھوٹے چھوٹے اعضاء کا غلط استعمال نہیں کرو گے تو میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں .گویا زبان اور شرمگاہ کے صحیح استعمال سے باقی پورے اعضائے جسم کی حرکات و سکنات خودبخود ٹھیک ہو جائیں گی اور اگر کبھی جذبات کی رومیں بہہ کر انسان سے کچھ غلطی ہو بھی گئی تو اللہ معاف فرمائے گا. جیسے کہ ماقبل آیت میں ہم نے پڑھا: 

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ قُوۡلُوۡا قَوۡلًا سَدِیۡدًا ﴿ۙ۷۰﴾یُّصۡلِحۡ لَکُمۡ اَعۡمَالَکُمۡ وَ یَغۡفِرۡ لَکُمۡ ذُنُوۡبَکُمۡ ؕ 
(الاحزاب) 
’’اے ایمان والو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور بات وہ کرو جو بالکل سیدھی اور درست ہو . اللہ تمہارے سارے اعمال درست کر دے گا اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا.‘‘

اللہ کا تقویٰ اختیار کرنا اور درست بات کہنا گویا شرط ہے کہ اگر تم یہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے سارے اعمال درست کر دے گا.لیکن کبھی کبھی انسان سے خطا بھی ہو جاتی ہے ظاہر بات ہے 
الانسان مُرکّبٌ من الخطأ والنسیان ’’انسان تو بھول چوک کا پتلا ہے‘‘ تو اللہ معاف کر دے گا. یہ فلسفہ ہے دین کا. آپ کا رخ سیدھا ہے‘ آپ صراطِ مستقیم پر چل رہے ہیں ‘لیکن اگر چلنے میں کہیں پاؤں پھسل گیا اور آپ گر گئے تو پھر فوراً کھڑے ہوکر دوبارہ صراطِ مستقیم پر چلنا شروع کردیجیے.اللہ تعالیٰ آپ کے اس گرنے کو معاف فرمائے گا. لیکن اگر زندگی کا رخ ہی ٹیڑھا ہو گیا‘ تو معاملہ بالکل برعکس ہو گیا. اب تو جو قدم اُٹھ رہا ہے وہ غلط رخ پر جا رہا ہے اورآپ جتنا آگے بڑھیں گے‘ صراطِ مستقیم سے اتنا ہی دُور ہوتے جائیں گے.

اگر انسان اللہ کے احکام اور اس کے رسول کی سنت پر چل رہا ہے‘ جو اللہ چاہتا ہے وہ کر رہا ہے‘ عبادتِ رب‘ شہادت علی الناس اور اقامت ِدین کی جدوجہد میں لگا ہوا ہے ‘ اس دوران اگر کوئی خطا ہو گئی‘ غلطی ہو گئی‘ لغزش ہو گئی تو وہ معاف ہو جائے گی. اس حوالے سے مجھے اپنے میڈیکل کالج کے پانچویں سال کا ایک واقعہ یاد آ جاتا ہے . ہمارا 
ا فرسٹ لیکچر سرجری کاہوتا تھا اور اس کے پروفیسر ڈاکٹر امیر الدین بڑے سخت تھے. وہ پانچ منٹ کی مہلت دیا کرتے تھے اور اس کے بعد دروازے بند کرادیتے تھے.اس کے بعد اگر آپ آئیں تو پھر آپ کلاس روم میں داخل نہیں ہو سکتے. ایک دن بارش کی وجہ سے میں ذرالیٹ ہو گیا تو میں تیز سائیکل چلا کر جلد سے جلد پہنچنا چاہتا تھا. اچانک سائیکل پھسلی اورمیں گر گیا. گرتے ہی بجلی کی مانند میں فوراً اُٹھ کھڑا ہوا . میں آج بھی بہت حیران ہوتا ہوں کہ میں جب اُٹھ چکا تھا تو مجھے معلوم ہوا کہ میں گرا تھا. یہ بھی ایک کیفیت ہوتی ہے. اسی طرح غلطی اور گناہ کے معاملے میں بھی ایک طرزِعمل تو یہ ہے کہ گناہ کے اوپر ڈیرہ لگا لیا جائے ‘جبکہ ایک یہ ہے کہ گناہ سرزد ہوتو فوراً توبہ کر لی جائے. اس کیفیت کو سورۃ النساء میں بایں الفاظ بیان فرمایا گیاہے: 

