جہاد کے لیے اجتماعیت کی ضرورت

ایک بات اور نوٹ کیجیے کہ پہلی سطح کے جہاد کے لیے کسی جماعت یا کسی اجتماعیت کی ضرورت نہیں ہے. وہ تو آپ کو اپنے ہی اندر سے جنگ کرنی ہے. میںآپ کے نفس کے خلاف جہاد نہیں کر سکتا اور نہ آپ میرے نفس کے خلاف جہاد کر سکتے ہیں. البتہ اگر ایک جماعت موجود ہو تو اس سے سہولت ہو جاتی ہے. آپ بھی اسی کشمکش میں لگے ہوئے ہیں اور میں بھی لگا ہوا ہوں تو میں دیکھوں گا کہ یہ میرا بھائی آگے نکل گیا ہے تو میں بھی زیادہ کوشش کروں گا.اسی طرح دوسرے مرحلے پر یعنی دعوت و تبلیغ کے لیے بھی جماعت لازم نہیں ہے.البتہ ادارے ہونے چاہئیں. جیسے ہماری انجمن خدام القرآن ہے.اسی طرح قرآن مجید کی تبلیغ و اشاعت کے لیے اوربھی بہت سی انجمنیں ہیں‘مثلاً اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن (IRF) ہے جو آج بہت بڑا ادارہ بن گیا ہے. الہدیٰ ایک ادارہ ہے جو خواتین کے اندر قرآن مجید کا علم پھیلا رہا ہے.لیکن تیسر ے مرحلے پر یعنی جہاد بالسیف‘ جہاد بالید جس کا نام قتال ہے کے لیے جماعت شرطِ لازم ہے . یہ انفرادی طور پر نہیں ہو سکتا‘ بلکہ اس کے لیے سمع و طاعت والی جماعت ضروری ہے . حضرت حارث الاشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: 

اَنَا آمُرُکُمْ بِخَمْسٍ، اللّٰہُ اَمَرَنِی بِھِنَّ : بِالْجَمَاعَۃِ، وَالسَّمْعِ، وَالطَّاعَۃِ، وَالْھِجْرَۃِ، وَالْجِھَادِ فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ 
(۱
’’میں تمہیں پانچ باتوں کا حکم دیتا ہوں. اللہ نے مجھے ان کا حکم دیا ہے. یعنی جماعت‘ سننا‘ اطاعت کرنا‘ ہجرت‘ اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنا.‘‘
یہ جماعت کا لزوم اصل میں آخری درجے کے لیے ہے. پہلے درجے کے لیے جماعت ضروری نہیں ہے ‘صرف صحبت ِصالح کافی ہے. دوسرے درجے کے لیے ادارے‘ انجمنیں‘فاؤنڈیشن اور نشرو اشاعت کے ادارے وغیرہ کافی ہیں. لیکن تیسرے لیول کا جہاد جماعت کی شکل میں ہوگا اور جماعت اگر حضور کے نقش قدم پر قائم کرنی ہے تو وہ بیعت کی بنیاد پر ہو گی. حضرت عبادہ بن الصامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: 

بَایَعْنَا رَسُولَ اللّٰہِ  عَلَی السَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ، فِی الْعُسْرِ والْیُسْرِ، وَالْمَنْشَطِ وَالْمَکْرَہِ، وَعَلٰی اَثَرَۃٍ عَلَیْنَا، وَعَلٰی اَنْ لَا نُـنَازِعَ الْاَمْرَ اَھْلَہٗ، وَعَلٰی اَنْ نَقُولَ بِالْحَقِّ اَیْنَمَا کُنَّا، لَا نَخَافُ فِی اللّٰہِ لَوْمَۃَ لَائِمٍ 
(۲
’’ہم نے اللہ کے رسول سے بیعت کی کہ ہم سنیں گے اور اطاعت کریں گے‘ خواہ آسانی ہو یا مشکل‘ خواہ ہماری طبیعت آمادہ ہو یا ہمیں اس پر جبر کرنا پڑے‘ اور خواہ دوسروں کو ہمارے اوپر ترجیح دے دی جائے. ہم اصحابِ اختیار سے

(۱) سنن الترمذی‘ ابواب الامثال عن رسول اللّٰہ‘ باب ما جاء فی مثل الصلاۃ والصیام والصدقۃ. ومسند احمد‘ مسند الشامین:۱۶۷۱۸ واللفظ لہ.
(۲) صحیح البخاری‘ کتاب الاحکام‘ باب کیف یبایع الامام الناس ‘وکتاب الفتن‘ باب قول النبی سترون بعدی امورًا تنکرونھا.وصحیح مسلم‘ کتاب الامارۃ‘ باب وجوب طاعۃ الامیر فی غیر معصیۃ … جھگڑیں گے نہیں‘ لیکن سچ بولیں گے جہاں کہیں بھی ہم ہوں گے‘ اور اللہ کے معاملے میں کسی بھی ملامت کرنے والے کی ملامت سے بے خوف رہیں گے.‘‘

فرائض دینی کے جامع تصور کے حوالے سے جو کمی رہ گئی تھی‘وہ اب پوری ہوگئی ہے‘ بایں طور کہ میں نے اس سہ منزلہ عمارت میں ایک سیڑھی کا اضافہ کیا ہے اور وہ جہاد ہے . پھر اس کے تین لیولز اورآگے ان تین لیولز کے سب لیولز ہیں.لیکن ان میں مشترک بات یہ ہے کہ ان ساری سطحوں پر جہاد میں اصل ذریعہ قرآن ہے اور اہم بات یہ ہے کہ تیسرے مرحلے میں جان ہتھیلی پر رکھ کر (چاہے دو طرفہ جنگ ہویایکطرفہ) اپنی جان دینے کے لیے تیاری کرنی پڑے گی.

اللہ تعالیٰ ہمیں دین کے فرائض کو سمجھنے اور پھر اس پر صحیح معنوں میں عمل کرنے کی توفیق عطافرمائے.

آمین یارب العالمین! 
اقول قولی ھذا واستغفر اللّٰہ لی ولکم ولسائر المُسلمین والمسلمات