حرفِ آخر

ہم زیرمطالعہ حدیث قدسی کے آخری الفاظ پر گفتگو کر رہے تھے. 

یَا عِبَادِیْ! اِنَّمَا ھِیَ اَعْمَالُـکُمْ اُحْصِیْھَا لَـکُمْ، ثُمَّ اُوَفِّیْکُمْ اِیَّاھَا 

’’اے میرے بندو! یہ تو تمہارے ہی اعمال ہیں جن کو میں تمہارے لیے گن گن کر محفوظ کر رہا ہوں‘ پھر میں تمہیں ان کی پوری پوری جزا دوں گا.‘‘

وَفّٰی ، یُوَفِّیپورا پورا دینا‘ پورے اہتمام سے دینا. اَوْفٰی یُوْفِی (باب افعال سے) کے معنی بھی یہی ہیں کہ پورا پورا دینا‘ لیکن باب افعال کے مقابلے میں باب تفعیل کے اندر بہت وزن ہوتا ہے اور اس کا معنی ہے : رفتہ رفتہ پورا پورا دینا. چنانچہ اُوَفِّیْکُمْ اِیَّاھَا کا مطلب یہ ہو گا کہ میں قیامت کے دن تمہارے اعمال کا بدلہ پورے کا پورے‘ بلاکم و کاست تمہیں عطا کردوں گا. فَمَنْ وَّجَدَ خَیْرًا فَلْیَحْمَدِ اللّٰہَ ’’تو جوکوئی اپنے اعمال نامے میں خیر پائے تو وہ اللہ کی حمد کرے‘‘. اس لیے کہ اللہ ہی نے توفیق دی تھی اور اللہ ہی کے فضل و کرم سے تم نے وہ نیکی کے کام کیے تھے.اگر اللہ تمہیں نیکی کی توفیق نہ دیتا تو تم وہ کام کیسے کرسکتے تھے‘لہٰذا اُس کا شکر لازم ہے.آگے فرمایا: 

وَمَنْ وَّجَدَ غَیْرَ ذٰلِکَ فَـلَا یَلُوْمَنَّ اِلاَّ نَفْسَہٗ 
’’اور جو کوئی اس کے سوا پائے (یعنی شر‘بدی اور برائی پائے) تو وہ اپنے نفس کے علاوہ کسی کو ملامت نہ کرے.‘‘

اس لیے کہ اس کا کمانے والا وہ خود ہے‘ لہٰذا وہ کسی اور کے اوپر اس کا الزام نہ دھرے اور اس کی پوری ذمہ داری خود ہی قبول کرے.

زیر مطالعہ طویل حدیث قدسی میں ’’یَا عِبَادِیْ‘‘ (اے میرے بندو!) کی تکرار جس کیفیت سے ہوئی ہے یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر شفقت کا مظہر ہے. قرآن مجید میں آیا ہے : مَا یَفْعَلُ اللّٰہُ بِعَذَابِکُمْ اِنْ شَکَرْتُمْ وَاٰمَنْتُمْط (النسائ:۱۴۷’’ اللہ کو کیا لینا ہے تمہیں عذاب دے کر اگر تم شکر کی روش اختیار کرو اور (صدقِ دل سے) ایمان لے آؤ‘‘. تو اللہ تعالیٰ ایسا نہیں ہے کہ کسی کو تکلیف دے کر اسے کوئی خوشی حاصل ہوتی ہو. یہ تو تمہارے اپنے اعمال ہیں جو ہم نے حفاظت کے ساتھ گن کر رکھے ہوئے تھے. آج ہم نے وہ اعمال تمہارے سامنے حاضر کر دیے ہیں تو جو ان میں خیر پائے وہ اللہ کی حمد کرے ‘ اللہ کا شکر ادا کرے‘ اور جو اس میں شر پائے تو وہ سوائے اپنے نفس کے کسی کو ملامت نہ کرے.

اللہ تعالیٰ ہمیں اس حدیث کے مندرجات کو سمجھنے اور اس پر صحیح معنوں میں عمل کی توفیق عطا فرمائے.

آمین یا ربّ العالمین! 
اقول قول ھذا واستغفر اللّٰہ لی ولکم ولسائر المُسلمین والمُسلمات