اِنَّمَا التَّوۡبَۃُ عَلَی اللّٰہِ لِلَّذِیۡنَ یَعۡمَلُوۡنَ السُّوۡٓءَ بِجَہَالَۃٍ ثُمَّ یَتُوۡبُوۡنَ مِنۡ قَرِیۡبٍ فَاُولٰٓئِکَ یَتُوۡبُ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَلِیۡمًا حَکِیۡمًا ﴿۱۷﴾ 

’’ایسے لوگوں کی توبہ قبول کرنا اللہ کے ذمے ہے جو جہالت اور نادانی میں کوئی بری حرکت کر بیٹھتے ہیں پھر جلد ہی توبہ کر لیتے ہیں‘ پس یہی ہیں جن پر اللہ مہربانی کرتا ہے(اور انہیں معاف کردیتاہے). اور وہ سب کچھ جاننے والا‘ حکمت والا ہے.‘‘ 

اللہ عزوجل کی طرف سے رسول اللہ کو نو باتوں کا حکم

’’اربعین نووی‘‘ کی زیر مطالعہ حدیث میں بیان کیے گئے تین اوصاف میں سے پہلا وصف یہ ہے کہ زبان سے اچھی بات نکالو‘ زبان کا صحیح استعمال کرو اوریا پھر خاموش رہو‘ اس لیے کہ بری بات کہنے سے خاموشی بہتر ہے.ایک اور حدیث میں بھی خاموشی کا تذکرہ آیا ہے . یہ ایک طویل حدیث ہے جس میں حضور اکرم نے فرمایا: اَمَرَنِیْ رَبِّیْ بِتِسْعٍ (۱’’مجھے میرے رب نے نو باتوں کا حکم دیا ہے‘‘ یہ حدیث اس اعتبار سے بڑی ممیز ہے کہ اس میں حضور اکرم نے یہ نہیں فرمایا کہ تم بھی ایسا کرو‘میں (۱) اخرجہ رزین بحوالہ جامع الاصول فی احادیث الرسول ‘لابن الااثیر الجزری‘۱۱/۶۸۷تمہیں اس کا حکم دیتا ہوں. بعض حدیثوں میں تو یوں آتا ہے : اِنِّیْ آمُرُکُمْ بِخَمْسٍ‘ اَللّٰہُ اَمَرَنِیْ بِھِنَّ ’’میں تمہیں پانچ باتوں کا حکم دیتا ہوں ‘ اللہ نے مجھے ان کا حکم دیا ہے‘‘بلکہ یہاں فرمایا گیا ہے کہ مجھے میرے رب نے ان نو باتوں کا حکم دیا ہے . یہ نو باتیں بہت اونچی اور بلند ہیں. گویا یہ انتہائی پختہ ‘ پوری طرح تربیت یافتہ ‘بہت مہذب اور شائستہ شخصیت کے اوصاف ہیں.

