اسلام‘ایمان اور احسان

احسان کے حوالے سے حدیث جبریل کے ضمن میں‘میں نے عرض کیا تھا کہ یہ جو تین بنیادی اصطلاحا ت :اسلام‘ ایمان اور احسان حدیث جبریل میں آئی ہیں تووہ ایک اعتبار سے نیچے سے اوپر کا درجہ ہے‘ بایں طور کہ اسلام سے اوپر ایمان کا درجہ ہے اور ایمان سے اوپر احسان کا.جبکہ ایک اعتبار سے وہ اوپر سے نیچے جا رہا ہے‘ یعنی اسلام میں ایمان ابھی صرف اقرار باللسان تک ہے . ایمان میں وہ گہرا ہو کر نیچے جا کر قلب کی گہرائیوں میں اتر جاتا ہے اور احسان میں وہ یقین اتنا گہرا ہو جاتا ہے جس کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے. یقین کی گہرائی کہاں تک ہے‘اس کے ضمن میں میں نے آپ کو پنجابی صوفی شاعر سلطان باہو کا ایک شعر سنایا تھا کہ ؎

دل دریا سمندروں ڈونگے 
کون دلاں دیاں جانے ہو!

یہ دل جو ایک ’’مُضْغَۃ‘‘ یعنی گوشت کے لوتھڑے کی صورت میں نظر آ رہا ہے‘ یہ تو جسمانی دل ہے جبکہ روحانی دل جو حقیقت میں روح کا مسکن ہے‘ اس کا تو آپ اور میں اندازہ بھی نہیں کر سکتے‘ اس لیے کہ اس دل میں اللہ سما جاتاہے.ایک حدیث قدسی بیان کی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : 

لَمْ یَسِعَنِیْ اَرْضِی وَلاَ سَمَائِیْ وَوَسِعَنِیْ قَلْبُ عَبْدِی الْمُؤْمِنِ 
(۱(۱) تخریج الاحیاء للعراقی:۳/۱۸’’میں نہ تواپنی زمین میں سماسکتا ہوں اورنہ اپنے آسمان میں‘ لیکن میں اپنے بندۂ مؤمن کے دل میں سما جاتا ہوں.‘‘

چونکہ اس دل کا گہرا تعلق ذاتِ باری تعالیٰ کے ساتھ ہے‘ لہٰذا اس کی گہرائی کا آپ اندازہ ہی نہیں کر سکتے. اس اعتبار سے ایمان گہرا سے گہرا ہو کر جب اس انتہا کو پہنچ جائے کہ ایمان بالغیب ایسے ہو جائے جیسے کسی شے کو اپنی آنکھوں کے دیکھنے سے ایمان و یقین پیدا ہوتا ہے‘ تو وہ احسان ہے.

اب نماز کی مثال لیجیے. ایک مسلمان نماز پڑھ رہا ہے‘ اس نے جو رکوع وسجود کیا ہے اس کا بھی پوراحق ادا نہیں کیا ہے‘ لیکن بہرحال رکوع کیا ہے ‘ قیام کیا ہے‘ سجدہ کیا ہے ‘ جبکہ دل کسی اور دھندے میں مگن ہے‘ دماغ کی چکی کچھ اور ہی آٹا پیس رہی ہے تو فقہی اعتبار سے نماز ہو گئی اور اسلام کا تقاضا پورا گیا.لیکن اسی نماز میں اگر دل کے یقین کی کیفیت پیدا ہو جائے تو اس میں خوبصورتی اور حسن پیدا ہو جائے گا اور یہ ’’احسان الصلاۃ‘‘ ہو جائے گا. یہ گویا نماز کو خوبصورت بنا دینا ہے. اور اگر معاملہ اس سے بھی اوپر چلا جائے ‘ یعنی ایمان و یقین اتنا گہرا ہوجائے کہ یہ کیفیت پیدا ہو جائے کَاَنَّکَ تَرَاہُ فَاِنْ لَمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَاِنَّـہٗ یَرَاکَ کہ گویا تم اللہ کو دیکھ رہے ہو یا کم سے کم تمہیں یہ یقین ہو کہ میں اللہ کے حضورمیں ہوں اور اللہ مجھے دیکھ رہا ہے‘ پھراُس وقت نماز کی کیفیت وہ ہو گی جسے ’’اَلصَّلاَۃُ مِعْرَاجُ الْمُؤْمِنِیْنَ‘‘ کے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے کہ نماز تو اہل ایمان کے لیے معراج کے درجے میں ہے.یہ اصل میں نماز کے درجات ہیں. ظاہری شکل تو نماز کی وہی رہے گی‘ درجہ احسان تک نماز بھی وہی رہے گی ‘وہی قیام ہو گا‘ وہی رکوع ہو گا‘ وہی سجود ہو گا‘ وہی کچھ پڑھا جائے گا‘ لیکن اس ظاہری شکل میں یکسانیت کے باوجودیقین کی کیفیت کے درجات کی وجہ سے زمین و آسمان کا فرق واقع ہو جائے گا.