نفع ونقصان کا مالک صرف اللہ ہے!

زیر مطالعہ حدیث کا آخری ٹکڑاتقدیرسے متعلق ہے‘جبکہ تقدیر کا تفصیلی بیان حدیث ۴ کے مطالعہ میں بھی گزر چکا ہے. حدیث۴ بہت عظیم حدیث ہے اور اس کے مطالعے میں ہم نے کئی خطاباتِ جمعہ صرف کیے تھے. اس حدیث کی ابتدا میں انسان کی حقیقت کا بیان ہے اور آخر میں ایمان بالقدر کا تذکرہ ہے .جبکہ زیر مطالعہ حدیث میں تقدیر کا موضوع دوبارہ آ رہا ہے.رسول اللہ نے حضرت ابن عبا سؓ سے فرمایا: اے میرے بیٹے‘ میرے بچے‘ اے عزیز! اِعْلَمْ اَنَّ الْاُمَّۃَ لَوِ اجْتَمَعَتْ عَلٰی اَنْ یَّنْفَعُوْکَ بِشَیْ ئٍ لَمْ یَنْفَعُوْکَ اِلاَّ بِشَیْئٍ قَدْ کَتَـبَہُ اللّٰہُ لَکَ ’’جان لو‘ اگر سب لوگ جمع ہو کر تمہیں کسی شے کا نفع اور فائدہ پہنچانا چاہیں تو وہ تمہیں کچھ نفع نہیں پہنچا سکتے مگر وہی جو تمہارے لیے اللہ نے لکھ دیا ہے‘‘. جب اللہ کا یہ فیصلہ ہے کہ انسان کو اُس کی تقدیر کے مطابق ہی ملے گا تو پھر غیر اللہ سے مانگنا تو فعل عبث ہو گیا‘ اس لیے کہ ان کے ہاتھ میں تو کچھ ہے ہی نہیں.لہٰذا یہ جان لو‘اس بات پر یقین کرلو کہ اگردنیا کے سب لوگ مل کر یہ چاہیں کہ تمہیں کوئی نفع پہنچا دیں تو وہ تمہیں کسی طرح کا بھی نفع نہیں پہنچا سکتے سوائے اس کے جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے .

آپ اندازہ کیجیے کہ جس شخص کا یقین اس سطح کاہو تو اس میں کتنا اِستغناء ہو گا. پھر وہ کسی کے سامنے پیشانی نہیں رگڑے گا‘ ہاتھ نہیں پھیلائے گا‘ اپنی عزتِ نفس کو ہتھیلی پر رکھ کر پیش نہیں کرے گا.صاف ظاہر ہے کہ اگر آپ نے کسی سے سوال کیا توآپ نے اپنی عزتِ نفس اس کے سامنے پیش کردی. اب وہ چاہے تو اس کا کچھ لحاظ کر لے‘ چاہے تو آپ کی عزتِ نفس کو ٹھوکر مار دے. لہٰذا جب بھی مانگو تو صرف اللہ سے مانگواور مدد بھی صرف اسی سے طلب کرو‘اس لیے کہ نفع پہنچانے کا مالک صرف اور صرف اللہ ہے‘ جبکہ تمام لوگ مل کر بھی تمہیں وہ نفع نہیں پہنچا سکتے جو اللہ نے تمہارے مقدر میں لکھا ہی نہیں.

آگے رسول اللہ نے فرمایا: وَاِنِ اجْتَمَعُوْا عَلٰی اَنْ یَّضُرُّوْکَ بِشَیْئٍ لَمْ یَضُرُّوْکَ اِلاَّ بِشَیْئٍ قَدْ کَتَبَہُ اللّٰہُ عَلَیْکَ ’’اور اگر سب مل کر چاہیں کہ تمہیں کوئی نقصان پہنچا دیں تو وہ تمہیں کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے مگر اتنا ہی جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے‘‘. اگر انسان میں اس بات کا یقین پیداہوجائے تو پھر خوف کی جڑ کٹ جائے گی‘ اس لیے کہ یہ خوف اور حزن دونوں سے نجات دلانے والی شے ہے. جو حقیقی مؤمن ہے وہ اللہ کا ولی ہے اور اولیاء اللہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ خودفرماتا ہے : اَلَاۤ اِنَّ اَوۡلِیَآءَ اللّٰہِ لَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ ﴿ۚۖ۶۲﴾ (یونس) ’’سن رکھو کہ جو اللہ کے دوست ہیں ان کو نہ کچھ خوف ہو گا اور نہ وہ غمناک ہوں گے.‘‘

جان لیجیے کہ اولیاء اللہ کوئی علیحدہ مخلوق نہیں ہے‘ ان کے سر پر سینگ نہیں ہوتے. یہ بھی انسان ہی ہوتے ہیں‘ لیکن عام لوگوں سے ا ن کا فرق یہ ہے کہ یہ حقیقی مؤمن ہوتے ہیں. ان اعتبارات سے ‘ جو آج ہم پڑھ رہے ہیں‘ اگر کسی شخص کا ایمان اس درجے کو پہنچ گیا ہے تو وہ اللہ کا ولی ہے اور اسے کسی بات کا خوف نہیں ہوگا. اس لیے کہ اسے یہ یقین ہوگا کہ کسی کے ہاتھ میں میرے نفع وضرر کا کوئی اختیار ہے ہی نہیں‘ اگر اللہ نے میرے لیے کچھ نقصان لکھ دیا ہے تو وہ ہو کر رہے گا.میں کسی کی لاکھ منت سماجت کروں‘جو اللہ نے میرے لیے لکھ دیا ہے تو وہ آکر رہے گا.لہٰذا کاہے کو میں کسی کے سامنے گڑگڑاؤں‘ کاہے کو کسی کے سامنے جگ ہنسائی کر اؤں. اسی طرح اگرکسی کے ہاتھ میں میرا خیر ہے ہی نہیں تو کاہے کو میں اس کی خوشامد کروں!

حدیث کے آخر میں رسول اللہ نے فرمایا: رُفِعَتِ الْاَقْلَامُ وَجَفَّتِ الصُّحُفُ ’’(دیکھو نوجوان!) قلمیں اٹھا لی گئی ہیں اور صحیفوں (کی سیاہی)خشک ہو چکی ہے‘‘. یہ ہے اللہ کا وہ علم قدیم جس میں ہر شے لکھ دی گئی ہے اور اس کے قلم اٹھا لیے گئے ہیں. جیسے آپ کو معلوم ہے کہ تین گھنٹے کا امتحان ہوتا ہے اور وقت ختم ہوتے ہی امتحان گاہ میں ممتحن کی آواز گونجتی ہے : "stop writing!" تو اس پر قلم رک جاتے ہیں. اسی طرح تقدیر لکھنے والا قلم بھی اب اٹھا لیا گیا ہے اور جن صحیفوں پر تقدیر لکھی گئی ہے وہ خشک بھی ہو گئے ہیں.اب ان میں کسی قسم کا کوئی ردّوبدل نہیں ہوسکتا.