وہ نو باتیں یہ ہیں:A 
خَشْیَۃِ اللّٰہِ فِی السِّرِّ وَالْعَلَانِیَۃِ ’’اللہ کا خوف (دل میں موجزن)ہو‘ تنہائی میں بھی اور علی الاعلان بھی‘‘ .لوگوں کے سامنے تو سب ہی اللہ کے احکام پر چلنے والے بنتے ہیں‘ مگر اصل صورتِ حال تخلیہ اور تنہائی میں سامنے آتی ہے.B وَکَلِمَۃِ الْعَدْلِ فِی الْغَضَبِ وَالرِّضٰی ’’اور عدل کی بات کروں ‘ غصے اور خوشی کی حالت میں.‘‘C وَالْقَصْدِ فِی الْفَقْرِ وَالْغِنٰی ’’ اور فقر اور آسودگی میں میانہ روی اختیار کروں‘‘ .یہ وہی بات ہے جو ہم نے ابھی سورۃ الفرقان کے حوالے سے پڑھی ہے.D وَاَنْ أَصِلَ مَنْ قَطَعَنِیْ ’’اورجو مجھ سے کٹے میں اُس سے جڑوں‘‘ جس طریقے سے قرآنی آیات میں ایک ملکوتی غنا ہے اسی طرح اس حدیث کے الفاظ میں ایک آہنگ موجودہے E وَاُعْطِیَ مَنْ حَرَمَنِیْ ’’اور جو مجھے محروم رکھے میں اُسے عطا کروں.‘‘F وَاَعْفُوَ عَمَّنْ ظَلَمَنِیْ ’’اور جو مجھ پر ظلم کرے میں اسے معاف کروں!‘‘

اس کے بعد ’’خاموشی‘‘ کا تذکرہ ہے جس کے لیے میں نے یہ حدیث سنائی ہے: G
 وَاَنْ یَکُوْنَ صَمْتِیْ فِکْرًا ’’اور یہ کہ میری خاموشی غور و فکر پر مشتمل ہو‘‘.یعنی اس کائنات میں غور و فکر کیا جائے‘ جیسے قرآن مجید میں کئی مقامات پر غور و فکر کی تلقین کی گئی ہے. H وَنُطْقِیْ ذِکْرًا ’’اورمیرا بولنا ذکر پر مشتمل ہو‘‘ ذکر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَا اِلٰــہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ جیسے کلمات کا ورد کررہے ہیں ‘یا جیسے کہ بخاری شریف کی آخری حدیث ہے : 

کَلِمَتَانِ خَفِیْفَتَانِ عَلَی اللِّسَانِ ثَقِیْلَتَانِ فِی الْمِیْزَانِ حَبِیْبَتَانِ اِلَی الرَّحْمٰنِ : سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ (۱
’’دو کلمے ایسے ہیں جو زبان پر بہت ہلکے ہیں‘ میزان میں بہت بھاری ہیں اور رحمان کو بہت پسند ہیں‘ وہ ہیں: 
سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْم!‘‘ 

آپ ان کلمات کا ورد کر رہے ہیں تو یہ ذکر ہے. قرآن حکیم کی تلاوت کر رہے ہیں یا کسی کو قرآن سکھا رہے ہیں تو یہ بھی ذکر ہے. ذکر کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ آپ دوسروں کو اللہ کی طرف بلائیں‘ نیکی کی دعوت دیں اور برائی سے منع کریں.اسی لیے فرمایا گیا: 
فَذَکِّرۡ بِالۡقُرۡاٰنِ مَنۡ یَّخَافُ وَعِیۡدِ ﴿٪۴۵(قٓ) ’’نصیحت کیجیے قرآن کے ذریعے سے اس کو جو میری وعید سے ڈرتا ہے‘‘.تو یہ بھی ذکرکی ایک قسم ہے.

آگے فرمایا:I 
وَنَظْرِیْ عِبْرَۃً ’’اور میرا دیکھنا عبرت پذیری کا دیکھنا ہو‘‘ عبرت کہتے ہیں عبور کرنے کو ‘آپ نے دریا عبور کر لیا‘ ایک کنارے سے دوسرے کنارے پر پہنچ گئے تویہ عبرت ہے. اسی طرح عبرت کا اصطلاحی مفہوم یہ ہے کہ آپ نے کوئی شے دیکھی اور اس کی حقیقت تک جاپہنچے. دیکھنے کو تو کتا بھی دیکھ رہا ہے کہ گاڑی آرہی ہے ‘وہ بھی اس کی زد میں آنے سے بچے گا‘ آپ بھی بچ گئے توکون سا فرق ہوا؟ یاد رکھیے کہ حیوان کا دیکھنا اور ہے‘انسان کا دیکھنا اور ہے.بقول اقبال : ؎

دم چیست؟ پیام است! شنیدی نشنیدی! 
در خاکِ تو یک جلوئہ عام است ندیدی! 
دیدن دگر آموز! شنیدن دگر آموز!

