اللہ ربّ العزت کی شانِ بے نیازی

زیر مطالعہ حدیث میں آگے جو الفاظ آ رہے ہیں وہ اس حدیث کا ذروۂ سنام (climax) ہیں.اللہ تعالیٰ فرماتاہے: 

یَا عِبَادِیْ! لَوْ اَنَّ اَوَّلَــکُمْ وَآخِرَکُمْ ، وَاِنْسَکُمْ وَجِنَّــکُمْ ، کَانُوْا عَلٰی اَتْقٰی قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مِّنْکُمْ مَا زَادَ ذٰلِکَ فِیْ مُلْکِیْ شَیْئًا 
’’اے میرے بندو! اگر تمہارے اگلے اور پچھلے‘ اور انسان اور جن‘ سب کے سب تم میں سے متقی ترین دل والے شخص کی مانند بن جائیں تو اس سے میری سلطنت میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا.‘‘

گویا پوری نوعِ انسانی ‘ پہلے بھی اور پچھلے بھی‘ اور جن اور انس بھی‘سب کے سب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جیسے بن جائیں تو اس سے میری سلطنت میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا آگے ربّ العزت نے فرمایا: 

یَا عِبَادِیْ! لَوْ اَنَّ اَوَّلَـکُمْ وَآخِرَکُمْ ، وَاِنْسَکُمْ وَجِنَّــکُمْ کَانُوْا عَلٰی اَفْجَرِ قَلْبِ رَجُلٍ وَّاحِدٍ مِّنْکُمْ، مَا نَقَصَ ذٰلِکَ مِنْ مُّلْکِیْ شَیْئًا 
’’اے میرے بندو! اگر تمہارے اگلے اور پچھلے‘ اور انسان اور جن‘ سب کے سب تم میں سے فاجر ترین دل والے شخص کی مانند ہوجائیں تو اس سے میری سلطنت میں کوئی کمی نہیں ہو گی.‘‘

یعنی اگر سب کے سب ابوجہل بن جائیں یا شیطانِ لعین اورعزازیل بن جائیں ‘تب بھی میری سلطنت میں کوئی کمی نہیں آئے گی اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا: 

یَا عِبَادِیْ! لَوْ اَنَّ اَوَّلَــکُمْ وَآخِرَکُمْ، وَاِنْسَکُمْ وَجِنَّـکُمْ، قَامُوْا فِیْ صَعِیْدٍ وَاحِدٍ فَسَاَلُوْنِیْ، فَاَعْطَیْتُ کُلَّ اِنْسَانٍ مَّسْاَلَـتَـہٗ، مَا نَقَصَ ذٰلِکَ مِمَّا عِنْدِیْ اِلاَّ کَمَا یَنْقُصُ الْمِخْیَطُ اِذَا اُدْخِلَ الْبَحْرَ 
’’اے میرے بندو! اگر تمہارے اگلے پچھلے‘ اور انسان اورجن‘سب کے سب ایک میدان میں جمع ہو کر اپنی پہنچ کے مطابق مجھ سے سوال کریں اور میں ان کے مانگنے کے مطابق انہیں دیتا جائوں تو اس سے میرے خزانوں میں بس اتنی سی کمی واقع ہو گی جتنی سمندر میں سوئی ڈبو کر نکالنے سے سمندر میں کمی آتی ہے.‘‘ 

جیسا کہ میں نے ابتدا میں عرض کیا تھا کہ یہ حدیث اللہ ربّ العزت کی شانِ استغناء سے متعلق ہے .اللہ تعالیٰ اپنی مخلوقات سے بالکل بے نیاز ہے. اس کی کوئی احتیاج‘ چھوٹی سے چھوٹی‘ بڑی سے بڑی‘ کسی بھی مخلوق سے یعنی کسی انسان‘ کسی جن اور کسی فرشتے سے نہیں ہے.