دین کا افضل ترین عمل: جہادفی سبیل اللہ

رسول اللہ نے جہاد فی سبیل اللہ کو دین کی چوٹی اور افضل ترین عمل قراردیتے ہوئے فرمایا: وَذِرْوَۃُ سَنَامِہِ الْجِھَادُ ’’اور اس کی چوٹی اور افضل ترین عمل جہاد ہے‘‘.یہ وہ بات ہے جو ہمارے ذہنوں سے بالکل اوجھل ہو گئی ہے.ہمارا ساراذہن اور ہماری ساری جدوجہد ’’ارکانِ اسلام‘‘ کے اوپرہے. بہت دیندارقسم کے لوگ بھی ارکانِ اسلام پر تو عمل پیرا ہوجائیں گے‘لیکن اس سے آگے نہیں جائیں گے. اسی لیے ابتدامیں‘میں نے سورۃ الحجرات کی آیت آپ کو سنائی تھی جس میں فرمایا گیا کہ صرف وہی لوگ اپنے دعوائے ایمان میں سچے ہیں جن میں یہ تین شرائط پائی جاتی ہوں:(۱)اللہ اور اُس کے رسولؐ پر ایمان لانا‘(۲)پھر شک میں نہ پڑنا ‘یعنی تصدیق قلب کا یقین قلب کی شکل اختیار کرلینا‘اور(۳)اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا.اگر یہ جہاد نہیںہے‘تو آپ سمجھ لیجیے کہ دین کے درخت کو پھل نہیں لگا .اس لیے کہ اس درخت کا پھل تو جہاد فی سبیل اللہ ہے.اس صورتِ حال میں ہمارے ایمان کی کیفیت صرف ایک زبانی عقیدہ کی ہے جو ہم نے اپنے والدین سے سن رکھاہے. 

جب اسلام کو اللہ نے فتح دی تواس وقت لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہوئے اوراس وقت یہ داخل ہونادرحقیقت اس بنیاد پر تھا کہ اب ہم مقابلہ نہیں کر سکتے لہٰذا ہم سرنڈر کرتے ہیں. ایسے لوگوں کے بارے میں سورۃ الحجرات میں فرمایا گیا کہ تمہارا ایمان لانے کا دعویٰ مبنی بر حقیقت نہیں ہے‘ اس لیے کہ ابھی تمہارا ایمان یقین کی کیفیت میں نہیں پہنچا.ہاں تم یہ کہہ سکتے ہو کہ ہم نے سرنڈر کردیا ہے ‘سرتسلیم خم کر دیا ہے اور اب ہماری مزاحمت اور مخالفت ختم ہو گئی ہے.یہ بھی اس وقت ہے کہ اگر تم نے یہ سرتسلیم خلوصِ دل کے ساتھ خم کیا ہے اورا س میں کوئی دھوکا نہیں ہے.اور اگر معاملہ یہ ہے کہ تم نے ابھی اس نیت سے سر جھکا دیے ہیںکہ حالات بدلیں گے تو پھر کھڑے ہوجائیں گے تویہ سراسرمنافقت ہے. لیکن اگر اس قسم کی کوئی بات ذہن میںنہیں ہے اور آپ ایمان لائے ہیں ‘ آپ نے گواہی دی ہے : اَشْھَدُ اَنْ لاَّ اِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰہِ تو اب آپ مسلمان مان لیے گئے ہیں اور اب آپ کی جان اور مال محفوظ ہیں .لیکن اگر جہاد نہیں ہے تو پھر آپ اپنے دعوائے ایمان میں جھوٹے ہیں.جہاد کے بارے میں تورسول اللہ نے یہاں تک فرمادیا: 

مَنْ مَاتَ وَلَمْ یَغْزُ وَلَمْ یُحَدِّثْ نَفْسَہُ بِغَزْوٍ مَاتَ عَلٰی شُعْبَۃِ نِفَاقٍ 
(۱
’’جو کوئی اس حالت میں مرے کہ نہ تو اس نے کبھی جہاد کیا ہو اور نہ ہی کبھی اس نے جہاد کی نیت کی ہوتو وہ شخص نفاق کے ایک حصہ پر مرا.‘‘