یعنی تم دوسری طرح کا دیکھنا اور دوسری طرح کا سننا سیکھو!تم وہ دیکھنا سیکھو جو انسان کا دیکھنا ہے. دیکھو ‘ سبق حاصل کرو اورعبرت حاصل کرو. 

پڑوسی کے حقوق کی اہمیت

اربعین نووی کی زیر مطالعہ حدیث میں دوسری چیز حسن معاشرت کے حوالے سے (۱) صحیح البخاری‘ کتاب الدعوات‘ باب فضل التسبیح.وصحیح مسلم‘ کتاب الذکر والدعاء والتوبۃ والاستغفار‘ باب فضل التھلیل والتسبیح والدعائ. یہ ہے: وَمَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَلْیُکْرِمْ جَارَہٗ ’’اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیے کہ وہ اپنے پڑوسی کی عزت کرے‘‘. ’’فَلْیُکْرِمْ‘‘ فعل امر ہے اور امر وجوب کے لیے آتا ہے .یہی وجہ ہے کہ پڑوسی کا اکرام اور اس کے حقوق کی رعایت بہت ضروری ہے. اس کی اہمیت کا اندازہ نبی اکرم کے اس فرمان سے بھی بآسانی لگایا جاسکتا ہے.آپ نے فرمایا: مَا زَالَ جِبْرِیْلُ یُوْصِیْنِیْ بِالْجَارِ حَتّٰی ظَنَنْتُ اَنَّہُ سَیُوَرِّثُہٗ (۱یعنی جبرائیل علیہ السلام مجھے پڑوسی کے حقوق کی اس قدر تاکید کرتے رہے کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ شاید پڑوسی کو وراثت میں حصہ داربھی بنا دیا جائے گا.پھر اسی ضمن میں وہ حدیث بھی یاد کیجیے جس میں رسول اللہ نے فرمایا: 

مَا آمَنَ بِیْ مَنْ بَاتَ شَبْعَانَ وَجَارُہٗ جَائِعٌ اِلٰی جَنْبِہٖ وَھُوَ یَعْلَمُ بِہٖ 
(۲
’’وہ شخص مجھ پر ایمان نہیں لایا کہ جو پیٹ بھر کر سو رہا ہو اور اس کے قریب میں اس کا پڑوسی بھوکا ہو جبکہ اس آدمی کو اس کے بھوکے ہونے کی خبر بھی ہو.‘‘ 

ہمسائیگی کے تین درجات

سورۃ النسائ(آیت۳۶) میں ہمسائیگی کے تین درجات کا بیان ہے اور ان سے حسن سلوک کا حکم دیا گیا ہے: وَ الۡجَارِ ذِی الۡقُرۡبٰی وَ الۡجَارِ الۡجُنُبِ وَ الصَّاحِبِ بِالۡجَنۡۢبِ ’’اور (حسن ِسلوک کرو) قرابت دار ہمسائے اور اجنبی ہمسائے اور ہم نشین ساتھی کے ساتھ.‘‘ 

پہلا درجہ:رشتہ دار پڑوسی: 
پڑوس کا پہلا اور سب سے اہم درجہ رشتہ دار پڑوسی کا ہے ‘ اس لیے کہ اس میں تو دو حق جمع ہو گئے‘ایک قرابت داری کا اوردوسرا ہمسائیگی کا . اس طرح معاملہ اور زیادہ گھمبیر ہو گیااور ا س کے حقوق کی اہمیت اور زیادہ ہو گئی.اس کے (۱) صحیح البخاری‘ کتاب الادب‘ باب الوصاۃ بالجار. وصحیح مسلم‘ کتاب البر والصلۃ والآداب‘ باب الوصیۃ بالجار والاحسان الیہ.

