گناہ کی پہچان

نیکی کی تعریف کے بعد آگے گناہ کی پہچان کے حوالے سے آپ نے فرمایا: وَالْاِثْمُ مَا حَاکَ فِیْ نَفْسِکَ ’’اور گناہ وہ ہے جس سے تمہارے جی میں تشویش پیدا ہو جائے‘‘.اس کو یوں سمجھئے ‘ جیسے tip of the iceberg کے نیچے بہت بڑا برف کا تودا پوشیدہ ہوتا ہے‘ اسی طرح حضور کے اس ایک جملہ کے پیچھے بھی پورا ایک فلسفہ مخفی ہے. وہ یہ کہ انسان میں نیکی جبلی طور پر موجود ہے . اس لیے کہ وہ صرف حیوان نہیں ہے‘ بلکہ اس میں روحِ ربانی بھی مستور ہے. ازروئے الفاظِ قرآنی:

فَاِذَا سَوَّیۡتُہٗ وَ نَفَخۡتُ فِیۡہِ مِنۡ رُّوۡحِیۡ فَقَعُوۡا لَہٗ سٰجِدِیۡنَ ﴿۷۲﴾ (صٓ) 
’’پھر جب میں اس کو درست کر لوں اور اس میں اپنی روح میں سے پھونک دوں تو اس کے آگے سجدے میں گر پڑنا.‘‘

روح کو نیکی سے فرحت ہوتی ہے اوربدی سے ایک ضیق (تنگی) اور تشویش کا احساس ہوتا ہے.رسول اللہ نے ایک صاحب کے اس سوال پر کہ’’ایمان کیا ہے؟‘‘ ارشاد فرمایا: 

اِذَا سَرَّتْکَ حَسَنَتُکَ وَسَائَ تْکَ سَیِّئَتُکَ فَاَنْتَ مُؤْمِنٌ 
(۱
’’اگر تمہیں نیکی کر کے خوشی ہواور کوئی برا کام کر کے تمہیں دکھ کا احسا س ہو تو تم مؤمن ہو.‘‘ 

اگر آپ کے دل میں ایمان موجود ہے تو وہ نیکی کی تائید اور تصدیق کرتا ہے‘ بلکہ نیکی کے کام کرنے سے ایمان بڑھ جاتا ہے اور برے کام سے ایمان میں کمی آتی ہے اور ایمان کا نور مدھم پڑجاتا ہے.

زیر مطالعہ حدیث کے الفاظ ہیں: وَالْاِثْمُ مَا حَاکَ فِیْ نَفْسِکَ وَکَرِھْتَ اَنْ یَّطَّلِـعَ عَلَیْہِ النَّاسُ ’’اورگناہ وہ ہے جس سے تمہارے دل میں تشویش اور خلجان پیدا ہوجائے اور تمہیں یہ پسند نہ ہو کہ وہ لوگوں کو معلوم ہو‘‘. اس میں ایک اور اعتماد کی حالت کا بیان ہے.انفرادی طور پر انسان کی فطرت کے بارے میں اعتماد کی حالت (mode of confidence) یہ ہے کہ گناہ کرنے پر تشویش ہو ‘اور ایک اعتماد کی حالت پوری نوع انسانی کے بارے میں ہے کہ انسانی معاشرہ بحیثیت مجموعی حکم لگاتا ہے کہ یہ نیکی ہے اور یہ بدی ہے.ایک انفرادی تحت الشعور ہر انسان کا ہے اور ایک پوری نوعِ انسانی کا مجموعی تحت الشعور ہے‘ جس کو جدید اصطلاح میں collective subconscious mind کہا جاتا ہے. نوعِ انسانی کا یہ مجموعی تحت الشعور نیکی کو پسند اور بدی کو ناپسند کرتا ہے. جب آپ یہ نہیں چاہتے کہ یہ بات کسی کے علم میں آئے تواس کا مطلب ہے کہ یہ خراب ہے. یہ بھی درحقیقت فطرتِ انسانی پر بحیثیت مجموعی ایک اعتماد ہے. (۱) الجامع الصغیر للسیوطی‘ ح ۶۷۷. السلسلۃ الصحیحۃ للالبانی: ۲/۹۱