اللہ کی عبادت کرنا اور شرک سے بچنا

حضرت معاذ کے سوال مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کردے اور جہنم سے دور کردے کے جواب میں حضوراکرم نے پہلا عمل یہ بتایا: تَعْبُدُ اللّٰہَ لَا تُشْرِکُ بِہٖ شَیْئًا ’’اللہ کی بندگی اور پرستش کرو (اور) اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ‘‘.یہاں لفظ ’عبادت‘ اور’شرک‘ آئے ہیں اور یہ دونوں ہی بہت جامع الفاظ ہیں.عام طور پرعبادت سے صرف نماز روزہ مرادلیا جاتا ہے‘حالانکہ عبادت کا مفہوم انہی تک محدود نہیں ہے ‘بلکہ عبادتِ الٰہی کا مطلب یہ ہے کہ انتہائی محبت کے جذبے سے سرشار ہو کر اللہ تعالیٰ کی ہمہ وقت‘ ہمہ جہت اور کامل اطاعت و فرماں برداری کرنا.(اس پر تفصیل سے گفتگو ہم کر چکے ہیں!) ہاں کبھی خطا ہو جائے تو توبہ کی جائے‘ اللہ سے استغفار کیا جائے‘ لیکن ایسا نہ ہو کہ مستقل طور پر کسی ایک گناہ کو اپنی زندگی میں شامل کر لیا جائے.ہمارے معاشرے میں تو ایساہو رہا ہے اور مسلسل ہورہا ہے.حج و عمرے بھی ہو رہے ہیں‘ نمازیں بھی پڑھی جا رہی ہیں‘نعتوں کی محافل کا بھی بڑے ذوق وشوق سے اہتمام ہورہا ہے‘لیکن ان سب کے ساتھ سودی کاروبار بھی جاری ہے اور سود کو چھوڑنے پر دل آمادہ ہی نہیں ہے.حقیقت یہ ہے کہ یہ سودی کاروبار قیامت کے دن ہر شے کی نفی کر دے گا.

اسی طرح شرک بھی بہت جامع لفظ ہے اور اس سے مراد شرک فی الذات بھی ہے‘ شرک فی الصفات بھی اور شرک فی الحقوق بھی ہم توسمجھتے ہیں کہ شرک صرف یہی ہے کہ بتوں کو سجدہ کیا جائے ‘یعنی اللہ کی ذات کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جائے‘جبکہ بعض زیادہ حساس قسم کے لوگ اللہ کی صفات میں کسی کو شریک کر دینے کو بھی شرک سمجھتے ہیں. لیکن اللہ کے حقوق میں کسی کو شریک کر دینا‘ جس کو ’’شرک عملی‘‘ کہا جاتا ہے‘ اس سے عام طور پر لوگ ناواقف ہیں. اس کے لیے میں آپ سب کو مشورہ دوں گا کہ شرک کے موضوع پر میری چھ تقاریر سنئے ٭ .میری ان تقاریر کوعلماء کے حلقوں میں بھی بہت پذیرائی ملی ہے.

چنانچہ آپ نے حضرت معاذ سے پہلی بات یہ فرمائی کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتے ہوئے اس کی بندگی اورپرستش کرو. اس جملہ میں عبادت کے اثبات ٭ آج سے لگ بھگ تیس سال قبل بانی ٔتنظیم اسلامی ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم ومغفور نے شرک کے موضوع پرایک ایک گھنٹے کی چھ تقریریں کی تھیں ‘جن کو بعد میں ’’حقیقت واقسامِ شرک‘‘ کے عنوان سے کتابی شکل میں بھی شائع کیا گیا.شرک کی حقیقت اور شرک کی اقسام کے حوالے سے یہ کتاب بہت مفید ہے.(مرتب) کے ساتھ ہی شرک کی نفی بھی آ گئی‘جیسے کلمہ طیبہ میں ہے : لَا اِلٰــہَ اِلاَّ اللّٰہ ’’نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کے.‘‘