زمانہ ٔاختلاف میں راہِ عمل

جب یہ اختلافات ہو جائیں گے تو اب کیا کیا جائے؟ اس ضمن میں یہ بڑا اہم اصول آ رہا ہے . رسول اللہ نے فرمایا: فَعَلَیْکُمْ بِسُنَّتِیْ وَسُنَّۃِ الْخُلَفَائِ الرَّاشِدِیْنَ الْمَھْدِیِّیْنَ ’’پس (ان حالات میں) میری سنت اور میرے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت (طریقہ) کو لازم پکڑو‘‘ تَمَسَّکُوْا بِھَا ’’اس کو مضبوطی سے تھامو‘‘ وَعَضُّوْا عَلَیْھَا بِالنَّوَاجِذِ ’’اور اسے داڑھوں سے قابو کرنا‘‘ .یعنی اتنی مضبوطی سے پکڑنا کہ گرفت ڈھیلی نہ پڑے. 

اس جملہ میں لفظ ’’راشدین‘‘ آیا ہے‘ اس کا مفہوم سمجھ لیجیے قرآن مجید میں انسان کی کامیابی کے لیے تین الفاظ استعمال ہوئے ہیں. زیادہ تر لفظ ’’فلاح‘‘ استعمال ہوا ہے: قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُـوْنَ، اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ، لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ‘ جبکہ بعض مواقع پر لفظ ’’فوز‘‘ بھی استعمال ہوا ہے: اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ ھُمُ الْفَائِزُوْنَیعنی کامیابی یا کسی بڑے عہدے پر فائز ہو جانا‘ یہ فوز ہے.فَائِزُوْن کے مقابلے میں مُفْلِحُوْنَ بہت زیادہ گھمبیر لفظ ہے.فلاح روحانی بھی ہے اور اخلاقی بھی. انسان کا ایک ’’حیوانی وجود‘‘ ہے اورایک اس کے اندر چھپا ہوا ’’روحانی وجود‘‘ ہے اور وہ انا‘خودی یا روح ہے. آپ کی ساری توجہ حیوانی ضروریات پر ہے جبکہ روح بیچاری سسک رہی ہے‘ بھوکی ہے‘پیاسی ہے اور اسے آپ نے کوئی غذا ہی نہیں دی. اس کی غذا تو اللہ کا کلام ہے‘ اس لیے کہ روح تو امر ربی ہے وَ یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الرُّوۡحِ ؕ قُلِ الرُّوۡحُ مِنۡ اَمۡرِ رَبِّیۡ (الاسرائ:۸۵’’(اے نبی !) وہ آپ سے روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں. آپ کہہ دیجیے کہ روح میرے رب کا امر ہے‘‘اس ’امر رب‘ کے لیے ’کلامِ رب‘ ضروری ہے.دیکھئے‘ یہ جسدِحیوانی جہاں سے آیا ہے وہیں سے اس کی غذا بھی آ رہی ہے. یہ جسم مٹی سے بنا خَلَقَکُمْ مِّنْ تُرَابٍ ’’اُس نے تمہیں پیدا کیا مٹی سے‘‘ تو اس تراب ہی سے ہماری گندم بھی آ رہی ہے ‘ چاول بھی آرہے ہیں‘ ہماری سبزیاں بھی آ رہی ہیں. ہم جانوروں کا گوشت بھی کھاتے ہیں اور وہ بھی سبزیوں سے‘ گھاس سے‘ چارے سے بنا ہے. الغرض خوراک اورہماری باقی جسمانی ضروریات کا اصل ذریعہ یہ مٹی ہی ہے. 

اس کے برعکس روح کا تعلق امر رب سے ہے تو اسے غذا بھی کلامِ رب اور ذکر رب سے حاصل ہوگی.اور فلاح کا مطلب ہی یہ ہے کہ حیوانی وجود کو پھاڑ کر اس کے اندر سے باطنی شخصیت کو برآمدکیا جائے. جیسے زمین پھٹتی ہے تو اس میں سے بیج کی دو پتیاں نکلتی ہیں‘ جس کے لیے فلق کا لفظ آیا ہے‘ جو فَلَح کا ہم معنی ہے. کسان اور کاشت کار کے لیے فلَّاح کا لفظ استعمال ہوا ہے ‘اس لیے کہ وہ بھی اپنے ہل کی نوک سے زمین کو پھاڑتاہے. اسی طرح جن لوگوں نے اپنے اندر سے اپنے حقیقی وجود کو نکال کر پروان چڑھایا‘وہی مُفلِحُون ہیں.