بنی اسرائیل کا شرکِ جلی(بچھڑے کی پوجا کرنا)

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ بھی کوہِ طور پر چالیس دن تخلیہ کایہ معاملہ ہوا اور پھرانہیں اَلواح دے دی گئیں. یہ پتھر کی تختیاں تھیں اور ان کے اوپراحکامِ عشرہ (Ten Commandments) کندہ تھے جوکہ شریعت موسوی کے اساس ہیں. پیچھے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی غیر حاضری میں سامری کو موقع مل گیا اور اس نے لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے ایک شعبدہ دکھایا اورآلِ فرعون کے زیورات سے ایک بچھڑا بناڈالا آلِ فرعون اپنے زیورات بنی اسرائیل کے پاس امانتاً رکھا کرتے تھے. یعنی انہیں بھی اندازہ تھا کہ یہ اسرائیلی بددیانت اور خائن نہیں ہوسکتے‘اس لیے کہ یہ حضرت ابراہیم اور حضرت یعقوب علیہما السلام کی اولادہیں.اگرچہ ان میں اور خرابیاں آ گئی ہوں گی‘ لیکن آلِ فرعون ان کی امانت داری کے قائل تھے‘ اس لیے وہ ان کے پاس اپنی امانتیں رکھواتے تھے. جب بنی اسرائیل مصر سے نکلے تو آلِ فرعون کی طرف سے امانتاًرکھوائے گئے سارے زیورات بھی ساتھ لے کر آگئے. سامری نے ان سے کہا کہ یہ سارے زیورات تم پھینک دو ‘اس لیے کہ یہ تو نجس ہیں اور یہ تمہارے لیے جائز نہیں ہیں. اس حد تک تو بات ٹھیک ہوئی‘ لیکن سامری نے اُن زیورات کو پگھلا کر ایک بچھڑے کی شکل بنا لی اور اس کے اندر ایسا میکنزم رکھا کہ جب اس میں سے ہوا گزرتی تھی تو اند ر سے کھوکھلا ہونے کی وجہ سے اُس میں سے ایسی آواز آتی تھی جیسے بچھڑا ڈکار رہا ہو. اُس نے بنی اسرائیل سے کہا کہ یہ ہے تمہاراخدا!جبکہ موسیٰ کو تو کوئی مغالطہ لگا ہے اور وہ کسی غلط فہمی میں پتا نہیں کہاں‘کس خدا کے پاس گئے ہیں.اصل خدا تو یہ ہے‘لہٰذا تم اس کی پوجا کرو! سامری کی باتوں میں آ کر بنی اسرائیل کیکثیر تعداد نے اُس بچھڑے کی پرستش شروع کر دی .اُدھر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو کوہِ طور پرآگاہ کردیا کہ تمہاری قوم فتنے میں پڑ چکی ہے.

اس ضمن میں ایک عجیب بات یہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لیے کوہِ طورپر آنے کا اللہ تعالیٰ نے ایک وقت معین کیا تھا ‘ لیکن آپؑ فرطِ اشتیاق میں وقت مقررہ سے پہلے پہنچ گئے. اس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی جواب طلبی فرمائی. اس کی تفصیل سورئہ طٰہ میں موجود ہے‘ فرمایا:وَ مَاۤ اَعۡجَلَکَ عَنۡ قَوۡمِکَ یٰمُوۡسٰی ﴿۸۳﴾ ’’اے موسیٰ! تمہیں کس چیز نے جلدی پر آمادہ کیا اپنی قوم کو چھوڑ کر؟‘‘یعنی تم اپنی قوم کو چھوڑ کریہاں آبھی گئے ہو‘ حالانکہ ابھی تو وقت معین نہیں آیا. قَالَ ہُمۡ اُولَآءِ عَلٰۤی اَثَرِیۡ وَ عَجِلۡتُ اِلَیۡکَ رَبِّ لِتَرۡضٰی ﴿۸۴﴾ ’’موسیٰ نے (جواب میں) عرض کیا کہ میری قوم میرے پیچھے پیچھے آرہی ہے ‘اور پروردگار! میں نے تو تیری طرف (آنے میں اس لیے) جلدی کی تاکہ تو راضی ہو جائے‘‘. گویا حضرت موسیٰ علیہ السلام تو یہ سوچ رہے تھے کہ اللہ ربّ العزت کی طرف سے شاباش ملے گی ‘اس لیے کہ اُن کے پیش نظر تو ؏ ’’تو میرا شوق دیکھ‘ مرا اشتیاق دیکھ!‘‘والی کیفیت تھی لیکن یہاں تو لینے کے دینے پڑ گئے اور شاباش تو کجا‘ الٹی باز پرس (explanation call) ہوگئی. اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جلد بازی کر کے درحقیقت تم نے غلطی کی ہے اور اس کی وجہ سے سامری کو موقع مل گیا اوراس نے تمہاری قوم کو گمراہ کر دیا ہے.