(۲) رواہ البزار والطبرانی فی الکبیر(بحوالہ معارف الحدیث)‘راوی:حضرت انس رضی اللہ عنہ. 
برعکس معاملے کے حوالے سے ہمیں وہ حدیث ملتی ہے جس میں رسول اللہ نے فرمایا: وَاللّٰہِ لَا یُؤْمِنُ ، وَاللّٰہِ لَا یُؤْمِنُ، وَاللّٰہِ لَا یُؤْمِنُ ’’اللہ کی قسم وہ شخص مؤمن نہیں‘ اللہ کی قسم وہ شخص مؤمن نہیں‘ اللہ کی قسم وہ شخص مؤمن نہیں‘‘.یہ سن کر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین لرز گئے ہوں گے کہ کون بدبخت ہے جس کے بارے میں حضور تین مرتبہ قسم کھا کر اس کے ایمان کی نفی فرما رہے ہیں. صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا :یارسول اللہ ! آپ یہ کس کے بارے میں ارشاد فرما رہے ہیں؟ اس کے جواب میں آپ نے فرمایا: اَلَّذِیْ لَا یَأْمَنُ جَارُہٗ بَوَایِقَـہٗ (۱’’وہ شخص جس کی ایذا رسانی سے اس کا پڑوسی چین میں نہیں ہے‘‘.یعنی انسان بداخلاق ہے اور اُس کے ساتھ رہنے والا پڑوسی ڈرتا رہتا ہے کہ پتا نہیں کب کیا زبان سے کہہ دے. ظاہر بات ہے کہ اس صورتِ حال میں ایک شریف اور سفید پوش آدمی اس بد اخلاق شخص کی ایذا رسانی اور کج خلقی سے اپنے آپ کو اور اپنی عزت کو بچانے کی کوشش کرتا ہے . ایسے شخص کے بارے میں آپ نے تین بارقسم کھا کر فرمایا کہ وہ ہرگز مؤمن نہیں ہے. 

الغرض پڑوس کا پہلا درجہ رشتہ دار پڑوسی کا ہے. پچھلے دور میں اور خاص طور پر دیہات میں ایسی بستیاں ہوتی تھیں جن میں بالعموم ایک برادری اور خاندان کے لوگ ہی رہتے تھے.یہی وجہ ہے کہ پھر وہاں ُ’’حق شفعہ‘‘بھی ہوتا تھا.اس لیے کہ اگر وہاں رہنے والا کوئی شخص اپنی جائیداد کسی اجنبی کو بیچ کر چلا جائے تو اس معاشرتی دائرے میں ایک اجنبی کے آ جانے سے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں‘ لہٰذا وہاں رہنے والوں کو ُشفعہ کا حق حاصل ہوتا ہے. 

دوسرا درجہ :اجنبی پڑوسی: 
رشتہ دار پڑوسی کے بعد اجنبی پڑوسی کا درجہ ہے. یعنی اس سے کوئی رشتہ داری تو نہیں ہے لیکن پڑوس کا معاملہ ہے. بعض احادیث میں تو یہاں تک تصریح موجود ہے کہ پڑوس کی حدود چالیس گھر وں تک ہے‘ جبکہ ہمارا موجودہ معاشرہ تو (۱) صحیح البخاری‘ کتاب الادب‘ باب اثم من لا یأمن جارہ بوایقہٗ.وصحیح مسلم‘ کتاب الایمان ‘ باب تحریم ایذاء الجار. اس چیز سے بالکل محروم ہو چکا ہے‘ یہاں تک کہ ایک دیوار کے فاصلے پر رہنے والوں کا بھی ایک دوسرے سے سالہاسال تکتعارف نہیں ہوتا.کسی کو کوئی خیال ہی نہیں آتا کہ میری دیوار کے ساتھ کون رہ رہا ہے. 

شہری زندگی میں تو انسان اپنی ذات‘ اپنے معاملات اور اپنے مسائل کے اندر اس طرح سے گھر ا ہوا ہے کہ یہ جو ’’حسن معاشرت‘‘ نام کی چیز ہے وہ بالکل ختم ہو چکی ہے . ہاں کہیں کہیں اس کے آثار آج بھی نظر آتے ہیں.بعض نئی بستیاں جب بنتی ہیں تو وہاں کے لوگ مل کر کوئی ایسوسی ایشن بنا لیتے ہیں اور صبح کے وقت بزرگ لوگ ایک گروپ کی شکل میں سیر کے لیے نکلتے ہیں اور مسجدوں کے اندر مل بیٹھتے ہیں. یہ صرف بعض جگہوں پر ہے ‘لیکن اکثر و بیشتر جگہوں پر حسن معاشرت کا معاملہ بالکل ختم ہو چکا ہے.اب تو جو جتنی جدید تر آبادی ہو گی اتنی ہی حسن معاشرت سے محروم ہو گی . اس کا ایک سبب تو یہ ہے کہ محلات جیسے بڑے بڑے مکان بن رہے ہیں اور ایک دوسرے کو جاننے کے مواقع معدوم ہوچکے ہیں. ورنہ پہلے چھوٹے چھوٹے گھر ہوتے تھے اور کسی گھر سے رونے کی آواز بلند ہوتی تھی توپڑوس والے فوراً پہنچ جاتے تھے کہ کوئی مسئلہ ہے ‘ جا کر پتا کریں. بڑے بڑے مکانوں میں کیا پتا چلے گا کہ وہاں کیا ہو رہا ہے. 

تیسرادرجہ:عارضی پڑوس: 
پڑوس کاتیسرا درجہ ’’اَلصَّاحِبِ بِالْجَنْب‘‘ ہے.یعنی جو تمہارا ہم نشین ہے ‘تمہارے ساتھ بیٹھا ہوا ہے اور جس کے ساتھ آپ کی عارضی قربت اور مجاورت ہے وہ بھی ایک طرح کا پڑوس ہے.مثلاً آپ بس یا ٹرین میںکہیںجا رہے ہیں اورآپ کے ساتھ والی سیٹ پر جو بیٹھا ہے وہ آپ کا پڑوسی ہے. اس عارضی پڑوسی کا لحاظ رکھنااور اس کا حق اد ا کرنا بھی ضروری ہے. 

مہمان نوازی : شیوۂ مؤمن

زیر درس حدیث میں تیسری بات رسول اللہ نے یہ فرمائی: وَمَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَلْیُکْرِمْ ضَیْفَہٗ ’’جو شخص بھی واقعتا ایمان رکھتا ہو اللہ پر اور یومِ آخر پر اس پر لازم ہے کہ اپنے مہمان کا اکرام کرے‘‘.دراصل یہ انسانی سیرت و کردار کے وہ موتی ہیں جو ہمیشہ انسان میں تھے‘ بلکہ جتنا بھی تمدن ابھی ’’پس ماندہ‘‘ تھا اتنی ہی یہ صفات وہاں زیادہ تھیں. جیسے جیسے شہری زندگی (urbanization) آئی ہے یہ چیزیں ختم ہو گئی ہیں. مہمان نوازی کے حوالے سے ہمیں عہد نبوی و عہد صحابہ میں تو ایسے ایسے واقعات ملتے ہیں کہ انسا ن عش عش کراُٹھتا ہے.یہ واقعہ تو بہت مشہور ہے کہ ایک صحابی ایک مہمان کو گھر لے گئے ‘ جبکہ گھر میں صرف اپنے بچوں کے کھانے کے لیے ہی کچھ تھا. تو صحابی ؓ نے بچوں کو بھوکا سلا کر وہ کھانا مہمان کے سامنے رکھ دیا اور چراغ بجھا کر اس کے ساتھ کھانے کے لیے بیٹھ گئے . ساتھ بیٹھ کر اسے یہ تاثر دیتے رہے کہ وہ بھی کھا رہے ہیں ‘حالانکہ وہ نہیں کھا رہے تھے‘ اس لیے کہ اُنہیں معلوم تھا کہ کھانا اتنا ہی ہے کہ وہ صرف مہمان کے لیے کفایت کرے گا.الغرض مہمان نوازی کے حوالے سے ایسے واقعات ہماری تاریخ میں ملتے ہیں جن سے اُس دور کے حسن معاشرت کا پتا چلتا ہے جس سے آج کا یہ معاشرہ محروم ہے. 

انسانی کردار کے بنیادی موتی اور ہیرے جواہرات آپ کو بہ نسبت شہری زندگی کے دیہاتی علاقوں میں زیادہ ملیں گے.اس لیے بھی کہ شہری زندگی میں کچھ مجبوریاں بھی پیدا ہو گئیں ہیں ‘یہاں مہمانوں کی آمد ورفت بھی بہت زیادہ ہوگئی ہے. آپ کو معلوم ہے کہ دیہات وغیرہ میں مہمان روز روز نہیں آتے ‘جبکہ شہری زندگی میں اس وقت یہ صورت بن گئی ہے کہ دیہات سے کوئی مقدمے بازی کے سلسلے میں آ رہا ہے ‘ کوئی خرید و فروخت کے سلسلے میں آ رہا ہے ‘ لیکن شہر سے دیہات کے اندر جانا بہت شاذ ہوتا ہے‘ چنانچہ شہر والوں پر اس طرح کے مہمانوں کی مہمان نوازی شاق گزرتی ہے. میرا اپنا معمول یہ ہے کہ ظہر سے عصر تک میں ذرا علیحدہ رہتا ہوں.ظہر کی نما زاور کھانے کے بعد میں تھوڑی دیر کے لیے قیلولہ کرتا ہوں. اب اگر اس وقت کوئی صاحب مجھ سے ملنے آ جائیں تو سچی بات یہ ہے کہ مجھے اچھا نہیں لگتا. اگر میں ان کی کچھ آؤ بھگت کروں گا بھی تو یوں سمجھئے کہ اپنے اوپر جبر کر کے کروں گا. اور جب مجھے یہ پتا چلے کہ یہ صاحب خریداری کرنے آئے تھے یا شہر میں کوئی اور کام تھا وہ کر لیا ہے تو اب ذرا دوپہر کے 
وقفے میں وہ میرے پاس آ گئے ہیں تواس سے ایک کوفت کی شکل بنتی ہے. یہ چیزیں نفسیاتی طو رپر اثر انداز ہوتی ہیں ‘لیکن بہرحال جو حکم ہے وہ اپنی جگہ قائم رہے گا‘ کہ انسان اپنے مہمان کا اکرام کرے . 

اگر ہم میں سے بہت سے لوگوں کا رہن سہن دوبارہ سے اسی طرح ہوجائے جیسے کبھی پہلے ہوا کرتا تھا تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ اوصاف بھی لوٹ آئیں گے. ان اوصاف کا ختم ہو جانا اصل میں شہری زندگی کی خرابی ہے. شاید آپ کے علم میں ہو کہ حضوراکرم  کی ایک حدیث ہے جو علامہ اقبال نے مسولینی کو جب سنائی تو وہ حیران رہ گیا. حدیث یہ ہے کہ جب کسی شہر کی آبادی پانچ لاکھ ہو جائے تو اُس کو چھوڑ کر نیا شہر آباد کرو. یہ جو کروڑوں کی آبادی کے شہر ہیں‘ مثلاً کراچی کی آبادی سوا کروڑہے تو وہاں مدنیت 
(urbanization) نے جو مشکلات پیدا کر دی ہیں وہ انتہا کو پہنچی ہوئی ہیں.خاص طور پر جرمنی میں اس کا تجربہ کیاگیا ہے جو بہت کامیاب رہا ہے. انہوں نے اپنی انڈسٹری کو پورے ملک میں پھیلا دیا. یہ نہیں کہ انڈسٹریل ٹاؤن علیحدہ بن رہے ہیں‘ بلکہ بیس‘ تیس میل کے فاصلے پر ایک فیکٹری ہے‘ اس کے ساتھ ہی آبادی ہو گئی اور پھر اس کے ساتھ ہی سکول اور ہسپتال بن گئے تو گویا ایک یونٹ بن گیا. پھر بیس تیس میل کے بعد اس طرح کا ایک اوریونٹ بنا دیا گیا. اس سے یہ ہوا کہ ان کے ہاں مدنیت اور تمدن ایک بہتر شکل کے اندر برقرار رہتا ہے. 

حاتم طائی کی مہمان نوازی

مہمان نوازی کے ضمن میں حاتم طائی کا ایک واقعہ تاریخی طور پر بہت مشہور ہے. یہ عیسائی تھے‘ لیکن بہت بڑے مخیر اور سخی انسان تھے ان کے بیٹے عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ حضور پر ایمان لائے اور صحابی کے درجے پر پہنچے ہیں حاتم کے پاس ایک گھوڑا تھا جو بہت عمدہ ‘ بہت قیمتی اور بہت اعلیٰ نسل ہونے کی وجہ سے بہت مشہور تھا. ایک روز ان کے ہاں ایک مہمان آ گیا اوران کے پاس مہمان کو کھلانے کے لیے کوئی چیز نہیں تھی تو انہوں نے وہ گھوڑا ذبح کرکے اس مہمان کو کھلادیا. اس کے بعد مہمان سے آنے کی وجہ دریافت کی تو اُس نے کہا: میں نے سنا ہے کہ آپ کسی سائل کا سوال ردنہیں کرتے‘آپ کے پاس ایک بہت عمدہ اور قیمتی گھوڑا ہے‘ میں آپ سے وہ لینے آیا ہوں. حاتم طائی نے کہا : بھئی وہ گھوڑا تو میں نے ذبح کر کے تمہیں کھلا دیا. 

ذراملاحظہ کیجیے کہ حاتم طائی کی سخاوت کی وجہ سے حضور اکرم نے اُن کی تحسین فرمائی اور پھر اُن کی بیٹی جو ایک غزوہ میں باندی کی حیثیت سے مالِ غنیمت میں آئی تو آپ  نے اُس کی عزت وتکریم کی اور اُسے اپنی چادر اوڑھائی ‘ اس لیے کہ یہ حاتم کی بیٹی ہے. 

خلاصہ کلام

زیردرس حدیث میں تین اوصاف بیان ہوئے ہیں جو ایک پختہ تعمیر شدہ شخصیت کے اوصاف ہیں. ایک تو یہ ہے کہ اگر بولو تو خیر اور بھلائی کا کلمہ زبان سے نکالو ورنہ خاموش رہو. دوسرا یہ ہے کہ اپنے پڑوسی کے حقوق کا لحاظ رکھو. اس کے جذبات‘ ضروریات اور اس کے احساسات سب کا خیال رکھو. احساسات کے معاملے میں تو یہاںتک تعلیم دی گئی ہے کہ اگر تم اپنے بچوں کے لیے کوئی پھل لے کرآئو تواب دو صورتیں ہیں: یا تو اپنے پڑوسی کے ہاں بھی بھیجو. اور اگر اتنی کم مقدار میں ہے کہ آپ کے بچوں کے لیے بمشکل پورا ہو گا تو کم سے کم چھلکے باہر مت ڈالو. ورنہ یہ ہوگا کہ چھلکے دروازے کے باہر پھینکنے سے پڑوس کے بچے دیکھیں گے کہ آج ان کے ہاں آم یا خربوزے آئے ہیں تو انہیں حسرت ہو گی. تو اس درجے پڑوسی کے احساسات کا لحاظ رکھنے کا حکم ہے. تیسرا یہ ہے کہ مہمان کا اکرام کیا جائے اور مہمان کے آنے پر ناک بھوں نہ چڑھائی جائے‘بلکہ اُسے رحمت سمجھا جائےاللہ تعالیٰ ہمیں ان اوصافِ حمیدہ کو صحیح معنوں میں اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے. آمین یاربّ العالمین! 

اقول قولی ھذا واستغفر اللّٰہ لی ولکم ولسائر المُسلمین والمُسلمات